بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
4
7 hadith
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا وَضَعَ أَحَدُكُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلَ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ فَلْيُصَلِّ وَلاَ يُبَالِ مَنْ مَرَّ وَرَاءَ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏
Musa b. Talha reported it on the authority of his father:The Messenger of Allah (ﷺ) said: When one of you places in front of him so me. thing such as the back of a saddle, he should pray without caring who passes on the other side of it
ابو احوص نے سماک ( بن حرب ) سے ، انہوں نے موسیٰ بن طلحہ سے اور انہوں نے اپنے والد حضرت طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی اپنا سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز رکھ لے تو نماز پڑھتا رہے اور اس سے آگے سے گزرنے والے کی پروا نہ کرے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَتَوَارَتْ بِالْحِجَابِ ‏.‏
Salama b. al-Akwa' reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to pray the evening prayer when the sun had set and disappeared (behind the horizon)
حضرت سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ مغرب کی نماز اس وقت پڑھتے جب سورج غروب ہوتا اور پردے کی اوٹ میں چلا جاتا
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَىْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported this directly from the Messenger of Allah (ﷺ):God has not listened to anything as He listens to a Prophet reciting the Qur'an in a sweet voice
سفیان بن عیینہ نے زہری سے انھوں نے ابو سلمہ سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی وہ اس ( فر ما ن ) کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا تے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اللہ تعا لیٰ نے ( کبھی ) کسی چیز پر اس قدر کان نہیں دھرا ( توجہ سے نہیں سنا ) جتنا کسی خوش آواز نبی ( کی آواز ) پر کان دھرا جس نے خوش الحانی سے قراءت کی ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ جَبَلَةَ، وَمُحَارِبٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تَحَيَّنُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ فِي التِّسْعِ الأَوَاخِرِ ‏"‏ ‏.‏
Ibn 'Umar (Allah be pleased with both of them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Seek the time of Lailat-ul-Qadr in the last (ten nights), or he said: in the last nine (nights)
شیبانی نے جبلہ اور محارب سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم لیلۃ القدر کے اوقت آخری دس راتوں میں تلاش کرو ۔ یا فر ما یا : " آخری سات راتوں میں ( تلاش کرو ۔)
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، وَعَمْرٌو، ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، أَنَّحَدَّثَهُ قَالَ قَبَّلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الْحَجَرَ ثُمَّ قَالَ أَمَ وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّكَ حَجَرٌ وَلَوْلاَ أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ ‏.‏ زَادَ هَارُونُ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ عَمْرٌو وَحَدَّثَنِي بِمِثْلِهَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ أَسْلَمَ ‏.‏
Salim narrated on the authority of his father (Allah be pleased with him) that 'Umar b. al-Khattib (Allah be pleased with him) kissed (the Black Stone) and then said:By Allah, I know that you are a stone and if I were not to see Allah's Messenger (ﷺ) kissing you, I would not have kissed you. Harun said in his narration: A hadith like this has been transmitted to me by Zaid b. Aslam on the authority of his father Aslam
مجھے حرملہ بن یحییٰ نے حدیث سنائی ، ( کہا : ) ہمیں ابن وہب نے خبر دی ، ( کہا : ) مجھے یونس اورعمرو نے خبر دی ، اسی طرح مجھے ہارون بن سعید ایلی نے حدیث بیان کی ، کہا : ابن وہب نے عمروسےخبر دی ، انھوں نے ابن شہاب سے ، انھوں نے سالم سے روایت کی کہ ان کے والد ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے انھیں حدیث بیان کی ، کہا : ( ایک مرتبہ ) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور فرمایا : ہاں ، اللہ کی قسم!میں اچھی طرح جانتاہوں کہ تو ایک پتھر ہے ، اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھا ہوتا کہ وہ تمھیں بوسہ دیتے تھے تو میں تمھیں ( کبھی ) بوسہ نہ دیتا ۔ ہارون نے اپنی روایت میں ( کچھ ) اضافہ کیا ، عمرو نے کہا : مجھے زید بن اسلم نے اپنے والد اسلم سے اسی کے مانند روایت کی تھی ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ زِيَادٍ، عَادَ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ فِي مَرَضِهِ فَقَالَ لَهُ مَعْقِلٌ إِنِّي مُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ لَوْلاَ أَنِّي فِي الْمَوْتِ لَمْ أُحَدِّثْكَ بِهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَا مِنْ أَمِيرٍ يَلِي أَمْرَ الْمُسْلِمِينَ ثُمَّ لاَ يَجْهَدُ لَهُمْ وَيَنْصَحُ إِلاَّ لَمْ يَدْخُلْ مَعَهُمُ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏
It is narrated on the authority of Abu Malih that Ubaidullah b. Ziyad visited Ma'qil b. Yasar in his illness. Ma'qil said to him:I am narrating to you a hadith which I would have never narrated to you had I not been in death-bed. I heard Allah's apostle (ﷺ) say: A ruler who has been entrusted with the affairs of the Muslims but he makes no endeavors ( for the material and moral uplift) and does not sincerely mean (their welfare) would not enter Paradise along with them
ابو ملیح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ عبید اللہ بن زیاد نےمعقل بن یسار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی بیماری میں ان کی عیادت کی تو معقل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے اس سے کہا : میں موت ( کی راہ ) میں نہ ہوتا تو تمہیں یہ حدیث نہ سناتا ۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ’’ کوئی امیر جو مسلمانوں کے معاملات کی ذمہ داری اٹھاتا ہے ، پھر وہ ان ( کی بہبود ) کے لیے کوشش اور خیر خواہی نہیں کرتا ، وہ ان کے ہمراہ جنت میں داخل نہ ہو گا ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، سَمِعْتُ عَبْدَ، الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ، جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّمَا بَايَعَكَ سُرَّاقُ الْحَجِيجِ مِنْ أَسْلَمَ وَغِفَارَ وَمُزَيْنَةَ - وَأَحْسِبُ جُهَيْنَةَ - مُحَمَّدٌ الَّذِي شَكَّ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ أَسْلَمُ وَغِفَارُ وَمُزَيْنَةُ - وَأَحْسِبُ جُهَيْنَةَ - خَيْرًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ وَبَنِي عَامِرٍ وَأَسَدٍ وَغَطَفَانَ أَخَابُوا وَخَسِرُوا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُمْ لأَخْيَرُ مِنْهُمْ ‏"‏ ‏.‏ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ مُحَمَّدٌ الَّذِي شَكَّ ‏.‏
Abu Bakra reported from his father that al-Aqra' b. Habis reported that he came to Allah's Messenger (ﷺ) and said to him:How did the tribes of Aslam, Ghifar, Muzaina (and I think he also said Juhaina and the narrator is in doubt about it) owe allegiance to you, whereas they plundered the pilgrims? Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said:" you were to say that Aslam, Ghifar, Muzaina and I think Juhaina are better than Banu Tamim, Banu 'Amir and Asad, Ghatfan, then would these people (of latter group of tribes) be in loss? He said: Yes. Thereupon he (the Holy Prophet) said: By Him in Whose Hand is my life, these people are better than Banu Tamim, Banu Amir, Asad and Ghatfan, and in this hadith of Abu Shaiba (these words are not found) that Muhammad (the narrator) had a doubt about
ابو بکربن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں غندر نے شعبہ سے حدیث بیان کی ، اسی طرح محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے محمد بن ابی یعقوب سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے عبدالرحمان بن ابی بکرہ سے سنا ، وہ اپنے والد سے حدیث بیان کررہے تھے ۔ کہ حضرت اقرع بن حابس ( تمیمی ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا : آپ سے حاجیوں کا سامان چرا نے والے ( قبائل ) اسلم اور غفار اور مزینہ اور میرا خیال ہے جہینہ ( کابھی نام لیا ) ۔ ۔ ۔ محمد ( بن یعقوب ) ہیں جنھیں شک ہوا ۔ نے بیعت کر لی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تمھا را کیا خیال ہے کہ اگر اسلم اور غفار اور مزینہ اور میرا خیال ہے ( آپ نے فرما یا ) جہینہ بنو تمیم ، بنو عامر بنو اسد اور غطفان سے بہتر ہوں تو کیا یہ ( قبیلے لوگوں کی نظر میں مرتبے کے اعتبار سے ) ناکام ہو جا ئیں گے ، خسارے میں رہیں گے؟ " اس نے کہا : جی ہاں ۔ آپ نے فرما یا : " مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ ان سے بہت بہتر ہیں ۔ " ابن ابی شیبہ کی حدیث میں : " محمد ( بن یعقوب ) ہیں جنھیں شک ہوا ۔ " ( کے الفاظ ) نہیں ۔