حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ، قَالَ سَمِعْتُ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَحَدَّثَنِي هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ .
This hadith has been narrated on the authority of 'A'isha by another chain of transmitters
ہمیں ابوداؤد ( طیالسی ) نے شعبہ سے حدیث سنائی کہ قتادہ نے کہا : میں نے مطرف بن عبد اللہ بن شخیر سے سنا ۔ ابوداؤد نے ( مزید ) کہا : اور ہشام نے مجھے حدیث سنائی انہوں نے قتادہ سے ، انہوں نے مطرف سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی اکرمﷺ سے یہ حدیث روایت کی ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الأَحْزَابِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَلأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا كَمَا حَبَسُونَا وَشَغَلُونَا عَنِ الصَّلاَةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ " .
Ali reported:When it was the day (of the Battle) of Ahzab, the Messenger of Allah (ﷺ) said: May Allah fill their graves and houses with fire, as they detained us and diverted us from the middle prayer, till the sun set
ابوسامہ نے ہمیں حدیث سنائی ، انھوں نے ہشام سے ، انھوں نے محمد سے انھوں نے عبیدہ سے اور انھوں نےحضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے غزوہ احزاب کےدن فرمایا : ’’اللہ تعالٰی ان ( مشرکین ) کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے ، جس طرح انھوں نے ہمیں درمیانی نماز ( عصر ) سے روکا اور ( جنگ میں ) مشغول کیے رکھا حتی کہ سورج غروب ہو گیا ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اتَّخَذَ حُجْرَةً فِي الْمَسْجِدِ مِنْ حَصِيرٍ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهَا لَيَالِيَ حَتَّى اجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ . فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَزَادَ فِيهِ " وَلَوْ كُتِبَ عَلَيْكُمْ مَا قُمْتُمْ بِهِ " .
Zaid b. Thabit reported that the Messenger of Allah (ﷺ) made an apartment in the mosque of mats, and he observed in it prayers for many nights till people began to gather around him, and the rest of the hadith is the same but with this addition:" Had this (Nafl) prayer become obligatory for you, you would not be able to observe it
موسیٰ بن عقبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : میں نے ابو نضرسے سنا انھوں نے بسر بن سعید سے اور انھوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں چٹائی سے ایک حجرہ بنوایا اور آپ نے اس میں چند راتیں نماز پڑھی حتیٰ کہ آپ کے پاس لو گ جمع ہو گئے ۔ ۔ ۔ پھر مذکورہ بالا روایت بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : ) " اگر تم پر نماز فرض کر دی گئی تو تم ( سب ) اس کی پابندی نہیں کر سکو گے ۔ " ( یہ حجرہ اعتکاف کے لیے تھا ۔)
وَحَدَّثَنَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ.
This hadith has been narrated by Shu'ba with the same chain of transmitters
معاذ بن معاذ ، شبابہ اورنضر بن شمیل سب نے شعبہ سے اس سند کے ساتھ ( سابق حدیث کے مانند ) روایت کی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ الطَّوَافَ الأَوَّلَ خَبَّ ثَلاَثًا وَمَشَى أَرْبَعًا وَكَانَ يَسْعَى بِبَطْنِ الْمَسِيلِ إِذَا طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ .
Nafi' reported on the authority of Ibn Umar (Allah be pleased with them) that when Allah's Messenger (ﷺ) circumambulated the House, while observing the first circumambulation, he walked swiftly in three (circuits), and walked in four circuits, and ran in the bottom of the valley as he moved between al-Safa and al-Marwa. Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) also used to do like this
عبید اللہ نے نافع سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ کا پہلا طواف کرتے تو تین چکر چھوٹے چھوٹے قدموں سے کندھے ہلا ہلا کر تیز چلتے ہو ئے لگاتے اورچا ر چکر چل کر لگا تے اور جب صفا مروہ کے چکر لگا تے تو وادی کی ترا ئی میں دوڑتے ۔ اور ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے ۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَزَالُ النَّاسُ يَسْأَلُونَكُمْ عَنِ الْعِلْمِ حَتَّى يَقُولُوا هَذَا اللَّهُ خَلَقَنَا فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ " . قَالَ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِ رَجُلٍ فَقَالَ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَدْ سَأَلَنِي اثْنَانِ وَهَذَا الثَّالِثُ . أَوْ قَالَ سَأَلَنِي وَاحِدٌ وَهَذَا الثَّانِي .
It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) observed:People will constantly ask you questions pertaining to knowledge till they would say: Allah created us, but who created Allah? he (the narrator) says: he (Abu Huraira) was (at the time of narrating this hadith) catching hold of the hand of a man and he said: Allah and the Messenger told the truth. Two persons have already put me this question, and this is the third one, or he said: One man has put me this question and he is the second one
عبد الوارث بن عبد ا لصمد کے دادا عبد الوارث بن سعید نے ایوب سے ، انہوں نے محمد بن سیرین سے ، انہوں نےحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نبی ﷺ سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : ’’لوگ تم سے ہمیشہ علم کے بارے میں سوال کریں گے یہاں تک کہ یہ کہیں گے : اللہ نے ہمیں پیدا کیا ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا ؟ ‘ ‘ ابن سیرین نے کہا : اس وقت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ایک آدمی کا ہاتھ پکڑ ے ہوئے تھے تو کہنے لگے : اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے سچ فرمایا ۔ مجھ سے دو ( آدمیوں ) نے ( یہی ) سوال کیا تھا اور یہ تیسرا ہے ( یا کہا : ) مجھ سے ایک ( آدمی ) نے ( پہلے یہ ) سوال کیا تھا او ریہ دوسرا ہے ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْخِصْبِ فَأَعْطُوا الإِبِلَ حَظَّهَا مِنَ الأَرْضِ وَإِذَا سَافَرْتُمْ فِي السَّنَةِ فَأَسْرِعُوا عَلَيْهَا السَّيْرَ وَإِذَا عَرَّسْتُمْ بِاللَّيْلِ فَاجْتَنِبُوا الطَّرِيقَ فَإِنَّهَا مَأْوَى الْهَوَامِّ بِاللَّيْلِ " .
It has been narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) said:When you journey through a fertile land, you should (go slow and) give the camels a chance to graze in the land. When you travel In an arid (land) where there is scarcity of vegetation, you should quicken their pace (lest your camels grow feeble and emaciated for lack of fodder). When you halt for the night, avoid (pitching your tent on) the road, for it is the abode of noxious little animals at night
جریر نے سہیل سے ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم شادابی ( کے زمانے ) میں سفر کرو تو زمین میں سے اونٹوں کو ان کا حصہ دو اور جب تم خشک سالی ( یا قحط زدہ زمین ) میں سفر کرو تو اس زمین پر سے جلدی گزرو اور جب تم رات کے آخری حصے میں منزل کرو تو گزر گاہ سے ہٹ جاؤ کیونکہ رات کو وہ ( راستے کی ) جگہ حشرات الارض کا ٹھکانا ہوتی ہے ، " ( وہاں اپنی خوراک کے حصول کے لیے آتے ہیں ۔)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ مَا عَابَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَعَامًا قَطُّ كَانَ إِذَا اشْتَهَى شَيْئًا أَكَلَهُ وَإِنْ كَرِهَهُ تَرَكَهُ .
Abu Huraira reported that Allah's Messenger (ﷺ) never found fault with food (served to him). If he liked anything, he ate it and if he did not like it he left it
جریر نے اعمش سےانھوں نے ابو حازم سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکا لا اگرکو ئی چیز آپ کو پسند آتی تو آپ اس کو کھا لیتے اور اگر ناپسند ہو تی تو اسے چھوڑ دیتے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، قَالَ شَهِدَ أَبُو سَلَمَةَ لَسَمِعَ أَبَا أُسَيْدٍ الأَنْصَارِيَّ يَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " خَيْرُ دُورِ الأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الأَشْهَلِ ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ وَفِي كُلِّ دُورِ الأَنْصَارِ خَيْرٌ " . قَالَ أَبُو سَلَمَةَ قَالَ أَبُو أُسَيْدٍ أُتَّهَمُ أَنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَوْ كُنْتُ كَاذِبًا لَبَدَأْتُ بِقَوْمِي بَنِي سَاعِدَةَ . وَبَلَغَ ذَلِكَ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فَوَجَدَ فِي نَفْسِهِ وَقَالَ خُلِّفْنَا فَكُنَّا آخِرَ الأَرْبَعِ أَسْرِجُوا لِي حِمَارِي آتِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . وَكَلَّمَهُ ابْنُ أَخِيهِ سَهْلٌ فَقَالَ أَتَذْهَبُ لِتَرُدَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْلَمُ أَوَلَيْسَ حَسْبُكَ أَنْ تَكُونَ رَابِعَ أَرْبَعٍ . فَرَجَعَ وَقَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ وَأَمَرَ بِحِمَارِهِ فَحُلَّ عَنْهُ .
Abu Usaid Ansar reported:I bear witness to the fact that Allah's Messenger (ﷺ) said: The best settlements of the Ansar are of those of Banu Najjar, then of Banu 'Abu al-Aslihal and then of Banu Harith b. Khazraj, then of Banu Sa'ida and there is in every settlement of the Ansar good. Abu Salama reported that Abu Usaid said: Can I tell a Iie about Allah's Messenger (ﷺ)? And if I were a liar, I would have started with my tribe Banu Sa'ida. This was conveyed to Sa'd b. 'Ubida and he found (rankling) in his mind and said: We have been left behind (in the sense) that we have been (mentioned) last of the four. He (Sa'd) sid: Saddle my pony so that I should go to Allah's Messenger (ﷺ). His nephew saw him and said: Are you going to contradict (the order of) precedence set by Allah's Messenger (ﷺ), whereas Allah's Messenger (ﷺ) has the best knowledge of it? Is it not sufficient for you that you are the fourth amongst the four (best tribes of the Ansar)? So he returned and said: Allah and His Messenger know best, and he commanded that his pony should be unsaddled
ابو زناد نے کہا : ابو سلمہ نے گواہی دی کہ انھوں نے حضرت ابواسید انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ گو اہی دیتے ہو ئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " انصار کے گھرانوں میں سے بہترین بنو نجارہیں پھر بنوعبد الا شہل پھر بنوحارث بن خزرج پھر بنو ساعدہ کا گھرا نوں میں خیر ہے ۔ ابو سلمہ نے کہا : حضرت ابو اسید نے کہا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مجھ پر تہمت لگا ئی جا رہی ہے؟ اگر میں جھوٹا ہو تا تو اپنی قوم بنوساعدہ کا نام پہلے لیتا ۔ ( انھوں نے کہا : ) سیہ بات حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچی تو ان کو رنج ہوا اور انھوں نے کہا : ہم کو پیچھے کر دیا گیا ہم چاروں خاندانوں کے آخر میں آگئے ، میرے گدھے پر زین کسور ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤں گا تو ان کے بھتیجے سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے بات کی ، کہا آپ اس لیے جا رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو رد کردیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جا نتے ہیں ۔ کیا آپ کے لیے یہ کافی نہیں کہ آپ چار میں سے چوتھے ہوں ( خیرو برکت میں شامل ہوں؟ ) تو وہ باز آئے اور کہا : اللہ اور اس کا رسول زیادہ جا ننے والے ہیں ۔ اور گدھے ( کی زین کھول دینے ) کے بارے میں حکم دیا تو وہ کھول دی گئی ۔