حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح قَالَ وَحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ " وَلاَ يَتَبَسَّطْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ انْبِسَاطَ الْكَلْبِ " .
This hadith has been narrated by Shu'ba with the same chain of transmitters. And in the hidith transmitted by Ibn Ja'far (the words are):" None of you should stretch out his forearms like the stretching out of a dog
محمد بن جعفر اور خالد بن حارث نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ روایت کی ہے ۔ ابن جعفر کی روایت میں ہے : ’’کوئی شخص تکلف کر کے اپنے بازو اس طرح نہ بچھائے جس طرح کتا بچھاتا ہے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ مَلاَئِكَةٌ بِاللَّيْلِ وَمَلاَئِكَةٌ بِالنَّهَارِ وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ وَصَلاَةِ الْعَصْرِ ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي فَيَقُولُونَ تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ " .
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: Angels take turns among you by night and by day, and they all assemble at the dawn and afternoon prayers. Those (of the angels) who spend the night among you, then, ascend, and their Lord asks them, though He is the best informed about them: How did you leave My servants? -they say: We left them while they were praying and we came to them while they were praying
ابو زناد نے اعراج سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے ایک دوسرے کے پیچھے تمھارے درمیان آتے ہیں اور فجر کی نماز اور عصری نماز کے وقت وہ اکٹھے ہو جاتے ہیں ، پھر جنھوں نے تمھارے درمیان رات گزاری ہوتی ہے وہ اوپر چلے جاتےہیں ، ان سے ان کا رب پوچھتا ہے ، حالانکہ وہ ان سے زیادہ جانتا ہے : تم میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑ کر آئے ہو ؟ وہ جواب دیتےہیں : ہم انھیں ( اس حالت میں ) چھوڑ کر آئے ہیں کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور ہم ان کے پاس ( کل عصر کے وقت ) اس حالت میں پہنچے تھے کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سَمِعَ رَجُلاً يَقْرَأُ مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ " يَرْحَمُهُ اللَّهُ لَقَدْ أَذْكَرَنِي كَذَا وَكَذَا آيَةً كُنْتُ أَسْقَطْتُهَا مِنْ سُورَةِ كَذَا وَكَذَا " .
A'isha reported that the Messenger of Allah (ﷺ) heard a person reciting the Qur'an at night. Upon this he said:May Allah show mercy to him; he has reminded me of such and such a verse which I had missed in such and such a surah
ابواسامہ نے ہشام سے انھوں نے اپنے والد ( عروہ ) سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کی قراءت سنی جو وہ رات کو کر رہا تھا تو فر ما یا : " اللہ اس پر رحم فر ما ئے !اس نے مجھے فلاں آیت یاد دلا دی جس کی تلاوت فلاں سورت میں چھوڑ چکا تھا
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، أَخُو يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ ثَابِتٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَيُّوبَ الأَنْصَارِيُّ، - رضى الله عنه - قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ . بِمِثْلِهِ .
Abu Ayyub al-Ansari reported (through another chain of transmitters):I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying like this
عبد اللہ بن نمیر نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ما تے ہو ئے سنا ۔ ۔ ۔ اسی ( سابقہ حدیث کے مانند ۔)
وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ مَكَّةَ وَقَدْ وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ . قَالَ الْمُشْرِكُونَ إِنَّهُ يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ غَدًا قَوْمٌ قَدْ وَهَنَتْهُمُ الْحُمَّى وَلَقُوا مِنْهَا شِدَّةً . فَجَلَسُوا مِمَّا يَلِي الْحِجْرَ وَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَرْمُلُوا ثَلاَثَةَ أَشْوَاطٍ وَيَمْشُوا مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ لِيَرَى الْمُشْرِكُونَ جَلَدَهُمْ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ هَؤُلاَءِ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ أَنَّ الْحُمَّى قَدْ وَهَنَتْهُمْ هَؤُلاَءِ أَجْلَدُ مِنْ كَذَا وَكَذَا . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَلَمْ يَمْنَعْهُ أَنْ يَأْمُرَهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الأَشْوَاطَ كُلَّهَا إِلاَّ الإِبْقَاءُ عَلَيْهِمْ .
Ibn 'Abbas (At lab be pleased with them) reported:Allah's Messenger (ﷺ) and his Companions came to Mecca and the fever in Medina had weakened them. Thereupon the polytheists (of Mecca) said: There would come to you a people whom the fever has made weak and they have suffered severely from it. They sat in Hatim. Thereupon Allah's Apostle (ﷺ) commanded them to walk quickly ift three circuits and walk (in four) between the two corners. so that the polytheists should. see their endurance. The polytheists then said (to one anothery You were under the impression that fever had emaciated them. whereas they are stronger than so and so. Ibn Abbas said: He (the Holy Prophet) did not command them (the Muslims) to walk quickly in all the circuits out of kindness to them
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ( عمرہ قضا کےلیے ) مکہ آئے تو انھیں یثرب ( مدینہ ) کے بخار نے کمزور کردیا تھا ۔ مشرکین نے کہا : کل تمھارے ہاں ایسے لوگ آرہے ہیں جنھیں بخار نے کمزور کردیا ہے ۔ اورانھیں اس سے بڑی تکلیف پہنچی ہے ۔ اور وہ لوگ حطیم کے ساتھ ( لگ کر ) بیٹھ گئے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( اپنے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) کو حکم دیا کہ بیت اللہ کے تین چکروں میں چھوٹے قدموں کی تیز ، مضبوط چال چلیں ، اور دونوں ( یمانی ) کونوں کےدرمیان عام چال چلیں تاکہ مشرکوں کوان کی مضبوطی نظرآجائے ۔ ( مسلمانوں کی مضبوط چال دیکھ کر ) مشرکوں نے کہا : یہی لوگ ہیں جن کے بارے میں تمھارا خیال تھا کہ انھیں بخار نے کمزور کردیا ہے ۔ یہ تو فلاں فلاں سے بھی زیادہ مضبوط ہیں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : انھیں پورے چکروں میں رمل نہ کرنے کاحکم دینے سے ، آپ کو محض اس شفقت نے روکا جو آپ ان پر فرماتے تھے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ وَأَبُو عَاصِمٍ الْحَنَفِيُّ - وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ - قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا قَدْ غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ لِي كَانَتْ لأَبِي . فَقَالَ الْكِنْدِيُّ هِيَ أَرْضِي فِي يَدِي أَزْرَعُهَا لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلْحَضْرَمِيِّ " أَلَكَ بَيِّنَةٌ " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَلَكَ يَمِينُهُ " . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الرَّجُلَ فَاجِرٌ لاَ يُبَالِي عَلَى مَا حَلَفَ عَلَيْهِ وَلَيْسَ يَتَوَرَّعُ مِنْ شَىْءٍ . فَقَالَ " لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلاَّ ذَلِكَ " فَانْطَلَقَ لِيَحْلِفَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا أَدْبَرَ " أَمَا لَئِنْ حَلَفَ عَلَى مَالِهِ لِيَأْكُلَهُ ظُلْمًا لَيَلْقَيَنَّ اللَّهَ وَهُوَ عَنْهُ مُعْرِضٌ " .
It is narrated on the authority of Wa'il that there came a person from Hadramaut and another one from Kinda to the Apostle (ﷺ). One who had come from Hadramaut said:Messenger of Allah, only this man has appropriated my land which belonged to my father. The one who had came from Kinda contended. This is my land and is in my possession: I cultivate it. There is no right for him in it. The Messenger of Allah said to the Hadramite: Have you any evidence (to support you)? He replied in the negative. He (the Messenger of Allah) said: Then your case is to be decided on his oath. He (the Hadramite) said: Messenger of Allah, he is a liar and cares not what he swears and has no regard for anything. Upon this he (the Messenger of Allah) remarked: For you then there is no other help to it. He (the man from Kinda) set out to take an oath. When he turned his back the Messenger of Allah (ﷺ) observed: If he took an oath on his property with a view to usurping it, he would certainly meet his Lord in a state that He would turn away from him
سماک نے علقمہ بن وائل سے ، انہوں نے اپنے والد ( حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک آدمی حضر موت سے اور ایک کندہ سے نبی ﷺ کے پاس آیا ۔ حضرمی ( حضر موت کے باشندے ) نے کہا : اے اللہ کے رسول ! یہ میری زمین پر قبضہ کیے بیٹھا ہے جومیرے باپ کی تھی ۔ اور کندی نے کہا : یہ میری زمین ہے ، میرے قبضے میں ہے ، میں اسے کاشت کرتا ہوں ، اس کا اس ( زمین ) میں کوئی حق نہیں ۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے حضرمی سے کہا : ’’کیا تمہاری کوئی دلیل ( گواہی وغیرہ ) ہے ؟ ‘ ‘ اس نے کہا : نہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ پھر تمہارے لیے اس کی قسم ہے ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! بلاشبہ یہ آدمی بدکردار ہے ، اسے کوئی پرواہ نہیں کہ کس چیز پر قسم کھاتا ہے او ریہ کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتا ۔ آپ نے فرمایا : ’’تمہیں اس سے اس ( قسم ) کے سوا کچھ نہیں مل سکتا ۔ ‘ ‘ وہ قسم کھانے چلا اور جب اس نے پیٹھ پھیری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بات یہ ہے کہ اگر اس نے ظلم اور زیادتی سے اس شخص کا مال کھانے کے لیے قسم کھائی تو بلاشبہ یہ شخص اللہ سے اس حالت میں ملے گا کہ اللہ نے اس سے اپنا رخ پھیر لیا ہو گا ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَالْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِهِ وَفِي حَدِيثِ صَالِحٍ وَأُسَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ذَلِكَ عَلَى الْمِنْبَرِ .
This hadith has been transmitted on the authority of Ibn Umar with a slight variation of wording (and the wording) that Allah's Messenger (ﷺ) said this on the pulpit
عبید اللہ ، اسامہ اور ابو صالح سب نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےانھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی صالح اور اسامہ کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات منبر پر ارشاد فر ما ئی ۔