بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
4
7 hadith
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ سُتْرَةِ الْمُصَلِّي فَقَالَ ‏ "‏ مِثْلُ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ ‏"‏ ‏.‏
A'isha reported:The Messenger of Allah (ﷺ) was asked about sutra of a worshipper; he said: Equal to the back of the saddle
۔ سعید بن ابی ایوب نے ابو اسود سے ، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ سے نمازی کے سترے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : ’’پالان کی پچھلی لکڑی کے مثل ہو ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، قَالَ كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ ‏.‏ بِنَحْوِهِ ‏.‏
A hadith like this, i. e." We used to observe evening prayer...." so on and so forth, has been narrated by Rafi' b. Khadij by another chain of transmitters
شعیب بن اسحاق دمشقی نے اوزاعی سے سابقہ سند کےساتھ رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےحدیث بیان کی ، کہا : ہم مغرب کی نماز ادا کر تے ۔ ۔ ۔ ( آگے ) پچھلی حدیث کی طرح ہے ۔
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - وَهُوَ ابْنُ الْهَادِ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَىْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ حَسَنِ الصَّوْتِ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ يَجْهَرُ بِهِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira is reported to have heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Allah does not listen to anything, (more approvingly) as He listens to a Prophet reciting loudly the Qur'an in a sweet voice
عبد العزیز بن محمد نے کہا : یزید بن ہاد نے ہمیں محمد بن ابرا ہیم سے حدیث بیان کی انھوں نے ابو سلمہ سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ما تے ہوئے سنا : اللہ تعا لیٰ نے ( کبھی ) کسی چیز پر اس طرح کان نہیں دھرا جس طرح کسی خوش آواز نبی ( کی قراءت ) پر جب وہ بلند آواز کے ساتھ خوش الحانی سے قراءت کرے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ، - وَهُوَ ابْنُ مُضَرَ - عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ، بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، - رضى الله عنه - قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُجَاوِرُ فِي الْعَشْرِ الَّتِي فِي وَسَطِ الشَّهْرِ فَإِذَا كَانَ مِنْ حِينِ تَمْضِي عِشْرُونَ لَيْلَةً وَيَسْتَقْبِلُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ يَرْجِعُ إِلَى مَسْكَنِهِ وَرَجَعَ مَنْ كَانَ يُجَاوِرُ مَعَهُ ثُمَّ إِنَّهُ أَقَامَ فِي شَهْرٍ جَاوَرَ فِيهِ تِلْكَ اللَّيْلَةَ الَّتِي كَانَ يَرْجِعُ فِيهَا فَخَطَبَ النَّاسَ فَأَمَرَهُمْ بِمَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ إِنِّي كُنْتُ أُجَاوِرُ هَذِهِ الْعَشْرَ ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أُجَاوِرَ هَذِهِ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ فَمَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعِي فَلْيَبِتْ فِي مُعْتَكَفِهِ وَقَدْ رَأَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فَأُنْسِيتُهَا فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ فِي كُلِّ وِتْرٍ وَقَدْ رَأَيْتُنِي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ مُطِرْنَا لَيْلَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ فِي مُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَقَدِ انْصَرَفَ مِنْ صَلاَةِ الصُّبْحِ وَوَجْهُهُ مُبْتَلٌّ طِينًا وَمَاءً ‏.‏
Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (ﷺ) spent in devotion (in i'tikaf) the middle ten nights of the month of Ramadan, and when twenty nights were over and it was the twenty-first night, he went back to his residence and those who were along with him also returned (to their respective residences). He spent one month in devotion. Then he addressed the people on the night he came back (to his residence) and commanded them as Allah desired (him to command) and then said:I used to devote myself (observe i'tikaf) during these ten (nights). Then I started devoting myself in the last ten (nights). And he who desires to observe i'tikaf along with me should spend the night) at his place of i'tikaf. And I saw this night (Lailat-ul-Qadr) but I forgot it (the exact night) ; so seek it;In the last ten nights on odd numbers. I saw (the glimpses of that dream) that I was prostrating in water and mud. Abu Sa'id al-Khudri said: It rained on the twenty-first night and the water dripped (from the roof) of the mosque at the place where the Messenger of Allah (ﷺ) observed prayer. I looked at him and as he completed the dawn prayer, (I found) his face was wet with mud and water
ہمیں بکر نے ابن ہا د سے حدیث سنا ئی ، انھوں نے محمد بن ابرا ہیم سے ، انھوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحماٰن سے انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دس دنوں میں اعتکاف کرتے تھے جو مہینے کے درمیان میں ہو تے ہیں جب وہ وقت آتا کہ بیس راتیں گزر جا تیں اور اکیسویں رات کی آمد ہو تی تو اپنے گھر لو ٹ جا تے اور وہ شخص بھی لو ٹ جا تا جو آپ کے ساتھ اعتکاف کرتا تھا ۔ پھر آپ ایک مہینے ، جس میں آپ نے اعتکاف کیا تھا اس رات ٹھہرے رہے جس میں آپ ( گھر ) لو ٹ جا یا کرتے تھے ۔ آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا ، جو اللہ تعا لیٰ نے چا ہا اس کا حکم دیا ۔ پھر فر ما یا : "" میں ان ( درمیانے ) دس دنوں کا اعتکاف کرتا تھا ۔ پھر مجھ پر منکشف ہوا کہ میں اس آخری عشرے کا اعتکاف کروں ۔ تو جس شخص نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے وہ اپنے اعتکاف کی جگہ ہی میں رات بسر کرے اور بلاشبہ میں نے یہ رات خواب میں دیکھی ہے اس کے بعد وہ مجھے بھلا دی گئی ۔ لہٰذا تم اسے آخری عشرے کی ہر طاق رات میں تلاش کرو ۔ میں اپنے آپ کو ( خواب میں ) دیکھا کہ میں پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں ۔ ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اکیسویں رات ہم پر بارش ہو ئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھنے کی جگہ میں مسجد ( کی چھت ٹپک پڑی میں میں نے جب آپ صبح کی نماز سے فارغ ہو چکے تھے ۔ آپ کو دیکھا تو آپ کے چہرہ مبارک مٹی اور پانی سے بھیگا ہوا تھا ۔)
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَالْمُقَدَّمِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ كُلُّهُمْ عَنْ حَمَّادٍ، - قَالَ خَلَفٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، - عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، قَالَ رَأَيْتُ الأَصْلَعَ - يَعْنِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - يُقَبِّلُ الْحَجَرَ وَيَقُولُ وَاللَّهِ إِنِّي لأُقَبِّلُكَ وَإِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ وَأَنَّكَ لاَ تَضُرُّ وَلاَ تَنْفَعُ وَلَوْلاَ أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَبَّلَكَ مَا قَبَّلْتُكَ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ الْمُقَدَّمِيِّ وَأَبِي كَامِلٍ رَأَيْتُ الأُصَيْلِعَ ‏.‏
Abdullah b. Sarjis reported:I saw the bald one, i. e. 'Umar b. Khattib (Allah be pleased with him). kissing the Stone and saying: By Allah. I am kissing with full consciousness of the fact that you are a stone and that you can neither do any harm nor good; and if I had not seen Allah's Messenger (ﷺ) kissing you. I would not have kissed you. The rest of the hadith is the same
ہمیں خلف بن ہشام ، مقدمی ، ابوکامل ، اورقتیبہ بن سعید سب نے حماد سے حدیث بیان کی ، خلف نے کہا : ہمیں حماد بن زید نے عاصم احول سے حدیث بیان کی ، انھوں نےعبداللہ بن سرجس سے روایت کی ، کہا : میں نے سرکےاگلے حصے سے اڑے ہوئے بالوں والے ، یعنی عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کودیکھا ، وہ حجر اسود کو بوسہ دیتے تھے اور کہتے تھے : اللہ کی قسم!میں تجھے بوسہ دےرہاہوں ، اور بے شک میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے ، تو نقصان پہنچاسکتا ہے نہ نفع ، اگر ایسا نہ ہوتا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیے دیکھاتھا ، تومیں تجھے بوسہ نہ دیتا ۔ مقدمی اور ابو کامل کی روایت میں ( اڑے ہوئے بالوں والے کی بجائے ) "" آگے سے چھوٹی سی گنج والے "" کودیکھا کے الفاظ ہیں ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي وَوَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، جَمِيعًا عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
This hadith has been transmitted by another chain of transmitters:Ibn Numair, Waki', Ishaq b. Ibrahim, 'Isa b. Yunus on the authority of A'mash
(اعمش کےدوسرے شاگردوں ) عبد اللہ بن نمیر ، وکیع اور عیسیٰ بن یونس نے بھی اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ عَبْدِ، الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَسْلَمُ وَغِفَارُ وَمُزَيْنَةُ وَجُهَيْنَةُ خَيْرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ وَمِنْ بَنِي عَامِرٍ وَالْحَلِيفَيْنِ بَنِي أَسَدٍ وَغَطَفَانَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Bakra reported from the Messenger of Allah (ﷺ) that Aslam, Ghifar, Muzaina and Juhaina are better than Banu Tamim, Banu Amir and their allies Banu Asad and Ghatfan
نصر بن علی جہضمی کے والد نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے ابو بشر سے ، انھوں نے عبد الرحمان بن ابی بکرہ سے انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : " " اسلم ، غفار مزینہ اور جہینہ بنو تمیم ، بنو عامر اور دو حلیف قبیلوں بنو اسد اور بنو غطفان سے بہتر ہیں ۔