بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
4
8 hadith
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعٍ وَلاَ أَكْفِتَ الشَّعْرَ وَلاَ الثِّيَابَ الْجَبْهَةِ وَالأَنْفِ وَالْيَدَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ ‏"‏ ‏.‏
Ibn Abbas reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: I was commanded to prostrate myself on the seven (bones) and forbidden to fold back hair and clothing. (The seven bones are): forehead, nose, hands, knees and feet
ابن جریح نے عبد اللہ بن طاؤس سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات ( اعضاء ) پر سجدہ کروں ، بالوں اور کپڑوں کو اکٹھا نہ کروں ، ( سجدہ ) پیشانی اور ناک ، دونوں ہاتھوں ، دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤں پر ( کروں ۔ ) ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي يُونُسَ، مَوْلَى عَائِشَةَ أَنَّهُ قَالَ أَمَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنْ أَكْتُبَ لَهَا مُصْحَفًا وَقَالَتْ إِذَا بَلَغْتَ هَذِهِ الآيَةَ فَآذِنِّي ‏{‏ حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَةِ الْوُسْطَى‏}‏ فَلَمَّا بَلَغْتُهَا آذَنْتُهَا فَأَمْلَتْ عَلَىَّ حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَةِ الْوُسْطَى وَصَلاَةِ الْعَصْرِ ‏.‏ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Abu Yunus, the freed slave of 'A'isha said:'A'isha ordered me to transcribe a copy of the Qur'an for her and said: When you reach this verse:" Guard the prayers and the middle prayer" (ii. 238), inform me; so when I reached it, I informed her and she gave me dictation (like this): Guard the prayers and the middle prayer and the afternoon prayer, and stand up truly obedient to Allah. 'A'isha said: This is how I have heard from the Messenger of Allah (ﷺ)
حضرت عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے آزاد کردہ غلام ابو یونس سے روایت ہے ، کہا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مجھے حکم دیا کہ ان کے لیے قرآن مجید لکھوں فرمایا : جب تم اس آیت پر پہنچوں ( حفظو علی الصلوت والصلوۃ الوسطی ) تو مجھے بتانا چنانچہ جب میں آیت پر پہنچا تو انھیں آگاہ کیا ، انھوں نے مجھے لکھوایا : حافظ علی الصلوت والصلاۃ الوسطی وصلاۃ العصر ، قوموا اللہ قانتین ’’ نمازوں کی حفاظت کرو اور ( خاص کر ) درمیانی نماز کی ، یعنی نماز عصر کی اور اللہ کے حضور عاجزانہ قیام کرو ۔ ‘ ‘ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے فرمایا : میں نے اسے رسول اللہ ﷺ سےایسے ہی سنا ۔
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّ الْحَوْلاَءَ بِنْتَ تُوَيْتِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى مَرَّتْ بِهَا وَعِنْدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ هَذِهِ الْحَوْلاَءُ بِنْتُ تُوَيْتٍ وَزَعَمُوا أَنَّهَا لاَ تَنَامُ اللَّيْلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَنَامُ اللَّيْلَ خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَوَاللَّهِ لاَ يَسْأَمُ اللَّهُ حَتَّى تَسْأَمُوا ‏"‏ ‏.‏
Urwa b. Zubair reported that 'A'isha, the wife of the Messenger of Allah (ﷺ), told him that (once) Haula' dint Tuwait b. Habib b. Asad b. 'Abd al-'Uzzi passed by her (at the time) when the Messenger of Allah (ﷺ) was with her. I ('A'Isha) said:It Is Haula' bint Tuwait and they say that she does not sleep at night. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: (Oh) she does not sleep at night! Choose an act which you are capable of doing (continuously). By Allah, Allah would not grow weary, but you will grow weary
ابن شہاب نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ا نھیں بتایا کہ حولا بنت تویت بن حبیب بن اسد بن عبدالعزیٰ اس عالم میں ان کے قریب سے گزری جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تھے ، کہا : میں نے عرض کی : یہ حولا بنت تویت ہیں اور لوگوں کا خیال ہے کہ یہ رات بھر نہیں سوتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( کیا رات بھر نہیں سوتی!اتنا عمل اپنا ؤ جتنے کی تم طاقت رکھتے ہو ۔ اللہ کی قسم!اللہ نہیں اکتائے گا یہاں تک کہ تم اکتا جاؤ ۔)
حَدَّثَنِي قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، الْحِمْيَرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الْمُحَرَّمُ وَأَفْضَلُ الصَّلاَةِ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ صَلاَةُ اللَّيْلِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Haraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The most excellent fast after Ramadan is God's month. al-Muharram, and the most excellent prayer after what is prescribed is prayer during the night
ابو بشر نے حمید بن عبد الرحمان حمیری سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ۔ کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " رمضا ن کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے " محرم " کے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ أَرَأَيْتَ هَذَا الرَّمَلَ بِالْبَيْتِ ثَلاَثَةَ أَطْوَافٍ وَمَشْىَ أَرْبَعَةِ أَطْوَافٍ أَسُنَّةٌ هُوَ فَإِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ سُنَّةٌ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا ‏.‏ قَالَ قُلْتُ مَا قَوْلُكَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدِمَ مَكَّةَ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ إِنَّ مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ لاَ يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يَطُوفُوا بِالْبَيْتِ مِنَ الْهُزَالِ وَكَانُوا يَحْسُدُونَهُ ‏.‏ قَالَ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَرْمُلُوا ثَلاَثًا وَيَمْشُوا أَرْبَعًا ‏.‏ قَالَ قُلْتُ لَهُ أَخْبِرْنِي عَنِ الطَّوَافِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ رَاكِبًا أَسُنَّةٌ هُوَ فَإِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ سُنَّةٌ ‏.‏ قَالَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا ‏.‏ قَالَ قُلْتُ وَمَا قَوْلُكَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَثُرَ عَلَيْهِ النَّاسُ يَقُولُونَ هَذَا مُحَمَّدٌ هَذَا مُحَمَّدٌ ‏.‏ حَتَّى خَرَجَ الْعَوَاتِقُ مِنَ الْبُيُوتِ ‏.‏ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يُضْرَبُ النَّاسُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلَمَّا كَثُرَ عَلَيْهِ رَكِبَ وَالْمَشْىُ وَالسَّعْىُ أَفْضَلُ ‏.‏
Abu Tufail reported:I said to Ibn `Abbas (Allah be pleased with them): Do you think that walking swiftly round the House in three circuits, and just walking in four circuits is the Sunnah (of the Holy Prophet), for your people say that it is Sunnah? Thereupon he (Ibn `Abbas) said: They have told the truth and the lie (too). I said: What do your words "They have told the truth and the lie (too)" imply? Thereupon he said: Allah's Messenger (ﷺ) came to Mecca and the polytheists said that Muhammad and his Companions had emaciated and would, therefore, be unable to circumambulate the House; and they felt jealous of him (the Holy Prophet). (It was due to this) that Allah's Messenger (ﷺ) commanded them to walk swiftly in three (circuits) and walk (normally) in four. I said to him: Inform me if it is Sunnah to observe Tawaf between al-Safa and al-Marwa while riding, for your people look upon it as Sunnah. He (Ibn `Abbas) said: They have told the truth and the lie too. I said: What do your words "They have told the truth and the lie too" imply? He said: When Allah's Messenger (ﷺ) had come to Mecca, there was such a large gathering of people around him that even the virgins had come out of their houses (to catch a glimpse of his face). And they were saying: He is Muhammad; He is Muhammad. Allah's Messenger (ﷺ) (was so gentle and kind) that the people were not beaten back (to make way) in front of him. When there was a throng (of people) around him, he rode (the she-camel). However, walking and trotting are better
عبدالواحد بن زیاد نےہمیں حدیث سنائی ، ( کہا : ) ہمیں جریری نے ابو طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کی : آپ کی کیا رائے ہے بیت اللہ کاطواف کرتے ہوئے تین چکروں میں رمل اور چار چکروں میں چلنا ، کیا یہ سنت ہے؟کیونکہ آپ کی قوم یہ سمجھتی ہے کہ یہ سنت ہے ۔ کہا : ( انھوں نے ) فرمایا : انھوں نے صحیح بھی کہا اورغلط بھی ۔ میں نے کہا : آپ کے اس جملے کا کہ انھوں نے درست بھی کہا اورغلط بھی ، کیامطلب ہے؟انھوں نے فرمایا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے تو مشرکوں نے کہا : محمد اوران کے ساتھی ( مدینے کی ناموافق آب وہوا ، بخار اور ) کمزوری کے باعث بیت اللہ کا طواف نہیں کرسکتے ۔ کفار آپ سے حسد کرتے تھے ۔ ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : ( ان کی با ت سن کر ) آپ نے انھیں ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کو ) حکم دیا کہ تین چکروں میں رمل کرو اورچار چکروں میں ( عام رفتار سے ) چلو ۔ ( ابوطفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں نے ان ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے عرض کی : مجھے سوار ہوکرصفا مروہ کی سعی کرنے کے متعلق بھی بتائیے ، کیاوہ سنت ہے؟کیونکہ آپ کی قوم کے لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ سنت ہے ۔ انھوں نے فرمایا : انھوں نے صحیح بھی کہا اور غلط بھی ، میں نے کہا : اس بات کا کیا مطلب ہے کہ انھوں نےصحیح بھی کہا اورغلط بھی؟انھوں نےفرمایا : اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم پرلوگوں کا جمگھٹا ہوگیا ، وہ سب ( آپ کو دیکھنے کے خواہش مندتھے اور ایک دوسرے سے ) کہہ رہے تھے ۔ یہ ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ یہ ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم حتیٰ کہ نوجوان عورتیں بھی گھروں سے نکلی ۔ ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ( ہٹانے کےلئے ) لوگوں کو مارانہیں جاتا تھا ، جب آپ ( کے راستے ) پر لوگوں کا ٹھٹھہ لگ گیا تو آپ سوار ہوگئے ۔ ( کچھ حصے میں ) چلنا اور ( کچھ میں ) سعی کرنا ( تیز چلنا ہی ) افضل ہے ۔ ( کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اصل میں یہی کرنا چاہتے تھے ۔)
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَخَاهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ الْحَارِثِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ ‏.‏
This hadith has been transmitted by another chain of narrators:Abu Bakr b. Abi Shaiba, Ishaq b. Ibrahim, Harun b. Abdullah, Abi Usama, Walid b. Kathir, Muhammad b. Ka'b, his brother Abdullah b. Ka'b and Abi Usama
محمد بن کعب سے روایت ہے ، انہوں نےاپنے بھائی عبد اللہ بن کعب سےسنا ، وہ بیان کر تے تھے کہ ابو امامہ حارثی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ان کو بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اسی کی مانند حدیث سنی
وَحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا سَيَّارٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
This tradition has been handed down through another chain of transmitters
رَوح بن عبادہ نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سیار نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ، الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، بْنِ نُمَيْرٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، ح وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، كُلُّهُمْ قَالَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ وَغِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been narrated through other chains of transmitters on the authority of Jabir and Abu Huraira that Allah's Apostle (ﷺ) said:To the tribe of Aslam Allah has granted safety and to the tribe of Ghifar Allah has granted pardon
محمد ( بن سیرین ) محمد بن زیاد اور اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، نیز ابن جریج اور معقل نے ابو زبیر سے انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، سب نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہےکہ آپ نے فرمایا : " اسلم کو اللہ تعالیٰ سلامتی عطاکرے ۔ " اورغفار کی اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے