بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
4
7 hadith
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، ح قَالَ وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، كِلاَهُمَا عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِ حَدِيثِ سُفْيَانَ وَعُمَرَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَفِي حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ فَلَمَّا كَانَ بِالْهَاجِرَةِ خَرَجَ بِلاَلٌ فَنَادَى بِالصَّلاَةِ ‏.‏
Aun b. Abu Juhaifa narrated from the Messenger of Allah (ﷺ) on the authority of his father a hadith like that of Sufyan, and 'Umar b. Abu Za'ida made this addition:Some of them tried to excel the others (in obtaining water), and in the hadith transmitted by Malik b. Mighwal (the words are): When it was noon, Bilal came out and summoned (people) to (noon) prayer
ابو عمیس نے اور مالک بن مغول دونوں نے اپنی اپنی سند سے عون بن ابی جحفہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے نبی اکرمﷺ سے سفیان اور عمرو بن ابی زائدہ کی حدیث کی طرح بیان کیا ہے ۔ ان ( چاروں سفیان ، عمر ، ابو عمیس اور مالک ) میں بعض دوسروں سے زائد الفاظ بیان کرتے ہیں ۔ مالک بن مغول کی حدیث میں ہے : جب دوپہر کا وقت ہوا تو بلال نکلے اور نماز کے لیے اذان دی ۔
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ ‏.‏
This hadith has been narrated by Qurra with the same chain of transmitters, but therein he did not mention:" He turned his face towards us
عبیداللہ بن عبدالمجید حنفی نے قرہ سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی اور یہ بیان نہ کیا : ’’پھر آپ نے ہمار ی طرف رخ فرمایا ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ، اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالاَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَفِي حَدِيثِ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ عَلَى رَاحِلَةٍ يَسِيرُ وَهُوَ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفَتْحِ ‏.‏
This hadlth has been narrated by Khalid al-Harith with the same chain of transmitters (with these words):(The Holy Prophet) was reciting Surat al-Fath as he was travelling on his mount
خالد بن حارث اور معاذ نے کہا : شعبہ نے ہمیں اسی سند کے ساتھ اسی طرح کی حدیث بیان کی ، خالد بن حارث کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( سورہ فتح تلاوت کرتے ہوئے اپنی ) سواری پر سفر کررہے تھے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، - عَنْ عَبْدَةَ، وَعَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، سَمِعَا زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ، يَقُولُ سَأَلْتُ أُبَىَّ بْنَ كَعْبٍ - رضى الله عنه - فَقُلْتُ إِنَّ أَخَاكَ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ مَنْ يَقُمِ الْحَوْلَ يُصِبْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ‏.‏ فَقَالَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَرَادَ أَنْ لاَ يَتَّكِلَ النَّاسُ أَمَا إِنَّهُ قَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ وَأَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ وَأَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ ‏.‏ ثُمَّ حَلَفَ لاَ يَسْتَثْنِي أَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ فَقُلْتُ بِأَىِّ شَىْءٍ تَقُولُ ذَلِكَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ قَالَ بِالْعَلاَمَةِ أَوْ بِالآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا تَطْلُعُ يَوْمَئِذٍ لاَ شُعَاعَ لَهَا ‏.‏
Zirr b. Habaish reported:I thu asked Ubayy b. Ka'b (Allah be pleased with him): Your brother (in faith) Ibn Mas'ud says: He who stands (for the night prayer) throughout the year would find Lailat-ul-Qadr, whereupon he said: May Allah have mercy upon him; (he said these words) with the intention that people might not rely only (on one night), whereas he knew that it (Lailat-ul-Qadr) is in the month of Ramadan and it is the twenty-seventh night. He then took oath (without making any exception, i. e. without saying In sha Allah) that it was the twenty-seventh night. I said to him: Abu Mundhir, on what ground do you say that? Thereupon he said: By the indication or by the sign which the Messenger of Allah (ﷺ) gave us, and that is that on that day (the sun) would rise without having any ray in it
سفیان بن عیینہ نے عبد ہ اور عا صم بن ابی نجود سے روایت کی ، ان دو نوں نے حضرت زربن حبیش ؒ سے سنا ، کہہ رہے تھے ۔ میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا ، میں نے کہا : آپ کے بھا ئی عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں جو سال بھر ( رات کو ) قیام کرے گا ۔ وہ لیلۃ القدر کو پا لے گا ۔ انھوں نے فر ما یا : " اللہ ان پر رحم فر ما ئے انھوں نے چا ہا کہ لو گ ( کم راتوں کی عبادت پر ) قناعت نہ کر لیں ورنہ وہ خوب جا نتے ہیں کہ وہ رمضان ہی میں ہے اور آخری عشرے میں ہے اور یہ بھی کہ وہ ستا ئیسویں رات ہے ۔ پھر انھوں نے استثناکیے ( ان شاء اللہ کہے ) بغیر قسم کھا کر کہا : وہ ستا ئیسویں رات ہی ہے اس پر میں نے کہا : ابو منذرا ! یہ بات آپ کس بنا پر کہتے ہیں ؟انھوں نے کہا : اس علامت یا نشانی کی بنا پر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتا ئی ہے کہ اس دن سورج نکلتا ہے اس کی شعائیں ( نما یاں ) نہیں ہو تیں ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا مَعْرُوفُ بْنُ خَرَّبُوذَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ، يَقُولُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَيَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ مَعَهُ وَيُقَبِّلُ الْمِحْجَنَ ‏.‏
Abu Tufail reported:I saw Allah's Messenger (ﷺ) circumambulating the House. and touching the corner with a stick that he had with him, and then kissing the stick
ابو طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ بیت اللہ کاطواف فرمارہے تھے ، آپ اپنی مڑے ہوئے سرے والی چھڑی سے حجر اسود کا استلام کرتے تھے اوراس چھڑی کو بوسہ دیتے تھے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ عَلَى أَحَدٍ يَقُولُ اللَّهُ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏
It is narrated on the authority of Anas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"The Hour (Resurrection) will not occur as long as anyone says: 'Allah, Allah
معمر نے ثابت سے خبر دی ، انہوں نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ کسی ایسے شخص پر قیامت قائم نہ ہو گی جو اللہ اللہ کہتا ہو گا ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ تَجِدُونَ النَّاسَ مَعَادِنَ فَخِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الإِسْلاَمِ إِذَا فَقُهُوا وَتَجِدُونَ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ فِي هَذَا الأَمْرِ أَكْرَهُهُمْ لَهُ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ فِيهِ وَتَجِدُونَ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلاَءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلاَءِ بِوَجْهٍ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:You would find people like those of mine, the good amongst you in the Days of Ignorance would be good amongst you in the days of Islam, provided they have an understanding of it and you will find good amongst people the persons who would be averse to position of authority until it is thrust upon them, and you will find the worst amongst persons one who has double face. He comes with one face to them and with the other face to the others
ابن شہاب نے کہا : مجھے سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگوں کو کانوں کی طرح پاؤ گے ۔ پس جو جاہلیت میں بہتر تھے وہ اسلام میں بھی بہتر ہیں جب دین میں سمجھدار ہو جائیں اور تم بہتر اس کو پاؤ گے جو مسلمان ہونے سے پہلے اسلام سے بہت نفرت رکھتا ہو ( یعنی جو کفر میں مضبوط تھا وہ اسلام لانے کے بعد اسلام میں بھی ایسا ہی مضبوط ہو گا جیسے سیدنا عمر اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہما وغیرہ یا یہ مراد ہے کہ جو خلافت سے نفرت رکھے اسی کی خلافت عمدہ ہو گی ) ۔ اور تم سب سے برا اس کو پاؤ گے جو دو روّیہ ہو کہ ان کے پاس ایک منہ لے کر آئے اور ان کے پاس دوسرا منہ لے کر جائے ۔