حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ، - وَهُوَ ابْنُ مُضَرَ - عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِذَا سَجَدَ الْعَبْدُ سَجَدَ مَعَهُ سَبْعَةُ أَطْرَافٍ وَجْهُهُ وَكَفَّاهُ وَرُكْبَتَاهُ وَقَدَمَاهُ " .
It was narrated from Al-'Abbas bin 'Abdul Muttalib that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) say:"When a person prostates, he prostates on seven part of the body: His face, his hands, his knees and his feet
۔ حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ’’جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ سات اطراف ( کنارے یا اعضاء ) اس کا چہرہ ، اس کی دونوں ہتھیلیاں ، اس کے دونوں گھٹنے اور اس کے دونوں قدم سجدہ کرتے ہیں ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ، عُرْوَةَ ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدِي امْرَأَةٌ فَقَالَ " مَنْ هَذِهِ " . فَقُلْتُ امْرَأَةٌ لاَ تَنَامُ تُصَلِّي . قَالَ " عَلَيْكُمْ مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَوَاللَّهِ لاَ يَمَلُّ اللَّهُ حَتَّى تَمَلُّوا " . وَكَانَ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ أَنَّهَا امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ .
A'isha said:The Messenger of Allah (ﷺ) came to me when a woman was sitting with me. He said: Who is she? I said: She is a woman who does not sleep but prays. He said: Do such acts which you are capable of doing. By Allah, Allah does not grow weary but you will grow weary. The religious act most pleasing to Him is one the doer of which does it continuously. (And in the hadith transmitted by Abu Usama [the words are]:" She was a woman from Banu Asad
ابو اسامہ اور یحییٰٰ بن سعید نے ہشام بن عروہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے میرے والد نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہوئے خبر دی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میرے پاس ایک خاتون موجود تھیں ، آپ نے پوچھا : "" یہ کون ہے؟ "" میں نے کہا : یہ ایسی عورت ہے جو رات بھر نہیں سوتی ، نماز پڑھتی رہتی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اتنا عمل کرو جتنا تمہارے بس میں ہو ، اللہ کی قسم !اللہ نہیں اکتائے گا یہاں تک کہ تم ہی عمل سے اکتا جاؤ ۔ "" اللہ کے ہاں دین کا وہی عمل پسند ہے جس پر عمل کرنے والا ہمیشگی کرے ۔ ابو اسامہ کی روایت میں ہے ، یہ بنو اسد کی عورت تھی ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ، الْمُنْتَشِرِ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - يَرْفَعُهُ قَالَ سُئِلَ أَىُّ الصَّلاَةِ أَفْضَلُ بَعْدَ الْمَكْتُوبَةِ وَأَىُّ الصِّيَامِ أَفْضَلُ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ فَقَالَ " أَفْضَلُ الصَّلاَةِ بَعْدَ الصَّلاَةِ الْمَكْتُوبَةِ الصَّلاَةُ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ وَأَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ صِيَامُ شَهْرِ اللَّهِ الْمُحَرَّمِ " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported that he (the Messenger of Allah) was asked as to which prayer was most excellent after the prescribed prayer, and which fast was most excellent after the month of Ramadan. He said:Prayer offered in the middle of the night and the most excellent fast after (fasting) in the month of Ramadan is the fast in God's month al-Muharram
جریر نے عبد الملک بن عمیر سے انھوں نے محمد بن منتشر سے انھوں نے حمید بن عبد الرحمان سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، وہ اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بیان کر رہے تھے ۔ کہا : آپ سے در یافت کیا گیا : فرض نماز کے بعد کو ن سی نماز افضل ہے اور ماہ رمضان کے بعد کو ن سے روزے افضل ہے ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز آدھی رات کی نماز ہے اور رمضا ن کے مہینے کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَكَانَ أَهْلُ مَكَّةَ قَوْمَ حَسَدٍ . وَلَمْ يَقُلْ يَحْسُدُونَهُ .
This hadith has been narrated on the authority of jurairi with the same chain of transmitters but with a slight variation of words (and this is) that he (the narrator) did not say:" They felt jealous of him. but said: The people of Mecca, were jealous people
یزید ( بن زریع تمیمی ) نے حدیث بیان کی ، ( کہا ) ہمیں جریری نے اسی سند سے خبر دی ، البتہ اس نے یہ کہا کہ اہل مکہ حاسد لوگ تھے ، یہ نہیں کہا ہ وہ آ پ سے حسد کرتے تھے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " . قَالَ فَدَخَلَ الأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ فَقَالَ مَا يُحَدِّثُكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالُوا كَذَا وَكَذَا . قَالَ صَدَقَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِيَّ نَزَلَتْ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ أَرْضٌ بِالْيَمَنِ فَخَاصَمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " هَلْ لَكَ بَيِّنَةٌ " . فَقُلْتُ لاَ . قَالَ " فَيَمِينُهُ " . قُلْتُ إِذًا يَحْلِفُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ ذَلِكَ " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " . فَنَزَلَتْ { إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلاً} إِلَى آخِرِ الآيَةِ .
It is narrated on the authority of Abdullah (b. Umar) that the Messenger of Allah (ﷺ) observed:He who perjured with a view to appropriating the property of a Muslim, and he is in fact a liar and would meet Allah in a state that He would be angry with him. He (the narrator) said: There came Ash'ath b. Qais and said (to the people): What does Abu Abdur-Rahman (the Kunya of Abdullah b. Umar) narrate to you? They replied: So and so. Upon this he remarked: Abu Abdur-Rahman told the truth. This (command) has been revealed in my case. There was a piece of land in Yemen over which I and another person had a claim. I brought the dispute with him to the Messenger of Allah (to decide) He (the Holy Prophet) said: Can you produce an evidence (in your support)? I said: No. He (the Holy Prophet) observed: (Then the decision would be made) on his oath. I said: He would readily take an oath. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) remarked: He who perjured for appropriating the wealth of a Muslim, whereas he is a liar, would meet Allah while He would be angry with him. This verse was then revealed:" Verily those who barter Allah's covenant and their oaths at a small price..." (iii)
اعمش نے ابو وائل سے ، انہوں نے حضرت عبد اللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’ جس نے مسلمان کا مال دبانے کے لیے ایسی قسم کھائی جس کے لیے عدالت نے اسے پابند کیا اور وہ اس میں جھوٹا ہے ، وہ اللہ کے سامنے اس حالت میں حاضر ہو گا کہ اللہ اس پر ناراض ہو گا ۔ ‘ ‘ انہوں ( وائل ) نے کہا : اس موقع پر حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ ( مجلس میں ) داخل ہوئے اور کہا : ابو عبد ا لرحمن ( عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) تمہیں کیا حدیث بیان کر رہے ہیں ؟ لوگوں نے کہا : اس اس طرح ( بیان کر رہے ہیں ۔ ) انہوں نےکہا : ابو عبد الرحمن نے سچ کہا ، یہ آیت میرے ہی معاملے میں نازل ہوئی ۔ میرے اور ایک آدمی کے درمیان یمن کی ایک زمین کا معاملہ تھا ۔ میں اس کے ساتھ جھگڑا نبی ﷺ کےہاں لے گیا تو آپ نے پوچھا : ’’کیا تمہارے پاس کوئی دلیل ( یا ثبوت ) ہے ؟ میں نے عرض کی : نہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ تو پھر اس کی قسم ( پر فیصلہ ہو گا ۔ ) ‘ ‘ میں نے کہا : تب وہ قسم کھا لے گا ۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جس نے کسی مسلمان کا مال دبانے کے لیے ایسی قسم کھائی جس کا فیصلہ کرنے والے نے اس سےمطالبہ کیا تھا اور وہ اس قسم میں جھوٹا ہے تو وہ اللہ کےسامنے اس حالت میں حاضر ہو گا کہ اللہ اس پر ناراض ہو گا ۔ ‘ ‘ اس پر یہ آیت اتری : ’’بلاشبہ جو لوگ اللہ کے ساتھ کیے گئے وعدے اور اپنی قسموں کا سودا تھوڑی قیمت پر کرتے ہیں ..... ‘ ‘ آیت کے آخر تک ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَطَالَ الرَّجُلُ الْغَيْبَةَ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ طُرُوقًا .
It has been narrated (through a different chain of tranmitters) on the authority of Jabir who said:The Messenger of Allah (ﷺ) forbade that a man who had long absent should come to his family like (an unexpected) night visitor
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے عاصم سے حدیث بیان کی ، انہوں نے شعبی سے ، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : جب کوئی انسان لمبا وقت گھر سے دور رہا ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رات کو اچانک گھر میں داخل ہونے سے منع فرمایا ۔
وَحَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ خُثَيْمِ بْنِ عِرَاكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ وَغِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا أَمَا إِنِّي لَمْ أَقُلْهَا وَلَكِنْ قَالَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:To the tribe of Aslam Allah has granted safety and to the tribe of Ghifar Allah has granted pardon. Verily it is not I that say this, but (it is) Allah the Exalted and Glorious. (who) says this
خثیم بن عراک نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : اسلم کو اللہ تعا لیٰ نےسلامتی عطا کی ۔ " اورغفار کی اللہ تعالیٰ نے مغفرت فرمادی ، یہ میں نے نہیں کہا ، اللہ تعا لیٰ نے فرما یا ہے ۔