حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَصَمِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ مَيْمُونَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا سَجَدَ خَوَّى بِيَدَيْهِ - يَعْنِي جَنَّحَ - حَتَّى يُرَى وَضَحُ إِبْطَيْهِ مِنْ وَرَائِهِ وَإِذَا قَعَدَ اطْمَأَنَّ عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى .
Maimuna, the wife of the Messenger of Allah (ﷺ), reported:When the Messenger of Allah (ﷺ) prostrated himself, he spread his arms, i. e. he separated them so much that the whiteness of his armpits became visible from behind and when he sat (for Jalsa) he rested on his left thigh
مروان بن معاویہ فزاری نے ہمیں خبر دی ، کہا : عبید اللہ بن عبد اللہ بن اصم نے یزید بن اصم سے حدیث بیان کی کہ نبی اکرمﷺ کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ جب سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھوں کے درمیان فاصلہ کرتے ، ان کا مطلب تھا انہیں پھیلا لیتے یہاں تک کہ پیچھے سے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی جا سکتی تھی اور جب بیٹھتے تو بائیں ران پر اطیمنان سے بیٹھتے ۔
وَحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَلِجُ النَّارَ مَنْ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا " . وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ فَقَالَ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَعَمْ أَشْهَدُ بِهِ عَلَيْهِ . قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ لَقَدْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُهُ بِالْمَكَانِ الَّذِي سَمِعْتَهُ مِنْهُ .
Umara b. Ruwaiba reported on the authority of his father that the Messenger of Allah (ﷺ) said:He who said prayer before the rising of the sun and its setting would not enter the fire (of Hell), and there was a man from Basra (sitting) beside him who said: Did you hear it from the Messenger of Allah (way peace be upon him)? He said: Yes, I bear witness to it. The man from Basra said: I bear witness that I did hear from the Messenger of Allah (ﷺ) saying it from the place that you heard from him
عبدالملک بن عمیر نے حضرت عمارۃ بن رویبہ کے بیٹے سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جو انسان سورج نکلنے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے نماز پڑھتا ہے وہ آگ میں داخل نہیں ہو گا ۔ ‘ ‘ اور ان کے پاس بصرہ کا ایک باشندہ بھی موجود تھا ، اس نے پوچھا : کیا آپ نے یہ حدیث براہ راست نبی اکرم ﷺ سے سنی ؟ تو انھوں نے کہا : ہاں ، اور میں اس کی شہادت دیتا ہوں ۔ اس آدمی نے کہا : اور میں بھی شہادت دیتا ہوں کہ میں نے اسی جگہ ان کو یہ فرماتے ہوئے سنا جہاں آپ نے ان سے سنا تھا ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ تَعَاهَدُوا هَذِهِ الْمَصَاحِفَ - وَرُبَّمَا قَالَ الْقُرْآنَ - فَلَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهِ . قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَقُلْ أَحَدُكُمْ نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ هُوَ نُسِّيَ " .
Abdullah is reported to have said:Keep refreshing your knowledge of the sacred books (or always renew your knowledge of these sacred books) and sometimes he would mention the Qur'an for it is more apt to escape from men's minds than animals which are hobbled, and the Messenger of Allah (ﷺ) said: None of you should say: I forgot such and such a verse, but he has been made to forget
اعمش نے شفیق بن سلمہ سے روا یت کی انھوں نے کہا ۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا ان مصاحف ۔ ۔ اور کبھی کہا : قرآن ۔ ۔ کے ساتھ تجدید عہد کرتے رہا کرو کیونکہ وہ انسانوں کے سینوں سے بھا گ جا نے میں اپنے پاؤں کی رسیوں سے نکل بھاگنے والے اونٹوں سے بھی بڑھ کر ہے کہا : اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا ہے ۔ " تم میں سے کسی کو یہ نہیں کہنا چا ہیے کہ میں فلا ں فلا ں آیت بھول گیا ہوں بلکہ اسے بھلوا دیا گیا ہے ۔
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ أَبَاهُ، - رضى الله عنه - قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ لِلَيْلَةِ الْقَدْرِ " إِنَّ نَاسًا مِنْكُمْ قَدْ أُرُوا أَنَّهَا فِي السَّبْعِ الأُوَلِ وَأُرِيَ نَاسٌ مِنْكُمْ أَنَّهَا فِي السَّبْعِ الْغَوَابِرِ فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْغَوَابِرِ " .
Salim b. 'Abdullah b. 'Umar reported that his father said:I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: So far as Lailat-ul-Qadr is concerned. some persons among you have seen it (in a dream) in the first week and some persons among you have been shown that it is in the last week; so seek it in the last ten (nights)
یو نس نے ابن شہاب سے روایت کی ، ( کہا : ) مجھے سالم بن عبد اللہ بن عمر نے خبرد ی کہ ان کے والد نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لیلۃ القدر کے بارے میں سنا ، فر مارہے تھے : " تم میں سے کچھ لوگوں کو ( خواب میں ) دکھا یا گیا ہے کہ یہ پہلی ساتھ را توں میں ہے اور تم میں سے کچھ لوگوں کو دکھا یا گیا ہے کہ یہ بعد میں آنے والی سات راتوں میں ہے تو تم اس کو بعد میں آنے والی ( آخری ) دس راتوں میں تلاش کرو ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى، الْقَطَّانِ - قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا يَحْيَى، - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ مَا تَرَكْتُ اسْتِلاَمَ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ - الْيَمَانِيَ وَالْحَجَرَ مُذْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْتَلِمُهُمَا فِي شِدَّةٍ وَلاَ رَخَاءٍ .
Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) reported:I have not abandoned touching of Yamani corners (and kissing of) the Stone since I saw Allah's messneger (ﷺ) touching them both In hardship and ease
ہمیں یحییٰ نے عبیداللہ سے روایت بیا ن کی ، ( کہا : ) مجھے نافع نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، فرمایا : میں نے مشکل ہویا آسانی ، اس وقت سے ان دونوں رکنوں ، رکن یمانی اورحجر اسود کا استلام نہیں چھوڑا ، جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں کااستلام کرتے ( ہاتھ یا ہونٹوں سے چھوتے ) ہوئےدیکھا ۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْهَبِ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ عَادَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ الْمُزَنِيَّ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ . قَالَ مَعْقِلٌ إِنِّي مُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَوْ عَلِمْتُ أَنَّ لِي حَيَاةً مَا حَدَّثْتُكَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْتَرْعِيهِ اللَّهُ رَعِيَّةً يَمُوتُ يَوْمَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لِرَعِيَّتِهِ إِلاَّ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ " .
Hasan reported:'Ubaidullah b. Ziyad paid a visit to Ma'qil b. Yasar Muzani in his illness of which he (later on) died. (At this juncture) Ma'qil said: I am going to narrate to you a hadith which I have heard from the Messenger of Allah (ﷺ) and which I would not have transmitted if I knew that I would survive. Verily I have heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: There is none amongst the bondsmen who was entrusted with the affairs of his subjects and he died in such a state that he was dishonest in his dealings with those over whom he ruled that the Paradise is not forbidden for him
ابو اشہب نے حسن ( بصری ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : عبید اللہ بن زیاد نےحضرت معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ کے مرض ا لموت میں ان کی عیادت کی تو معقل رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : میں تمہیں ایک حدیث سنانے لگاہوں جو میں نے رسو ل اللہ ﷺ سے سنی ۔ اگر میں جانتا کہ میں ا بھی اور زندہ رہوں گا تو تمہیں یہ حدیث نہ سناتا ۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ’’ کوئی ایسا بندہ جسے اللہ کسی رعایا کا نگران بناتا ہے اور مرنے کے دن وہ اس حالت میں مرتا ہے کہ اپنی رعیت سے دھوکا کرنے والا ہے تو اللہ اس پر جنت حرام کر دیتا ہے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " أَسْلَمُ وَغِفَارُ وَمُزَيْنَةُ وَمَنْ كَانَ مِنْ جُهَيْنَةَ أَوْ جُهَيْنَةُ خَيْرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ وَبَنِي عَامِرٍ وَالْحَلِيفَيْنِ أَسَدٍ وَغَطَفَانَ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The tribes of Ashja', Ghifar and Muzaina and from the tribe of Juhaina they are better than Banu Tamim, Banu Amir and the allies of Asad and Ghatfan
سعد بن ابرا ہیم سے روایت ہے ، کہا : میں نے ابو سلمہ سے سنا ، وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسلم ، غفاراور مزینہ اور جو لوگ جہینہ سے ہیں یاآپ نے جہینہ فرما یا ، بنو تمیم اور بنو عامر اور دو باہمی حلیفوں اسد اور غطفان سے بہتر ہیں ۔