بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
4
7 hadith
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا خَرَجَ يَوْمَ الْعِيدِ أَمَرَ بِالْحَرْبَةِ فَتُوضَعُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا وَالنَّاسُ وَرَاءَهُ وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السَّفَرِ فَمِنْ ثَمَّ اتَّخَذَهَا الأُمَرَاءُ ‏.‏
Ibn Umar reported:When the Messenger of Allah (may peace he upon him) went out on the 'Id day, he ordered to carry a spear-and it was fixed in front of him, and he said prayer towards its (direction), and the people were behind him. And he did it in the journey, and that is the reason why the Amirs carried it
عبد اللہ بن نمیر نے عبید اللہ سے ، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ جب رسول اللہﷺ عید کے دن نکلتے تو نیزے کا حکم دیتے ، وہ آپ کے آگے گاڑ دیا جاتا ، آپ اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے اور لوگ آپ کے پیچھے ہوتے ، سفر میں بھی آپ ایسا ہی کرتے ، اس بنا پر حکام نے اس ( نیزہ گاڑنے ) کو اپنا لیا ہے ۔
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ مِثْلَهُ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ الزُّهْرِيِّ وَذُكِرَ لِي ‏.‏ وَمَا بَعْدَهُ ‏.‏
A hadith like this has been narrated by Ibn Shihab with the same chain of transmitters, but therein no mention has been made of the words of al-Zuhri:It was narrated to me, and that which followed
عقیل نے ابن شہاب سے اسی سنج کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی لیکن اس میں زہر ی کا قول : وذکرلی ( مجھے بتایا گیا ) اور اس کے بعد کا حصہ بیان نہیں کیا ۔
وَحَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا هِقْلٌ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَىْءٍ كَأَذَنِهِ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ يَجْهَرُ بِهِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Allah has not heard anything (more pleasing) than listening to the Prophet reciting the Qur'an in a sweet loud voice
حییٰ بن ابی کثیرؒ نے ابو سلمہ سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : اللہ تعا لیٰ نے ( کبھی ) کسی چیز پر اس طرح کا ن نہیں دھرا جیسے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ( کی آواز ) پر کا ن دھرتا ہے جو بلند آواز کے ساتھ خوش الحانی سے قراءت کرتا ہے ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، - رضى الله عنه - قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الأَوَّلَ مِنْ رَمَضَانَ ثُمَّ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الأَوْسَطَ فِي قُبَّةٍ تُرْكِيَّةٍ عَلَى سُدَّتِهَا حَصِيرٌ - قَالَ - فَأَخَذَ الْحَصِيرَ بِيَدِهِ فَنَحَّاهَا فِي نَاحِيَةِ الْقُبَّةِ ثُمَّ أَطْلَعَ رَأْسَهُ فَكَلَّمَ النَّاسَ فَدَنَوْا مِنْهُ فَقَالَ ‏"‏ إِنِّي اعْتَكَفْتُ الْعَشْرَ الأَوَّلَ أَلْتَمِسُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ ثُمَّ اعْتَكَفْتُ الْعَشْرَ الأَوْسَطَ ثُمَّ أُتِيتُ فَقِيلَ لِي إِنَّهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَعْتَكِفَ فَلْيَعْتَكِفْ ‏"‏ ‏.‏ فَاعْتَكَفَ النَّاسُ مَعَهُ قَالَ ‏"‏ وَإِنِّي أُرِيتُهَا لَيْلَةَ وِتْرٍ وَأَنِّي أَسْجُدُ صَبِيحَتَهَا فِي طِينٍ وَمَاءٍ ‏"‏ ‏.‏ فَأَصْبَحَ مِنْ لَيْلَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَقَدْ قَامَ إِلَى الصُّبْحِ فَمَطَرَتِ السَّمَاءُ فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ فَأَبْصَرْتُ الطِّينَ وَالْمَاءَ فَخَرَجَ حِينَ فَرَغَ مِنْ صَلاَةِ الصُّبْحِ وَجَبِينُهُ وَرَوْثَةُ أَنْفِهِ فِيهِمَا الطِّينُ وَالْمَاءُ وَإِذَا هِيَ لَيْلَةُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ مِنَ الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ ‏.‏
Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) observed i'tikaf (confined himself for devotion and prayer) in the first ten (days) of Ramadan; he then observed i'tikaf in the middle ten (days) in a Turkish tent with a mat hanging at its door. He (the Holy Prophet) took hold of that mat and placed it in the nook of the tent. He then put his head out and talked with people and they came near him, and he (the Holy Prophet) said:I observed i'tikaf in the first ten (nights and days) in order to seek that night (Lailat-ul-Qadr). I then observed i'tikaf in the middle ten days. Then (an angel) was sent to me and I was told that this (night) is among the last ten (nights). He who among you likes to observe i'tikaf should do so; and the people observed it along with him, and he (the Holy Prophet) said: That (Lailat-ul-Qadr) was shown to me on an odd (night) and I (saw in the dream) that I was prostrating in the morning in clay and water. So in the morning of the twenty-first night when he (the Holy Prophet) got up for dawn (prayer). there was a rainfall and the mosque dripped, and I saw clay and water. When he came out after completing the morning prayer (I saw) that his forehead and the tip of his nose had (traces) of clay and water, and that was the twenty-first night among the last ten (nights)
ہم سے عمارہ بن غزیہ انصاری نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے محمد بن ابرا ہیم سے سنا وہ ابو سلمہ سے حدیث بیان کر رہے تھے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ترکی خیمے کے اندر جس کے دروازے پر چٹائی تھی ، رمضا ن کے پہلے عشرے میں اعتکا ف کیا ، پھر درمیانے عشرے میں اعتکاف کیا ۔ کہا : تو آپ نے چتا ئی کو اپنے ہاتھ سے پکڑ کر خیمے کے ایک کونے میں کیا ، پھر اپنا سر مبا رک خیمے سے باہر نکا ل کر لو گوں سے گفتگو فر ما ئی ، لوگ آپ کے قریب ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : "" میں نے اس شب ( قدر ) کوتلاش کرنے کے لیے پہلے عشرے کا اعتکاف کیا ، پھر میں نے درمیانے عشرے کا اتکاف کیا ، پھر میرے پاس ( بخاری حدیث : 813میں ہے : جبریل ؑ کی آمد ہو ئی تو مجھ سے کہا گیا : وہ آخری دس راتوں میں ہے تو اب تم میں سے جو اعتکاف کرنا چا ہے وہ اعتکاف کر لے ، "" لوگوں نے آپ کے ساتھ اعتکاف کیا ۔ آپ نے فر مایا : "" اور مجھے وہ ایک طاق رات دکھا ئی گئی اور یہ کہ میں اس ( رات ) کی صبح مٹی اور پانی میں سجدہ کر رہا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیسویں رات کی صبح کی ، اور آپ نے ( اس میں ) صبح تک قیام کیا تھا پھر بارش ہو ئی تو مسجد ( کی چھت ) ٹپک پڑی ، میں نے مٹی اور پانی دیکھا اس کے بعد جب آپ صبح کی نماز سے فارغ ہو کر باہر نکلے تو آپ کی پیشانی اور ناک کے کنارے دونوں میں مٹی اور پانی ( کے نشانات ) موجود تھے اور یہ آخری عشرے میں اکیسویں کی رات تھی ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، - عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ رَأَيْتُ عُمَرَ قَبَّلَ الْحَجَرَ وَالْتَزَمَهُ وَقَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِكَ حَفِيًّا ‏.‏
Suwaid b. Ghafala reported:I saw Umar (Allah be pleased with him) kissing the Stone and clinging to it and saying: I saw Allah's Messenger (ﷺ) having great love for you
سوید بن غفلہ سے روایت ہے ، کہا : میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کودیکھا کہ انھوں نے حجر اسود کو بوسہ دیا اوراس سے چمٹ گئے ، اورفرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا وہ تم سے بہت قریب ہوتے تھے ۔
وَحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ، عَنْ رِبْعِيٍّ، قَالَ لَمَّا قَدِمَ حُذَيْفَةُ مِنْ عِنْدِ عُمَرَ جَلَسَ فَحَدَّثَنَا فَقَالَ إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمْسِ لَمَّا جَلَسْتُ إِلَيْهِ سَأَلَ أَصْحَابَهُ أَيُّكُمْ يَحْفَظُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْفِتَنِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي خَالِدٍ وَلَمْ يَذْكُرْ تَفْسِيرَ أَبِي مَالِكٍ لِقَوْلِهِ ‏ "‏ مُرْبَادًّا مُجَخِّيًا ‏"‏ ‏.‏
It is narrated on the authority of Rib'i (b. Hirash). When Hudhaifa came from 'Umar he sat down to narrate to us and said:Verily yesterday when I was sitting with the Commander of the believers he asked his companions: When amongst you retains in his memory the utterance of the Messenger of Allah (ﷺ) with regard to the turmoil? -and he cited the hadith like the hadith narrated on the authority of Abu Khalid, but he did not mention the exposition of his words (Murbaddan) and (Mujakhiyyan)
مروان فزاری نے کہا : ہمیں ابو مالک اشجعی نے حضرت ربعی سے حدیث سنائی ، انہوں نےکہا : جب حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی مجلس سے آئے تو بیٹھ کر ہمیں باتیں سنانے لگے اور کہا : کل جب میں امیر المومنین کی مجلس میں بیٹھا تو انہوں نے اپنے رفقاء سے پوچھا : تم میں سے کس نے فتنوں کے بارے میں رسو ل اللہ ﷺ کا فرمان یاد رکھا ہواہے ؟....... پھر ( مروان فزاری نے ) ابو خالد کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی لیکن مرباداً مجخیاً سے متعلق ابو مالک کی تفسیر ذکر نہیں کی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لأَبِي بَكْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ جُهَيْنَةُ وَأَسْلَمُ وَغِفَارُ خَيْرًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ وَبَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَطَفَانَ وَعَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ ‏"‏ ‏.‏ وَمَدَّ بِهَا صَوْتَهُ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَدْ خَابُوا وَخَسِرُوا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّهُمْ خَيْرٌ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ ‏"‏ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ جُهَيْنَةُ وَمُزَيْنَةُ وَأَسْلَمُ وَغِفَارُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Bakra reported on the authority of his father that Allah's Messenger (ﷺ) said:What is your view if Juhaina, Aslam, Ghifar were better than Banu Tamim, Banu 'Abdullah b. Ghatfan and 'Amir b. Sa'sa'a' respectively (then what would be status of the latter one)? He said this in a loud voice. They said: Allah's Messenger, they would be definitely at a loss and disadvantage. Thereupon he said: They (the first group) are decidedly better than the others; and in the hadith transmitted on the authority of Abu Kuraib the words are: It you were to find that Juhaina, Muzaina and Aslam and Ghifar (are better than)
ابو بکر بن ابی شیبہ اور کریب نے ۔ ۔ ۔ اور الفاظ ابو بکر کے ہیں ۔ ۔ ۔ حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں وکیع نے سفیان سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عبد الملک بن عمیر سے ، انھوں نے عبد الرحمٰن بن ابی بکرہ سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم لوگ کیا سمجھتے ہو اگر جہینہ ، اسلم اور غفار بنو تمیم ، بنو عبد اللہ بن غطفان اور عامر بن صعصہ سے بہتر ہوں ۔ " اور ( پوچھتے ہو ئے ) آپ نے آواز بلند کی تو صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر وہ ( لوگوں کے نزدیک اپنی عزت بڑھانے میں ) ناکام ہوں گے اورکم مرتبہ ہو جائیں گے ۔ آپ نے فرما یا : " بے شک وہ ان سے بہتر ہیں ۔ " ابو کریب کی روایت میں ہے : " تم کیا سمجھتے ہو اگر جہینہ اور مزینہ اور اسلم اور غفار " ( مزینہ کے نام کا اضافہ ہے جس طرح متعدد دوسری روایات میں بھی مزینہ کا نا م شامل ہے)