بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
1
45 hadith
وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي قَالاَ، جَمِيعًا حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ نَحْوَ حَدِيثِ شُعْبَةَ ‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ أَنْهَاكُمْ عَمَّا يُنْبَذُ فِي الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ ‏"‏ ‏.‏ وَزَادَ ابْنُ مُعَاذٍ فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلأَشَجِّ أَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ ‏"‏ إِنَّ فِيكَ خَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ الْحِلْمُ وَالأَنَاةُ ‏"‏ ‏.‏
There is another hadith narrated on the authority of Ibn Abbas (the contents of which are similar to the one) narrated by Shu'ba in which the Prophet (ﷺ) said:I forbid you to prepare nabidh in a gourd, hollowed block of wood, a varnished jar or receptacle. Ibn Mu'adh made this addition on the authority of his father that the Messenger of Allah said to Ashajj, of the tribe of 'Abdul-Qais: You possess two qualities which are liked by Allah: insight and deliberateness
قرہ بن خالد نے ابوجمرہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے شعبہ کی ( سابقہ روایت کی ) طرح حدیث بیان کی ( اس کے الفاظ ہیں : ) رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میں تمہیں اس نبیذ سے منع کرتا ہوں جو خشک کدو کے برتن ، لکڑی سے تراشیدہ برتن ، سبز مٹکے اور تارکول ملے برتن میں تیار کی جائے ( اس میں زیادہ خمیر اٹھنے کا خدشہ ہے جس سے نبیذ شراب میں بدل جاتی ہے ۔ ) ‘ ‘ ابن معاذ نے اپنے والد کی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عبد القیس کے پیشانی پر زخم والے شخص ( اشج ) سے کہا : ’’تم میں دو خوبیاں ہیں جنہیں اللہ پسند فرماتا ہے : عقل اور تحمل ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، وَمَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: Let Allah destroy the Jews for they have taken the graves of their apostles as places of worship
سعید بن مسیب نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ یہود کو ہلاک کرے! انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، سَمِعَ حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِمِنًى صَلاَةَ الْمُسَافِرِ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ ثَمَانِيَ سِنِينَ أَوْ قَالَ سِتَّ سِنِينَ ‏.‏ قَالَ حَفْصٌ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَأْتِي فِرَاشَهُ ‏.‏ فَقُلْتُ أَىْ عَمِّ لَوْ صَلَّيْتَ بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ ‏.‏ قَالَ لَوْ فَعَلْتُ لأَتْمَمْتُ الصَّلاَةَ ‏.‏
Ibn 'Umar reported:The Apostle of Allah (ﷺ) said in Mina the prayer of a traveller (short prayer) ; Abu Bakr and 'Umar did the same and 'Uthmia did it for eight years or six years. Hafs (one of the narrators) said: Ibn 'Umar would also say two rak'ahs at Mina and then go to bed. I said to him: O uncle, I wish you could have said two rak'ahs (of Sunnah prayer after shorenting the Fard prayer). He said: Were I to do that, I would have completed the prayer
عبیداللہ بن معاذ نے حدیث بیان کی ، کہا : میرے والد نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : ہمیں شعبہ نے خبیب بن عبدالرحمان سے حدیث سنائی ، انھوں نے حفص بن عاصم سے سنا ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابو بکر ، عمر ، اور عثمان ، رضوان اللہ عنھم اجمعین نے ( پہلے ) آٹھ سال یا کہا : چھ سال ۔ ۔ ۔ منیٰ میں مسافر والی نماز پڑھی ۔ حفص نے کہا : ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ منیٰ میں دو رکعت نماز پڑھتے تھے ۔ پھر اپنے بستر پر آجاتے تھے ۔ میں نے کہا : چچا جان! اگر آپ فرض نماز کے بعددوسنتیں بھی پڑھ لیا کریں! تو انھوں نے کہا : اگر میں ایسا کروں تو ( گویا ) پوری نماز پڑھوں ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ، بُكَيْرٍ ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا مَخْرَمَةُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَسَمِعْتَ أَبَاكَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَأْنِ سَاعَةِ الْجُمُعَةِ قَالَ: قُلْتُ نَعَمْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «هِيَ مَا بَيْنَ أَنْ يَجْلِسَ الإِمَامُ إِلَى أَنْ تُقْضَى الصَّلاَةُ»
Abu Burda b. Abu Musa al-Ash'ari reported:'Abdullah b. Umar said to me: Did you hear anything from your father narrating something from the messenger of Allah (ﷺ) about the time on Friday? I said: Yes, I heard him say from the Messenger of Allah (ﷺ) (these words):" It is between the time when the Imam sits down and the end of the prayer
ابو بردہ بن ابی مو سیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت ہے کہا : مجھ سے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : کیا تم نے اپنے والد کو جمعے کی گھڑی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے ہو ئے سنا ہے ؟کہ کہا : میں نے کہا : جی ہاں میں نے انھیں یہ کہتے سنا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فر ما رہے تھے : " یہ امام کے بیٹھنے سے لے کر نماز مکمل ہو نے تک ہے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو أُسَامَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، وَوَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، وَمَرْوَانُ، كُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَاعِيلَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ وَوَكِيعٍ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ فَقَالَ النَّاسُ انْكَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Isma'il with the same chain of transmitters and in the hadith narrated by Sufyan and Waki' (the words are):" The sun eclipsed on the day when Ibrahim died, and the people said: It has eclipsed on the death of Ibrahim
وکیع ، ابواسامہ ، ابن نمیر ، جریر ، سفیان ، اورمروان سب نے اسماعیل سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، سفیان اوروکیع ، کی روایت میں ہے کہ ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کے دن سورج کو گرہن لگا تو لوگوں نے کہا : سورج کو ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کی بناء پر گرہن لگا ہے ۔
وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ أَبُو يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ، عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ لَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ أَقْبَلَ صُهَيْبٌ مِنْ مَنْزِلِهِ حَتَّى دَخَلَ عَلَى عُمَرَ فَقَامَ بِحِيَالِهِ يَبْكِي فَقَالَ عُمَرُ عَلاَمَ تَبْكِي أَعَلَىَّ تَبْكِي قَالَ إِي وَاللَّهِ لَعَلَيْكَ أَبْكِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ‏.‏ قَالَ وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ يُبْكَى عَلَيْهِ يُعَذَّبُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِمُوسَى بْنِ طَلْحَةَ فَقَالَ كَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ إِنَّمَا كَانَ أُولَئِكَ الْيَهُودَ ‏.‏
Abu Musa reported that when 'Umar was wounded, there came Suhaib from his house and went to 'Umar and stood by his side, and began to wail. Upon this 'Umar said:What are you weeping for? Are you weeping for me? He said: By Allah, it is for you that I weep, O Commander of the believers. He said: By Allah, you already know that the Messenger of Allah (ﷺ) had said: He who is lamented upon is punished. I made a mention of it to Musa b. Talha, and he said that 'A'isha told that it concerned the Jews (only)
عبد الملک بن عمیر نے ابو بردہ بن ابی موسیٰ سے اور انھوں نے ( اپنے والد ) حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی ، انھوں نے کہا : جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ زخمی ہو ئے تو صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے گھر سے آئے یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پا س اندر داخل ہو ئے اور ان کے سامنے کھڑے ہو کر رونے لگے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا : کیوں رو رہے ہو؟ کیا مجھ پر رو رہے ہو ؟ کہا : اللہ کی قسم !ہاں ، امیر المومنین!آپ ہی پر رو رہا ہوں ۔ تو انھوں نے کہا : اللہ کی قسم !تمھیں خوب علم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا تھا جس پر آہ و بکا کی جا ئے اسے عذاب دیا جا تا ہے ۔ ( عبد الملک بن عمیر نے ) کہا : میں نے یہ حدیث موسیٰ بن طلحہ کے سامنے بیان کی تو انھوں نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہا کرتی تھیں ( یہ ) یہودیوں کا معاملہ تھا ۔ ( دیکھیے حدیث نمبر2153 ) ۔
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ عِيَاضِ، بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ، لَمَّا جَعَلَ نِصْفَ الصَّاعِ مِنَ الْحِنْطَةِ عِدْلَ صَاعٍ مِنْ تَمْرٍ أَنْكَرَ ذَلِكَ أَبُو سَعِيدٍ وَقَالَ لاَ أُخْرِجُ فِيهَا إِلاَّ الَّذِي كُنْتُ أُخْرِجُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ ‏.‏
Abu Sa'id al-Khudri reported that when Mu'awiya prescribed half a sa' of wheat equal to one sa' of dates, he (Abu Sa'id al-Khudri) objected to it, and said:I would take out (Sadaqat-ul-Fitr) but that which I used to bring forth during the lifetime of the Messenger of Allah (ﷺ) one sa' of dates, or one sa' of raisins, or one sa' of barley, or one sa' of cheese
ابن عجلا ن نے عیا ض بن عبد اللہ بن ابی سرح سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ جب حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے گندم کے آدھے صاع کو کھجوروں کے صاع کے برابر قرار دیا تو ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس بات ( کو ماننے ) سے انکا ر کیا اور کہا : میں فطرا نے میں اس کے سوا اور کچھ نہ نکا لو ں گا جو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں نکا لا کرتا تھا ( اور وہ ہے ) کھجوروں کا ایک صاع یا منقے کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع یا پنیر کا ایک صاع ۔
وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ الْحَرِيرِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، - يَعْنِي ابْنَ سَلاَّمٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ، مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، كُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Yahya b. Abi Kathir with the same chain of transmitters
۔ معاویہ ، ابن سلام ، ابن مثنی ، ابو عامر ، ہشام ، ابن مثنی ، ابن ابی عمر ، عبدالوہاب بن عبدالمجید ، ایوب ، ذہیر بن حرب ، حسین بن محمد ، شیبان ، حضرت یحییٰ بن ابی کثیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس سند کے ساتھ اسی حدیث کی طرح روایت کیا گیا ہے ۔
وَحَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، - يَعْنِي ابْنَ عَمَّارٍ - حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - قَالَ كَانَ الْمُشْرِكُونَ يَقُولُونَ لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ - قَالَ - فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ وَيْلَكُمْ قَدْ قَدْ ‏"‏ ‏.‏ فَيَقُولُونَ إِلاَّ شَرِيكًا هُوَ لَكَ تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ ‏.‏ يَقُولُونَ هَذَا وَهُمْ يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ ‏.‏
Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) reported that the polytheists also pronounced (Talbiya) as:Here I am at Thy service, there is no associate with Thee. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Woe be upon them, as they also said: But one associate with Thee, you possess mastery over him, but he does not possess mastery (over you). They used to say this and circumambulate the Ka'ba
حضرت عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا مشر کین کہا کرتے تھے ہم حاضر ہیں ۔ تیرا کو ئی شریک نہیں ۔ کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے : " تمھا ری بر بادی ! بس کرو بس کرو ( یہیں پر رک جا ؤ ) مگر وہ آگے کہتے : مگر ایک ہے شریک جو تمھا را ہے تم اس کے مالک ہو ، وہ مالک نہیں وہ لو گ بیت اللہ کا طواف کرتے ہو ئے یہی کہتے تھے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَذِنْتُ لَكُمْ فِي الاِسْتِمْتَاعِ مِنَ النِّسَاءِ وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ ذَلِكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْهُنَّ شَىْءٌ فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهُ وَلاَ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا‏"‏ ‏.‏
Sabra al-Juhani reported on the authority of his father that while he was with Allah's Messenger (ﷺ) he said:O people, I had permitted you to contract temporary marriage with women, but Allah has forbidden it (now) until the Day of Resurrection. So he who has any (woman with this type of marriage contract) he should let her off, and do not take back anything you have given to them (as dower)
عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں عبدالعزیز بن عمر نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے ربیع بن سبرہ جہنی نے حدیث سنائی کہ ان کے والد نے انہیں حدیث بیان کی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " لوگو! بےشک میں نے تمہیں عورتوں سے متعہ کرنے کی اجازت دی تھی ، اور بلاشبہ اب اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت کے دن تک کے لیے حرام کر دیا ہے ، اس لیے جس کسی کے پاس ان عورتوں میں سے کوئی ( عورت موجود ) ہو تو وہ اس کا راستہ چھوڑ دے ، اور جو کچھ تم لوگوں نے انہیں دیا ہے اس میں سے کوئی چیز ( واپس ) مت لو
وَحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَلْ تُحَرِّمُ الرَّضْعَةُ الْوَاحِدَةُ قَالَ ‏ "‏ لاَ ‏"‏ ‏.‏
Umm Fadl (Allah be pleased with her) reported that a person from Banu 'Amir b. Sa'sa said:Allah's Apostle, does one suckling make the (marriage) unlawful? He said: No
ہشام نے مجھے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوخلیل صالح بن ابی مریم سے ، انہوں نے عبداللہ بن حارث سے اور انہوں نے ام فضل رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ بنو عامر بن صعصعہ کے ایک آدمی نے کہا : اے اللہ کے نبی! کیا ایک مرتبہ دودھ پینا رشتوں کو حرام کر دیتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نہیں
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هِشَامٍ، - يَعْنِي الدَّسْتَوَائِيَّ - قَالَ كَتَبَ إِلَىَّ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ يُحَدِّثُ عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الْحَرَامِ يَمِينٌ يُكَفِّرُهَا ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏{‏ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ‏}‏ ‏.‏
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported about (declaring of one's woman) unlawful as an oath which must be atoned, and Ibn 'Abbas said:Verily, there is in the Messenger of Allah (ﷺ) a model pattern for you
ہشام ، یعنی دستوائی ( کپڑے والے ) سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : مجھے یحییٰ بن کثیر نے یعلیٰ بن حکیم سے حدیث بیان کرتے ہوئے لکھ بھیجا ، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، وہ ( بیوی کو اپنے اوپر ) حرام کرنے کے بارے میں کہا کرتے تھے : یہ قسم ہے جس کا وہ کفارہ دے گا ۔ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : "" یقینا تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کی زندگی ) میں بہترین نمونہ ہے
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ، أَبِي فُدَيْكٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، جَمِيعًا عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ‏.‏ غَيْرَ أَنَّ فِي، حَدِيثِ مَعْمَرٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَدَتِ امْرَأَتِي غُلاَمًا أَسْوَدَ وَهُوَ حِينَئِذٍ يُعَرِّضُ بِأَنْ يَنْفِيَهُ ‏.‏ وَزَادَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ وَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ فِي الاِنْتِفَاءِ مِنْهُ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters. In the hadith transmitted on the authority of Ma'mar, the (words are):" Messenger of Allah, my wife has given birth to a dark-complexioned boy, and he at that time was intending to disown him." And this addition has been made at the end of the hadith:" He (the Holy Prophet) did not permit him to disown him
زہری نے ابن عینیہ کی حدیث کی مانند روایت کی اس میں اتنا فرق ہے کہ کہا اے رسول اﷲ ﷺ! میری عورت نے لڑکا سیاہ جنا ہے اور میرا ارادہ ہے کہ اس کا انکار کروں اور دوسری حدیث میں اتنا زیادہ ہے کہ پھر رسول اﷲ ﷺ نے اس کے انکار کرنے کی اجازت نہ دی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي هِنْدٍ - حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ سَعِيدِ ابْنِ مَرْجَانَةَ، عَنْ أَبِي، هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ إِرْبٍ مِنْهَا إِرْبًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:If anyone emancipates a Muslim slave, Allah will set free from Hell an organ of his body for every organ of his (slave's) body
اسماعیل بن ابی حکیم نے مجھے سعید بن مرجانہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے کسی مومن گردن ( مومن غلام جس کی گردن میں غلامی کا طوق تھا ) کو آزاد کیا ، اللہ تعالیٰ اس ( آزاد کیے جانے والے ) کے ہر عضو کے بدلے اس ( آزاد کرنے والے ) کا وہی عضو آگ سے آزاد فرمائے گا
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ تُتَلَقَّى الرُّكْبَانُ وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ ‏.‏ قَالَ فَقُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ مَا قَوْلُهُ حَاضِرٌ لِبَادٍ قَالَ لاَ يَكُنْ لَهُ سِمْسَارًا
Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The riders (carrying merchandise) should not be met in the way, and townsman should not sell for a man of the desert. The narrator reported. I said to Ibn 'Abbas: What do these words really imply-" The townsman for the man of the desert"? He said: That he should work as a broker on his behalf
طاوس کے بیٹے نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ باہر نکل کر قافلے والوں سے ملا جائے اور اس سے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کی طرف سے بیع کرے ۔ ( طاوس نے ) کہا : میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا : آپ کے فرمان : " کوئی شہری دیہاتی کی طرف سے ( بیع نہ کرے ) " کا کیا مفہوم ہے؟ انہوں نے جواب دیا : وہ اس کا دلال نہ بنے
قَالَ مُسْلِمٌ وَرَوَى اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ، هُرْمُزَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ كَانَ لَهُ مَالٌ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الأَسْلَمِيِّ فَلَقِيَهُ فَلَزِمَهُ فَتَكَلَّمَا حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا فَمَرَّ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ يَا كَعْبُ ‏"‏ ‏.‏ فَأَشَارَ بِيَدِهِ كَأَنَّهُ يَقُولُ النِّصْفَ فَأَخَذَ نِصْفًا مِمَّا عَلَيْهِ وَتَرَكَ نِصْفًا ‏.‏
Ka'b b. Malik reported that he made a demand for the payment of the debt that Ibn Abu Hadrad owed to him. This hadith is narrated through another chain of transmitters and (the words are):" He had to get the loan from Abdullah b. Hadrad al-Aslami. He met him and pressed him for payment. There was an altercation between them, until their voices became loud. There happened to pass by them Allah's Messenger (ﷺ) and he said: O Ka'b, and pointed out with his hand in such a way as he meant half. So he got half of what he (Ibn Abu Hadrad) owed to him and remitted the half
عبدالرحمٰن بن ہُرمز نے عبداللہ بن کعب بن مالک سے اور انہوں نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ان کا کچھ مال عبداللہ بن ابی حدرد اسلمی رضی اللہ عنہ کے ذمے تھا ۔ وہ انہیں ملے تو کعب رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ لگ گئے ، ان کی باہم تکرار ہوئی حتی کہ ان کی آوازیں بلند ہو گئیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان سے پاس سے گزرا تو آپ نے فرمایا : " کعب! " پھر آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا ، گویا آپ فرما رہے تھے کہ آدھا لے لو ، چنانچہ انہوں نے اس مال میں سے جو اس ( ابن ابی حدرد اسلمی رضی اللہ عنہ ) کے ذمے تھا ، آدھا لے لیا اور آدھا چھوڑ دیا
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَتِ امْرَأَةُ بَشِيرٍ انْحَلِ ابْنِي غُلاَمَكَ وَأَشْهِدْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ ابْنَةَ فُلاَنٍ سَأَلَتْنِي أَنْ أَنْحَلَ ابْنَهَا غُلاَمِي وَقَالَتْ أَشْهِدْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ أَلَهُ إِخْوَةٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَفَكُلَّهُمْ أَعْطَيْتَ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَلَيْسَ يَصْلُحُ هَذَا ‏.‏ وَإِنِّي لاَ أَشْهَدُ إِلاَّ عَلَى حَقٍّ ‏"‏ ‏.‏
Jabir (Allah be pleased with him) reported that the wife of Bashir said (to her husband):Give to my son your slave as a gift, and make for me Allah's Messenger (ﷺ) a witness He came to Allah's Messenger (ﷺ) and said: The daughter of so and so (his wife Amra bint Rawaha) asked me to give my slave as a gift to her son, and call for me Allah's Messenger (ﷺ) as a witness. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Has he (Nu'man) brothers? He (Bashir) said: Yes. He (further) said: Have you given to all others as you have given to him? He said: No. He said: Then it is not fair; and verily I cannot bear witness but only to what is just
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : حضرت بشیر رضی اللہ عنہ کی بیوی نے کہا : میرے بیٹے کو اپنا غلام ہبہ کر دو اور میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بناؤ ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا : فلاں کی بیٹی نے مجھ سے مطالبہ کیا ہے کہ میں اس کے بیٹے کو اپنا غلام ہبہ کر دوں اور اس نے کہا ہے : میرے لیے ( اس پر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بناؤ ۔ تو آپ نے پوچھا : " کیا اس کے اور بھائی ہیں؟ " انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ آپ نے پوچھا : " کیا ان سب کو بھی تم نے اسی طرح عطیہ دیا ہے جس طرح اسے دیا ہے؟ " انہوں نے جواب دیا : نہیں ۔ آپ نے فرمایا : " یہ درست نہیں اور میں صرف حق پر گواہ بنتا ہوں
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، كِلاَهُمَا عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ قُلْتُ فَكَيْفَ أُمِرَ النَّاسُ بِالْوَصِيَّةِ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ قُلْتُ كَيْفَ كُتِبَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ الْوَصِيَّةُ
This hadith has been narrated on the authority of Malik b. Mighwal with the same chain of transmitters but with a slight variation of words. In the hadith related by Waki (the words are)" I said:How the people have been ordered about the will" ; and in the hadith of Ibn Numair (the words are):" How the will has been prescribed for the Muslims
وکیع اور ابن نمیر دونوں نے مالک بن مغول سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی ، البتہ وکیع کی حدیث میں ہے : میں نے پوچھا : تو لوگوں کو وصیت کا کیسے حکم دیا گیا ہے؟ اور ابن نمیر کی حدیث میں ہے : میں نے پوچھا : مسلمانوں پر وصیت کیسے فرض کی گئی ہے
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، بْنِ رُفَيْعٍ عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ذَلِكَ ‏.‏
This hadith is reported on the authority of Adi b. Hatim through another chain of transmitters
شیبانی نے عبدالعزیز بن رفیع سے ، انہوں نے تمیم طائی سے اور انہوں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ یہی فرما رہے تھے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ قَاتَلَ يَعْلَى ابْنُ مُنْيَةَ أَوِ ابْنُ أُمَيَّةَ رَجُلاً فَعَضَّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْ فَمِهِ فَنَزَعَ ثَنِيَّتَهُ - وَقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى ثَنِيَّتَيْهِ - فَاخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ أَيَعَضُّ أَحَدُكُمْ كَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ لاَ دِيَةَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏
Imran b. Husain reported:Ya'la b. Munya or Ibn Umayya fought with a person, and the one bit the hand of the other. And he tried to draw his hand from his mouth and thus his foreteeth ware pulled out. They referred their dispute to Allah's Apostle (ﷺ), whereupon he said: Does any one of you bite as the camel bites? So there is no blood-wit for it
محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے زُرارہ سے اور انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : یعلیٰ بن مُنیہ یا ابن امیہ ایک آدمی سے لڑ پڑے تو ان میں سے ایک نے دوسرے ( کے ہاتھ ) میں دانت گاڑ دیے ، اس نے اس کے منہ سے اپنا ہاتھ کھینچا اور اس کا سامنے والا ایک دانت نکال دیا ۔ ۔ ابن مثنیٰ نے کہا : سامنے والے دو دانت ۔ ۔ پھر وہ دونوں جھگڑا لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم میں سے کوئی ( دوسرے کو ) اس طرح ( دانت ) کاٹتا ہے جیسے سانڈ کاٹتا ہے؟ اس کی کوئی دیت نہیں ہے
وَرَوَاهُ اللَّيْثُ أَيْضًا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ مِثْلَهُ ‏.‏ وَحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ أَيْضًا وَفِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًا قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ كَمَا ذَكَرَ عُقَيْلٌ ‏.‏
This hadith has been narrated through another chain of transmitters
شعیب نے بھی شہری سے اسی سند کے ساتھ خبر دی اور ان دونوں ( عبدالرحمان بن خالد بن مسافر اور شعیب ) کی حدیث میں ہے : ابن شہاب نے کہا : مجھے اس شخص نے بتایا جس نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ۔ اسی طرح جیسے عقیل نے حدیث بیان کی
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمْرَةَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، الْجُهَنِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الشُّهَدَاءِ الَّذِي يَأْتِي بِشَهَادَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا ‏"‏ ‏.‏
Zaid b. Khalid al-Juhani reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Should I not tell you of the best witnesses? He is the one who produces his evidence before he is asked for it
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تمہیں بہترین گواہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہی جو شہادت طلب کیے جانے سے پہلے اپنی گواہی پیش کر دے
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي، خَالِدٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى، يَقُولُ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ خَالِدٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ هَازِمَ الأَحْزَابِ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ ‏"‏ اللَّهُمَّ ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been transmitted on the authority of Ibn Abu Aufa with a slight variation of words
وکیع بن جراح نے ہمیں اسماعیل بن ابی خالد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی ۔ ۔ ( آگے ) خالد کی حدیث کے مانند ہے ، البتہ انہوں نے " ( اے ) لشکروں کو شکست دینے والے " کے الفاظ کہے اور آپ کے فرمان " اللهم " کا ذکر نہیں کیا
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، وَأَبُو بِشْرٍ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ ‏.‏
Ibn Abbas reported that Allah's Messenger (ﷺ) forbade (the eating) of all the fanged beasts of prey, and of all the birds having talons
ابو عوانہ نے کہا : ہمیں حکیم اور ابو بشر نے میمون بن مہران سے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلیوں والے درندے اور پنچوں سے شکار کرنے والے پرندے ( کو کھانے ) سے منع فرمایا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ قَالَ وَرَأَيْتُهُ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ وَرَأَيْتُهُ وَاضِعًا قَدَمَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا قَالَ وَسَمَّى وَكَبَّرَ ‏.‏
Anas reported that Allah's Messenger (ﷺ) sacrificed two horned rams of white colour with black markings over them. He also stated:I saw him sacrificing them with his own hand and saw him placing his foot on their sides, and recited the name of Allah and Glorified Him
وکیع نے شعبہ سے ، انھوں نے قتادہ سے انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی : کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو خوبصورت سفید رنگ کے بڑے سینگوں والے مینڈھوں کی قربانی دی ۔ کہا : میں نے دیکھا کہ آپ انھیں اپنے ہاتھوں سے ذبح کر رہے تھے ۔ اور میں نے دیکھا آپ نے ان کے رخسار پر قدم رکھا ہوا تھا ( اور ) کہا : آپ نے اللہ کا نام لیا ( بسم اللہ پڑھی ) اور تکبیر کہی ۔
وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ - عَنْ أَبِي، مَسْلَمَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
This hadith is narrated on the authority of Abi Maslama with the same chain of transmitters
بشر بن مفضل نے ابومسلمہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانندروایت کی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ كَعْبٍ، أَبِي ذُبْيَانَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، يَخْطُبُ يَقُولُ أَلاَ لاَ تُلْبِسُوا نِسَاءَكُمُ الْحَرِيرَ فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَلْبَسُوا الْحَرِيرَ فَإِنَّهُ مَنْ لَبِسَهُ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الآخِرَةِ ‏"‏ ‏.‏
Khalifa b. Ka'b AbCi Dhubyan reported:I heard 'Abdullah b. Zubair addressing the people and saying: Behold! do not dress yuor women with silk clothes for I heard 'Umar b. Khattab as sayinp that he had heard Allah's messenger (ﷺ) as saying: Do not wear silk, for one who wear it in this world will not wear it in the Hereafter
شعبہ نے خلیفہ بن کعب ابی زبیان سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ خطبہ دیتے ہوئے کہہ رہے تھے : سنو!اپنی عورتوں کو ریشم نہ پہناؤ کیونکہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن خطاب کو ( یہ حدیث بیا ن کرتے ہوئے ) سنا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ر یشم نہ پہنو ، کیونکہ جس نے دنیا میں اسے پہنا وہ آخرت میں اس کو نہیں پہنے گا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، بِمِثْلِ إِسْنَادِهِمْ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ مِنْ ثَلاَثِ غَرَفَاتٍ ‏.‏ وَقَالَ أَيْضًا فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ فَأَقْبَلَ بِهِ وَأَدْبَرَ مَرَّةً وَاحِدَةً ‏.‏ قَالَ بَهْزٌ أَمْلَى عَلَىَّ وُهَيْبٌ هَذَا الْحَدِيثَ ‏.‏ وَقَالَ وُهَيْبٌ أَمْلَى عَلَىَّ عَمْرُو بْنُ يَحْيَى هَذَا الْحَدِيثَ مَرَّتَيْنِ ‏.‏
Babz reported:This hadith has been narrated by Wuwb on the authority of 'Amr b. Yahyi with the same chain of transmitters and it has been mentioned therein: He rinsed his mouth. snuffed up water in nostrils and cleaned the nose with three handfuls and wiped his head moving (his hand) in front and then back once. Bahz said: Wuhaib narrated this hadith to me and Wuhaib said: Amr b. Yahya narrated to me this hadith twice
بہز نے وہیب سے اور اس نے عمرو بن یحییٰ سے سابقہ راویوں کی اسناد کی طرح حدیث بیان کی اور اس میں کہا : اور انہوں نے کلی کی ، ناک میں پانی ڈالا اور ناک جھاڑی ، تین چلو پانی سے ۔ اور یہ بھی کہا : پھر سر کا مسح کیا اور آگے سے ( پیچھے کو ) اور پیچھے سے ( آگے کو ) مسح کیا ایک بار ۔ بہز نے کہا : وہیب نے یہ حدیث مجھے املا کرائی اوروہیب نے کہا : عمرو بن یحییٰ نے یہ حدیث مجھے دوبار ( دومختلف موقعوں پر ) املا کرائی ۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ - وَاللَّفْظُ لأَحْمَدَ - قَالَ الأَشْعَثِيُّ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّ أَخْنَعَ اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ رَجُلٌ تَسَمَّى مَلِكَ الأَمْلاَكِ ‏"‏ ‏.‏ زَادَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي رِوَايَتِهِ ‏"‏ لاَ مَالِكَ إِلاَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ الأَشْعَثِيُّ قَالَ سُفْيَانُ مِثْلُ شَاهَانْ شَاهْ ‏.‏ وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ سَأَلْتُ أَبَا عَمْرٍو عَنْ أَخْنَعَ فَقَالَ أَوْضَعَ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The vilest name in Allah's sight is Malik al-Amidh (King of Kings). The narration transmitted on the authority of Shaiba (contains these words): There is no king but Allah, the Exalted and Glorious. Sufyan said: Similarly, the word Shahinshah (is also the vilest appellation). Ahmad b. Hanbal said: I asked Abu 'Amr about the meaning of Akhna. He said: The vilest
سعید بن عمرو اشعشی ، احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ اورابو بکر بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ الفاظ امام احمد کے ہیں ، اشعشی نے کہا : ہمیں سفیان بن عینیہ نے خبر دی جبکہ دیگر نے کہا : ہمیں حدیث بیان کی ۔ ابوزناد سے ، انھوں نے اعرج سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا؛ "" اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے قابل تحقیر نام اس شخص کا ہے جو شہنشاہ کہلائے ۔ "" اور ابن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں اضافہ کیا : "" اللہ عزوجل کے سوا کوئی ( بادشاہت کا ) مالک نہیں ہے ۔ "" اشعشی کا قول ہے : سفیان نے کہا : جیسے شاہان شاہ ( شہنشاہ ) ہے ۔ اور احمد بن حنبل نے کہا : میں نے ابو عمرو ( اسحاق بن مرار شیبانی ، نحوی ، کوفی ) سے "" اخنع "" کے بارے میں پوچھا توانھوں نے کہا : ( اس کے معنی ہیں ) اوضع ( انتہائی حقیر)
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ، خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَزْوَاجَ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كُنَّ يَخْرُجْنَ بِاللَّيْلِ إِذَا تَبَرَّزْنَ إِلَى الْمَنَاصِعِ وَهُوَ صَعِيدٌ أَفْيَحُ وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم احْجُبْ نِسَاءَكَ ‏.‏ فَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَفْعَلُ فَخَرَجَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي عِشَاءً وَكَانَتِ امْرَأَةً طَوِيلَةً فَنَادَاهَا عُمَرُ أَلاَ قَدْ عَرَفْنَاكِ يَا سَوْدَةُ ‏.‏ حِرْصًا عَلَى أَنْ يُنْزِلَ الْحِجَابَ ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْحِجَابَ ‏.‏
A'isha reported that the wives of Allah's Messenger (ﷺ) used to go out in the cover of night when they went to open fields (in the outskirts of Medina) for easing themselves. 'Umar b Khattab used to say:Allah's Messenger, ask your ladies to observe veil, but Allah's Messenger (ﷺ) did not do that. So there went out Sauda, daughter of Zarn'a, the wife of Allah's Messenger (ﷺ), during one of the nights when it was dark. She was a tall statured lady. 'Umar called her saying: Sauda, we recognise you. (He did this with the hope that the verses pertaining to veil would be revealed.) 'A'isha said: Allah, the Exalted and Glorious, then revealed the verses pertaining to veil
عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عروہ بن زبیر سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج جب رات کو قضائے حاجت کے لئے باہر نکلتیں تو "" المناصع "" کی طرف جاتی تھیں ، وہ دور ایک کھلی ، بڑی جگہ ہے ۔ اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عرض کرتے رہتے تھے کہ آپ اپنی ازواج کو پردہ کرائیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کسی حکمت کی بنا پر ) ایسا نہیں کرتے تھے ، پھر ایک رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا عشاء کے وقت ( قضائے حاجت کے لئے ) باہرنکلیں ، وہ دراز قدخاتون تھیں ، تو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس حرص میں کہ حجاب نازل ہوجائے ، پکار کر ان سے کہا : سودہ! ہم نے آپ کو پہچان لیا ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : اس پر اللہ تعالیٰ نے حجاب نازل فرمادیا ۔
وَقَالَ فَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ قَالَ أَبُو قَتَادَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ رَآنِي فَقَدْ رَأَى الْحَقَّ ‏"‏ ‏.‏
Abu Qatada reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who saw me in dream in fact saw the truth (what is true)
۔ ( ابن شہاب نے ) کہا : ابو سلمہ نے کہا : حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جس نے مجھے دیکھا اس نے سچ مچ ( سچا خواب ) دیکھا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَثَلِي وَمَثَلُ النَّبِيِّينَ ‏"‏ ‏.‏ فَذَكَرَ نَحْوَهُ ‏.‏
Abu Sa'id reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The similitude of mine and that of the Apostles; the rest of the hadith is the same
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " میری اور ( سابقہ ) انبیاء علیہ السلام کی مثال " پھر اسی ( سابقہ حدیث کی ) طرح حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، قَالَ قَالَ الأَعْرَجُ وَغَيْرُهُ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ رَأَيْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ يَنْزِعُ ‏"‏ ‏.‏ بِنَحْوِ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:I saw Ibn Abu Quhafa drawing (water) ; the rest of the hadith is the same
صالح نے کہا : اعرج وغیرہ نے کہا : کہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " میں نے ابن ابی قحافہ کو ڈول کھینچتے دیکھا ۔ " زہری کی حدیث کی طرح ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ الْعَلاَءَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي، هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلاً، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي قَرَابَةً أَصِلُهُمْ وَيَقْطَعُونِي وَأُحْسِنُ إِلَيْهِمْ وَيُسِيئُونَ إِلَىَّ وَأَحْلُمُ عَنْهُمْ وَيَجْهَلُونَ عَلَىَّ ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ لَئِنْ كُنْتَ كَمَا قُلْتَ فَكَأَنَّمَا تُسِفُّهُمُ الْمَلَّ وَلاَ يَزَالُ مَعَكَ مِنَ اللَّهِ ظَهِيرٌ عَلَيْهِمْ مَا دُمْتَ عَلَى ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported that a person said:Allah's Messenger, I have relatives with whom I try, to have close relationship, but they sever (this relation). I treat them well, but they treat me ill. I am sweet to them but they are harsh towards me. Upon this he (the Holy Prophet) said: If it is so as you say, then you in fact throw hot ashes (upon their faces) and there would always remain with you on behalf of Allah (an Angel to support you) who would keep you dominant over them so long as you adhere to this (path of righteousness)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کی : اللہ کے رسول! میرے ( بعض ) رشتہ دار ہیں ، میں ان سے تعلق جوڑتا ہوں اور وہ مجھ سے تعلق توڑتے ہیں ، میں ان کے ساتھ نیکی کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ برائی کرتے ہیں ، میں بردباری کے ساتھ ان سے درگزر کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ جہالت کا سلوک کرتے ہیں ، آپ نے فرمایا : " اگر تم ایسے ہی ہو جیسے تم نے کہا ہے تو تم ان کو جلتی راکھ کھلا رہے ہو اور جب تک تم اس روش پر رہو گے ، ان کے مقابلے میں اللہ کی طرف سے ہمیشہ ایک مددگار تمہارے ساتھ رہے گا ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي، هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Abu Huraira through another chain of transmitters
محمد بن سیرین نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان سب کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أَبُو شُرَيْحٍ، أَنَّ أَبَا الأَسْوَدِ، حَدَّثَهُ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ قَالَتْ لِي عَائِشَةُ يَا ابْنَ أُخْتِي بَلَغَنِي أَنَّحَمَلَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عِلْمًا كَثِيرًا - قَالَ - فَلَقِيتُهُ فَسَاءَلْتُهُ عَنْ أَشْيَاءَ يَذْكُرُهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ عُرْوَةُ فَكَانَ فِيمَا ذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ لاَ يَنْتَزِعُ الْعِلْمَ مِنَ النَّاسِ انْتِزَاعًا وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعُلَمَاءَ فَيَرْفَعُ الْعِلْمَ مَعَهُمْ وَيُبْقِي فِي النَّاسِ رُءُوسًا جُهَّالاً يُفْتُونَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَيَضِلُّونَ وَيُضِلُّونَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عُرْوَةُ فَلَمَّا حَدَّثْتُ عَائِشَةَ بِذَلِكَ أَعْظَمَتْ ذَلِكَ وَأَنْكَرَتْهُ قَالَتْ أَحَدَّثَكَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ هَذَا قَالَ عُرْوَةُ حَتَّى إِذَا كَانَ قَابِلٌ قَالَتْ لَهُ إِنَّ ابْنَ عَمْرٍو قَدْ قَدِمَ فَالْقَهُ ثُمَّ فَاتِحْهُ حَتَّى تَسْأَلَهُ عَنِ الْحَدِيثِ الَّذِي ذَكَرَهُ لَكَ فِي الْعِلْمِ - قَالَ - فَلَقِيتُهُ فَسَاءَلْتُهُ فَذَكَرَهُ لِي نَحْوَ مَا حَدَّثَنِي بِهِ فِي مَرَّتِهِ الأُولَى ‏.‏ قَالَ عُرْوَةُ فَلَمَّا أَخْبَرْتُهَا بِذَلِكَ قَالَتْ مَا أَحْسِبُهُ إِلاَّ قَدْ صَدَقَ أَرَاهُ لَمْ يَزِدْ فِيهِ شَيْئًا وَلَمْ يَنْقُصْ ‏.‏
Urwa b. Zubair reported that 'A'isha said to him:This news has reached me that 'Abdullah b. 'Amr al-'As would pass by us during the Hajj season, so you meet him and ask him (about religious matters) as he has acquired great knowledge from Allah's Messenger (ﷺ). I thus met him and asked him about things which he narrated from Allah's Messenger (ﷺ). And amongst these the one he mentioned was that Allah's Apostle (ﷺ) said: Verily, Allah does not take away knowledge from people directly but he takes away the scholars and consequently takes away (knowledge) along with them and leaves amongst persons the ignorant as their leaders who deliver religious verdicts without (adequate) knowledge and themselves go astray and lead others astray. 'Urwa said: When I narrated this to 'A'isha, she deemed it too much (to believe) and thus showed reluctance to accept that (as perfectly true) and said to, 'Urwa: Did he ('Abdullah b. 'Amr) say to you that he had heard Allah's Apostle (ﷺ) as saying: ('Urwa had forgotten to ask this from 'Abdullah b. 'Amr). So when it was the next year, she ('A'isha) said to him ('Urwa): Ibn Amr has come (for Hajj), so meet him. talk to him and ask him about this hadith that he narrated to You (last year on the occasion of the Hajj) pertaining to knowledge. He ('Urwa), said: So I met him, and asked about it and he narrated to me exactly like one that he had narrated (to me) for the first time. So when I informed her ('A'isha) about that, she said: I do not think but this that he has certainly told the truth and I find that be has neither made any addition to it, nor missed anything from it
عبداللہ بن وہب نے کہا : مجھے ابوشُریح نے حدیث بیان کی کہ انہیں ابواسود نے عروہ بن زبیر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا : بھانجے! مجھے خبر ملی ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں ( مدینہ ) سے گزر کر حج پر جانے والے ہیں ۔ تم ان سے ملو اور ان سے سوال کرو ۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا علم حاصل کر کے محفوظ کر رکھا ہے ۔ ( عروہ نے ) کہا : میں ان سے ملا اور بہت سی چیزوں کے بارے میں ، جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے ، ان سے پوچھا ۔ عروہ نے کہا : انہوں نے جو کچھ بیان کیا اس میں یہ بھی تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ تعالیٰ علم کو لوگوں سے یک لخت چھین نہیں لے گا بلکہ وہ علماء کو اٹھا لے گا اور ان کے ساتھ علم کو بھی اٹھا لے گا ۔ اور لوگوں میں جاہل سربراہوں کو باقی چھوڑ دے گا جو علم کے بغیر لوگوں کو فتوے دیں گے ، اس طرح خود بھی گمراہ ہوں گے اور ( لوگوں کو بھی ) گمراہ کریں گے ۔ "" عروہ نے کہا : جب میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ حدیث سنائی تو انہوں نے اسے ایک بہت بڑی بات سمجھا اور اس کو غیر معروف ( ناقابل قبول ) قرار دیا ۔ اور فرمایا : کیا انہوں نے تمہیں بتایا تھا کہ انہوں نے ( خود ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا ، آپ نے یہ بات کہی تھی؟ عروہ نے کہا : یہاں تک کہ جب اگلا سال ہوا تو انہوں ( حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ) نے ان سے کہا : ( عبداللہ ) بن عمرو رضی اللہ عنہ آ گئے ہیں ، ان سے ملو ، ان کے ساتھ بات چیت کا آغاز کرو ، یہاں تک کہ ان سے اسی حدیث کے بارے میں پوچھو جو انہوں نے علم کے حوالے سے تمہیں بیان کی تھی ۔ ( عروہ نے ) کہا : میں ان سے ملا اور ان سے سوال کیا تو انہوں نے وہ حدیث میرے سامنے ( بالکل ) اسی طرح بیان کر دی جس طرح پہلی بار بیان کی تھی ۔ عروہ نے کہا : جب میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ بات بتائی تو انہوں نے فرمایا : میں سمجھتی ہوں کہ انہوں نے سچ کہا ، میں دیکھ رہی ہوں کہ انہوں نے اس میں نہ کوئی چیز بڑھائی ہے نہ کم کی ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ يَزِيدَ، بْنِ الأَصَمِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ إِذَا دَعَانِي ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (may peace be upon him as saying that Allah thus stated:I live in the thought of My servant as he thinks of Me and with him as he calls Me)
یزید بن اصم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرا بندہ میرے بارے میں جو گمان کرتا ہے ، میں ( اس کو پورا کرنے کے لیے ) اس کے پاس ہوتا ہوں اور جب وہ مجھے پکارتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ مِائَةَ رَحْمَةٍ كُلُّ رَحْمَةٍ طِبَاقَ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ فَجَعَلَ مِنْهَا فِي الأَرْضِ رَحْمَةً فَبِهَا تَعْطِفُ الْوَالِدَةُ عَلَى وَلَدِهَا وَالْوَحْشُ وَالطَّيْرُ بَعْضُهَا عَلَى بَعْضٍ فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أَكْمَلَهَا بِهَذِهِ الرَّحْمَةِ ‏"‏ ‏.‏
Salman reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:Verily, Allah created, on the same very day when He created the heavens and the earth, one hundred parts of mercy. Every part of mercy is coextensive with the space between the heavens. and the earth and He out of this mercy endowed one part to the earth and it is because of this that the mother shows affection to her child and even the beasts and birds show kindness to one another and when there would be the Day of Resurrection, Allah would make full (use of Mercy)
داود بن ابی ہند نے ابو عثمان سے اور انہوں نے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بےشک اللہ تعالیٰ نے جس دن آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اس دن اس نے سو رحمتیں پیدا کیں ، ہر رحمت آسمانوں اور زمین کےدرمیان کی وسعت کے برابر ہے ، اس نے ان میں سے ایک رحمت زمین میں رکھی ، اسی رحمت کی وجہ سے والدہ اپنی اولاد پر رحمت کرتی ہے اور وحشی جانور اور پرندے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رحمت کا سلوک کرتے ہیں ، جب قیامت کا دن ہو گا تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمتوں کو اس رحمت کے ساتھ ملا کر پوری ( سو ) کرے گا ( اور بندوں کے ساتھ سو فیصد رحمت کا سلوک فرمائے گا ۔)
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ، اسْتَفْتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ هَلْ يَنَامُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ قَالَ ‏ "‏ نَعَمْ لِيَتَوَضَّأْ ثُمَّ لْيَنَمْ حَتَّى يَغْتَسِلَ إِذَا شَاءَ ‏"‏ ‏.‏
Ibn 'Umar said:'Umar asked the verdict of the Shari'ah from the Apostle (ﷺ) thus: Is it permissible for any one of us to sleep in a state of impurity? He (the Prophet said: Yes, he must perform ablution and then sleep and take a bath when he desires)
ابن جریج سے روایت ہے ( کہا : ) مجھے نافع نے ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی کہ حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے رسول اللہ ﷺ سے فتویٰ دریافت کیا اور کہا : کیا ہم میں سے کوئی شخص جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ہاں ، وضو کر لے پھر ( اس وقت تک کے لیے ) سو جائے جب وہ غسل کرنا چاہے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of A'mash with the same chain of transmitters
وکیع نے کہا : ہمیں اعمش نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَنْعَمُ لاَ يَبْأَسُ لاَ تَبْلَى ثِيَابُهُ وَلاَ يَفْنَى شَبَابُهُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:He who would get into Paradise (would be made to enjoy such an everlasting) bliss that he would neither become destitute, nor would his clothes wear out, nor his youth would decline
ابو رافع نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص جنت میں داخل ہو گا وہ ناز و نعم میں ہو گا کبھی تنگ حال نہ ہو گا ۔ اس کا لباس پرانا ہو گا نہ اس کی جوانی ڈھلے گی ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى زَوَى لِيَ الأَرْضَ حَتَّى رَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا وَأَعْطَانِي الْكَنْزَيْنِ الأَحْمَرَ وَالأَبْيَضَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ ‏.‏
Thauban reported that Allah's Messenger (ﷺ) said. Verily, Allah drew the ends of the world near me until I saw its east and west, and He bestowed upon me two treasures, the red and the white. The rest of the hadith is the same
قتادہ نے ابوقلابہ سے انھوں نے ابو اسماء یحییٰ سے اور انھوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین کو میرے لیے لپیٹ دیا حتیٰ کہ میں نے اس کےمشارق کو مغارب کو دیکھ لیا اور اس نے مجھے سرخ اور سفید وہ خزانے عطا فرمائے ۔ " اس کے بعد ابو قلابہ سے ایوب کی روایت کی طرح بیان کیا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا ‏"‏ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ عَمْرٍو ‏"‏ اللَّهُمَّ ارْزُقْ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:0 Allah, provide for the, family of Muhammad their subsistence, and in the narration transmitted on the authority of 'Amr (the words are):" O Allah, provide us subsistence
ابو بکر بن ابی شیبہ عمروناقد زہیر بن حرب اور ابو کریب نے کہا : ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی کہا : ہمیں اعمش نے عمار ہ بن قعقاع سے حدیث بیان کی انھوں نے ابو زرعہ سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی : اے اللہ !آل محمد کا رزق زندگی برقرار رکھنے جتنا کردے ۔ "" اور عمرو کی روایت میں ہے : "" اے اللہ! ( آل محمدکو زندگی برقرار رکھنے جتنا ) رزق دے ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَقَالَ آخِرَ سُورَةٍ وَقَالَ عَبْدُ الْمَجِيدِ وَلَمْ يَقُلِ ابْنِ سُهَيْلٍ ‏.‏
This hadith has been reported on the authority of Abu 'Umais through the same chain of transmitters but with a slight variation of wording
ابو معاویہ نے کہا : ہمیں ابو عمیس نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی اور کہا : " آخری سورت " اور انھوں نے ( راوی کا نام لیتے ہوئے ) عبدالمجید ( سے مروی ) کہا : اور ابن سہیل ( عبد المجید بن سہیل ) نہیں کہا ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَامَ لِلصَّلاَةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ كَبَّرَ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَإِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَلاَ يَفْعَلُهُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ ‏.‏
Ibn Umar reported that the Messenger of Allah (ﷺ), when he stood up for prayer, used to raise his hands apposite the shoulders and then recited takbir (Allah-o-Akbar), and when he was about to bow he again did like it and when he raised himself from the ruku' (bowing posture) he again did like it, but he did not do it at the time of raising his head from prostration
ابن جریج نے ابن شہاب سے اور انہوں نے سالم بن عبد اللہ سے روایت کی کہ حضرت ابن عمرؓ نے کہا : رسول اللہﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ بلند کرتے حتیٰ کہ آپ کے کندھوں کے سامنے آ جاتے ، پھر اللہ اکبر کہتے ، پھر جب رکوع کرنا چاہتے تو یہی کہتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا کرتے اور جب سجدے سے اپنا سر اٹھاتے توایسا نہ کرتے تھے ۔