بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
4
7 hadith
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ عَنْ سُتْرَةِ الْمُصَلِّي فَقَالَ ‏ "‏ كَمُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ ‏"‏ ‏.‏
A'isha reported:The Messenger of Allah (ﷺ) was asked in the expedition of Tabuk about the sutra the worshipper; he said: Like the back of the saddle
حیوہ نے ابو اسود محمد بن عبد الرحمن سے ، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ سے غزوہ تبوک میں نمازی کے سترے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : ’’پالان کی پچھلی لکڑی کے مانند ہو ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي بِصَلاَةِ الْعِشَاءِ وَهِيَ الَّتِي تُدْعَى الْعَتَمَةَ فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لأَهْلِ الْمَسْجِدِ حِينَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ ‏"‏ مَا يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ غَيْرُكُمْ ‏"‏ ‏.‏ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَفْشُوَ الإِسْلاَمُ فِي النَّاسِ ‏.‏ زَادَ حَرْمَلَةُ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَذُكِرَ لِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ وَمَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تَنْزُرُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏ وَذَاكَ حِينَ صَاحَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‏.‏
A'isha. the wife of the Messenger of Allah (ﷺ), reported:The Messenger of Allah (ﷺ) deferred one night the 'Isya' prayer. And this is called 'Atama. And the Messenger of Allah (ﷺ) did not come out till Umar b. Khattab told (him) that the women and children had gone to sleep. So the Messenger of Allah (ﷺ) came out towards them and said to the people of the mosque: None except you from the people of the earth waits for it (for the night prayer at this late hour), and it was before Islam had spread amongst people. And in the narration transmitted by Ibn Shihab the Messenger of Allah (ﷺ) is reported to have said: It is not meant that you should compel the Messenger of Allah (ﷺ) for prayer. And (this he said) when 'Umar b. Khattab called (the Holy Prophet) in a loud voice
عمرو بن سوّاد عامری اور حرملہ بن یحییٰ دونوں نے کہا : ہمیں ابن وہب نے خبر دی ، انھوں نے کہا : مجھے یونس نےخبر دی کہ انھیں ابن شہاب نے خبر دی ، کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ نبی اکرم ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ایک رات رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز خوب اندھیرا ہونے تک مؤخر فرمائی اور اسی نماز کو عتمہ ( گہری تاریکی کے وقت کی نماز ) کہا جاتا تھا ۔ رسول اللہﷺ ( اس وقت تک ) گھر سے نہ نکلے یہاں تک کہ حضرت عمربن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : ( مسجد میں آنے والی ) عورتیں اور بچے سو گئے ہیں ۔ اس پر رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اور نکل کر مسجد کے حاضرین سے فرمایا : ’’اہل زمین میں سے تمھارے سوا اس نماز کا اور کوئی بھی انتظار نہیں کررہا ‘ ‘ اور یہ لوگوں میں ( مدینہ سے باہر ) اسلام پھیلنے سے پہلے کی بات ہے ۔ حرملہ نے اپنی روایت میں اضافہ کیا کہ ابن شہاب نے کہا : مجھے بتایا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’تمھارے لیے مناسب نہ تھا کہ تم اللہ کے رسول ﷺ سے نماز کے لیے اصرار کرتے ۔ ‘ ‘ یہ تب ہوا جب عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے بلند آواز سے پکارا ۔ ( انھوں نے غالباً یہ سمجھا کہ آپ ﷺ بھول گئے ہیں یا سو گئے ہیں)
وَحَدَّثَنِي ابْنُ أَخِي ابْنِ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ، مَالِكٍ وَحَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ عَنِ ابْنِ الْهَادِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ مِثْلَهُ سَوَاءً وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَلَمْ يَقُلْ سَمِعَ ‏.‏
This hadith has been narrated with the same chain of transmitters by Ibn al-Had except this that Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying and he did not say:" He heard it
عمر بن مالک اور حیوہ بن شریح نے ابن ہاد سے اسی سند کے ساتھ بالکل اس جیسی روا یت بیان کی اور انھوں نے ( ان رسول الله ) ( بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا ) کہا اور سَمِعَ ( اس نے سنا ) کا لفظ نہیں بولا ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنْ يَزِيدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، - رضى الله عنه - أَنَّهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُجَاوِرُ فِي رَمَضَانَ الْعَشْرَ الَّتِي فِي وَسَطِ الشَّهْرِ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ فَلْيَثْبُتْ فِي مُعْتَكَفِهِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ وَجَبِينُهُ مُمْتَلِئًا طِينًا وَمَاءً ‏.‏
Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) devoted (himself to prayer) in the middle (ten nights) of Ramadan. The rest of the hadith is the same except for these words:" That he adhered to his place of i'tikaf and his forehead was besmeared with mud and water
عبد العزیز ، یعنی دراوری نے یزید ( بن ہاد ) سے انھوں نے محمد بن ابرا ہیم سے انھوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمان سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضا ن میں درمیانے عشرے کا اعتکاف کرتے تھے ۔ ۔ ۔ ( آگے ) اس ( سابقہ حدیث ) کے مانند حدیث بیان کی ، البتہ انھوں نے ( اپنے " اعتکا ف کی جگہ میں را ت گزارنے " کے بجا ئے ) ا " پنے اعتکاف کی جگہ میں ٹکارہے ، " کہا اور کہا : آپ کی پیشانی مٹی اور پانی سے بھری ہو ئی تھی ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، - عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَابِسِ، بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ رَأَيْتُ عُمَرَ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ وَيَقُولُ إِنِّي لأُقَبِّلُكَ وَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ وَلَوْلاَ أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُقَبِّلُكَ لَمْ أُقَبِّلْكَ ‏.‏
Abis b. Rabi'a reported:I saw 'Umar (Allah'be pleased with him) kissing the Stone and saying: I am kissing you and I know that you are a stone. And if I had not seen Allah's Messenger (ﷺ) kissing you, I would not have kissed you
عابس بن ربیعہ سے روایت ہے ، کہا : میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حجر اسود کو بوسہ دیتے ہوئے دیکھا ، وہ فرمارہے تھے بلاشبہ میں نے تجھے بوسہ دیا ہے اور میں جانتا ہوں کہ توایک پتھر ہی ہے ۔ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھا ہوتا تو تمھیں کبھی بوسہ نہ دیتا ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، - يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَيَّانَ - عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ فَقَالَ أَيُّكُمْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَذْكُرُ الْفِتَنَ فَقَالَ قَوْمٌ نَحْنُ سَمِعْنَاهُ ‏.‏ فَقَالَ لَعَلَّكُمْ تَعْنُونَ فِتْنَةَ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَجَارِهِ قَالُوا أَجَلْ ‏.‏ قَالَ تِلْكَ تُكَفِّرُهَا الصَّلاَةُ وَالصِّيَامُ وَالصَّدَقَةُ وَلَكِنْ أَيُّكُمْ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَذْكُرُ الْفِتَنَ الَّتِي تَمُوجُ مَوْجَ الْبَحْرِ قَالَ حُذَيْفَةُ فَأَسْكَتَ الْقَوْمُ فَقُلْتُ أَنَا ‏.‏ قَالَ أَنْتَ لِلَّهِ أَبُوكَ ‏.‏ قَالَ حُذَيْفَةُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ تُعْرَضُ الْفِتَنُ عَلَى الْقُلُوبِ كَالْحَصِيرِ عُودًا عُودًا فَأَىُّ قَلْبٍ أُشْرِبَهَا نُكِتَ فِيهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ وَأَىُّ قَلْبٍ أَنْكَرَهَا نُكِتَ فِيهِ نُكْتَةٌ بَيْضَاءُ حَتَّى تَصِيرَ عَلَى قَلْبَيْنِ عَلَى أَبْيَضَ مِثْلِ الصَّفَا فَلاَ تَضُرُّهُ فِتْنَةٌ مَا دَامَتِ السَّمَوَاتُ وَالأَرْضُ وَالآخَرُ أَسْوَدُ مُرْبَادًّا كَالْكُوزِ مُجَخِّيًا لاَ يَعْرِفُ مَعْرُوفًا وَلاَ يُنْكِرُ مُنْكَرًا إِلاَّ مَا أُشْرِبَ مِنْ هَوَاهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ حُذَيْفَةُ وَحَدَّثْتُهُ أَنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا يُوشِكُ أَنْ يُكْسَرَ ‏.‏ قَالَ عُمَرُ أَكَسْرًا لاَ أَبَا لَكَ فَلَوْ أَنَّهُ فُتِحَ لَعَلَّهُ كَانَ يُعَادُ ‏.‏ قُلْتُ لاَ بَلْ يُكْسَرُ ‏.‏ وَحَدَّثْتُهُ أَنَّ ذَلِكَ الْبَابَ رَجُلٌ يُقْتَلُ أَوْ يَمُوتُ ‏.‏ حَدِيثًا لَيْسَ بِالأَغَالِيطِ ‏.‏ قَالَ أَبُو خَالِدٍ فَقُلْتُ لِسَعْدٍ يَا أَبَا مَالِكٍ مَا أَسْوَدُ مُرْبَادًّا قَالَ شِدَّةُ الْبَيَاضِ فِي سَوَادٍ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ فَمَا الْكُوزُ مُجَخِّيًا قَالَ مَنْكُوسًا ‏.‏
It is narrated on the authority of Hudhaifa:We were sitting in the company of Umar and he said: Who amongst you has heard the Messenger of Allah (ﷺ) talking about the turmoil? Some people said: It is we who heard it. Upon this be remarked: Perhaps by turmoil you presume the unrest of man in regard to his household or neighbour, they replied: Yes. He ('Umar) observed: Such (an unrest) would be done away with by prayer, fasting and charity. But who amongst you has heard from the Apostle (ﷺ) describing that turmoil which would come like the wave of the ocean. Hudhaifa said: The people hushed into silence, I replied: It is I. He ('Umar) said: Ye, well, your father was also very pious. Hudhaifa said: I heard the Messenger of Allah (may peace be, upon him ) observing: Temptations will be presented to men's hearts as reed mat is woven stick by stick and any heart which is impregnated by them will have a black mark put into it, but any heart which rejects them will have a white mark put in it. The result is that there will become two types of hearts: one white like a white stone which will not be harmed by any turmoil or temptation, so long as the heavens and the earth endure; and the other black and dust-coloured like a vessel which is upset, not recognizing what is good or rejecting what is abominable, but being impregnated with passion. Hudhaifa said: I narrated to him ('Umar): There is between you and that (turmoil) a closed door, but there is every likelihood of its being broken. 'Umar said: Would it be broken? You have, been rendered fatherless. Had it been opened, it would have been perhaps closed also. I said: No, it would be broken, and I narrated to him: Verily that door implies a person who would be killed or die. There is no mistake in this hadith. Abu Khalid narrated: I said to Sa'd, O Abu Malik, what do you mean by the term" Aswad Murbadda"? He replied: High degree of whiteness in blackness. I said: What is meant by" Alkoozu Mujakhiyyan"? He replied: A vessel turned upside down
ابو خالد سلیمان بن حیان نے سعد بن طارق سے حدیث سنائی ، انہوں نے ربعی سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نےکہا : ہم حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کےپاس تھے ، انہوں نے پوچھا : تم میں سے کس نے رسول اللہ ﷺ کو فتنوں کا ذکر کرتے ہوئے سنا؟ کچھ لوگوں نے جواب دیا : ہم نے یہ ذکر سنا ۔ حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے فرمایا : شاید تم و ہ آزمائش مراد لے رہے ہو جو آدمی کو اس کے اہل ، مال اور پڑوسی ( کے بارے ) میں پیش آتی ہے ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ۔ حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : اس فتنے ( اہل ، مال اور پڑوسی کے متعلق امور میں سرزد ہونے والی کوتاہیوں ) کا کفارہ نماز ، روزہ اور صدقہ بن جاتے ہیں ۔ لیکن تم میں سے کس نے رسول اللہ ﷺ سے اس فتنے کا ذکر سنا ے جو سمندر کی طرح موجزن ہو گا؟ حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : اس پر سب لوگ خاموش ہو گئے تو میں نے کہا : میں نے ( سنا ہے ۔ ) حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : تو نے ، تیرا باپ اللہ ہی کا ( بندہ ) ہے ( کہ اسے تم سا بیٹا عطا ہوا ۔ ) حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ سےسنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’فتنے دلوں پر ڈالیں جائیں گے ، چٹائی ( کی بنتی ) کی طرح تنکا تنکا ( ایک ایک ) کر کے اور جو دل ان سے سیراب کر دیا گیا ( اس نے ان کو قبول کر لیا اور اپنے اندر بسا لیا ) ، اس میں ایک سیاہ نقطہ پڑ جائے گا اور جس دل میں ان کو رد کر دیا اس میں سفید نقطہ پڑ جائے گا یہاں تک کہ دل دو طرح کے ہو جائیں گے : ( ایک دل ) سفید ، چکنے پتھر کے مانند ہو جائے گا ، جب تک آسمان و زمین قائم رہیں گے ، کوئی فتنہ اس کو نقصان نہیں پہنچائے گا ۔ دوسرا کالا مٹیالے رنگ کا اوندھے لوٹے کے مانند ( جس پر پانی کی بوند بھی نہیں ٹکتی ) جو نہ کسی نیکی کو پہچانے کا اور نہ کسی برائی سے انکار کرے گا ، سوائے اس بات کے جس کی خواہش سے وہ ( دل ) لبریز ہو گا ۔ ‘ ‘ حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : میں نےعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے بیان کیا کہ آپ کے اور ان فتنوں کے درمیان بند دروازے ہے ، قریب ہے کہ اسے توڑ دیا جائے گا؟ اگر اسے کھول دیا گیا تو ممکن ہے کہ اسے دوبارہ بند کیا جاسکے ۔ میں نے کہا : نہیں ! بلکہ توڑ دیا جائے گا ۔ اور میں نے انہیں بتا دیا : وہ دروازہ آدمی ہے جسے قتل کر دیا جائے گا یا فوت ہو جائے گا ۔ ( حذیفہ نے کہا : میں نے انہیں ) حدیث ( سنائی کوئی ) ، مغالطے میں ڈالنے والی باتیں نہیں ۔ ابو خالدنے کہا : میں نے سعد سے پوچھا : ابو مالک !أسودمرباداً سے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے کہا : کالے رنگ میں شدید سفیدی ( مٹیالے رنگ ۔ ) کہا : میں نے پوچھا : الکوز مجخیاسے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے کہا : الٹا کیا ہوا کوزہ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، ح وَحَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
This hadith has been reported on the authority of Abu Bishr with the same chain of transmitters
عبد الصمد اور شبابہ بن سوار نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابوبشر سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔