بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
4
7 hadith
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَعْرِضُ رَاحِلَتَهُ وَهُوَ يُصَلِّي إِلَيْهَا ‏.‏
Ibn 'Umar said:The Apostle of Allah (ﷺ) used to place his camel (towards the Ka'ba) and said prayer in its direction
معتمر بن سلیمان نے عبید اللہ سے ، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ ( بوقت ضرورت ) اپنی سواری کو سامنے کر کے ( بٹھا لیتے اور ) اس کی طرف ( منہ کر کے ) نماز پڑھ لیتے
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ، زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، - عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ مَكَثْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - لِصَلاَةِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ فَخَرَجَ إِلَيْنَا حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ بَعْدَهُ فَلاَ نَدْرِي أَشَىْءٌ شَغَلَهُ فِي أَهْلِهِ أَوْ غَيْرُ ذَلِكَ فَقَالَ حِينَ خَرَجَ ‏ "‏ إِنَّكُمْ لَتَنْتَظِرُونَ صَلاَةً مَا يَنْتَظِرُهَا أَهْلُ دِينٍ غَيْرُكُمْ وَلَوْلاَ أَنْ يَثْقُلَ عَلَى أُمَّتِي لَصَلَّيْتُ بِهِمْ هَذِهِ السَّاعَةَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ الصَّلاَةَ وَصَلَّى ‏.‏
Abdullah b. Umar reported:We waited one night in expectation of the Messenger of Allah (ﷺ) for the last prayer of the night, and he came out to us when a third of the night had passed even after that. We do not know whether he had been occupied with family business or something else. When he came cut he said: You are waiting for prayer, for which the followers of no other religion wait. except you. Were it not a burden for my Ummah, I would have led them (in the 'Isya' prayer) at this hour. He then ordered the Mu'adhdbin (to call for prayer) and then stood up for prayer and observed prayer
حکم نےنافع سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ ایک رات ہم عشاء کی آخری نماز کے لیے رسول اللہ ﷺ کا انتظار کرتے رہے ، جب رات کا تہائی حصہ گزر گیا یا اس کے ( بھی ) بعد آپ تشریف لائے ، ہمیں معلوم نہیں کہ آپ کو گھر والوں ( کے معاملے ) میں کسی چیز نے مشغول رکھا تھا یا کوئی اور بات بھی ، جب آپ باہر آئے تو فرمایا : ’’بلا شبہ تم ایسی نماز کا انتظار کررہے ہو جسکا تمھارے سوا کسی اور دین کے پیرو کار انتظار نہیں کر رہے ، اور اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ یہ میری امت کے لیے گراں ہو گا تو میں انھیں اسی گھڑی میں ( یہ ) نماز پڑھایا کرتا ۔ ‘ ‘ پھر آپ نے مؤذن کو حکم دیا ، اس نے اقامت کہی اور آب نے نماز پڑھائی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، - وَهُوَ ابْنُ مِغْوَلٍ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ أَوِ الأَشْعَرِيَّ أُعْطِيَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ ‏"‏ ‏.‏
Buraida reported on the authority of his father that the Messenger of Allah (ﷺ) had said:'Abdullah b. Qais or al-Ash'ari has been gifted with a sweet melodious voice out of the voices of the family of David
حضرت برید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت ہے انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " عبد اللہ بن قیس ۔ ۔ یا اشعری ۔ ۔ ۔ کو آل داودکی بنسریوں ( خوبصورت آوازوں ) میں سے ایک بنسری ( خوبصورت آواز ) عطاکی گئی ہے
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، كِلاَهُمَا عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي، كَثِيرٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ نَحْوَهُ وَفِي حَدِيثِهِمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ انْصَرَفَ وَعَلَى جَبْهَتِهِ وَأَرْنَبَتِهِ أَثَرُ الطِّينِ ‏.‏
This hadith has been reported on the authority of Yahya b. Abu Kathir with the same chain of transmitters (with a slight variation of these words):I saw the Messenger of Allah (ﷺ) after he had completed (the prayer) and there was a trace of clay on his forehead and tip (of the nose)
معمر اور اوزاعی دونوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ اس ( سابقہ حدیث ) کے ہم معنی روایت کی ۔ اور ان دونوں کی حدیث میں ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے ( فارغ ہو کر ) پلٹے تو میں نے آپ کو اس ھال میں دیکھا کہ آپ کی پیشانی اور ناک کے کنا رے پر مٹی کا نشان تھا ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَافَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى بَعِيرٍ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ ‏.‏
Ibn 'Abbas (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (ﷺ) circumambulated the House on the occasion of the Farewell Pilgrimage on the back of his camel and touched the Corner (of Black Stone) with a stick
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اونٹ پر طواف فرمایا ، اور آپ اپنی ایک سرے سے مڑی ہوئی چھڑی سے حجر اسود کااستلام فرماتے تھے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنْ مَرْوَانَ الْفَزَارِيِّ، قَالَ ابْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، عَنْ يَزِيدَ، - يَعْنِي ابْنَ كَيْسَانَ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ بَدَأَ الإِسْلاَمُ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ كَمَا بَدَأَ غَرِيبًا فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ ‏"‏ ‏.‏
It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) said:Islam initiated as something strange, and it would revert to its (old position) of being strange. so good tidings for the stranger
حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اسلام کے آغاز اجنبی کی حیثیت سے ہوا اور عنقریب پھر اسی طرح اجنبی ہو جائے گا جیسے شروع ہوا تھا ، خوش بختی ہے اجنبیوں کے لیے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَدِمَ الطُّفَيْلُ وَأَصْحَابُهُ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ دَوْسًا قَدْ كَفَرَتْ وَأَبَتْ فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهَا ‏.‏ فَقِيلَ هَلَكَتْ دَوْسٌ فَقَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَائْتِ بِهِمْ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported that Tufail and his companions said:Allah's Messenger, the tribe of Daws has disbelieved and has belied you, so invoke curse upon them. It was said: Let Daws be destroyed, whereupon he (Allah's Messenger) said: Allah guide aright the tribe of Daws and direct them to me
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : حضرت طفیل ( بن عمرو دوسی ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے ساتھی آئے اور آکر عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ( ہمارے قبیلے ) دوس نے کفر کیا اور ( اسلام لا نے سے ) انکا ر کیا ، آپ ان کے خلا ف دعا کیجیے! ( بعض لوگوں کی طرف سے ) کہا گیا ۔ کہ اب دوس ہلا ک ہو گئے ۔ ( لیکن ) آپ نے ( دعا کرتے ہو ئے ) فر ما یا : " اے اللہ !دوس کو ہدایت دےاور ان کو ( یہاں ) لےآ ۔