حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ الْجَبْهَةِ - وَأَشَارَ بِيَدِهِ عَلَى أَنْفِهِ - وَالْيَدَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ وَأَطْرَافِ الْقَدَمَيْنِ وَلاَ نَكْفِتَ الثِّيَابَ وَلاَ الشَّعْرَ " .
Ibn Abbas reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said:I have been commanded to prostrate myself on seven bones:" forehead," and then pointed with his hand towards his nose, hands, feet, and the extremities of the feet; and we were forbidden to fold back clothing and hair
وہیب نے عبد اللہ بن طاؤس سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ( اپنے والد ) طاؤس سے انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’مجھے سات ہڈیوں : پیشانی ، اور ( ساتھ ہی ) آپ نے اپنے ہاتھ سے اپنی ناک کی طرف اشارہ کیا ، دونوں ہاتھوں ، دونوں ٹانگوں ( گھٹنوں ) اور دونوں پاؤں کے کناروں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور یہ کہ ہم ( نماز پڑھتے ہوئے ) کپڑوں اور بالوں کو نہ اڑسیں ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ سَلاَّمٍ الْكُوفِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ الْيَامِيُّ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَبَسَ الْمُشْرِكُونَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ صَلاَةِ الْعَصْرِ حَتَّى احْمَرَّتِ الشَّمْسُ أَوِ اصْفَرَّتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " شَغَلُونَا عَنِ الصَّلاَةِ الْوُسْطَى صَلاَةِ الْعَصْرِ مَلأَ اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا " . أَوْ قَالَ " حَشَا اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا " .
Abdullah (b. Mas'ud) reported that the polytheists detained the Messenger of Allah (ﷺ) from observing the afternoon prayer till the sun became red or it became yellow. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said:They have diverted us from (offering) the middle prayer. i. e. the 'Asr prayer. May Allah fill their bellies and their graves with fire, or he said: May Allah stuff their bellies and their graves with fire
حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : مشرکوں نے ( جنگ میں مشغول رکھ کر ) رسو ل اللہ ﷺ کو عصر کی نمازسے روکے رکھا یہاں تک کہ سورج سرخ یا زرد ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’انھوں نےہمیں درمیانی نماز ، عصر کی نماز سے مشغول رکھا ، اللہ تعالیٰ ان کے پیٹوں اور قبروں میں آگ بھر دے ۔ ‘ ‘ یا فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ ان کے پیٹوں اور قبروں کو آگ سے بھر دے ۔ ‘ ‘ ( ملأ کی جگہ حشا کا لظف ارشاد فرمایا ، مفہوم دونوں کا ایک ہی ہے ۔ ) فائدہ : نبی کریم ﷺ کی نظرمیں نماز عصرکی اہمیت کس قدر تھی ، ان احادیث سے اس کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ نیز یہ کہ آپ ﷺ نے طائف میں سنگ باری برداشت کی لیکن بد دعا نہ دی ، احد میں جسم مبارک زخمی ہوا ، دندان مبارک شہید ہوئے ، ستر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے جام شہادت نوش کیا جن میں آپ کے چچا سید الشہداء سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ بھی تھے لیکن بد دعا نہ دی ۔ جنگ خندق میں ناز عصرفوت ہو گئی تو کافروں کو بد دعا دی ۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ نفع و نقصان کا یہی معیار پیش نظر رکھے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ .
A hadith like this has been narrated from the Messenger of Allah (ﷺ) on the authority of Anas by another chain of transmitters
عبدالوارث نے عبدالعزیز ( بن صہیب ) سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، وَيَحْيَى اللُّؤْلُؤِيُّ، قَالاَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَانِئِ ابْنِ أَخِي، مُطَرِّفٍ فِي هَذَا الإِسْنَادِ . بِمِثْلِهِ .
This hadith is narrated by 'Abdullah b. Hani b. Akhi Mutarrif with the same chain of transmitters
نضر نے ہمیں خبر دی ( کہا ) ہمیں شعبہ نے خبر دی ( کہا ) ہمیں مطرف کے بھتیجے عبد اللہ بن ہانی نے اسی سند کے ساتھ اس ( سابقہ حدیث ) کے مانند حدیث روایت کی ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، وَابْنُ، جُرَيْجٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَمَلَ الثَّلاَثَةَ أَطْوَافٍ مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ .
Jabir b." Abdullah (Allah be pleased with them) reported that Allah's Messenger (ﷺ) walked swiftly in three circuitsfrom stone to stone
عبداللہ بن وہب نے کہا : مجھے مالک اورابن جریج نے خبر دی ، انھوں نے جعفر بن محمد سے ، انھوں نے ا پنے والد ( محمد باقر ) سے ، انھوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چکروں میں حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کیا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، - قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، - قَالَ أَخْبَرَنَا الْعَلاَءُ، - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى الْحُرَقَةِ - عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ السَّلَمِيِّ، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ فَقَدْ أَوْجَبَ اللَّهُ لَهُ النَّارَ وَحَرَّمَ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ " . فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " وَإِنْ قَضِيبًا مِنْ أَرَاكٍ " .
It is narrated on the authority of Abu Umama that the Messenger of Allah (ﷺ) observed:He who appropriated the right of a Muslim by (swearing a false) oath, Allah would make Hell-fire necessary for him and would declare Paradise forbidden for him. A person said to him: Messenger of Allah, even if it is something insignificant? He (the Holy Prophet) replied: (Yes) even if it is the twig of the arak tree
معبد بن کعب سلمی نے اپنے بھائی عبد اللہ بن کعب سے ، انہوں نے حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے اپنی قسم کے ذریعے سے کسی مسلمان کا حق مارا ، اللہ نے اس کے لیے آگ واجب کر دی اور اس پر جنت حرام ٹھہرائی ۔ ‘ ‘ ایک شخص نے آپ ﷺ سے عرض کی : اگرچہ وہ معمولی سی چیز ہو ، اے اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ’’ چاہے وہ پیلو کے درخت کی ایک شاخ ہو ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا قَدِمَ أَحَدُكُمْ لَيْلاً فَلاَ يَأْتِيَنَّ أَهْلَهُ طُرُوقًا حَتَّى تَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ وَتَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ " .
It has been narrated on the authority of Jabir that the Messenger of Allah (ﷺ) said:If one of you comes (back from a journey) at night. he should not enter his house as a night visitor (but should wait) until a woman whose husband has been away from house has removed the hair from her private parts and a woman with dishevelled hair has combed her hair
عبدالصمد نے کہا : ہمیں شعبہ نے سیار سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عامر ( شعبی ) سے ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص رات کے وقت گھر واپس آئے تو رات کو ( اچانک ) اپنے گھر میں داخل نہ ہو ( بلکہ اتنی دیر توقف کرے ) کہ شوہر کی غیر حاضری میں رہنے والی اپنی صفائی کر لے اور الجھے بالوں والی بال سنوار لے ۔
حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ .
This hadith has been reported on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters
ابو داؤد نے کہا : ہمیں شعبہ نے یہ حدیث اسی سند سے بیان کی ۔