حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ وَلاَ يَبْسُطْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ انْبِسَاطَ الْكَلْبِ " .
Anas reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: Observe moderation in prostration, and let none of you stretch out his forearms (on the ground) like a dog
وکیع نے شعبہ سے ، انہوں نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ سجدے میں اعتدال اختیار کرو اور کوئی شخص اس طرح اپنے بازور ( زمین پر ) نہ بچھائے جس طرح کتا بچھاتا ہے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ، إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ .
This hadith has been reported by Yahya b. Abd Kathir with the same chain of transmitters
علی بن مبارک نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ اسی کی مانند حدیث بیان کی
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَاسْتَعْجَمَ الْقُرْآنُ عَلَى لِسَانِهِ فَلَمْ يَدْرِ مَا يَقُولُ فَلْيَضْطَجِعْ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When any one of you gets up at night (for prayer) and his tongue falters in (the recitation) of the Qar'an, and he does not know what he is reciting, he should go to sleep
ہمام بن منبہ نے کہا : یہ احادیث ہیں جو ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے بیان کی ہیں ، پھر ان میں سے کچھ احادیث ذکر کیں ، ان میں سے یہ بھی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص رات کو قیام کرے اور اس کی زبان پر قراءت مشکل ہوجائے اور اسے پتہ نہ چلے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے تو اسے لیٹ جانا چاہیے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ، - قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، - أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عُمَرَ، بْنِ ثَابِتِ بْنِ الْحَارِثِ الْخَزْرَجِيِّ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ، - رضى الله عنه - أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ كَانَ كَصِيَامِ الدَّهْرِ " .
Abu Ayyub al-Ansari (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who observed the fast of Ramadan and then followed it with six (fasts) of Shawwal. it would be as if he fasted perpetually
ہمیں اسما عیل بن جعفر نے حدیث سنا ئی ، ( کہا : ) مجھے سعد بن سعید قیس نے عمر بن ثا بت بن حارث خزعجی سے خبر دی ، انھوں نے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے ان کو حدیث سنا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جس نے رمضا ن کے روزے رکھے ۔ پھر اس کے بعد شوال کے چھروزے رکھے تو یہ ( پوراسال ) مسلسل روزے رکھنے کی طرح ہے ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ، سَعِيدِ بْنِ الأَبْجَرِ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ أُرَانِي قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ فَصِفْهُ لِي . قَالَ قُلْتُ رَأَيْتُهُ عِنْدَ الْمَرْوَةِ عَلَى نَاقَةٍ وَقَدْ كَثُرَ النَّاسُ عَلَيْهِ . قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ذَاكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّهُمْ كَانُوا لاَ يُدَعُّونَ عَنْهُ وَلاَ يُكْهَرُونَ .
Abu Tufail reported; I. said to Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them):I think that I saw Allah's Messenger (ﷺ). He (Ibn 'Abbis) said' Give a description of him to me. I said: I saw him near al-Marwa on the back of a she- camel, and people had thronged around him. Thereupon Ibn'Abbis said: It was Allah's Messenger (ﷺ) for they (the Compainions of the Holy Prophet) were neither pushed aside from him, nor were they turned away
عبدالملک بن سعید بن ابجر نے ابوطفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : میرا خیال ہے کہ میں نے ( حجۃ الوداع کے موقع پر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھاتھا ۔ ( انھوں نے ) کہا : ان کی صفت ( تمھیں کس طرح نظر آئی ) بیان کرو ۔ میں نے عرض کی : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مروہ کے پاس اونٹنی پر ( سوار ) دیکھا تھا ، اور آپ ( کو دیکھنے کےلئے ) لوگوں کا بہت ہجوم تھا ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : ( ہاں ) وہی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے ۔ لوگوں کوآپ سے ( دورہٹانے کےلئے ) دھکے دیئے جاتے تھے نہ انھیں ڈانٹا جاتاتھا ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ، وَعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَعْيَنَ، سَمِعَا شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ حَلَفَ عَلَى مَالِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ حَقِّهِ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِصْدَاقَهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ { إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلاً} إِلَى آخِرِ الآيَةِ .
Ibn Mas'ud says:I heard the Messenger of Allah observing: He who took an oath on the property of a Muslim without legitimate right would meet Allah and He would be angry, with him. Then the Messenger of Allah (ﷺ) in support of his contention recited the verse:" Verily those who barter Allah's covenant and their oaths at a small price
جامع بن ابی راشد اور عبد المالک بن اعین نے ( ابو وائل ) شقیق بن سلمہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہتے تھے ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ’’ جس ن کسی مسلمان شخص کے مال پر ، حق نہ ہوتے ہوئے ، قسم کھائی ، وہ اللہ سے اس حالت میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہو گا ۔ ‘ ‘ عبد اللہ نے کہا : پھر رسول اللہ ﷺ نے ہمارے سامنے کتاب اللہ سے اس کا مصداق ( جس سے بات کی تصدیق ہو جائے ) پڑھا : ’’ بلاشبہ جو لوگ اللہ کےساتھ کیے گئے عہد ( میثاق ) اور اپنی قسموں کا سودا تھوڑی سی قیمت پر کرتے ہیں ...... ‘ آخر آیت تک ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ، عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " غِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " .
Ibn 'Umar reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Allah has granted pardon to the tribe of Ghifar and to the tribe of Aslam Allah has granted safety and as for Usayya tribe, they disobeyed Allah and His Messenger
عبد اللہ بن دینار سے روایت ہے کہ انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " غفار کی اللہ نے مغفرت فرمائی اور اسلم کو اللہ سلامتی عطا کیاور عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافر ما نی کی ۔