حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَرْكُزُ - وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَغْرِزُ - الْعَنَزَةَ وَيُصَلِّي إِلَيْهَا . زَادَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ وَهْىَ الْحَرْبَةُ .
Ibn Umar reported:The Apostle of Allah (ﷺ) set up (sutra), and Abu Bakr said: He implanted iron-tipped spear and said prayer towards its direction. Ibn Abu Shaiba made this addition to it:" Ubaidullah said that it was a spear
ابو بکر بن ابی شیبہ نے اور ابن نمیر نے کہا : ہمیں محمد بن بشر نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں عبید اللہ نے نافع سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ نیزہ گاڑتے اور اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے ۔ امام مسلم رضی اللہ عنہ کے استد ابن نمیر نے يركز اور ابو بکر بن ابی شیبہ نے يغزر کا لفظ استعمال کیا ( دونوں کے معنیٰ ہیں : آپ گاڑتے تھے ۔ ) اور ابن ابی شیبہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے : عبید اللہ نے کہا : اس ( عنزة ) سے مراد حربة ( برچھی ) ہے ۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، كِلاَهُمَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ، ح قَالَ وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ح قَالَ وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، - وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ - قَالُوا جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَعْتَمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى ذَهَبَ عَامَّةُ اللَّيْلِ وَحَتَّى نَامَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى فَقَالَ " إِنَّهُ لَوَقْتُهَا لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي " . وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ " لَوْلاَ أَنْ يَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي " .
A'isha reported:The Apostle of Allah (ﷺ) one night delayed (observing the 'Isya' prayer) till a great part of the night was over and the people in the mosque had gone to sleep. He (the Holy Prophet) then came out and observed prayer and said: This is the proper time for it; were it not that I would impose a burden on my people (I would normally pray at this time). In the hadith transmitters by 'Abd al-Razzaq (the words are):" Were it not that it would impose burden on my people
محمد بن بکر ، حجاج بن محمد اور عبدالرزاق ۔ سب کے الفاظ باہم ملتے جلتے ہیں ۔ سب نے کہا : ابن جریج سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : مجھے مغیرہ بن حکیم نے ام کلثوم بنت ابی بکر سے خبر دی کہ انھوں نے انھیں ( مغیرہ کو ) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی ، انھوں نے کہا : ایک رات نبی اکرم ﷺ ےعشاء کی نماز میں دیر کر دی یہاں تک کہ رات کا بڑا حصہ گزر گیا اور اہل مسجد سو گئے ، پھر آپ باہر تشریف لے گئے ، نماز پڑھائی اور فرمایا : ’’ اگر ( مجھے ) یہ ( ڈر ) نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈالوں گا تو یہی اس کا ( بہترین ) وقت ہے ۔ ‘ ‘ اور عبدالرزاق کی حدیث میں ہے : ’’ اگریہ ( ڈر ) نہ ہوتا کہ یہ میری امت کے لیے مشقت کا سبب بنے گا ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . مِثْلَ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ غَيْرَ أَنَّ ابْنَ أَيُّوبَ قَالَ فِي رِوَايَتِهِ " كَإِذْنِهِ
This hadith has been narrated by another chain of transmitters but with a slight modification of words
یحییٰ بن ایوب قتیبہ بن سعید اور ابن حجر نے کہا : ہمیں اسماعیل بن جعفر نے محمد بن عمرو سے حدیث بیان کی انھوں نے ابو سلمہ سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یحییٰ بن ابی کثیر کی حدیث کی طرح روا یت بیان کی مگر ابن ایوب نے اپنی روا یت میں ( كاذنه کے بجا ئے ) كاذنه ( جس طرح وہ اجازت دیتا ہے ) کہا ۔ اس ( طرح ما اذن الله کا معنی ہو گا اللہ تعا لیٰ نے ( بار یابی کی اجازت نہیں دی ۔)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ تَذَاكَرْنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَأَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ - رضى الله عنه - وَكَانَ لِي صَدِيقًا فَقُلْتُ أَلاَ تَخْرُجُ بِنَا إِلَى النَّخْلِ فَخَرَجَ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ فَقُلْتُ لَهُ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَذْكُرُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَقَالَ نَعَمْ اعْتَكَفْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعَشْرَ الْوُسْطَى مِنْ رَمَضَانَ فَخَرَجْنَا صَبِيحَةَ عِشْرِينَ فَخَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " إِنِّي أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ وَإِنِّي نَسِيتُهَا - أَوْ أُنْسِيتُهَا - فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ كُلِّ وِتْرٍ وَإِنِّي أُرِيتُ أَنِّي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ فَمَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلْيَرْجِعْ " . قَالَ فَرَجَعْنَا وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً قَالَ وَجَاءَتْ سَحَابَةٌ فَمُطِرْنَا حَتَّى سَالَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ وَكَانَ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ وَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْجُدُ فِي الْمَاءِ وَالطِّينِ قَالَ حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ الطِّينِ فِي جَبْهَتِهِ .
Abu Salama reported:'We discussed amongst ourselves Lailat-ul-Qadr. I came to Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) who was a friend of mine and said to him: Would you not go with us to the garden of date trees? He went out with a cloak over him. I said to him: Did you hear the Messenger of Allah (ﷺ) making mention of Lailat-ul-Qadr? He said: Yes, (and added) we were observing i'tikaf with the Messenger of Allah (ﷺ) in the middle ten days of Ramadan, and came out on the morning of the twentieth and the Messenger of Allah (ﷺ) addressed us and said: I was shown Lailat-ul-Qadr, but I forgot (the exact night) or I was caused to forget it, so seek it in the last ten odd (nights), and I was shown that I was prostrating in water and clay. So he who wanted to observe i'tikaf with the Messenger of Allah (ﷺ) should return (to the place of i'tikaf). He (Abu Sa'id al-Khudri) said: And we returned and did not find any patch of cloud in the sky. Then the cloud gathered and there was (so heavy) a downpour that the roof of the mosque which was made of the branches of date-palms began to drip. Then there was prayer and I saw the Messenger of Allah (ﷺ) prostrating in water and clay till I saw the traces of clay on his forehead
ہشا م نے یحییٰ سے اور انھوں نے ابو سلمہ سے روایت کی ، کہا : ہم نے آپس میں لیلۃالقدر کے بارے میں بات چیت کی ، پھر میں ابو خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا وہ میرے دوست تھے ، میں نے کہا : کیا آپ ہمارے ساتھ نخلستان میں نہیں چلیں گے؟وہ نکلے اور ان ( کے کندھوں ) پر دھاری دار چادر تھی ، میں نے ان سے پوچھا : ( کیا ) آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لیلۃ القدر کا ذکر کرتے ہو ئے سنا ، تھا ؟ انھوں نے کہا : ہاںہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضا ن کے درمیانے عشرے میں اعتکاف کیا ہم بیسویں ( رات ) کی صبح کو ( اعتکاف سے ) نکلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا : " مجھے لیلۃ القدر دکھا ئی گئی اور اب میں بھول گیا ہوں ۔ ۔ ۔ مجھے بھلا دی گئی ہے ۔ ۔ ۔ اس لیے تم اس کو آخریعشرے کی ہر طاق رات میں تلاش کرو اور میں نے دیکھا کہ میں ( اس رات ) پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں ۔ تو جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا ہے وہ واپس ( اعتکاف میں ) چلا جا ئے ۔ کہا : ہم واپس ہو گئے اور ہمیں آسمان میں بادل کا کو ئی ٹکڑا نظر نہیں آرہا تھا کہا : ایک بدلی آئی ہم پر بارش ہو ئی یہاں تک کہ مسجد کی چھت بہ پڑی ۔ وہ کھجور کی شا خوں سے بنی ہو ئی تھی اور نماز کھڑی کی گئی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہے تھے کہا : یہاں تک کہ میں نے آپ کی پیشانی پر مٹی کا نشان بھی دیکھا ۔
وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ وَلَكِنِّي رَأَيْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم بِكَ حَفِيًّا . وَلَمْ يَقُلْ وَالْتَزَمَهُ .
This hadith has been narrated on the authority of Sufyan with the same chain of transmitters (and the words are):" That he ('Umar) said: But I saw Abu'l-Qasim (way peace be upon him) having great love for you." And he did not mention about clinging to it
عبدالرحمان نے سفیان سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، اور کہا : لیکن میں نے ابو القاسم کو دیکھا وہ تم سے بہت قریب ہوتے تھے ۔ انھوں نے " وہ ( حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) اس سے چمٹ گئے " کے الفاظ نہیں کہے ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَعُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ، قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّ عُمَرَ، قَالَ مَنْ يُحَدِّثُنَا أَوْ قَالَ أَيُّكُمْ يُحَدِّثُنَا - وَفِيهِمْ حُذَيْفَةُ - مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْفِتْنَةِ قَالَ حُذَيْفَةُ أَنَا . وَسَاقَ الْحَدِيثَ كَنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي مَالِكٍ عَنْ رِبْعِيٍّ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ قَالَ حُذَيْفَةُ حَدَّثْتُهُ حَدِيثًا لَيْسَ بِالأَغَالِيطِ وَقَالَ يَعْنِي أَنَّهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
It is transmitted by Rib'i b. Hirash. who narrated it on the authority of Hudhaifa that verily 'Umar said:Who would narrate to us or who amongst you would narrate to us (and Hudhaifa was one amongst them) what the Messenger of Allah (ﷺ) had said about the turmoil? Hudhaifa said: I will, and recited the hadith like that transmitted by Abu Malik on the authority of Rib'i and he observed in connection with this hadith that Hudhaifa remarked: I am narrating to you a hadith and it has no mistake, and said: That it is transmitted from he Messenger of Allah (ﷺ)
نعیم بن ابی ہند نے ربعی بن حراش سے اور انہوں نےحضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم میں کون ہمیں بتائے گا ( اور ان میں حذیفہ رضی اللہ عنہ موجود تھے ) جو رسول اللہ ﷺ نے فتنے کے بارے میں فرمایا تھا ؟ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ۔ آگے ابو مالک کی وہی روایت بیان کی ہے جو انہوں نے ربعی سے بیان کی اور اس میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کا یہ قول بھی بیان کیا کہ میں نے انہیں حدیث سنائی تھی ، مغالطے میں ڈالنے والی باتیں نہیں ، یعنی وہ حدیث رسو ل اللہ ﷺ کی جانب سے تھی ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ أَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالَ لِي إِنَّ أَوَّلَ صَدَقَةٍ بَيَّضَتْ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَوُجُوهَ أَصْحَابِهِ صَدَقَةُ طَيِّئٍ جِئْتَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Adi b. Hatim reported:I came to Umar b. Khattab and he said to me: The first consignment of Sadaqa brought to Allah's Messenger (ﷺ) which brightened the face of Allah's Messenger (ﷺ) and the faces of his Companions was that of Tayyi
عدی بن حاتم سے روایت ہے ، کہا : میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا تو انھوں نے مجھ سے کہا : سب سے پہلا صدقہ ( باقاعدہ وصول شدہ زکاۃ ) جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحا بہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے چہروں کو روشن کر دیا تھا بنو طے کا صدقہ تھا ، جس کو آپ ( عدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر آئے تھے ۔