حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ، أَرْسَلَ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ الأَنْصَارِيِّ مَا سَمِعْتَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ .
This hadith has been narrated from Abu Juhaim Ansari by another chain of transmitters
سفیان نے ابو نضر سالم سے اور انہوں نے بسر بن سعید سے روایت کی کہ زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے ( انہیں ) ابو جہیم انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا ( تاکہ پوچھے ) کہ آپ نے نبی اکرمﷺ کو کیا فرماتے سنا .... پھر ( سفیان نے ) مالک کی روایت کے ہم معنیٰ حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي سَيَّارُ بْنُ سَلاَمَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَسْأَلُ أَبَا بَرْزَةَ، عَنْ صَلاَةِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ - قُلْتُ آنْتَ سَمِعْتَهُ قَالَ فَقَالَ كَأَنَّمَا أَسْمَعُكَ السَّاعَةَ - قَالَ - سَمِعْتُ أَبِي يَسْأَلُهُ عَنْ صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ كَانَ لاَ يُبَالِي بَعْضَ تَأْخِيرِهَا - قَالَ يَعْنِي الْعِشَاءَ - إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ وَلاَ يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَلاَ الْحَدِيثَ بَعْدَهَا . قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ لَقِيتُهُ بَعْدُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ وَكَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَالْعَصْرَ يَذْهَبُ الرَّجُلُ إِلَى أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ - قَالَ - وَالْمَغْرِبَ لاَ أَدْرِي أَىَّ حِينٍ ذَكَرَ . قَالَ ثُمَّ لَقِيتُهُ بَعْدُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ وَكَانَ يُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ فَيَنْظُرُ إِلَى وَجْهِ جَلِيسِهِ الَّذِي يَعْرِفُ فَيَعْرِفُهُ . قَالَ وَكَانَ يَقْرَأُ فِيهَا بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ .
Sayyar b. Salama reported:I heard my father asking Abu Barza (al- Aslami) about the prayer of Allah's Messenger (ﷺ) I (Shu'ba, one of the narrators) said: Did you hear it (from Abu Barza)? He said: 1 feel as if I am bearing you at this very time. He said: I heard my father asking about the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ) and he (Abu Barza) making this reply: He (the Holy Prophet) did not mind delaying-some (prayer) i. e. 'Isya' prayer, even up to the midnight and did not like sleeping before observing it, and talking after it. Shu'ba said: I met him subsequently and asked him (about the prayers of the Holy Prophet) and he said: He observed the noon prayer when the sun was past the meridian, he would pray the afternoon prayer, after which a person would o to the outskirts of Medina and the sun was still bright; (I forgot what he said about the evening prayer) ; I then met him on a subsequent occasion and asked him (about the prayers of the Holy Prophet; and he said: He would observe the morning prayer (at such a time) so that a man would go back and would recognise his neighbour by casting a glance at his face, and he would recite from sixty to one hundred verses in it
خالد بن حارث نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : شعبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : مجھے سیار بن سلامہ نے خبر دی ، کہا : میں نے سنا کہ میرے والد ، حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں پوچھ رہے تھے ۔ ( شعبہ نے ) کہا : میں نے پوچھا : کیا آپ نے خود انھیں سنا ؟ انھوں نے کہا : ( اسی طرح ) جیسے میں ابھی تمھیں سن رہا ہوں ، کہا : میں نے سنا ، میرے والد ان سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں سوال کر رہے تھے ، انھوں نے بتایا کہ آپ اس ، یعنی عشاء کی نماز کو کچھ ( تقریباً ) آدھی رات تک مؤخر کرنے میں مضائقہ نہ سمجھتے تھے اور اس نماز سے پہلے سونے اور اس کے بات چیت کرنے کو نا پسند فرماتے تھے ۔ شعبہ نے کہا : میں بعد ازاں ( دوبارہ ) ان سے ملاتو میں نے ان سے ( پھر ) پوچھا تو انھوں ( سیار ) نے کہا : آپ ظہر کی نماز سورج ڈھلنے کے وقت پڑھتے تھے اور عصر ایسے وقت میں پڑھتے کہ انسان نماز پڑھ کر مدینہ کے دور ترین حصے تک پہنچ جاتا اور سورج ( اسی طرح ) زندہ ( روشن اور گرم ) ہوتا تھا اور انھوں نے کہا : مغرب کے لیے میں نہیں جانتا ، انھوں نے کون سا وقت بتایا تھا ۔ ( شعبہ نے ) کہا : میں اس کے بعد ( پھر ) سیار سے ملا اور ان سے پوچھا تو انھوں نے بتایا : ( آپ ﷺ ) صبح کی نماز ایسے وقت میں پڑھتے کہ انسان سلام پھیرتا اور اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے انسان کے چہرے کو ، جسے وہ جانتا ہوتا ، دیکھتا تو اسے پہچان لیتا اور آپ اس ( نماز ) میں ساٹھ سے سو تک آیتیں تلاوت فرماتے تھے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ حَفْصٍ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، - عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اقْرَأْ عَلَىَّ الْقُرْآنَ " . قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ قَالَ " إِنِّي أَشْتَهِي أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي " . فَقَرَأْتُ النِّسَاءَ حَتَّى إِذَا بَلَغْتُ { فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاَءِ شَهِيدًا} رَفَعْتُ رَأْسِي أَوْ غَمَزَنِي رَجُلٌ إِلَى جَنْبِي فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَرَأَيْتُ دُمُوعَهُ تَسِيلُ .
Abdullah (b. Mas'ud) reported:The Messenger of Allah (may peace be upon (him) asked me to recite the Qur'an. He said: Messenger of Allah, (how) should I recite to you whereas it has been sent down to you? He (the Holy Prophet) said: I desire to hear it from someone else. So I recited Surat al-Nisa' till I reached the verse: How then shall it be when We shall bring from every people a witness and bring you against them as a witness?" (verse 41). I lifted my head or a person touched me in my side, and so I lifted my head and saw his tears falling (from the Holy Prophet's eyes)
حفص بن غیاث نے اعمش سے روایت کی ، انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں عبیدہ ( سلمانی ) سےاور انھوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " میرے سامنے قرآن مجید کی قراءت کرو ۔ " انھوں نے کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں آپ کو سناؤں ، جبکہ آپ پر ہی تو ( قرآن مجید ) نازل ہوا ہے؟آپ نے فرمایا : " میری خواہش ہے کہ میں اسےکسی دوسرے سے سنوں ۔ " تو میں نے سورہ نساء کی قراءت شروع کی ، جب میں اس آیت پر پہنچا : فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ شَهِيدًا " اس وقت کیا حال ہوگا ، جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان پر گواہ بنا کرلائیں گے ۔ " تو میں نے اپنا سر اٹھایا ، یا میرے پہلو میں موجود آدمی نے مجھے ٹھوکا دیا تو میں نے اپنا سر اٹھایا ، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو بہہ رہے تھے ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي، الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَكَانَ، رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ فِي عَشِيَّةِ عَرَفَةَ وَغَدَاةِ جَمْعٍ لِلنَّاسِ حِينَ دَفَعُوا " عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ " . وَهْوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ حَتَّى دَخَلَ مُحَسِّرًا - وَهُوَ مِنْ مِنًى - قَالَ " عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي يُرْمَى بِهِ الْجَمْرَةُ " . وَقَالَ لَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ
Ibn 'Abbas narrated from al-Fadl b. Abbas (Allah be pleased with them) who sat behind Allah's Messenger (ﷺ) that he (the Holy Prophet) said to the people on the evening of 'Arafa and on the morning to the gathering of people (at Muzdalifa) as they were pushing on to proceed slowly. And he himself drove his she-camel with restraint until he entered Muhassir (it is a place in Mina), and further told them to take up pebbles which were to be thrown at Jamra. And Allah's Messenger (ﷺ) continued pronouncing Talbiya till he stoned the Jamra
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلا م ابو معبد نے ( عبد اللہ ) ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ( ساتھ اونٹنی پر ) پیچھے سوار تھے آپ نے عرفہ کی شام اور مزدلفہ کی صبح لوگوں کے چلنے کے وقت انھیں تلقین کی : سکون سے ( چلو ) "" اور آپ اپنی اونٹنی کو ( تیز چلنے سے ) روکے ہو ئے تھے حتیٰ کہ آپ وادی محسر میں دا خل ہوئے ۔ ۔ ۔ وہ منیٰ ہی کا حصہ ہے ۔ ۔ ۔ آپ نے فرما یا : "" تم ( دو انگلیوں کے درمیان رکھ کر ) ماری جا نے والی کنکریاں ضرور لے لو جن سے جمرہ عقبہ کورمی کی جا ئے گی ۔ "" ( فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ پکا رتے رہے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وَحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي يُونُسُ، ح وَحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عُيَيْنَةَ " إِمَامًا مُقْسِطًا وَحَكَمًا عَدْلاً " . وَفِي رِوَايَةِ يُونُسَ " حَكَمًا عَادِلاً " . وَلَمْ يَذْكُرْ " إِمَامًا مُقْسِطًا " . وَفِي حَدِيثِ صَالِحٍ " حَكَمًا مُقْسِطًا " كَمَا قَالَ اللَّيْثُ . وَفِي حَدِيثِهِ مِنَ الزِّيَادَةِ " وَحَتَّى تَكُونَ السَّجْدَةُ الْوَاحِدَةُ خَيْرًا مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " . ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ { وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلاَّ لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ} الآيَةَ .
The same hadith is transmitted from Zuhri with the same chain of transmission. But in the tradition narrated by Ibn 'Uyaina the words are:" impartial leader and just judge" and in the tradition narrated by Yunus: the" judge judging with justice" and" impartial leader" are not mentioned. And in the hadith narrated by Salih like the one transmitted by Laith the words are:" impartial judge". And in the hadith transmitted by Ziyad the words are:" Till one sajda is better than the worldand what it contains. Then Abu Huraira used to say," recite" if you like: Not one of the People of the Book will fail to believe in him before his death
سفیان بن عیینہ ، یونس اور صالح نے ( ابن شہاب ) زہری سے ( ان کی ) اسی سند سے روایت نقل کی ۔ ابن عیینہ کی روایت میں ہے : ’’ انصاف کرنے والے پیشوا ، عادل حاکم ‘ ‘ اور یونس کی روایت میں : ’’عادل حاکم ‘ ‘ ہے ، انہوں نے ’’انصاف کرنے والے پیشوا ‘ ‘ کا تذکرہ نہیں کیا ۔ اور صالح کی روایت میں لیث کی طرح ہے : ’’انصاف کرنےوالے حاکم ‘ ‘ اور یہ اضافہ بھی ہے : ’’حتی کہ ایک سجدہ دنیا اور اس کی ہرچیز سے بہتر ہو گا ۔ ‘ ‘ ( کیونکہ باقی انبیاء کےساتھ محمدرسول اللہ ﷺ پرمکمل ایمان ہو گا ، او راولو العزم نبی جو صاحب کتاب و شریعت تھا ۔ آپ کی امت میں شامل ہو گا اور اسی کے مطابق فیصلے فرما رہا ہو گا ۔ ) پھر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ( آخر میں ) کہتے ہیں : چاہو تو یہ آیت پڑھ لو : ’’ اہل کتاب میں سے کوئی نہ ہو گا مگر عیسیٰ کی وفات سے پہلے ان پر ضرور ایمان لائے گا ( اور انہی کے ساتھ امت محمدیہ میں شامل ہو گا ۔ ) ‘ ‘
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، كُلُّهُمْ عَنْ حُسَيْنٍ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، - عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ صَلَّيْنَا الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قُلْنَا لَوْ جَلَسْنَا حَتَّى نُصَلِّيَ مَعَهُ الْعِشَاءَ - قَالَ - فَجَلَسْنَا فَخَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ " مَا زِلْتُمْ هَا هُنَا " . قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّيْنَا مَعَكَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ قُلْنَا نَجْلِسُ حَتَّى نُصَلِّيَ مَعَكَ الْعِشَاءَ قَالَ " أَحْسَنْتُمْ أَوْ أَصَبْتُمْ " . قَالَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ وَكَانَ كَثِيرًا مِمَّا يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ " النُّجُومُ أَمَنَةٌ لِلسَّمَاءِ فَإِذَا ذَهَبَتِ النُّجُومُ أَتَى السَّمَاءَ مَا تُوعَدُ وَأَنَا أَمَنَةٌ لأَصْحَابِي فَإِذَا ذَهَبْتُ أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ وَأَصْحَابِي أَمَنَةٌ لأُمَّتِي فَإِذَا ذَهَبَ أَصْحَابِي أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ " .
Abu Burda reported on the authority of his father:We offered the sunset prayer along with Allah's Apostle (ﷺ). We then said: If we sit (along with Allah's Messenger) and observe night prayer with him it would be very good, so we sat down and he came to us and said: You are still sitting here. I said: Allah's Messenger, we observed evening prayer with you, then we said: Let us sit down and observe night prayer along with you, whereupon he said: You have done well or you have done right. He then lifted his head towards the sky and it often happened that as he lifted his head towards the sky, he said: The stars are a source of security for the sky and when the stars disappear there comes to the sky, i. e. (it meets the same fate) as it has been promised (it would plunge into darkness). And I am a source of safety and security to my Companions and when I would go away there would fall to the lot (of my Companions) as they have been promised with and my Companions are a source of security for the Umma and as they would go there would fall to the lot of my Umma as (its people) have been promised
سعید بن ابی بردہ نے ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے ا پنے والد ( ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : ہم نے مغرب کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی ، پھر ہم نے کہا کہ اگر ہم بیٹھے رہیں یہاں تک کہ عشاء آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھیں تو بہتر ہو گا ۔ پھر ہم بیٹھے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم یہیں بیٹھے رہے ہو؟ ہم نے عرض کیا کہ جی ہاں یا رسول اللہ! ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز مغرب پڑھی ، پھر ہم نے کہا کہ اگر ہم بیٹھے رہیں یہاں تک کہ عشاء کی نماز بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھیں تو بہتر ہو گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اچھا کیا یا ٹھیک کیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا کرتے تھے ، پھر فرمایا کہ ستارے آسمان کے بچاؤ ہیں ، جب ستارے مٹ جائیں گے تو آسمان پر بھی جس بات کا وعدہ ہے وہ آ جائے گی ( یعنی قیامت آ جائے گی اور آسمان بھی پھٹ کر خراب ہو جائے گا ) ۔ اور میں اپنے اصحاب کا بچاؤ ہوں ۔ جب میں چلا جاؤں گا تو میرے اصحاب پر بھی وہ وقت آ جائے گا جس کا وعدہ ہے ( یعنی فتنہ اور فساد اور لڑائیاں ) ۔ اور میرے اصحاب میری امت کے بچاؤ ہیں ۔ جب اصحاب چلے جائیں گے تو میری امت پر وہ وقت آ جائے گا جس کا وعدہ ہے ( یعنی اختلاف و انتشار وغیرہ ) ۔