حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرًا، حَدَّثَهُ أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ مِنْ وَرَائِهِ فَقَامَ فَجَعَلَ يَحُلُّهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ مَا لَكَ وَرَأْسِي فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّمَا مَثَلُ هَذَا مَثَلُ الَّذِي يُصَلِّي وَهُوَ مَكْتُوفٌ " .
Abdullah b. Abbas reported that he saw 'Abdullah b. al-Harith observing the prayer and (his hair) was plaited behind his head. He ('Abdullah b. 'Abbas) stood up and unfolded them. While going back (from the prayer) he met Ibn 'Abbas and said to him:Why is it that you touched my head? He (Ibn 'Abbas) replied: (The man who observes prayer with plaited hair) is like one who prays with his hands tied behind
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے عبد اللہ بن حارث ( بن نوفل رضی اللہ عنہ بن عبد المطلب ) کو نماز پڑھتے دیکھا ، ان کے سر پر پیچھے سے بالوں کو جوڑا بنا ہوا تھا ، عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر اس کو کھولنے لگے ، جب ابن حارث نے سلام پھیرا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا : میرے سر کے ساتھ آپ کا کیا معاملہ ہے ( میرے بال کیوں کھولے؟ ) انہوں نے جواب دیا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’اس طرح ( جوڑا باندھ کر ) نماز پڑھنے والے کی مثال اس انسان کی طرح ہے جو اس حال میں نماز پڑھتا ہے کہ اس کی مشکیں کسی ہوئی ہوں ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ، - قَالَ أَبُو غَسَّانَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، - حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَوْمَ الْخَنْدَقِ جَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ وَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا كِدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ الْعَصْرَ حَتَّى كَادَتْ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَوَاللَّهِ إِنْ صَلَّيْتُهَا " . فَنَزَلْنَا إِلَى بُطْحَانَ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَتَوَضَّأْنَا فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا الْمَغْرِبَ .
Jabir b. 'Abdullah reported that Umar b. al-Khattab had been cursing the pagans of the Quraish an the day (of the Battle) of Khandaq (Ditch). (He came to the Holy Prophet) and said:Messenger of Allah, by God, I could not say. the 'Asr prayer till the sun set. Upon this the Messenger (ﷺ) said: By Allah I, too, have not observed it. So we went to a valley. The Messenger of Allah (ﷺ) performed ablution and we too performed ablution, and then the Messenger of Allah (ﷺ) said the 'Asr prayer after the sun had set. and then said the evening prayer after it
معاذ بن ہشام نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں میرے والد نے یحییٰ بن ابی کثیر سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : ہمیں ابو سلمہ بن عبدالرحمن نےحضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہوئے حدیث بیان کی کہ خندق کے روز حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کفار قریش کو برا بھلا کہنے لگے اور عرض کی : اے اللہ کےرسول ! اللہ کی قسم ! میں عصر کی نماز نہیں پڑھ سکا تھا یہاں تک کہ سورج غروب ہونے کو آگیا ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ کی قسم ! میں نے ( بھی ) نہیں پڑھی ۔ ‘ ‘ پھر ہم ( وادی ) بطحان میں اترے ، رسول اللہ ﷺ نے وضول کیا اور ہم نے بھی وضو کیا ، پھر رسول اللہ ﷺ نے سورج کے غروب ہو جانے کے بعد عصرکی نماز پڑھی ، پھر اس کے بعد مغرب کی نماز ادا کی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، بْنُ سَعِيدٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلاَةِ فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى وَهُوَ نَاعِسٌ لَعَلَّهُ يَذْهَبُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبُّ نَفْسَهُ " .
A'isha reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:When anyone amongst you dozes in prayer, he should sleep, till sleep is gone, for when one of you prays while dozing he does not know whether he may be asking pardon or vilifying himself
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے رویت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں اونگھنے لگے تو وہ سوجائے حتیٰ کہ نیند جاتی رہے کیونکہ جب تم میں سے کوئی شخص اونگھ کی حالت میں نماز پڑھتاہے تو وہ ممکن ہے وہ استغفار کرنے چلے لیکن ( اس کی بجائے ) اپنے آپ کو برا بھلا کہنے لگے ،
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، بْنِ عُمَيْرٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ فِي ذِكْرِ الصِّيَامِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِهِ .
A hadith like this has been reported from the Messenger of Allah (ﷺ) by 'Abd al-Malik with the same chain of transmitters in connection with fast
زائد ہ نے عبد الملک بن عمیر سے اسی سند کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روزوں کے ذکر میں اس ( سابقہ حدیث ) کے مانند روایت کی ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَمَلَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَهْىَ سُنَّةٌ . قَالَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا .
Abu Tufail reported:I said to Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them): People are of the view that Allah's Messenger (ﷺ) moved quickly round the House and between al-Safa and al-Marwa, and (thus) it is Sunnah. He said: They told the truth and they told the lie
ابن ابی حسین نے ابو طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : آپ کی قوم کا خیال ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ ( کے طواف میں ) اورصفا مروہ کے درمیان میں رمل کیا تھا ، اور یہ سنت ہے ۔ انھوں نے فرمایا : انھوں نے صحیح بھی کہا اورغلط بھی ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالاً هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ . ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ الأَعْمَشِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ كَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ خُصُومَةٌ فِي بِئْرٍ فَاخْتَصَمْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " شَاهِدَاكَ أَوْ يَمِينُهُ " .
It is narrated on the authority of Abdullah that he heard the Prophet (ﷺ) saying:He who took an oath in order to entitle himself (to the possession) of a property, whereas he is a liar, would meet Allah in a state that He would be very much angry with him. Then the remaining part of the hadith was narrated as transmitted by A'mash but with the exception of these words: There was a dispute between me and another person in regard to a well. We referred this dispute to the Messenger of Allah (ﷺ). Upon this he remarked: Either (you should produce) two witnesses (to support your contention) or his oath (would be accepted as valid)
(اعمش کے بجائے ) منصور نے ابووائل سے اور انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا : جو شخص ایسی قسم اٹھاتا ہے جس کی بنا پر وہ مال کا حق دار ٹھہرتا ہے او روہ اس قسم میں جھوٹا ہے تو وہ اللہ کو اس حالت میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہوگا ، پھر اعمش کی طرح روایت بیان کی البتہ ( اس میں ) انہوں نے کہا : میرے اور ایک آدمی کے درمیان کنویں کے بارے میں جھگڑا تھا ۔ ہم ہی جھگڑا رسول اللہ ﷺ کے پاس لے گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ تمہارے دو گواہ ہوں یا اس کی قسم ( کے ساتھ فیصلہ ہو گا ) ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءَ الْغِفَارِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي صَلاَةٍ " اللَّهُمَّ الْعَنْ بَنِي لِحْيَانَ وَرِعْلاً وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ عَصَوُا اللَّهَ وَرَسُولَهُ غِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ " .
Khufaf b. Jura' reported that Allah's Messenger (ﷺ) said in prayer:O Allah, hurl curse upon the tribe of Lihyan and Ri'l aid Dhakwan and Usayya for they disobeyed Allah and His Messenger, (and for) Ghifar Allah has granted pardon and for the tribe of Aslam Allah has granted safety
حنظلہ بن علی نے حضرت خفاف بن ایماء غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں دعا کرتےہو ئے فرما یا : اے اللہ !بنو لحیان ، رعل ، ذکوان اور عصیہ پر لعنت فر ما جنھوں نے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ، اورغفار کی اللہ مغفرت فر ما ئے اسلم کو اللہ سلامتی عطا کرے