بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
4
8 hadith
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أُمِرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعٍ وَنُهِيَ أَنْ يَكْفِتَ الشَّعْرَ وَالثِّيَابَ ‏"‏ ‏.‏
Ibn 'Abbas reported:The Messenger of Allah (ﷺ) had been commanded to prostrate on seven (bones) and forbidden to fold back hair and clothing
سفیان بن عیینہ نے ( عبد اللہ ) بن طاؤس سے اور انہوں نے اپنے والد کے حوالے سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ کو حکم دیا گیا کہ سات ( اعضاء ) پر سجدہ کریں اور بالوں کو اور کپڑوں کو اڑسنے سے روکا گیا ہے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الأَحْزَابِ ‏ "‏ شَغَلُونَا عَنِ الصَّلاَةِ الْوُسْطَى صَلاَةِ الْعَصْرِ مَلأَ اللَّهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ صَلاَّهَا بَيْنَ الْعِشَاءَيْنِ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ‏.‏
Ali reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said on the day (of the Battle) of Ahzab: They diverted us from saying the middle prayer, i. e. the 'Asr prayer. May Allah fill their houses and graves with fire; he then observed this prayer between the evening prayer and the night prayer
شتیر بن شکل نےحضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےروایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نےاحزاب کے دن فرمایا : ’’انھوں نے ہمیں درمیانی نماز ( یعنی ) عصر کی نماز سے مشغول رکھا ، اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے ۔ ‘ ‘ پھر آپ نے اسے رات کے دونوں نمازوں مغرب اور عشاء کے درمیان پڑھا ۔ ( مغرب کا وقت جارہا تھا اس لیے آخری وقت میں پہلے مغرب پڑھی ، پھر عصر کی قضا پڑھی ، پھر عشاء پڑھی ۔)
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسْجِدَ وَحَبْلٌ مَمْدُودٌ بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ فَقَالَ ‏"‏ مَا هَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لِزَيْنَبَ تُصَلِّي فَإِذَا كَسِلَتْ أَوْ فَتَرَتْ أَمْسَكَتْ بِهِ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ حُلُّوهُ لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ فَإِذَا كَسِلَ أَوْ فَتَرَ قَعَدَ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ ‏"‏ فَلْيَقْعُدْ ‏"‏ ‏.‏
Anas reported that the Messenger of Allah (ﷺ) entered the mosque (and he found) a rope tied between the two pillars; so he said:What is this? They said: It is for Zainab. She prays and when she slackens or feels tired she holds it. Upon this he (the Holy Prophet) said: Untie it. Let one pray as long as one feels fresh but when one slackens or becomes tired one must stop it. (And in the hadith transmitted by Zuhair it is:" He should sit down)
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں ابن علیہ نے حدیث سنائی ، نیز زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں اسماعیل نے حدیث سنائی ، ان دونوں ( ابن علیہ اوراسماعیل ) نے عبدالعزیز بن صہیب سے اور انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور ( دیکھا کہ ) دو ستونوں کے درمیان ایک رسی لٹکی ہوئی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : " یہ کیا ہے؟صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کرام نے عرض کی : حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی رسی ہے ، وہ نماز پڑھتی رہتی ہیں ، جب سست پڑتی ہیں یا تھک جاتی ہیں تو اس کو پکڑ لیتی ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اسے کھول دو ، ہرشخص نماز پڑھے جب تک ہشاش بشاش رہے ، جب سست پڑ جائے یا تھک جائے تو بیٹھ جائے ۔ " زہیر کی روایت میں ( قعد کی بجائے ) " فليقعد " ہے ۔ یعنی ماضی کی بجائے امر کا صیغہ استعمال کیا ، مفہوم ایک ہی ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ ابْنِ أَخِي، مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ قَالَ سَمِعْتُ مُطَرِّفًا، يُحَدِّثُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، - رضى الله عنهما - أَنَّصلى الله عليه وسلم قَالَ لِرَجُلٍ ‏"‏ هَلْ صُمْتَ مِنْ سِرَرِ هَذَا الشَّهْرِ شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي شَعْبَانَ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ لَهُ ‏"‏ إِذَا أَفْطَرْتَ رَمَضَانَ فَصُمْ يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ شُعْبَةُ الَّذِي شَكَّ فِيهِ قَالَ وَأَظُنُّهُ قَالَ يَوْمَيْنِ ‏.‏
Imran b. Husain (Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said to a person:Did you observe fast in the middle of this month. i. e. Sha'ban? He said: No. Thereupon he said to him: When it is the end of Ramadan, then observe fast for one day or two (Shu'ba had some doubt about it) but he said: I think that he has said: two days
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے مطرف بن شخیر کے بھتیجے سے حدیث سنا ئی کہا : میں نے مطرف کو حضرت عمرا ن بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہو ئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے پو چھا : کیا تم نے اس مہینے یعنی شعبا ن کے وسط ( یا دوران ) میں کچھ روزے رکھے ہیں؟اس نے جواب دیا : نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرما یا : " جب تم رمضا ن کے روزے ختم کر لو اس کے بعد ایک دن یا دو دن کے روزے رکھ لینا ۔ شعبہ نے ۔ ۔ ۔ جن کو شک ہوا ۔ ۔ کہا میرا خیال ہے کہ آپ نے دو دن کے روزے کہا تھا ۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ - رضى الله عنهما - أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَمَلَ مِنَ الْحَجَرِ الأَسْوَدِ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِ ثَلاَثَةَ أَطْوَافٍ ‏.‏
jabir b. Abdullah (Allah be pleased with them) reported:I saw Allah's Messenger (ﷺ) walking swiftly from the Black Stone till he completed three circuits up to it
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب نے کہا : ہمیں حدیث بیان کی جبکہ یحییٰ نے کہا اور الفاظ انھی کے ہیں : میں نے مالک کے سامنے قراءت کی ( کہ ) جعفر بن محمد نے اپنے والد سے ، انھوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نےفرمایا : میں نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے حجر اسود سے دوبارہ وہاں تک پہنچنے تک ، تین چکروں میں رمل کیا ۔
حَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، كِلاَهُمَا عَنِ الْمُخْتَارِ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّ إِسْحَاقَ لَمْ يَذْكُرْ قَالَ ‏ "‏ قَالَ اللَّهُ إِنَّ أُمَّتَكَ ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been narrated by another chain of transmitters with the exception that Ishaq made no mention of this:Allah said: Verily your people
اسحق بن ابراہیم نے کہا : ہمیں جریر نے خبر دی ، نیز ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں حسن بن علی نے زائدہ سے حدیث سنائی اور ان دونوں ( جریر اور زائدہ ) نے مختار سے ، انہوں نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ، تاہم اسحاق کی روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ’’ اللہ عزوجل نے فرمایا : بے شک آپ کی امت ....... ‘ ‘
حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزَاةٍ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ فَقَالَ ‏ "‏ أَمْهِلُوا حَتَّى نَدْخُلَ لَيْلاً - أَىْ عِشَاءً - كَىْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ ‏"‏ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Jabir b. 'Abdullah who said:We accompanied the Messenger of Allah (ﷺ) on an expedition. When we came (back) to Medina and were going to enter our houses, he said: Wait and enter (your houses) in the later part of the evening so that a woman with dishevelled hair may have used the comb, and a woman whose husband has been away from home may have removed the hair from her private parts
ہشیم نے سیار سے ، انہوں نے ( عامر ) شعبی سے ، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم ایک غزوے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، جب ہم مدینہ پہنچے تو ہم گھروں کے اندر داخل ہونے کے لیے جانے لگے تو آپ نے فرمایا : " رک جاؤ ، حتی کہ ہم ( کچھ تاخیر سے ) رات کے وقت ، یعنی عشاء کے وقت جائین تاکہ بکھرے بالوں والی اپنے بال سنوار لے اور اور شوہر کی غیر موجودگی میں رہنے والی اپنی صفائی کرے ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ مَهْدِيٍّ، قَالَ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، الْجَوْنِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ ائْتِ قَوْمَكَ فَقُلْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ وَغِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا ‏"‏ ‏.‏
Abu Dharr reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:To the tribe of Aslam Allah has granted safety and to the tribe of Ghifar Allah has granted pardon
عبد الرحمٰن بن مہدی نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابو عمران جونی سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عبد اللہ بن صامت سے ، انھوں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سےفرمایا : " اپنی قوم کے پاس جاؤاور ( ان سے ) کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرما یا ہے ۔ " اسلم کو اللہ تعا لیٰ سلامت رکھے ۔ " اورغفار کی اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے