بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
4
9 hadith
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنَا هِقْلُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ سَمِعْتُ الأَوْزَاعِيَّ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ كَعْبٍ الأَسْلَمِيُّ، قَالَ كُنْتُ أَبِيتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَتَيْتُهُ بِوَضُوئِهِ وَحَاجَتِهِ فَقَالَ لِي ‏"‏ سَلْ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ أَسْأَلُكَ مُرَافَقَتَكَ فِي الْجَنَّةِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَوَغَيْرَ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ هُوَ ذَاكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ ‏"‏ ‏.‏
Rabi'a b. Ka'b said:I was with Allah's Messenger (ﷺ) one night. and I brought him water and what he required. He said to me: Ask (anything you like). I said: I ask your company in Paradise. He (the Holy Prophet) said: Or anything else besides it. I said: That is all (what I require). He said: Then help me to achieve this for you by devoting yourself often to prostration
حضرت ربیعہ بن کعب ( بن مالک ) اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : میں ( خدمت کے لیے ) رسول اللہﷺ کے ساتھ ( صفہ میں آپ کے قریب ) رات گزارا کرتا تھا ، ( جب آپ تہجد کے لیے اٹھتے تو ) میں وضو کا پانی اور دوسری ضروریات لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا ۔ ( ایک مرتبہ ) آپ نے مجھے فرمایا : ’’ ( کچھ ) مانگو ۔ ‘ ‘ تو میں نے عرض کی : میں آپ سے یہ چاہتا ہوں کہ جنت میں بھی آپ کی رفاقت نصیب ہو ۔ آپ نے فرمایا : ’’یا اس کے سوا کچھ اور؟ ‘ ‘ میں نے عرض کی : بس یہی ۔ تو آپ نے فرمایا : ’’تم اپنے معاملے میں سجدوں کی کثرت سے میری مدد کرو ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي حَسَّانَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الأَحْزَابِ ‏ "‏ شَغَلُونَا عَنْ صَلاَةِ الْوُسْطَى حَتَّى آبَتِ الشَّمْسُ مَلأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ نَارًا أَوْ بُيُوتَهُمْ أَوْ بُطُونَهُمْ ‏"‏ ‏.‏ شَكَّ شُعْبَةُ فِي الْبُيُوتِ وَالْبُطُونِ ‏.‏
Ali reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: On the day (of the Battle) of Ahzab we were diverted from the middle prayer, till the sun set. May Allah fill their graves or their houses, or their stomachs with fire. The narrator is in doubt about" houses" and" stomachs
شعبہ نے کہے : ہمیں قتادہ سے سنا ، وہ ابو حسان سے حدیث بیان کررہےتھے ، انھوں نے عبیدہ سے اور انھوں حضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہا : رسول اللہ ﷺ نے جنگ احزاب کے دن فرمایا : ’’ان لوگوں نے ہمیں درمیانی نماز سے مشغول کیے رکھا حتی کہ سورج غروب ہو گیا ‘ اللہ تعالیٰ ان کی قبروں کو اور گھروں کو یا ( فرمایا : ) ان کے پیٹوں کو آگ سے بھر دے ۔ ’’گھروں یا پیٹوں کے بارےمیں شعبہ کو شک ہوا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ أَىُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ قَالَ ‏ "‏ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ ‏"‏ ‏.‏
A'isha is reported to have said that the Messenger of Allah (ﷺ) was asked about the act most pleasing to Allah. He replied:That which is done continuously, even if it is small
سعد بن ابرا ہیم سے روایت ہے کہ انھوں نے ابو سلمہ سے سنا ، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : اللہ تعا لیٰ کو کو ن سا عمل زیادہ پسند ہے؟ آپ نے فر ما یا : " جسے ہمیشہ کیا جا ئے اگر چہ کم ہو ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ غَيْلاَنَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ، رضى الله عنه أَنَّرَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنْ صَوْمِ الاِثْنَيْنِ فَقَالَ ‏ "‏ فِيهِ وُلِدْتُ وَفِيهِ أُنْزِلَ عَلَىَّ ‏"‏ ‏.‏
Abu Qatada Ansari (Allah be pleased with him) reported that Allah's Massenger (ﷺ) was asked about fasting on Monday, whereupon he said:It is (the day) when I was born and revelation was sent down to me
ہمیں مہدی بن میمون نے حدیث سنائی ، انھوں نے غیلان سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ ابو قتادہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوموار کے روزے کے بار ے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں اسی دن پیدا ہوا اور اسی دن مجھ پر ( قرآن ) نازل کیا گیا ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَرْمَلَةُ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ يَقْدَمُ مَكَّةَ إِذَا اسْتَلَمَ الرُّكْنَ الأَسْوَدَ أَوَّلَ مَا يَطُوفُ حِينَ يَقْدَمُ يَخُبُّ ثَلاَثَةَ أَطْوَافٍ مِنَ السَّبْعِ ‏.‏
Abdullah b. 'Umar (Allah be pleased with them) reported:I saw that when Allah's Messenger (ﷺ) came to Mecca and kissed the Black Stone, (in the first circumambulation) he moved quickly in three circuits out of seven circuits
سالم بن عبد اللہ نے خبر دی کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ جب مکہ آتے طواف فرماتے اس کے سات چکروں میں سے پہلے تین میں چھوٹے قدم اٹھا تے ہو ئے تیز چلتے
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيِّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، - وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ - حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَزَالُونَ يَسْأَلُونَكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ حَتَّى يَقُولُوا هَذَا اللَّهُ فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ ‏"‏ قَالَ فَبَيْنَا أَنَا فِي الْمَسْجِدِ إِذْ جَاءَنِي نَاسٌ مِنَ الأَعْرَابِ فَقَالُوا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَذَا اللَّهُ فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ قَالَ فَأَخَذَ حَصًى بِكَفِّهِ فَرَمَاهُمْ ثُمَّ قَالَ قُومُوا قُومُوا صَدَقَ خَلِيلِي ‏.‏
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: they (the people) till constantly ask you, Abu Huraira, (about different things pertaining to religion) the they would say: Well, there is Allah, but after all who created Allah? He (Abu Huraira) narrated: Once we were in the mosque that some of the Bedouins came there and said: Well, there is Allah, but who created Allah? He (the narrator) said: I took hold of the pebbles in my fist and flung at them and remarked: Stand up, stand up (go away) my friend (the Holy Prophet) told the truth
ابو سلمہ نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ ابو ہریرہ ! لوگ ہمیشہ تم سے سوال کرتے رہیں گے حتی کہ کہیں گے : یہ ( ہر چیز کا خالق ) اللہ ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا ؟ ‘ ‘ ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےکہا : پھر ( ایک دفعہ ) جب میں مسجد میں تھا تو میرے پاس کچھ بدو آئے اور کہنے لگے : اےابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ! یہ اللہ ہے ، پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ ( ابو سلمہ نے ) کہا : تب انہوں نے مٹھی میں کنکر پکڑے اور ان پر پھینکے اور کہا : اٹھو اٹھو ! ( یہاں سے جاؤ ) میرے خلیل ( نبی اکرم ﷺ ) نے بالکل سچ فرمایا تھا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَأَبُو مُصْعَبٍ الزُّهْرِيُّ وَمَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ قُلْتُ لِمَالِكٍ حَدَّثَكَ سُمَىٌّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ نَوْمَهُ وَطَعَامَهُ وَشَرَابَهُ فَإِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ نَهْمَتَهُ مِنْ وَجْهِهِ فَلْيُعَجِّلْ إِلَى أَهْلِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏
On the authority of Abu Huraira that the Prophet (ﷺ) said:Travelling is a tortuous experience. It deprives a person of his sleep. his food and drink. When one of you has accomplished his purpose, he should hasten his return to his family
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی نے کہا : میں نے امام مالک سے پوچھا : سمی نے آپ کو ابوصالح کے واسطے سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے ، وہ تم میں سے ایک ( مسافر ) کو سونے ، کھانے اور پینے سے روک دیتا ہے ، جب تم میں سے کوئی شخص وہ کام سر انجام دے چکے جو اس کے پیشِ نظر تھا تو وہ جلد اپنے گھر آئے " ؟ انہوں ( امام مالک ) نے کہا : ہاں ۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، وَعُمَرُ بْنُ سَعْدٍ، أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ كُلُّهُمْ عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏
A hadith like this has been narrated on the authority of A'mash
سفیان نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي مَجْلِسٍ عَظِيمٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ‏"‏ أُحَدِّثُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الأَنْصَارِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بَنُو عَبْدِ الأَشْهَلِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ ثُمَّ بَنُو النَّجَّارِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ ثُمَّ فِي كُلِّ دُورِ الأَنْصَارِ خَيْرٌ ‏"‏ ‏.‏ فَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ مُغْضَبًا فَقَالَ أَنَحْنُ آخِرُ الأَرْبَعِ حِينَ سَمَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَارَهُمْ فَأَرَادَ كَلاَمَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ رِجَالٌ مِنْ قَوْمِهِ اجْلِسْ أَلاَ تَرْضَى أَنْ سَمَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَارَكُمْ فِي الأَرْبَعِ الدُّورِ الَّتِي سَمَّى فَمَنْ تَرَكَ فَلَمْ يُسَمِّ أَكْثَرُ مِمَّنْ سَمَّى ‏.‏ فَانْتَهَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ عَنْ كَلاَمِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying in a large gathering of the Muslims:Should I not tell you of the best clans of the Ansar? They said: Allah's Messenger, (kindly) do this. Thereupon Allah's Messenger said: That is Banu Abd al-Ashhal. They said: Allah's Messenger, then next? He said: Banu Najjar. They again said: Allah's Messenger, then next? He said: Then of Banu Harith b. Khazraj. They then said: Allah's Messenger, then next? He said. Then of Banu Sa'ida. They said: Allah's Messenger, then next? He said: There is good in all the clans of the Ansar. It was upon this that Sa'd b. Ubida stood up in annoyance and said: Are we the last of the four as Allah's Messenger (ﷺ) has determined (the order of precedence) of their clans? He decided to talk with Allah's Messenger (ﷺ) on this issue, but the people Of his tribe said to him: Be seated, are you not happy with this that Allah's Messenger' (ﷺ) has mentioned your clan as one of the four (best) clans and those whom he left and did not mention (the order of their precedence) are more than those whom he mentioned? And Sa'd b. 'Ubada dropped the idea of talking to Allah's Messenger (ﷺ) (on this issue)
ابو سلمہ اور عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود نے کہا : کہ ان دونوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہو ئے سنا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب آپ مسلمانوں کی ایک بڑی مجلس میں تھے فرما یا : " میں تم کو انصار کا بہترین گھرا نہ بتاؤں؟ " صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا : جی ہاں اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فر ما یا : " بنو عبدالاشہل ۔ " صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر کون ہیں ؟فرما یا : " بنو نجا ر ۔ ۔ " صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر کو ن ہیں؟فر ما یا : " پھر بنو حارث بن خزرج ۔ " صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر کو ن ؟فر ما یا : " پھر بنو ساعدہ ۔ " صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر کون ہیں ؟فر ما یا : " پھر انصار کے تمام گھرا نوں میں خیر ہے ۔ " جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھرانےکا نا م لیا تو حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ غصے میں کھڑے ہو گئے اور کہا : کیا ہم چاروں میں سے آخری ہیں ؟انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرنی چا ہی تو ان کی قوم کے لوگوں نے کہا : بیٹھ جاؤ کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمھا رے گھرا نے کا نام ان چار گھرانوں میں لیا ہے جن کا آپ نے نام لیا ہے ۔ حالانکہ جن گھرانوں کو آپ نے چھوڑ دیا اور ان کا نام نہیں لیا ، ان کی تعداد ان سے زیادہ ہے جن کا نام لیا ۔ پھر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرنے سے رک گئے ۔