حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، نَبَّأَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ " سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلاَئِكَةِ وَالرُّوحِ " .
A'isha reported that the Messenger of Allah (may peace he upon him) used to pronounce while bowing and prostrating himself:All Glorious, All Holy, Lord of the Angels and the Spirit
سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے اور انہوں نے مطرف بن عبد اللہ بن شخیر سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہﷺ اپنے رکوع اور سجدے میں ( یہ کلمات ) کہتے تھے : ’’نہایت پاک ہے ، مقدس ہے فرشتوں اور روح ( جبریل علیہ السلام ) کا پروردگار ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ فَاتَتْهُ الْعَصْرُ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ " .
Abdullah relates on the authority of his father. He who missed his afternoon prayer it is as though he was deprived of his family and property
عمرو بن حارث نے ابن شہاب سے ، انھوں نے سالم بن عبداللہ سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جس شخص کی عصر کی نماز رہ گئی تو گویا اس کے ہل وعیال اور اسکا مال بتاہ و برباد ہو گئے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ احْتَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حُجَيْرَةً بِخَصَفَةٍ أَوْ حَصِيرٍ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فِيهَا - قَالَ - فَتَتَبَّعَ إِلَيْهِ رِجَالٌ وَجَاءُوا يُصَلُّونَ بِصَلاَتِهِ - قَالَ - ثُمَّ جَاءُوا لَيْلَةً فَحَضَرُوا وَأَبْطَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْهُمْ - قَالَ - فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ فَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ وَحَصَبُوا الْبَابَ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُغْضَبًا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا زَالَ بِكُمْ صَنِيعُكُمْ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُكْتَبُ عَلَيْكُمْ فَعَلَيْكُمْ بِالصَّلاَةِ فِي بُيُوتِكُمْ فَإِنَّ خَيْرَ صَلاَةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلاَّ الصَّلاَةَ الْمَكْتُوبَةَ " .
Zaid b. Thabit reported:The Messenger of Allah (ﷺ) made an apartment with the help of the leaves of date trees or of mats. The Messenger of Allah (ﷺ) went out to pray in it. People followed him and came to pray with him. Then they again came one night and waited (for him), but the Messenger of Allah (ﷺ) delayed in coming out to them. And when he did not come out, they cried aloud and threw pebbles at the door. The Messenger of Allah (ﷺ) came out in anger and said to them: By what you have been constantly doing, I was inclined to think that it (prayer) might not become obligatory for you. So you must observe prayer (optional) in your houses, for the prayer observed by a man in the house is better except an obligatory prayer
عبد اللہ سعید نے کہا : عمر بن عبید اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام سالم ابو نضرنے ہمیں بسربن سعید سے حدیث بیان کی اور انھوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چٹائی کا ایک چھوٹا سا حجرہ بنوایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( گھر سے ) باہر آکر اس میں نماز پڑھنے لگے لو گ اس ( حجرے ) تک آپ کے پیچھے پیچھے آئے اور آکر آپ کی اقتدامیں نماز پڑھنے لگے ، پھر ایک اور رات لو گ آئے اور ( حجرےکے ) پاس آگئے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس آنے میں تا خیر کر دی ۔ کہا : آپ ان کے پاس تشریف نہ لا ئےصحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے اپنی آوازیں بلند کیں ( تاکہ آپ آوازیں سن کر تشریف لے آئیں ) اور دروازے پر چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماریں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں ان کی طرف تشریف لا ئے اور ان سے فر ما یا : تم مسلسل یہ عمل کرتے رہے حتیٰ کہ مجھے خیال ہوا کہ یہ نماز تم پر لازم قراردے دی جا ئے گی ، اس لیے تم اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو کیونکہ انسان کی فرض نماز کے سوا وہی بہتر ہےجو گھر میں پڑھے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ غَيْلاَنَ بْنِ جَرِيرٍ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيَّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ، رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنْ صَوْمِهِ قَالَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ عُمَرُ رضى الله عنه رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولاً وَبِبَيْعَتِنَا بَيْعَةً . قَالَ فَسُئِلَ عَنْ صِيَامِ الدَّهْرِ فَقَالَ " لاَ صَامَ وَلاَ أَفْطَرَ " . أَوْ " مَا صَامَ وَمَا أَفْطَرَ " . قَالَ فَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمَيْنِ وَإِفْطَارِ يَوْمٍ قَالَ " وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ " . قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمٍ وَإِفْطَارِ يَوْمَيْنِ قَالَ " لَيْتَ أَنَّ اللَّهَ قَوَّانَا لِذَلِكَ " . قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمٍ وَإِفْطَارِ يَوْمٍ قَالَ " ذَاكَ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ " . قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الاِثْنَيْنِ قَالَ " ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ وَيَوْمٌ بُعِثْتُ أَوْ أُنْزِلَ عَلَىَّ فِيهِ " . قَالَ فَقَالَ " صَوْمُ ثَلاَثَةٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَرَمَضَانَ إِلَى رَمَضَانَ صَوْمُ الدَّهْرِ " . قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ فَقَالَ " يُكَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ وَالْبَاقِيَةَ " . قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ فَقَالَ " يُكَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ " . وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ مِنْ رِوَايَةِ شُعْبَةَ قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الاِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ فَسَكَتْنَا عَنْ ذِكْرِ الْخَمِيسِ لَمَّا نَرَاهُ وَهْمًا .
Abu Qatada al-Ansari (Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) was asked about his fasting. The Messenger of Allah (ﷺ) felt annoyed. Thereupon 'Umar (Allah be pleased with him) said:We are pleased with Allah as the Lord, with Islam as our Code of Life, with Muhammad as the Messenger and with our pledge (to you for willing and cheerful submission) as a (sacred) commitment. He was then asked about perpetual fasting, whereupon he said: He neither fasted nor did he break it, or he did not fast and he did not break it. He was then asked about fasting for two days and breaking one day. He (the Holy Prophet) said: And who has strength enough to do it? He was asked about fasting for a day and breaking for two days, whereupon he said: May Allah bestow upon us strength to do it. He was then asked about fasting for a day and breaking on the other, whereupon he said: That is the fasting of my brother David (peace be upon him). He was then asked about fasting on Monday, whereupon he said: It was the day on which I was born. on which I was commissioned with prophethood or revelation was sent to me, (and he further) said: Three days' fasting every month and of the whole of Ramadan every year is a perpetual fast. He was asked about fasting on the day of 'Arafa (9th of Dhu'I-Hijja), whereupon he said: It expiates the sins of the preceding year and the coming year. He was asked about fasting on the day of 'Ashura (10th of Muharram), whereupon be said: It expiates the sins of the preceding year. (Imam Muslim said that in this hadith there is a) narration of Imam Shu'ba that he was asked about fasting on Monday and Thursday, but we (Imam Muslim) did not mention Thursday for we found it as an error (in reporting)
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے غیلان بن جریر سے حدیث سنائی ، انھوں نے عبداللہ بن معبد زمانی سے سنا ، انھوں نے حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے روزوں کے بارے میں سوال کیاگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نارض ہوگئے ، اس پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : ہم اللہ کے رب ہونے ، اسلام کے دین ہونے ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے ، اور بیعت کے طور پر اپنی بیعت پر راضی ہیں ۔ ( جو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ۔ ) کہا : اس کے بعد آپ سے بغیر وقفے کے ہمیشہ روزہ رکھنے ( صیام الدھر ) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اس شخص نے روزہ رکھا نہ افطار کیا ۔ "" اس کے بعد آپ سے دو دن روزہ رکھنے اور ایک دن ترک کرنے کے بارے میں پوچھاگیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اس کی طاقت کون رکھتاہے؟ "" کہا : اور آپ سے ایک دن روزہ رکھنے اور دو دن ترک کرنے کے بارے میں پوچھاگیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کاش کے اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کام کی طاقت دی ہوتی ۔ "" کہا : اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن روزہ ترک کرنے کے بارے میں سوال کیاگیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" یہ میرے بھائی داود علیہ السلام کا روزہ ہے ۔ "" کہا : اور آپ سے سوموار کا روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیاگیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" یہ دن ہے جب میں پیدا ہوا اور جس دن مجھے ( رسول بنا کر ) بھیجا گیا ۔ یا مجھ پر ( قرآن ) نازل کیا گیا ۔ "" کہا : اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ہر ماہ کے تین روزے اور اگلے رمضان تک رمضان کے روزے ہی ہمیشہ کے روزے ہیں ۔ "" کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم عرفہ کے روزے کے بارے میں پوچھا گیاٍ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" یہ گزشتہ اور آئندہ سال کے گناہوں کاکفارہ بن جاتا ہے ۔ "" کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عاشورہ کے دن کے روزے کے بارے میں پوچھا گیاٍ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" وہ گزشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتاہے ۔ "" امام مسلمؒ نے کہا : اس حدیث میں شعبہ کی روایت ( یوں ) ہے : انھوں ( ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : اور آپ سے سوموار اور جمعرات کے روزے کے بارے میں سوال کیاگیا ۔ لیکن ہم نے جمعرات کے ذکر سے سکوت کیا ہے ، کیونکہ ہمارے خیال میں یہ ( راوی کا ) وہم ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، حَدَّثَنِي أَنَسٌ، - يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ - عَنْ مُوسَى، بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَقْبَلَ فُرْضَتَىِ الْجَبَلِ الَّذِي بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجَبَلِ الطَّوِيلِ نَحْوَ الْكَعْبَةِ يَجْعَلُ الْمَسْجِدَ الَّذِي بُنِيَ ثَمَّ يَسَارَ الْمَسْجِدِ الَّذِي بِطَرَفِ الأَكَمَةِ وَمُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَسْفَلَ مِنْهُ عَلَى الأَكَمَةِ السَّوْدَاءِ يَدَعُ مِنَ الأَكَمَةِ عَشْرَ أَذْرُعٍ أَوْ نَحْوَهَا ثُمَّ يُصَلِّي مُسْتَقْبِلَ الْفُرْضَتَيْنِ مِنَ الْجَبَلِ الطَّوِيلِ الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْكَعْبَةِ صلى الله عليه وسلم .
Nafi' reported that Abdullah (b. 'Umar) informed him that Allah's Messenger (ﷺ) turned his face to the two hillocks which intervened between him and the long mountain by the side of the Ka'ba, and the mosque which had been built there was thus on the left of the hillock. Allah's Messenger's (ﷺ) place of prayer was lower than the black hillock, at a distance of ten cubits or near it. He (ﷺ) would then observe prayer facing these two hillocks of the long mountain that is intervening between you and the Ka'ba
موسیٰ بن عقبہ سے روایت ہے انھوں نے نافع سے روایت کی کہ عبد اللہ ( بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے انھیں بتا یا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے رخ پر اس پہاڑ کی دونوں گھاٹیوں کو سامنے رکھا جو آپ کے اور لمبے پہاڑ کے در میان تھا آپ اس مسجد کو جو وہاں بنا دی گئی ہے ٹیلے کے کنا رے والی مسجد کے بائیں ہاتھ رکھتے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھنے کی جگہ اس مسجد سے نیچے کا لے ٹیلے پر تھی ٹیلے سے تقریباً دس ہا تھ ( جگہ ) چھوڑتے پھر آپ لمبے پہاڑ کی دونوں گھاٹیوں کی جا نب رخ کر کے نماز پڑھتے وہ پہاڑ جو تمھا رے اور کعبہ کے درمیان پڑتا ہے ۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَأْتِي الْعَبْدَ الشَّيْطَانُ فَيَقُولُ مَنْ خَلَقَ كَذَا وَكَذَا " مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ .
This hadith is transmitted by Urwa b. Zubair on the authority of Abu Huraira (and the words are):The Satan comes to the bondsman (of Allah) and says: Who created this and that? The remaining part of the hadith is the same
عقیل بن خالد نے کہاکہ ابن شہاب نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ بندے کے پاس شیطان آتا ہے او رکہتا ہے : فلاں فلاں چیز کو کس نے پیدا کیا ؟ حتی کہ اس سے کہتا ہے : تیرے رب کو کس نے پیدا کیا ؟ سوجب بات یہاں تک پہنچے تو اللہ کی پناہ مانگے اور رک جائے ۔ ‘ ‘ ( یہ حدیث ) ابن شہاب کے بھتیجے کی بیان کردہ حدیث کے مانند ہے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَزَالُ أَهْلُ الْغَرْبِ ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ " .
It has been narrated by Sa'd b. Abu Waqqas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:The people of the West will continue to triumphantly follow the truth until the Hour is established
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اﷲؐ نے فرمایا ہمیشہ مغرب والے ( عینی عرب یا شام والے ) حق پر غالب رہیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہوگی۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ، أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضَافَهُ ضَيْفٌ وَهُوَ كَافِرٌ فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشَاةٍ فَحُلِبَتْ فَشَرِبَ حِلاَبَهَا ثُمَّ أُخْرَى فَشَرِبَهُ ثُمَّ أُخْرَى فَشَرِبَهُ حَتَّى شَرِبَ حِلاَبَ سَبْعِ شِيَاهٍ ثُمَّ إِنَّهُ أَصْبَحَ فَأَسْلَمَ فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشَاةٍ فَشَرِبَ حِلاَبَهَا ثُمَّ أَمَرَ بِأُخْرَى فَلَمْ يَسْتَتِمَّهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْمُؤْمِنُ يَشْرَبُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَالْكَافِرُ يَشْرَبُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ " .
Abu Huraira reported that Allah's Messenger (ﷺ) invited a non-Muslim. Allah's Messenger (ﷺ) commanded that a goat be milked for him. It was milked and he drank its milk. Then the second one was milked and he drank its milk, and then the other one was milked and he drank its milk. till he drank the milk of seven goats. On the next morning he embraced Islam. And Allah's Messenger (ﷺ) commanded that a goat should be milked for him and he drank its milk and then another was milked but he did not finish it, whereupon Allah's Messenger (ﷺ) said:A believer drinks In one intestine whereas a non-believer drinks in seven intestines
سہیل بن ابو صالح نے اپنے والد سے انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مہمان آیا وہ شخص کا فر تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے ایک بکری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا اس نے دودھ پی لیا پھر دوسری بکری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا اس نے اس کو بھی پی لیا ، پھر ایک اور ( بکری کا دودھ دوہنے ) کا حکم دیا اس نے اس کا بھی پی لیا ، حتی کہ اس نے اسی طرح سات بکریوں کا دودھ پی لیا پھر اس نے صبح کی توسلام لے آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے ایک بکری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا اس نے وہ دودھ پی لیا پھر دوسری بکری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا ، وہ اس کا سارا دودھ نہ پی سکا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " مسلمان ایک آنت میں پیتا ہے جبکہ کافر سات آنتوں میں پیتا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ عَبَّادٍ - حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُسَيْدٍ، خَطِيبًا عِنْدَ ابْنِ عُتْبَةَ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خَيْرُ دُورِ الأَنْصَارِ دَارُ بَنِي النَّجَّارِ وَدَارُ بَنِي عَبْدِ الأَشْهَلِ وَدَارُ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ وَدَارُ بَنِي سَاعِدَةَ " . وَاللَّهِ لَوْ كُنْتُ مُؤْثِرًا بِهَا أَحَدًا لآثَرْتُ بِهَا عَشِيرَتِي .
Ibrahim b. Muhammad b. Talha reported:I heard Abu Sa'ld delivering an address in the presence of Abu 'Utba that the Messenger of Allah (ﷺ) said: The worthiest settlements of the Ansar are those of Banu Najjar, then of Banu 'Abu al-Ashhal and then of Banu Harith and then of Banu Khazraj and then of the clan of Banu Sa'idah, and if I were to give preference to anyone besides them I would have given preference to my relatives
ابرا ہیم بن محمد بن طلحہ سے روایت ہے کہا : میں نے حضرت ابواُسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ( ولید ) ابن عتبہ ( بن ابی سفیان ) کے ہاں خطبہ دیتے ہو ئے سنا ۔ انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " انصار کے گھرانوں میں سے بہترین گھرانہ بنو نجار کا گھرا نہ ہے اور بنوعبد الا شہل کا گھرا نہ ہے اور بنوحارث بن خزرج کا گھرا نہ ہے اوربنوساعدہ کا گھرا نہ ہے ۔ " اللہ کی قسم! اگرمیں ( ابو اسید ) ان میں سے کسی کو خود ترجیح دیتا تو اپنے خاندان ( بنوساعدہ ) کو ترجیح دیتا ۔ ( لیکن میں انے اسی ترتیب سے بیان کیا جس ترتیب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا تھا ۔)