بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
4
7 hadith
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا نُصَلِّي وَالدَّوَابُّ تَمُرُّ بَيْنَ أَيْدِينَا فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مِثْلُ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ تَكُونُ بَيْنَ يَدَىْ أَحَدِكُمْ ثُمَّ لاَ يَضُرُّهُ مَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ ‏"‏ فَلاَ يَضُرُّهُ مَنْ مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ ‏"‏ ‏.‏
Musa b. Talha reported on the authority of his father:We used to say prayer and the animals moved in front of us. We mentioned it to the Messenger of Allah (ﷺ) and he said: If anything equal to the back of a saddle is in front of you, then what walks in front, no harm would come to him. Ibn Numair said: No harm would come whosoever walks in front
محمد بن عبد اللہ بن نمیر اور اسحاق بن ابراہیم نے حدیث بیان کی ، اسحاق نے کہا : ’’عمر بن عبید طنافسی نے ہمیں خبر دی ‘ ‘ اور ابن نمیر نے کہا : ’’ہمیں حدیث سنائی ‘ ‘ انہوں نے سماک سے ، انہوں نے موسیٰ بن طلحہ سے اور انہوں نے اپنے والد ( حضرت طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہم نماز پڑھ رہے ہوتے اور جاندار ہمارے سامنے گزرتے ہم نے اس کا تذکرہ رسول اللہﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا : ’’ تم میں سے کسی شخص کے آگے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز ہو تو پھر جو چیز بھی اس کے سامنے سے گزرے گی اسے اس کا کوئی نقصان نہیں ۔ ‘ ‘ ابن نمیر نے ، پھر جو چیز بھی اس کے سامنے سے گزرے گی ، کے بجائے ’’ تو جو کوئی بھی اس کے سامنے سے گزرے گی اسے اس کا کوئی نقصان نہیں ، کے الفاظ بیان کیے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، يَقُولُ كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَنْصَرِفُ أَحَدُنَا وَإِنَّهُ لَيُبْصِرُ مَوَاقِعَ نَبْلِهِ ‏.‏
Rafi' b. Khadij reported:We used to observe the evening prayer with the Messenger of Allah (ﷺ) and then one of us would go away and he could see the (distant) place where his arrow would fall
ولید بن مسلم نے کہا : ہم سے اوزاعی نے حدیث بیان کی ، کہا : ہم سے ابو نجاشی نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، کہہ رہے تھے : ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے تو ہم میں سے کوئی شخص لوٹتا اور وہ اپنے تیر کے گرنے کی جگہیں دیکھ سکتا تھا ۔
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح وَحَدَّثَنِي يُونُسُ، بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ ‏ "‏ كَمَا يَأْذَنُ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been narrated by Ibn Shihab with the same chain of transmitters with words:" As He listens to a Prophet reciting the Qur'an in a sweet voice
یونس اور عمر ( بن حارث ) دونوں نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ یہ روایت کی اس میں ) ما اذن لنبي کے بجا ئے ) كما ياذن لنبي ( جس طرح ایک نبی کے لیے کان دھرتا ہے جو خوش الحانی سے قراءت کررہا ہو ۔ ) کے الفاظ ہیں
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - أَنَّاللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ثُمَّ أَيْقَظَنِي بَعْضُ أَهْلِي فَنُسِّيتُهَا فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْغَوَابِرِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ حَرْمَلَةُ ‏"‏ فَنَسِيتُهَا ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:I was shown Lailat-ul-Qadr; then some members of my family awoke me up, then I was caused to forget it. So seek it in the last week. Harmala said: (The Prophet did not say:" I was made to forget," but he stated):" But I forgot it
ہمیں ابو طاہر اور حرملہ بن یحییٰ نے حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں ابن وہب نے خبردی ( کہا : ) مجھے یو نس نے ابن شہاب سے خبردی ، انھوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" مجھے ( خواب میں ) شب قدر دکھا ئی گئی پھر مجھے میرے گھر والوں میں سے کسی نے بیدار کر دیا تو وہ مجھے بھلوادی گئی ، تم اسے بعد میں آنے والی ( آخری ) دس راتوں میں تلا ش کرو ۔ حرملہ نے ( "" مجھے بھلوادی گئی "" کے بجا ئے ) "" میں اسے بھول گیا "" کہا ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ، قَبَّلَ الْحَجَرَ وَقَالَ إِنِّي لأُقَبِّلُكَ وَإِنِّي لأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ وَلَكِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُقَبِّلُكَ ‏.‏
Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) reported that Umar (Allah be pleased with him) kissed the Stone and said:I am kissing you, whereas I know that you are a stone, but I saw Allah's Messenger (ﷺ) kissing you (that Is why I kiss you)
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اورکہا : میں تجھے بوسہ دیتاہوں اور میں یہ بھی جانتاہوں کہ توایک پتھر ہے لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاتھا وہ تجھے بوسہ دیتے تھے ۔ ( اس لئے میں بھی بوسہ دیتاہوں)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَدِيثَيْنِ قَدْ رَأَيْتُ أَحَدَهُمَا وَأَنَا أَنْتَظِرُ الآخَرَ حَدَّثَنَا ‏"‏ أَنَّ الأَمَانَةَ نَزَلَتْ فِي جِذْرِ قُلُوبِ الرِّجَالِ ثُمَّ نَزَلَ الْقُرْآنُ فَعَلِمُوا مِنَ الْقُرْآنِ وَعَلِمُوا مِنَ السُّنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ حَدَّثَنَا عَنْ رَفْعِ الأَمَانَةِ قَالَ ‏"‏ يَنَامُ الرَّجُلُ النَّوْمَةَ فَتُقْبَضُ الأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ فَيَظَلُّ أَثَرُهَا مِثْلَ الْوَكْتِ ثُمَّ يَنَامُ النَّوْمَةَ فَتُقْبَضُ الأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ فَيَظَلُّ أَثَرُهَا مِثْلَ الْمَجْلِ كَجَمْرٍ دَحْرَجْتَهُ عَلَى رِجْلِكَ فَنَفِطَ فَتَرَاهُ مُنْتَبِرًا وَلَيْسَ فِيهِ شَىْءٌ - ثُمَّ أَخَذَ حَصًى فَدَحْرَجَهُ عَلَى رِجْلِهِ - فَيُصْبِحُ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ لاَ يَكَادُ أَحَدٌ يُؤَدِّي الأَمَانَةَ حَتَّى يُقَالَ إِنَّ فِي بَنِي فُلاَنٍ رَجُلاً أَمِينًا ‏.‏ حَتَّى يُقَالَ لِلرَّجُلِ مَا أَجْلَدَهُ مَا أَظْرَفَهُ مَا أَعْقَلَهُ وَمَا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ ‏"‏ ‏.‏ وَلَقَدْ أَتَى عَلَىَّ زَمَانٌ وَمَا أُبَالِي أَيَّكُمْ بَايَعْتُ لَئِنْ كَانَ مُسْلِمًا لَيَرُدَّنَّهُ عَلَىَّ دِينُهُ وَلَئِنْ كَانَ نَصْرَانِيًّا أَوْ يَهُودِيًّا لَيَرُدَّنَّهُ عَلَىَّ سَاعِيهِ وَأَمَّا الْيَوْمَ فَمَا كُنْتُ لأُبَايِعَ مِنْكُمْ إِلاَّ فُلاَنًا وَفُلاَنًا ‏.‏
Hudhaifa reported:The Messenger of Allah (ﷺ) narrated to us two ahadith. I have seen one (crystallized into reality), and I am waiting for the other. He told us: Trustworthiness descended in the innermost (root) of the hearts of people. Then the Qur'an was revealed and they learnt from the Qur'an and they learnt from the Sunnah. Then he (the Holy Prophet) told us about the removal of trustworthiness. He said: The man would have a wink of sleep and trustworthiness would be taken away from his heart leaving the impression of a faint mark. He would again sleep and trustworthiness would be taken away from his heart leaving an impression of a blister, as if you rolled down an ember on your foot and it was vesicled. He would see a swelling having nothing in it. He (the Holy Prophet) then took up a pebble and rolled it down over his foot and (said): The people would enter into transactions amongst one another and hardly a person would be left who would return (things) entrusted to him. (And there would be so much paucity of honest persons) till it would be said: There in such a such tribe is a trustworthy man. And they would also say about a person: How prudent he is, how broad-minded he is and how intelligent he is, whereas in his heart there would not be faith even to the weight of a mustard seed. I have passed through a time in which I did not care with whom amongst you I entered into a transaction, for if he were a Muslim his faith would compel him to discharge his obligations to me and it he were a Christian or a Jew, the ruler would compel him to discharge his obligations to me. But today I would not enter into a transaction with you except so and so
ابو معاویہ اور وکیع نے اعمش سے حدیث سنائی ، انہوں نے زید بن وہب سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسو ل اللہ ﷺ نے ہمیں دو باتیں بتائیں ، ایک تو میں دیکھ چکا ہوں اور دوسری کا انتظار کر رہا ہوں ، آپ نے ہمیں بتایا : ’’امانت لوگوں کے دلوں کے نہاں خانے میں اتری ، پھر قرآن اترا ، انہوں نے قرآن سے سیکھا اور سنت سے جانا ۔ ‘ ‘ پھر آپﷺ نے ہمیں امانت اٹھالیے جانے کے بارے میں بتایا ، آپ نے فرمایا : ’’ آدمی ایک بار سوئے گا تو اس کے دل میں امانت سمیٹ لی جائے گی اور اس کا نشان پھیکے رنگ کی طرح رہ جائے گا ، پھر وہ ایک نیند لے گا تو ( بقیہ ) امانت اس کے دل سے سمیٹ لی جائے گی اور اس کا نشان ایک آبلے کی طرح رہ جائے گا جیسے تم انگارے کو اپنے پاؤں پر لڑھکاؤ تو ( وہ حصہ ) پھول جاتا ہے اور تم اسے ابھرا ہوا دیکھتے ہو ، حالانکہ اس کے اندر کچھ نہیں ہوتا ۔ ‘ ‘ پھر آپ نے ایک کنکری لی اور اسے اپنے پاؤں پر لڑھکایا ۔ ’’پھر لوگ خرید و فروخت کریں گے لیکن کوئی بھی پوری طرح امانت کی ادائیگی نہ کرے گا یہاں تک کہ جائے گا : ’’فلاں خاندان میں ایک آدمی امانت دار ہے ۔ نوبت یہاں تک پہنچے گی کہ کسی آدمی کے بارے میں کہا جائے گا ، وہ کس قدر مضبوط ہے ، کتنا لائق ہے ، کیسا عقل مند ہے ! جبکہ اس کے دل میں رائے کے دانے کے برابر ( بھی ) ایمان نہ ہو گا ۔ ‘ ‘ ( پھر حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : ) مجھ پر ایک دو گزرا ، مجھے پروا نہیں تھی کہ میں تم سے کس کے ساتھ لین دین کروں ، اگر وہ مسلمان ہے تو اس کا دین اس کو میرے پا س واپس لے آئے گا اور اگر وہ یہودی یا عیسائی ہے تو اس کا حاکم اس کو میرے پاس لے آئے گا لیکن آج میں فلاں اور فلاں کے سوا تم میں سے کسی کے ساتھ لین دین نہیں کر سکتا ۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي سَيِّدُ بَنِي، تَمِيمٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ الضَّبِّيُّ بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ مِثْلَهُ قَالَ ‏ "‏ وَجُهَيْنَةُ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَقُلْ أَحْسِبُ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Abu Ya'qub Dabbi with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording
عبد الصمد نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی کہا : مجھے بنو تمیم کے سردار محمد بن عبد اللہ بن ابی یعقوب ضبی نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث سنائی اور انھوں نے صرف جہینہ کہا : ۔ " میرا خیال ہے " ( کاجملہ ) نہیں کہا ۔