حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ بُكَيْرًا، حَدَّثَهُ أَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عُبَيْدَ اللَّهِ الْخَوْلاَنِيَّ، يَذْكُرُ أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، عِنْدَ قَوْلِ النَّاسِ فِيهِ حِينَ بَنَى مَسْجِدَ الرَّسُولِ صلى الله عليه وسلم . إِنَّكُمْ قَدْ أَكْثَرْتُمْ وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ بَنَى مَسْجِدًا لِلَّهِ تَعَالَى - قَالَ بُكَيْرٌ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ - يَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ - بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ " . وَقَالَ ابْنُ عِيسَى فِي رِوَايَتِهِ " مِثْلَهُ فِي الْجَنَّةِ " .
Ubaidullah al-Khaulini reported:'Uthman b. 'Affan listened to the opinion of the people (which was not favourable) when he rebuilt the mosque of the Messenger of Allah (ﷺ). Thereupon he said: You have not been fair to me for I have heard from the Messenger of Allah (ﷺ) saying: He who built a mosque for Allah, the Exalted, Allah would build for him a house in Paradise. Bukair said: I think he (the Holy Prophet) said: While he seeks the pleasure of Allah (by building the mosque). And in the narration of Ibn 'Isa (the words are):" (a house) like that (mosque) in Paradise
۔ ہارون بن سعید ایلی اور احمد بن عیسیٰ دونوں نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ ( کہا : ) ہم سے ابن وہب نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مجھے عمرو نے خبر دی کہ بکیر نے ان سے حدیث بیان کی ، انہیں عاصم بن عمر بن قتادہ نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے عبید اللہ خولانی سے سنا ، وہ بیان کر رہے تھے کہ انہوں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو ، جب رسول اللہ ﷺ کی مسجد کی نئے سے سے تعمیر کے وقت لوگوں نے ان کے بارے میں باتیں کیں ، یہ کہتے سنا : تم نے بہت بتایں کی ہیں ، حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا : ’’جس نے اللہ کے لیے مسجد بنائی ‘ ‘ بکیر نے کہا : میرا خیال ہے ، انہوں نے یہ کہا : ’’ اس سے وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی چاہتا ہے تو اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا ۔ ‘ ‘ احمد بن عیسیٰ نے اپنی روایت میں مثله في الجنة ’’جنت میں اس جیسا ( گھر ) ‘ ‘ کہا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، - عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ رُبَّمَا قَالَ وَكِيعٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ مُعَاذًا، - قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ . فَادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ فِي فُقَرَائِهِمْ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ " .
It is reported on the authority of Ibn 'Abbas that Mu'adh said:The Messenger of Allah sent me (as a governor of Yemen) and (at the time of departure) instructed me thus: You will soon find yourself in a community one among the people of the Book, so first call them to testify that there is no god but Allah, that I (Muhammad) am the messenger of Allah, and if they accept this, then tell them Allah has enjoined upon them five prayers during the day and the night and if they accept it, then tell them that Allah has made Zakat obligatory for them that it should be collected from the rich and distributed among the poor, and if they agree to it don't pick up (as a share of Zakat) the best of their wealths. Beware of the supplication of the oppressed for there is no barrier between him and Allah
بن ابی شیبہ ، ابو کریب اور اسحاق بن ابراہیم سب نے وکیع سے حدیث سنائی ۔ ابو بکر نے کہا : وکیع نے ہمیں زکریا بن اسحاق حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : مجھے یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی نے ابو معبد سے حدیث سنائی ، انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ابو بکر اور انہوں نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کی ( ابوبکرنے کہا : بعض اوقات وکیع کہا ) ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا : مجھے رسول اللہ ﷺ نے بھیجا اور فرمایا : ’’تم اہل کتاب کی ایک قوم کے پاس جا رہے ہو ، انہیں اس کی گواہی دینے کی دعوت دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں ۔ اگر وہ اس میں ( تمہاری ) اطاعت کریں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ہر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں ۔ اگر وہ اسے مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر صدقہ ( زکاۃ ) فرض کیا ہے جو ان کے مالدار لوگوں سے لیا جائے گا اور ان کے مجتاجوں کوواپس کیا جائے گا ، پھر اگر وہ اس بات کو قبول کر لیں تو ان کے بہترین مالوں سے احتراز کرنا ( زکاۃ میں سب سے اچھا مال وصول نہ کرنا ۔ ) اور مظلوم کی بددعا س ےبچنا کیونکہ اس ( بددعا ) کے اور اللہ کے درمیان کو ئی حجاب نہیں ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ، قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِنًى - آمَنَ مَا كَانَ النَّاسُ وَأَكْثَرَهُ - رَكْعَتَيْنِ .
Haritha b. Wahb reported:I prayed with the Messenger of Allah (ﷺ) two rak'ahs and most of them offered two rak'ahs only in Mina, while the people felt secure
ابو احوص نے ابو اسحاق سے اور انھوں نے حضرت حارثہ بن وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں دو رکعات نماز پڑھی ، ( جب ) لوگ سب سے زیادہ امن میں اور کثیر تعداد میں تھے ۔ ( یہ اللہ کی رخصت کو قبول کرنے کا معاملہ تھا ، خوف ، بدامنی یا جنگ کا معاملہ نہ تھا ۔)
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَحْنُ الآخِرُونَ وَنَحْنُ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . بِمِثْلِهِ .
A hadith like this has been narrated by Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) said:We are the last and would be the first on the Day of Resurrection
ابن ابی عمر نے کہا : ہمیں سفیان نے ابو زناد سے حدیث سنا ئی انھوں نے اعرج سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی نیز ( سفیان نے عبد اللہ ) بن طاوس سے انھوں نے اپنے والد ( طاوس بن کیسان ) سے انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ہم سب کے بعد آنے والے ہیں اور قیامت کے دن ہم سب سے پہلے ہو ں گے ۔ ۔ ۔ " اسی ( مذکورہ با لا حدیث ) کے مانند ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ، عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ بَيْنَمَا أَنَا أَتَرَمَّى، بِأَسْهُمٍ لِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ خَسَفَتِ الشَّمْسُ . ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمَا .
Abd al-Rahman b. Samura reported:I was shooting some of my arrows during the lifetime of the Messenger of Allah (ﷺ) that the sun eclipsed. The rest of the hadith is the same
سالم بن نوح نے کہا : ہمیں جریری نے حیان بن عمیر سے خبر دی اور انھوں نے عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ایک دفعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں باہر نکل کر اپنے تیروں سے نشانہ بازی کی مشق کررہا تھا کہ سورج گرہن ہوگیا ، پھر ( سالم بن نوح نے ) ان دونوں ( بشر اور عبدالاعلیٰ ) کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، كُنَّا فِي جَنَازَةِ أُمِّ أَبَانٍ بِنْتِ عُثْمَانَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَلَمْ يَنُصَّ رَفْعَ الْحَدِيثِ عَنْ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَمَا نَصَّهُ أَيُّوبُ وَابْنُ جُرَيْجٍ وَحَدِيثُهُمَا أَتَمُّ مِنْ حَدِيثِ عَمْرٍو .
Amr reported on the authority of Ibn Abu Mulaika:We were with the bier of Umm Aban, daughter of 'Uthman, and the rest of the hadith is the same, but he did not narrate it as a marfu' hadith on the authority of 'Umar from the Messenger of Allah (ﷺ) as it was narrated by Ayyub and Ibn Juraij, and the hadith narrated by them (Ayyub and Ibn Juraij) is more complete than that of 'Amr
عمرو ( بن دینا ر ) نے ابن ابی ملیکہ سے روا یت کی ، انھوں نے کہا : ہم حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صاحبزادی اُم ابان کے جنا زے میں ( حاضر ) تھے ۔ ۔ ۔ اور مذکورہ حدیث بیان کی ، انھوں ( عمرو ) نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ( آگے ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روا یت مرفوع ہو نے کی صراحت نہیں کی جس طرح ایوب اور ابن جریج نے اس کی صراحت کی ہے اور ان دو نوں کی حدیث سے زیادہ مکمل ہے ۔
وَحَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّدَفِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي هِشَامُ، بْنُ سَعْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ إِلَى آخِرِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لاَ يُؤَدِّي حَقَّهَا " . وَلَمْ يَقُلْ " مِنْهَا حَقَّهَا " . وَذَكَرَ فِيهِ " لاَ يَفْقِدُ مِنْهَا فَصِيلاً وَاحِدًا " . وَقَالَ " يُكْوَى بِهَا جَنْبَاهُ وَجَبْهَتُهُ وَظَهْرُهُ " .
This hadith has been narrated by Zaid b. Aslam with the same chain of transmitters except that he said:" None among the owners of camels who does not pay their due," but did not say" their due (Zakat) out of them." and he make a mention:" He did not miss a single young one out of them." and he said:" Their sides. their foreheads and their backs would be cauterised
ہشام بن سعد نے زید بن اسلم سے اسی سند کے ساتھ حفص بن میسرہ کی حدیث کے آخر تک اس کے ہم معنی روایت بیان کی ، البتہ انھوں نے " جو اونٹوں کا مالک ان کا حق ادا نہیں کرتا " کہا : اورمنهاحقها ( اور میں سے ان کا حق ) کے الفاظ نہیں کہے اور انھون نے ( بھی ) اپنی حدیث میں " وہ ان میں سے دودھ چھڑائے ہوئے ای بچے کوبھی گم نہ پائے گا " کے الفاظ روایت کئے ہیں اور اسی طرح ( ان سے اس کے پہلو ، پیشانی اور کمر کو داغا جائے گا کے بجائے ) يكوي بها جنباه وجبهته وظهره ( اس کے دونوں پہلو ، اس کی پیشانی اور کمر کو داغا جائے گا ) کے الفاظ کہے ۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ، أَنَّ عِكْرِمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ - رضى الله عنها - أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حَلَفَ أَنْ لاَ يَدْخُلَ عَلَى بَعْضِ أَهْلِهِ شَهْرًا فَلَمَّا مَضَى تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا غَدَا عَلَيْهِمْ - أَوْ رَاحَ - فَقِيلَ لَهُ حَلَفْتَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَنْ لاَ تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا . قَالَ " إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ يَوْمًا " .
Umm Salama (Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) took an oath that he would not go to some of his wives for the whole of the month. When twenty-nine days bad passed he (the Holy Prophet) went to them in the morning or in the evening. Upon this it was said to him:Apostle of Allah, you took an oath that you would not come to us for a month, whereupon he said: The month may also consist of twenty-nine days
حجاج بن محمد ، ابن جریج ، یحییٰ بن عبداللہ بن محمد بن صیفی ، عکرمہ بن عبدالرحمٰن بن حارث ، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا خبر دیتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اٹھائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کچھ ازواج مطہرات کے پاس ایک مہینہ تک نہیں جائیں گے ۔ تو جب انتیس دن گزر گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح یا شام ان کی طرف تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو قسم اٹھائی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ تک ہماری طرف تشریف نہیں لائیں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ مہینہ انتیس دنوں کا بھی ہوتا ہے
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ حَجَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رضى الله عنهما - بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ ثِنْتَىْ عَشْرَةَ مَرَّةً فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَقَدْ رَأَيْتُ مِنْكَ أَرْبَعَ خِصَالٍ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِهَذَا الْمَعْنَى إِلاَّ فِي قِصَّةِ الإِهْلاَلِ فَإِنَّهُ خَالَفَ رِوَايَةَ الْمَقْبُرِيِّ فَذَكَرَهُ بِمَعْنًى سِوَى ذِكْرِهِ إِيَّاهُ .
Ubaid b. Juraij reported:I remained in the company of 'Abdullah b. 'Umar b. al-Khattab (Allah be pleased with them) its twelve Hajjs and 'Umras and I said to him: I saw four characteristics (peculiar in you), and the rest of the hadith is the same except the case of Talbiya. There he offered the narration given by al-Maqburi and he stated the facts excepting the one given above
ابن قسیط نے عبید بن جریج سے روایت کی کہا : میں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ بارہ دفعہ حج اور عمرے کیے ۔ میں نے کہا : اے عبد الرحمٰن !میں نے آپ میں چار چیزیں دیکھی ہیں اور اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی مگر ( تلبیہ بلند کرنے کے ) قصے میں مقبری کی روایت مخالفت کی ، ان الفاظ کے بغیر روایت بالمعنی کی ۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ .
Rabi' b. Sabra reported on the authority of his father that Allah's Apostle (ﷺ) prohibited the contracting of temporary marriage
سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ربیع بن سبرہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح متعہ سے منع فرما دیا
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي، الْخَلِيلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ، سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَتُحَرِّمُ الْمَصَّةُ فَقَالَ " لاَ " .
Umm Fadl (Allah be pleased with her) reported that a person asked Allah's Apostle (ﷺ):Does one suckling make (the marriage) unlawful? He said: No
ہمام نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں قتادہ نے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ ام فضل رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا : کیا ایک مرتبہ دودھ چوسنا ( رشتے کو ) حرام کر دیتا ہے؟ تو آپ نے جواب دیا : " نہیں
قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، بِهَذَا سَوَاءً وَحَدَّثَنِيهِ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
This hadith has been narrated on the authority of 'Urwa with the same chain of transmitters
علی بن مسہر نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدًا إِلاَّ أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ " . وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ " وَلَدٌ وَالِدَهُ " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:A son does not repay what he owes his father unless he buys him (the father) in case he is a slave and then emancipates him. In the narration transmitted by Ibn Abu Shaiba there is a slight change of words
ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں جرید نے سہیل سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد ( ابو صالح سمان ) سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی بیٹا والد کا حق ادا نہیں کر سکتا ، الا یہ کہ اسے غلام پائے ، اسے خریدے اور آزاد کر دے ۔ " ابن ابی شیبہ کی روایت میں : " کوئی بیٹا اپنے والد کا " کے الفاظ ہیں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ،ح . وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ نُهِينَا عَنْ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ .
Anas b. Malik (Allah be pleased with him) said:We were forbidden that a townsman should sell for a man of the desert
ابن عون نے ہمیں محمد ( بن سیرین ) سے حدیث بیان کی ، کہا : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا : ہمیں اس بات سے منع کیا گیا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے بیع کرے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أَفْلَسَ الرَّجُلُ فَوَجَدَ الرَّجُلُ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:When a man becomes insolvent (and the other) man (the seller) finds his commodity intact with him, he is more entitled to get it (than anyone else)
شعبہ نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہیں نے نضر بن انس سے ، انہوں نے بشیر بن نہیک سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " جب کوئی آدمی مفلس ہو جائے اور کوئی آدمی ( اس کے پاس ) اپنا مال جوں کا توں پائے تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، - وَاللَّفْظُ لِعَبْدٍ - قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ، الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ إِنَّمَا الْعُمْرَى الَّتِي أَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَقُولَ هِيَ لَكَ وَلِعَقِبِكَ . فَأَمَّا إِذَا قَالَ هِيَ لَكَ مَا عِشْتَ . فَإِنَّهَا تَرْجِعُ إِلَى صَاحِبِهَا . قَالَ مَعْمَرٌ وَكَانَ الزُّهْرِيُّ يُفْتِي بِهِ .
Jabir (Allah be pleased with him) said:The Umra for which Allah's Messenger (ﷺ) gave sanction that a person way say: This (property) is for you and for your descendants. And when he said: That is for you as long as you live, then it will return to its owner (after the death of the donee). Ma'mar said: Zuhri used to give religious verdict according to this
معمر نے ہمیں زہری رحمۃ اللہ علیہ سے خبر دی ، انہوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : وہ عمریٰ جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نافذ کیا یہ ہے کہ آدمی کہے : یہ تمہارے لیے اور تمہاری اولاد کے لیے ہے ، البتہ جب وہ کہے : یہ تمہارے لیے ہے جب تک تم زندہ ہو ، تو وہ اسکے مالک کو واپس مل جائے گا ۔ معمر نے کہا : امام زہری رحمۃ اللہ علیہ اسی کے مطابق فتویٰ دیتے تھے
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ - وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَوْمُ الْخَمِيسِ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ ثُمَّ بَكَى حَتَّى بَلَّ دَمْعُهُ الْحَصَى . فَقُلْتُ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ قَالَ اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَجَعُهُ . فَقَالَ " ائْتُونِي أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لاَ تَضِلُّوا بَعْدِي " . فَتَنَازَعُوا وَمَا يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِيٍّ تَنَازُعٌ . وَقَالُوا مَا شَأْنُهُ أَهَجَرَ اسْتَفْهِمُوهُ . قَالَ " دَعُونِي فَالَّذِي أَنَا فِيهِ خَيْرٌ أُوصِيكُمْ بِثَلاَثٍ أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ " . قَالَ وَسَكَتَ عَنِ الثَّالِثَةِ أَوْ قَالَهَا فَأُنْسِيتُهَا . قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، بِهَذَا الْحَدِيثِ
Sa'id b. Jubair reported that Ibn 'Abbas said:Thursday, (and then said): What is this Thursday? He then wept so much that his tears moistened the pebbles. I said: Ibn 'Abbas, what is (significant) about Thursday? He (Ibn 'Abbas) said: The illness of Allah's Messenger (ﷺ) took a serious turn (on this day), and he said: Come to me, so that I should write for you a document that you may not go astray after me. They (the Companions around him) disputed, and it is not meet to dispute in the presence of the Apostle. They said: How is lie (Allah's Apostle)? Has he lost his consciousness? Try to learn from him (this point). He (the Holy Prophet) said: Leave me. I am better in the state (than the one in which you are engaged). I make a will about three things: Turn out the polytheists from the territory of Arabia; show hospitality to the (foreign) delegations as I used to show them hospitality. He (the narrator) said: He (Ibn Abbas) kept silent on the third point, or he (the narrator) said: But I forgot that. This hadith was mentioned through another chain
ہمیں سعید بن منصور ، قتیبہ بن سعید ، ابوبکر بن ابی شیبہ اور عمرو ناقد نے حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ سعید کے ہیں ۔ ۔ سب نے کہا : ہمیں سفیان نے سلیمان احول سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سعید بن جبیر سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : جمعرات کا دن ، اور جمعرات کا دن کیسا تھا! پھر وہ رونے لگے یہاں تک کہ ان کے آنسوؤں نے سنگریزوں کو تر کر دیا ۔ میں نے کہا : ابوعباس! جمعرات کا دن کیا تھا؟ انہون نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرض شدت اختیار کر گیا تو آپ نے فرمایا : "" میرے پاس ( لکھنے کا سامان ) لاؤ ، میں تمہیں ایک کتاب ( تحریر ) لکھ دوں تاکہ تم میرے بعد گمراہ نہ ہو ۔ "" تو لوگ جھگڑ پڑے ، اور کسی بھی نبی کے پاس جھگڑنا مناسب نہیں ۔ انہوں نے کہا : آپ کا کیا حال ہے؟ کیا آپ نے بیماری کے زیر اثر گفتگو کی ہے؟ آپ ہی سے اس کا مفہوم پوچھو! آپ نے فرمایا : "" مجھے چھوڑ دو ، میں جس حالت میں ہوں وہ بہتر ہے ۔ میں تمہیں تین چیزوں کی وصیت کرتا ہوں؛ مشرکوں کو جزیرہ عرب سے نکال دینا اور آنے والے وفود کو اسی طرح عطیے دینا جس طرح میں انہیں دیا کرتا تھا ۔ "" ( سلیمان احول نے ) کہا : وہ ( سعید بن جبیر ) تیسری بات کہنے سے خاموش ہو گئے یا انہوں نے کہی اور میں اسے بھول گیا ۔ ابواسحاق ابراہیم نے کہا : ہمیں حسن بن بشر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان نے یہی حدیث بیان کي
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يُونُسَ، وَمَنْصُورٍ، وَحُمَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ عَطِيَّةَ، وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، وَهِشَامِ، بْنِ حَسَّانَ فِي آخَرِينَ ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، ح وَحَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، كُلُّهُمْ عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِهَذَا الْحَدِيثِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ الْمُعْتَمِرِ عَنْ أَبِيهِ ذِكْرُ الإِمَارَةِ .
This hadith has been narrated on the authority of 'Abd al-Rahman b. Samura through another chain of transmitters but there is no mention of the word" authority
یونس ، منصور ، حمید ، سماک بن عطیہ ، ہشام بن حسان ، معتمر کے والد ( سلیمان طرخان ) اور قتادہ ، ان سب نے حسن سے ، انہوں نے حضرت عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی اور معتمر کی اپنے والد ( سلیمان طرخان ) سے روایت کردہ حدیث میں امارت ( والی بات ) کا ذکر نہیں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ، حَدَّثَنَا قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ، بْنِ سِيرِينَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلاً، عَضَّ يَدَ رَجُلٍ فَانْتَزَعَ يَدَهُ فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتُهُ أَوْ ثَنَايَاهُ فَاسْتَعْدَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا تَأْمُرُنِي تَأْمُرُنِي أَنْ آمُرَهُ أَنْ يَدَعَ يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ ادْفَعْ يَدَكَ حَتَّى يَعَضَّهَا ثُمَّ انْتَزِعْهَا " .
Imran b. Husain reported that a person bit the hand of a person. He withdrew his hand and his foretooth or foreteeth fell down. He (the man who lost his teeth) referred the matter to Allah's Messenger (ﷺ) and he said, What do you want me to do? Do you ask me that I should order him to put his hand in your mouth, and you should bite it as the camel bites? (If you want retaliation, then the only way out is) that you put your hand in his mouth (allow him) to bite that and then draw it away
محمد بن سیرین نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کے ہاتھ کو دانتوں سے کاٹا ، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کا سامنے والا ایک یا دو دانت گر گئے ، اس پر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فریاد کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم مجھ سے کیا کہتے ہو؟ تم مجھے یہ کہتے ہو کہ میں اسے یہ کہوں : وہ اپنا ہاتھ تمہارے منہ میں دیا اور تم اس طرح اسے چباؤ جس طرح سانڈ چباتا ہے؟ تم بھی اپنا ہاتھ ( اس کے منہ کی طرف ) بڑھاؤ حتی کہ وہ اسے کاٹنے لگے ، پھر تم اسے کھینچ لینا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ وَوَافَقَهُ شَبَابَةُ عَلَى قَوْلِهِ فَرَدَّهُ مَرَّتَيْنِ . وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَامِرٍ فَرَدَّهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا .
This hadith has been narrated on the authority of Jabir b. Samura through another chain of transmitters with the difference that along with the mentioning (of the fact) that he (the Holy Prophet) turned him away twice, or thrice
شبابہ اور ابوعامر عقدی دونوں نے شعبہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سماک سے ، انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ابن جعفر کی حدیث کی طرح روایت کی اور شبابہ نے اس بات میں ان کی موافقت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوبار لوٹایا ۔ اور ابوعامر کی حدیث میں ہے : آپ نے اسے دو یا تین بار واپس کیا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ، اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ وُجِدَتِ امْرَأَةٌ مَقْتُولَةً فِي بَعْضِ تِلْكَ الْمَغَازِي فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ .
It is narrated by Ibn 'Umar that a woman was found killed in one of these battles; so the Messenger of Allah (ﷺ) forbade the killing of women and children
عبیداللہ بن عمر نے ہمیں نافع کے حوالے سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : غزوات میں سے ایک غزوے میں ایک عورت مقتول ملی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرما دیا
وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ دَخَلَ ابْنُ زِيَادٍ عَلَى مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ وَهُوَ وَجِعٌ . بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي الأَشْهَبِ وَزَادَ قَالَ أَلاَّ كُنْتَ حَدَّثْتَنِي هَذَا، قَبْلَ الْيَوْمِ قَالَ مَا حَدَّثْتُكَ أَوْ، لَمْ أَكُنْ لأُحَدِّثَكَ .
It has been narrated through a different chain of transmitters on the authority of Hasan who said:Ibn, Ziyad paid a visit to Ma'qil b. Yasir who was seriously ill. Here follows the same tradition as has gone before with the addition that Ibn Ziyad asked: Why didn't you narrate this tradition to me before this day? Ma'qil reprimanded him and said: I did not narrate it to you or I was not going to narrate it to you
یونس نے حضرت حسن بصری سے روایت کی ، کہا : ابن زیاد حضرت معقل رضی اللہ عنہ کے پاس گیا وہ اس وقت ( بیمار تھے اور ) درد میں مبتلا تھے ، جیسے ابو اشہب کی حدیث ہے اور انہوں نے اضافہ کیا : اس ( ابن زیاد ) نے کہا : آپ نے آج سے پہلے مجھے یہ حدیث کیوں نہیں بیان کی؟ حضرت معقل رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے تمہیں کبھی حدیث نہیں سنائی ، ( تم نے حدیث کا سماع ہی نہیں کیا ) یا فرمایا : میں تمہیں حدیث بیان نہیں کیا کرتا تھا ( حدیث میں تمہارا استاد نہ تھا)
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعَ عَمْرٌو، جَابِرًا يَقُولُ فِي جَيْشِ الْخَبَطِ إِنَّ رَجُلاً نَحَرَ ثَلاَثَ جَزَائِرَ ثُمَّ ثَلاَثًا ثُمَّ ثَلاَثًا ثُمَّ نَهَاهُ أَبُو عُبَيْدَةَ .
Amr reported on the authority of Jabir that in the expedition of Khabat (leaves) a person slaughtered three camels, then three, then three, then Abu 'Ubaida forbade him (to do so fearing that the rides may become short)
عمر و نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پتوں و الے لشکر کے بارے میں بیان کرتے ہوئے سناکہ ( جب زادراہ ختم ہوگیا تو ابتدا میں ) ایک دن ایک شخص نے تین اونٹ ذبح کیے ، پھر تین ذبح کیے ، پھر تین ذبح کیے ، اس کے بعد حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو منع کردیا ( کہ سواری کے جانور ختم ہونے لگےتھے)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لاَقُو الْعَدُوِّ غَدًا وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًى قَالَ صلى الله عليه وسلم " أَعْجِلْ أَوْ أَرْنِي مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ فَكُلْ لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ وَسَأُحَدِّثُكَ أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ " . قَالَ وَأَصَبْنَا نَهْبَ إِبِلٍ وَغَنَمٍ فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ لِهَذِهِ الإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَإِذَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا شَىْءٌ فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا " .
Rafi' b. Khadij is reported to have said:Allah's Messenger, we are going to encounter the enemy tomorrow, but we have no knives with us. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Make haste or be careful (in making arrangements for procuring knives) which would let the blood flow (and along with it) the name of Allah is also to be recited. Then eat, but not the tooth or nail. And I am going to tell you why it is not permissible to slaughter the animal with the help of tooth and bone; and as for the nail. it is a bone, and the bone is the knife of Abyssinians. He (the narrator) said: There fell to our lot as spoils of war camels and goats, and one of the camels among them became wild. A person (amongst usl struck It with an arrow which brought it under control. whereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: This camel became wild like wild animals, so if you find any animal getting wild, you do the same with that
یحییٰ بن سعید نے سفیان ( بن سعید ) سے رویت کی ، کہا مجھے میرے والد ( سعید بن مسروق ) نے عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ میں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم کل دشمن سے لڑنے والے ہیں اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جلدی کر یا ہوشیاری کر جو خون بہا دے اور اللہ کا نام لیا جائے اس کو کھا لے ، سوا دانت اور ناخن کے ۔ اور میں تجھ سے کہوں گا اس کی وجہ یہ ہے کہ دانت ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھریاں ہیں ۔ راوی نے کہا کہ ہمیں مال غنیمت میں اونٹ اور بکریاں ملیں ، پھر ان میں سے ایک اونٹ بگڑ گیا ، ایک شخص نے اس کو تیر سے مارا تو وہ ٹھہر گیا ۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان اونٹوں میں بھی بعض بگڑ جاتے ہیں اور بھاگ نکلتے ہیں جیسے جنگلی جانور بھاگتے ہیں ۔ پھر جب کوئی جانور ایسا ہو جائے تو اس کے ساتھ یہی کرو ۔ ( یعنی دور سے تیر سے نشانہ کرو ) ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَبِي، عُثْمَانَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
This hadith has been narrated on the authority of Yahya b. Abu Kathir with the same chain of transmitters
حجاج بن ابی عثمان نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، قَالَ كُنَّا مَعَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ .
The previous hadith is narrated likewise through another chain of transmitters
معتمر نے اپنے والد ( سلیمان تیمی ) سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابو عثمان نے حدیث بیان کی ، کہا : ہم عتبہ بن فرقد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے ، جریر کی حدیث کے مانند ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ نَحْوَ حَدِيثِ يَزِيدَ .
This hadith has been reported on the authority of Anas through another chain of transmit ters
حماد بن مسعدہ نے کہا : ہمیں ابن عون نے محمد ( ابن سیرین ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی قصے کے ساتھ یزید کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْثِرْ وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ " .
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (way peace he upon him) said: When anyone performs ablution he must clean his nose and when anyone wipes himself with pebbles (after answering the call of nature) he must do that odd number of times
مالک نے ابن شہاب سے ، انہوں نے ابو ادریس خولانی سے ، انہو ں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جو وضو کرے وہ ناک جھاڑے اور جو استنجا کرے وہ طاق عدد میں کرے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، وَاللَّيْثِ، بْنِ سَعْدٍ وَحَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ وَغَيْرِهِمْ أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ، حَدَّثَهُمْ بِهَذَا الإِسْنَادِ، مِثْلَهُ .
This hadith has been narrated on the authority of Yazid b. Abu Habib with the same chain of transmitters
عبداللہ بن وہب نے عمرو بن حارث ، لیث بن سعد اور حیوہ بن شریح وغیرہ سے روایت کی کہ یزید بن ابی حبیب نے انھیں اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي، الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ لأَعْرَابِيٍّ جَاءَهُ فَقَالَ إِنِّي حَلَمْتُ أَنَّ رَأْسِي قُطِعَ فَأَنَا أَتَّبِعُهُ فَزَجَرَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ " لاَ تُخْبِرْ بِتَلَعُّبِ الشَّيْطَانِ بِكَ فِي الْمَنَامِ " .
Jabir reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There came to him (the Holy Prophet) a desert Arab and said: I saw in a dream that I had been beheaded and I had been following it (the severed head). Allah's Apostle (ﷺ) reprimanded him saying: Do not inform about the vain sporting of devil with you during the night
ابو زبیر نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ اعرابی ( بدوی ) نے ، جو آپ کے پاس آیا تھا ، آپ سے عرض کی : میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میرا سرکٹ گیا ہے اور میں اس کے پیچھے بھاگ رہا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ڈانٹا اورفرمایا : " نیند کے عالم میں اپنے ساتھ شیطان کے کھیلنے کے بارے میں کسی کو مت بتاؤ ۔
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ جُنْدَبًا، يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " أَنَا فَرَطُكُمْ، عَلَى الْحَوْضِ " .
Jundab reported:I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: I shall be there at the Cistern before you
ہمیں زائدہ نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں عبدالمطلب بن عمیر نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت جندب ( بن عبداللہ بجلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرمارہے تھے : " میں حوض پرتمھارا پیش رو ہوں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، وَابْنِ الْمُنْكَدِرِ، سَمِعَا جَابِرًا، يُخْبِرُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَعَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتُ فِيهَا دَارًا أَوْ قَصْرًا فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا فَقَالُوا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ . فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَ . فَذَكَرْتُ غَيْرَتَكَ " . فَبَكَى عُمَرُ وَقَالَ أَىْ رَسُولَ اللَّهِ أَوَعَلَيْكَ يُغَارُ
Jabir reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:I entered Paradise and saw in it a house or a palace. I said: For whom is it resersred? They (the Angels) said: It is for 'Umar b. Khattab. (The Prophet said to 'Umar b. Khattab): I intenied to get into it but I thought of your feelings. Thereupon 'Umar wept and said: Apostle of Allah, could I feel any jealousy in your case?
محمد بن عبد اللہ بن نمیر اور زہیر بن حرب نے کہا : ۔ الفاظ انھی ( زہیر ) کے ہیں ۔ ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے عمرواور ابن منکدر سے انھوں نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ کہ آپ نے فرما یا : " میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے وہاں ایک گھر یا محل دیکھا میں نے پو چھا : یہ کس کا ہے؟فرشتوں نے کہا : یہ عمر بن خطاب کا ( محل ) ہے ، میں نے اس میں داخل ہو نے کا ارادہ کیا ، پھر مجھے تمھا ری غیرت یاد آگئی ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رونے لگے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ سے غیرت کی جا تی ہے
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ كِلاَهُمَا عَنِ الْمُقْرِئِ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ، اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ قَالَ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، يَقُولُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ قُلُوبَ بَنِي آدَمَ كُلَّهَا بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ كَقَلْبٍ وَاحِدٍ يُصَرِّفُهُ حَيْثُ يَشَاءُ " . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلَى طَاعَتِكَ " .
Abdullah b. Amr b. al-'As reported that he heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Verily, the hearts of all the sons of Adam are between the two fingers out of the fingers of the Compassionate Lord as one heart. He turns that to any (direction) He likes. Then Allahs Messenger (ﷺ) said: 0 Allah, the Turner of the hearts, turn our hearts to Thine obedience
عمرو بن مسلم نے طاوس سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعدد صحابہ کو پایا وہ سب کے سب یہ کہتے تھے کہ ہر چیز ( اللہ کی مقرر کردہ ) مقدار سے ہے اور میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہر چیز ( اللہ کی مقرر کردہ ) مقدار سے ہے یہاں تک کہ ( کسی کام کو ) نہ کر سکنا اور کر سکنا بھی ، یا کہا : ( کسی کام کو ) کر سکنا اور نہ کر سکنا ( بھی اسی مقدار سے ہے ۔)
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الأُمَوِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي قَالُوا، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَوْنِ، بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ .
Jarir transmitted this hadith from his father through several other chains of narrators
عبدالملک بن عمیر اور عون بن ابی الجحیفہ نے مُنذِر بن جریر سے ، انہوں نے اپنے والد ( جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ) سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا وَأَزِيدُ وَمَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَجَزَاؤُهُ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا أَوْ أَغْفِرُ وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا وَمَنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً وَمَنْ لَقِيَنِي بِقُرَابِ الأَرْضِ خَطِيئَةً لاَ يُشْرِكُ بِي شَيْئًا لَقِيتُهُ بِمِثْلِهَا مَغْفِرَةً " . قَالَ إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ .
Abu Dharr reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying that Allah, the Exalted and Glorious, stated:" He who comes with goodness, there are in store for him ten like those and even more than those: 'And he who comes with vice, ' it is only for that that he is called to account. I even forgive him (as I like) and he who draws close to Me by the span of a palm I draw close to him by the cubit, and he who draws close to Me by the cubit I draw close to him by the space (covered) by two hands, and he who walks towards Me I rush towards him, and he who meets Me in the state that his sins fill the earth, but not associating anything with Me, I would meet Him with the same (vastness) of pardon (on My behalf)." This hadith has been transmitted on the authority of Waki
وکیع نے کہا : ہمیں اعمش نے معرور بن سوید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوزر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ عزوجل فرماتا ہے : جو شخص ایک نیکی لے کر آتا ہے ، اسے اس جیسی دس ملتی ہیں اور میں بڑھا ( بھی ) دیتا ہوں اور جو شخص برائی لے کر آتا ہے تو اس کا بدلہ اس جیسی ایک برائی ہے یا ( چاہوں تو ) معاف کر دیتا ہوں ، جو ایک بالشت میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہو جاتا ہوں اور جو ایک ہاتھ میرے قریب ہوتا ہے تو میں دو ہاتھوں کےپھیلاؤ جتنا اس کے قریب ہو جاتا ہوں اور جو میرے پاس چلتا ہوا آتا ہے ، میں اس کے پاس دوڑتا ہوا جاتا ہوں اور جو مجھ سے پوری زمین کی وسعت بھر گناہوں کے ساتھ ملاقات کرتا ہے ( اور ) میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتا ، میں اتنی ہی مغفرت کے ساتھ اس سے ملاقات کرتا ہوں ۔ "" ( امام مسلم کے شاگرد ) ابراہیم نے کہا : ہم سے حسب بن بشر نے ، ان کو وکیع نے یہی حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ قَالَ لِيَ الزُّهْرِيُّ أَلاَ أُحَدِّثُكَ بِحَدِيثَيْنِ عَجِيبَيْنِ قَالَ الزُّهْرِيُّ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَسْرَفَ رَجُلٌ عَلَى نَفْسِهِ فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ أَوْصَى بَنِيهِ فَقَالَ إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي ثُمَّ اسْحَقُونِي ثُمَّ اذْرُونِي فِي الرِّيحِ فِي الْبَحْرِ فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ عَلَىَّ رَبِّي لَيُعَذِّبُنِي عَذَابًا مَا عَذَّبَهُ بِهِ أَحَدًا . قَالَ فَفَعَلُوا ذَلِكَ بِهِ فَقَالَ لِلأَرْضِ أَدِّي مَا أَخَذْتِ . فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ فَقَالَ لَهُ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ فَقَالَ خَشْيَتُكَ يَا رَبِّ - أَوْ قَالَ - مَخَافَتُكَ . فَغَفَرَ لَهُ بِذَلِكَ " . قَالَ الزُّهْرِيُّ وَحَدَّثَنِي حُمَيْدٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " دَخَلَتِ امْرَأَةٌ النَّارَ فِي هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا فَلاَ هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَلاَ هِيَ أَرْسَلَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ حَتَّى مَاتَتْ هَزْلاً " . قَالَ الزُّهْرِيُّ ذَلِكَ لِئَلاَّ يَتَّكِلَ رَجُلٌ وَلاَ يَيْأَسَ رَجُلٌ .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying that a person committed sin beyond measure and when he was going to die, he left this will:(When I die), bum my dead body and then cast them (the ashes) to the wind and in the ocean. By Allah, if my Lord takes hold of me, He would torment me as He has not tormented anyone else. They did as he had asked them to do. He (the Lord) said to the earth: Return what you have taken. And he was thus restored to his (original form). He (Allah) said to him: What prompted you to do this? He said: My Lord, it was Thine fear or Thine awe, and Allah pardoned him because of this. Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying that a woman was thrown into Hell-Fire because of a cat whom she had tied and did not provide it with food. nor did she set it free to eat vermin of the earth until it died emaciated. Az-Zuhri said: (These two ahadith) show that a person should neither feel confident (of getting into Paradise) because of his deeds, nor should he lose (all hopes) of getting into Paradise
معمر نے کہا : زہری نے مجھ سے کہا : کیا میں تمہیں دو عجیب حدیثیں نہ سناؤں؟ ( پھر ) زہری نے کہا : مجھے حمید بن عبدالرحمان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک شخص نے اپنے آپ پر ہر قسم کی زیادتی کی ( ہر گناہ کا ارتکاب کر کے خود کو مجرم بنایا ۔ ) تو جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی اور کہا : جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا ، پھر مجھے ریزہ ریزہ کر دینا ، پھر مجھے ہوا میں ، سمندر میں اڑا دینا ۔ اللہ کی قسم! اگر میرے رب نے مجھے قابو کر لیا تو مجھے یقینا ایسا عذاب دے گا جو کسی اور کو نہ دیا ہو گا ۔ " آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " انہوں نے اس کے ساتھ یہی کیا ۔ تو اللہ نے زمین سے کہا : جو تو نے لیا پورا واپس کر ، تو وہ ( پورے کا پورا سامنے ) کھڑا تھا ۔ اللہ نے اس سے فرمایا : تو نے جو کیا اس پر تمہیں کس چیز نے اکسایا؟ اس نے کہا : میرے پروردگار! تیری خشیت نے ۔ ۔ یا کہا ۔ ۔ : تیرے خوف نے تو اسی ( بات ) کی بنا پر اس ( اللہ ) نے اسے بخش دیا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ح وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، كُلُّهُمْ عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَعُودَ فَلْيَتَوَضَّأْ " . زَادَ أَبُو بَكْرٍ فِي حَدِيثِهِ بَيْنَهُمَا وُضُوءًا وَقَالَ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُعَاوِدَ .
Abu Sa'id al-Khudri reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: When anyone amongst you has sexual intercourse with his wife and then he intends to repeat it, he should perform ablution. In the hadith transmitted by Abu Bakr. (the words are):" Between the two (acts) there should be an ablution," or he (the narrator) said:" Then he intended that it should be repeated
ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں حفص بن غیاث نے حدیث سنائی ، نیز ابو کریب نے کہا : ہمیں ابن ابی زائدہ نے خبر دی ، نیز عمرو ناقد اور ابن نمیر نے کہا : ہمیں مروان بن معاویہ فزاری نے حدیث سنائی ، ان سب ( حفص ، ابن ابی زائدہ اور مروان ) نے عاصم سے ، انہوں نے ابومتوکل سے اور انہو ں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کسی نے اپنی بیوی سے مباشرت کر لی ، پھر سے کرنا چاہے تو وہ وضو کر لے ۔ ‘ ‘ ( حفص بن غیاث سے روایت کرنے والے ) ابو بکر نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا : دونوں بار کے درمیان وضو کر لے ، نیز أن يعود ( پھر سے ) کے بجائےأن يعاود ( دوبارہ ) کے الفاظ استعمال کیے ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِلْقَتَيْنِ فَسَتَرَ الْجَبَلُ فِلْقَةً وَكَانَتْ فِلْقَةٌ فَوْقَ الْجَبَلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ اشْهَدْ " .
Abdullah b. Mas'ud reported that the moon was split up in two parts during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ). The mountain covered one of its parts and one part of it was above the mountain and Allah's Messenger (ﷺ) said:Bear witness to this
شعبہ نے اعمش سے ، انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں نے ابو معمر سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں چاند تقسیم ہوکردوٹکڑے ہوگیا ، ایک ٹکڑے کو پہاڑ نے ڈھانپ لیا ( اس پہاڑ کے پیچھے نظر آتا تھا ) اورایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " اے اللہ ! تو گواہ رہ ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ أَبِي، عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْخَيْمَةُ دُرَّةٌ طُولُهَا فِي السَّمَاءِ سِتُّونَ مِيلاً فِي كُلِّ زَاوِيَةٍ مِنْهَا أَهْلٌ لِلْمُؤْمِنِ لاَ يَرَاهُمُ الآخَرُونَ " .
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Bakr b. Abu Musa b. Qais who, on the authority of his father, reported the Apostle (ﷺ) to have said that there would be a tent made of a pearl whose height towards the sky would be sixty miles. In each corner, there would be a family of the believer, out of sight for the others
ہمام نے ابو عمران جونی سے خبر دی انھوں نے ابو بکر بن ابوموسیٰ بن قیس سے انھوں نے اپنے والد ( ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " خیمہ ایک موتی ( کا ) ہوگا اوپر کی طرف اس کی لمبائی ( بلندی ) ساٹھ میل ہوگی ۔ اس کے ہر کونے میں مومن کے گھروالے ہوں گے ، وہ دوسروں کو نہیں دیکھیں گے ۔
وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا وَقَالَ، إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَقَامًا مَا تَرَكَ شَيْئًا يَكُونُ فِي مَقَامِهِ ذَلِكَ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ إِلاَّ حَدَّثَ بِهِ حَفِظَهُ مَنْ حَفِظَهُ وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ قَدْ عَلِمَهُ أَصْحَابِي هَؤُلاَءِ وَإِنَّهُ لَيَكُونُ مِنْهُ الشَّىْءُ قَدْ نَسِيتُهُ فَأَرَاهُ فَأَذْكُرُهُ كَمَا يَذْكُرُ الرَّجُلُ وَجْهَ الرَّجُلِ إِذَا غَابَ عَنْهُ ثُمَّ إِذَا رَآهُ عَرَفَهُ .
Hudhaifa reported that Allah's Messenger (ﷺ) stood before us one day and he did not leave anything unsaid (that he had to say) at that very spot which would happen (in the shape of turmoil) up to the Last Hour. Those who had to remember them preserved them in their minds and those who could not remember them forgot them. My friends knew them and there are certain things which slip out of my mind, but I recapitulate them when anyone makes a mention of them just as a person is lost from one's mind but is recalled to him on seeing his face
جریر نے اعمش سے انھوں نے شقیق سے اور انھوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سامنے کھڑے ہوئے اور آپ نے اپنے کھڑے ہونے کے اس وقت سے لے کر قیامت تک ہونے والی کوئی ( اہم ) بات نہ چھوڑی مگر اسے بیان فرمادیا جس نے اس ( بیان ) کو یاد رکھا اس نے اسے یاد رکھا اور جس نے اسے بھلادیا اس نے اسے بھلادیا ۔ وہ سب کچھ میرے ان ساتھیوں کے علم میں آیا پھر ان میں سے کوئی چیز پیش آتی ہے جو میں بھول چکا ہوتا ہوں تو جب اسے دیکھتا ہوں تو وہ مجھے یاد آجاتی ہے بالکل اسی طرح جیسے انسان کسی غائب ہو جانے والے شخص کا چہرہ یاد رکھتا ہے جب اسے دیکھتا ہے تو پہچان لیتا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ، يُحَدِّثُ عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم مِنْ خُبْزِ شَعِيرٍ يَوْمَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
A'isha reported:Never did the family of Muhammad (ﷺ) eat to the fill the bread of barley for two successive days until Allah's Messenger (ﷺ) died
عبد الرحمان بن یزید نے ہمیں اسود سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نےکہا : محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے کبھی دودن متواتر جوکی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ، جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَتِ الْمَرْأَةُ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَهِيَ عُرْيَانَةٌ فَتَقُولُ مَنْ يُعِيرُنِي تِطْوَافًا تَجْعَلُهُ عَلَى فَرْجِهَا وَتَقُولُ الْيَوْمَ يَبْدُو بَعْضُهُ أَوْ كُلُّهُ فَمَا بَدَا مِنْهُ فَلاَ أُحِلُّهُ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةَ { خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ}
Ibn Abbas reported:During the pre-Islamic days women circumambulated the Ka'ba nakedly, and said: Who would provide cloth to cover the one who is circumambulating the Ka'ba so that she would cover her private parts? And then she would say: Today will be exposed the whole or the part and what is exposed I shall not make it lawful. It was in this connection that the verse was revealed:" Adorn yourself at every place of worship" (vii)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : ( جاہلی دور میں ) ایک عورت برہنہ ہوکر بیت اللہ کاطواف کرتی تھی اور کہتی تھی : کون مجھے طواف کرنے والا ایک کپڑا دے گا؟کہ وہ اس کو اپنی شرمگاہ پر ڈالے ، اور ( یہ شعر ) کہتی : آج ( بدن کا ) کچھ حصہ یا پورے کا پورا کھل جائےگا اور اس میں سے جو بھی کھل گیا میں اسے ( دیکھنا کسی کے لئے ) حلال نہیں کررہی ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی : " ہر نماز کے وقت اپنی زینت لے لو ۔
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ أَنَّهُ رَأَى نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ .
This hadith has been transmitted by Qatada with the same chain of transmitters that he saw the Messenger of Allah (ﷺ) doing this (i.e. raising his hands) till they were opposite the lobes of ears
قتادہ سے ( ابو عوانہ کے بجائے ) سعید نے باقی ماندہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ انہوں نے ( مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ) نے اللہ کے نبیﷺ کو دیکھا اور ( سعید نے ) کہا : یہاں تک کہ دونوں ہاتھ اپنے دونوں کانوں کے کناروں کے سامنے لے جاتے ۔