حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا سَجَدَ جَافَى حَتَّى يَرَى مَنْ خَلْفَهُ وَضَحَ إِبْطَيْهِ . قَالَ وَكِيعٌ يَعْنِي بَيَاضَهُمَا .
Maimuna daughter of Harith reported:When the Messenger of Allah (ﷺ) prostrated, he kept his hands so much apart from each other that when it was seen from behind the armpits became visible. Waki' said: That is their whiteness
وکیع نے کہا : ہمیں جعفر بن برقان نے یزید بن اصم سے حدیث سنائی ، انہوں نے حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ جب سجدہ کرتے تو ( دونوں ہاتھوں کو پہلوؤں سے ) دور رکھتے یہاں تک کہ جو آپ کے پیچھے ہوتا وہ آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھ سکتا تھا ۔ وکیع نے کہا : ( وضح سے ) مراد بغلوں کی سفیدی ہے ۔
وَحَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنِي أَبُو جَمْرَةَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ صَلَّى الْبَرْدَيْنِ دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
Abu Bakr reported on the authority of his father that the Messenger of Allah (ﷺ) said:He who observed two prayers at two cool (hours) would enter Paradise
ہدّاب بن خالد ازدی نے کہا : ہمیں ہمام بن یحییٰ نے حدیث سنائی ، کہا : مجھے ابو جمرہ ضبعی نے ابوبکر ( بن ابی موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ) سے حدیث سنائی اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جس نے دو ٹھنڈے وقتوں کی نمازیں ادا کیں ، وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ ‘ ‘ ( دن کا ٹھنڈا وقت عصر کا اور رات کا سب سے ٹھنڈا وقت فجر کا ہوتا ہے ۔)
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عَبْدَةُ، بْنُ أَبِي لُبَابَةَ عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " بِئْسَمَا لِلرَّجُلِ أَنْ يَقُولَ نَسِيتُ سُورَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ أَوْ نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ هُوَ نُسِّيَ " .
Ibn Mas'ud reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Wretched is the man who says: I forgot such and such a sura, or I forget such and such a verse, but he has been made to forget
عبدہ بن ابی لبابہ نے شفیق بن سلمہ سے روایت کی انھوں نے کہا : میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہو ئے سنا انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ما تے ہو ئے سنا : " کسی آدمی کے لیے یہ بہت بری بات ہے کہ وہ کہے میں فلا ں فلاں سورت بھول گیا یا فلا ں فلاں آیت بھول گیا بلکہ اسے بھلوا دیا گیا ہے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُقْبَةَ، - وَهُوَ ابْنُ حُرَيْثٍ - قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ - يَعْنِي لَيْلَةَ الْقَدْرِ - فَإِنْ ضَعُفَ أَحَدُكُمْ أَوْ عَجَزَ فَلاَ يُغْلَبَنَّ عَلَى السَّبْعِ الْبَوَاقِي " .
Ibn Umar (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Seek it (Lailat-ul-Qadr) in the last (ten nights). If one among you shows slackness and weakness (in the earlier part of Ramadan), it should not be allowed to prevail upon him in the last week
عقبہ نے کہا : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم اس یعنی لیلۃ القدر کو آخری دس راتوں میں تلاش کرو اگر تم میں سے کو ئی کمزور پڑ جا ئے یا بے بس ہو جا ئے تو وہ باقی کی سات راتوں میں ( کسی صورت سستی کمزوری سے ) مغلوب نہ ہو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي خَالِدٍ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِيَدِهِ ثُمَّ قَبَّلَ يَدَهُ وَقَالَ مَا تَرَكْتُهُ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَفْعَلُهُ .
NAfi' (Allah be pleased with him) reported:I saw'lbn 'Umar (Allah be pleased with them) touching the Stone with his hand and then kissing his hand. and he said: I have never abandoned it since I saw Allah's Messenger (way peace be upon him) doing It
عبیداللہ نے نافع سےروایت کی کہا : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا کہ وہ حجر اسود کو اپنے ہاتھوں سے چھوتے پھر اپنا ہاتھ کوچوم لیتے ۔ انھوں نے کہا : میں نے جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ، اس وقت اسے ترک نہیں کیا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ دَخَلَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ عَلَى مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ وَهُوَ وَجِعٌ فَسَأَلَهُ فَقَالَ إِنِّي مُحَدِّثُكَ حَدِيثًا لَمْ أَكُنْ حَدَّثْتُكَهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَسْتَرْعِي اللَّهُ عَبْدًا رَعِيَّةً يَمُوتُ حِينَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لَهَا إِلاَّ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ " . قَالَ أَلاَّ كُنْتَ حَدَّثْتَنِي هَذَا قَبْلَ الْيَوْمِ قَالَ مَا حَدَّثْتُكَ أَوْ لَمْ أَكُنْ لأُحَدِّثَكَ .
Hasan reported:Ubaidullah b. Ziyad went to see Ma'qil b. Yasir and he was ailing. He ('Ubaidullah) inquired (about his health) to which he (Ma'qil) replied: I am narrating to you a hadith which I avoided narrating to you (before). Verily the Messenger of Allah (ﷺ) observed: Allah does not entrust to his bondsman the responsibility of managing the affairs of his subjects and he dies as a dishonest (ruler) but Paradise is forbidden by Allah for such a (ruler). He (Ibn Ziyad) said: Why did you not narrate it to me before this day? He replied: I (in fact) did not narrate it to you as it was not (fit) for me to narrate that to you
(ابو اشہب کے بجائے ) یونس نے حسن سے روایت کی ، انہوں نےکہا : عبید اللہ بن زیاد حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، وہ اس وقت بیمارتھے او ران کا حال پوچھا ، تو وہ کہنے لگے : میں تمہیں ایک حدیث سنانے لگا ہوں جو میں نے پہلے تمہیں نہیں سنائی تھی ، بلا شبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ کسی بندے کو کسی رعیت کا نگران بناتا ہے او رموت کے دن وہ اس حالت میں مرتا ہے کہ رعیت کے حقوق میں دھوکے بازی کرنے والا ہے تو اللہ اس پر جنت حرام کر دیتا ہے ۔ ‘ ‘ عبیداللہ نےکہا : کیا آپ نے پہلے مجھے یہ حدیث نہیں سنائی ؟ معقل رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے تمہیں نہیں سنائی یا میں تمہیں نہیں سنا سکتا تھا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ، - يَعْنِي الْحِزَامِيَّ - عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنِي وَقَالَ، الآخَرَانِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ الأَعْرَجِ، قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَغِفَارُ وَأَسْلَمُ وَمُزَيْنَةُ وَمَنْ كَانَ مِنْ جُهَيْنَةَ أَوْ قَالَ جُهَيْنَةُ وَمَنْ كَانَ مِنْ مُزَيْنَةَ خَيْرٌ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَسَدٍ وَطَيِّئٍ وَغَطَفَانَ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:By Him in Whose Hand is the life of Muhammad, (the tribes of) Ghifar, Aslam, Muzaina, or from the tribe of Juhaina or from the tribe of Muzaina, they would be better in the eye of Allah than Asad, Tayyi, and Ghatfan on the Day of Resurrection
ابو زناد اور صالح نے اعرج سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جا ن ہے! یقیناً غفار ، اسلم مزینہ اورجو لوگ جہینہ سے ہیں یا آپ نے فرمایا : " جہینہ اور جو لو گ مزینہ سے ہیں ( خود آکر اسلام قبول کرنے کی بنا پر ) قیامت کے دن اللہ کے نزدیک اسد طے اور غطفان سے بہتر ہوں گے ۔