بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
4
6 hadith
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا ابْنُ هِلاَلٍ، - يَعْنِي حُمَيْدًا - قَالَ بَيْنَمَا أَنَا وَصَاحِبٌ، لِي نَتَذَاكَرُ حَدِيثًا إِذْ قَالَ أَبُو صَالِحٍ السَّمَّانُ أَنَا أُحَدِّثُكَ، مَا سَمِعْتُ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَرَأَيْتُ، مِنْهُ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا مَعَ أَبِي سَعِيدٍ، يُصَلِّي يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَى شَىْءٍ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ شَابٌّ مِنْ بَنِي أَبِي مُعَيْطٍ أَرَادَ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَدَفَعَ فِي نَحْرِهِ فَنَظَرَ فَلَمْ يَجِدْ مَسَاغًا إِلاَّ بَيْنَ يَدَىْ أَبِي سَعِيدٍ فَعَادَ فَدَفَعَ فِي نَحْرِهِ أَشَدَّ مِنَ الدَّفْعَةِ الأُولَى فَمَثَلَ قَائِمًا فَنَالَ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ ثُمَّ زَاحَمَ النَّاسَ فَخَرَجَ فَدَخَلَ عَلَى مَرْوَانَ فَشَكَا إِلَيْهِ مَا لَقِيَ - قَالَ - وَدَخَلَ أَبُو سَعِيدٍ عَلَى مَرْوَانَ فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ مَا لَكَ وَلاِبْنِ أَخِيكَ جَاءَ يَشْكُوكَ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى شَىْءٍ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ فَأَرَادَ أَحَدٌ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلْيَدْفَعْ فِي نَحْرِهِ فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ ‏"‏ ‏.‏
Abu Salih al-Samman reported:I narrate to you what I heard and saw from Abu Sa'id al-Khudri: One day I was with Abu Sa'id and he was saying prayer on Friday turning to a thing which concealed him from the people when a young man from Banu Mu'ait came there and he tried to pass in front of him; he turned him back by striking his chest. He looked about but finding no other way to pass except in front of Abu Sa'id, made a second attempt. He (Abu Sa'id) turned him away by Striking his chest more vigorously than the first stroke. He stood up and had a scuffle with Abu Sa'id. Then the people gathered there He came out and went to Marwan and complained to him what had happened to him. Abu Sa'id too came to Marwan. Marwin said to him: What has happened to you and the son of your brother that he came to complain against you? Abu Sa'id said: I heard from the Messenger of Allah (ﷺ) saying: When any one of you prays facing something which conceals him from people and anyone tries to pass in front of him, he should be turned away, but if he refuses, he should be forcibly restrained from it, for he is a devil
۔ ابن ہلال ، یعنی حمید نے کہا : ایک دن میں اور میرا ایک ساتھی ایک حدیث کے بارے میں مذاکرہ کر رہے تھے کہ ابو صالح سمان کہنے لگے : میں تمہیں حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنی اور ( ان کا عمل ) جو ان سے دیکھا ۔ کہا : ایک موقع پر ، جب میں حضرت ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کےساتھ تھا اور وہ جمعہ کے دن کسی چیز کی طرف ( رخ کر کے ) ، جو انہیں لوگوں سے ستر ہ مہیا کر رہی تھی ، نماز پڑھ رہے تھے ، اتنے میں ابو معیط کے خاندان کا ایک نوجوان آیا ، اس نے ان کے آگے سے گزرنا چاہا تو انہوں نے اسے اس کے سینے سے ( پیچھے ) دھکیلا ۔ اس نے نظر دوڑائی ، اسے ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے سامنے سے ( گزرنے ) کے سوا کوئی راستہ نہ ملا ، اس نے دوبارہ گزرنا چاہا تو انہوں نے اسے پہلی دفعہ سے زیادہ شدت کے ساتھ اس کے سینے سے پیچھے دھکیلا ، وہ سیدھا کھڑا ہو گیا اور ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو برا بھلا کہا ، پھر لوگوں کی بھیڑ میں گھستا ہوا نکل کر مروان کےسامنے پہنچ گیا اور جو ان کے ساتھ بیتی تھی اس کی شکایت کی ، کہا : ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ بھی مروان کے پاس پہنچ گئے تو اس نے ان سے کہا : آپ کا اپنے بھتیجے کا ساتھ کیا معاملہ ہے؟ وہ آ کر آپ کی شکایت کر رہا ہے ۔ ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے جواب دیا : میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جب تم میں سے کوئی لوگوں سے کسی چیز کی اوٹ میں نماز پڑھے اور کوئی اس کے آگے سے گزرنا چاہے تو وہ اسے اس کے سینے سے دھکیلے اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے کیونکہ وہ یقیناً شیطان ہے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ لَقَدْ كَانَ نِسَاءٌ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ يَشْهَدْنَ الْفَجْرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ ثُمَّ يَنْقَلِبْنَ إِلَى بُيُوتِهِنَّ وَمَا يُعْرَفْنَ مِنْ تَغْلِيسِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالصَّلاَةِ ‏.‏
A'isha, the wife of the Messenger of Allah (ﷺ), reported:The believing women observed the morning prayer with the Messenger of Allah (ﷺ) wrapped in their mantles. They then went back to their houses and were unrecognisable, because of the Messenger of Allah's (ﷺ) praying in the darkness before dawn
یونس نے ابن شہاب سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نےکہا : کچھ مومن عورتیں فجر کی نماز میں اپنی چادریں اوڑھے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک ہوتی تھیں ، پھر وہ اپنے گھروں کو لوٹتیں تو رسول اللہ ﷺ کے اندھیرے میں نماز پڑھنے کی بنا پر وپہچانی نہ جا سکتی تھیں
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ، بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، كِلاَهُمَا عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ وَقَالَ فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ ‏ "‏ وَالَّذِي يَقْرَأُ وَهُوَ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ لَهُ أَجْرَانِ ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been reported with the same chain of transmitters by Qatada except with this change:" He who finds it hard (to recite the Qur'an) will have a double reward
ابن ابی عدی نے سعید سے روایت کی ، وکیع نے ہشام دستوائی سے روایت کی ، ان دونوں نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی البتہ وکیع کی حدیث میں یہ الفاظ ہیں : " جو اسے پڑھتا ہے اور وہ اس پر گراں ہوتا ہے ، اس کے لئے دو اجر ہیں ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ لَمْ يَطُفِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَلاَ أَصْحَابُهُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ إِلاَّ طَوَافًا وَاحِدًا ‏.‏
Jabir b. 'Abdullah reported that Allah's Apostle (ﷺ) and his Companions did not observe Sa'i between al-Safa' and al-Marwa but only one Sa'i
ہمیں یحییٰ بن سعید نے ابن جریج سے حدیث بیان کی : ( کہا : ) مجھے ابو زبیر نے خبر دی کہ انھوں نے جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ فر ما رہے تھے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحا بہ نے صفا مروہ کے ایک ( بار کے ) طواف ( سعی ) کے سوا کو ئی اور طواف نہیں کیا
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَا مِنَ الأَنْبِيَاءِ مِنْ نَبِيٍّ إِلاَّ قَدْ أُعْطِيَ مِنَ الآيَاتِ مَا مِثْلُهُ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُ وَحْيًا أَوْحَى اللَّهُ إِلَىَّ فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) observed:There has never been a Prophet amongst the prophets who was not bestowed with a sign amongst the signs which were bestowed (on the earlier prophets). Human beings believed in it and verily I have been conferred upon revelation (the Holy Qur'an) which Allah revealed to me. I hope that I will have the greatest following on the Day of Resurrection
حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ انبیاء میں سے ہر ایک نبی کوایسی نشانیاں ( معجزے ) دی گئیں جن ( کو دیکھ کر ) لوگ ایمان لائے ، اور وحی مجھی کو دی گئی ، جو اللہ نے مجھ پر نازل فرمائی ، ( وہ معجزہ بھی ہے ، اور نور بھی ’’ولكن جعلنه نورا ‘ ‘ ) اس لیے میں امید کرتا ہوں کہ قیامت کے دن ان سب سے زیادہ پیروکار میرے ہو ں گے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ - عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم آخَى بَيْنَ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ وَبَيْنَ أَبِي طَلْحَةَ ‏.‏
Anas reported that Allah's Messenger (ﷺ) established fraternity between Abu Ubaida b. Jarrah and Abu Talha
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوعبیدہ بن جراح اور حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا ۔