حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مُنْذُ نَزَلَ عَلَيْهِ { إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ} يُصَلِّي صَلاَةً إِلاَّ دَعَا أَوْ قَالَ فِيهَا " سُبْحَانَكَ رَبِّي وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي " .
A'isha reported:Never did I, see the Messenger of Allah (ﷺ) after the revelation (of these verses):" When Allah's help and victory came." observin- his prayer without making (this supplication) or he said in it (supplication): Hallowed be Thee, my Lord, and with Thy praise, O Allah, forgive me
مفضل نے اعمش سے باقی ماندہ سابقہ سند کےساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب سے آپ پر ﴿إذا جاء نصر الله والفتح﴾ اتری ، اس وقت سے میں نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا کہ آپ نے جو بھی نماز پڑھی اس میں یہ دعا مانگی یا یہ کہا : ’’اے میرے رب! میں تیری پاکیزگی بیان کرتا ہوں تیری حمد کے ساتھ ، اے میرے اللہ! مجھے بخش دے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، يَقُولُ كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ تُنْحَرُ الْجَزُورُ فَتُقْسَمُ عَشَرَ قِسَمٍ ثُمَّ تُطْبَخُ فَنَأْكُلُ لَحْمًا نَضِيجًا قَبْلَ مَغِيبِ الشَّمْسِ .
Rafi' b. Khadij reported:We used to say the afternoon prayer with the Messenger of Allah (ﷺ), and then the camel was slaughtered and ten parts of it were distributed; then it was cooked and then we ate this cooked meat before the sinking of the sun
ہمیں ولید بن مسلم نےحدیث سنائی ، کہا : اوزاعی نےہمیں حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو نجاشی سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نےحضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز عصر پڑھتے ، پھر اونٹ ذبح کیا جاتا ، اس کے دس حصے کیے جاتے ، پھر ہم اسے پکاتے اور سورج کےغروب ہونے سے پہلے ہم اچھی طرح پکا ہوا گوشت کھا لیتے ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ وَلاَ تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا " .
Ibn 'Umar reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Pray in your houses, and do not make them graves
ایوب نے نافع سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فر ما یا : گھروں میں ( نفل ) نمازیں پڑھوں اور انھیں قبریں نہ بناؤ ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ مَهْدِيٍّ، - قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، - حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو بَلَغَنِي أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ فَلاَ تَفْعَلْ فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَظًّا وَلِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَظًّا وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَظًّا صُمْ وَأَفْطِرْ صُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فَذَلِكَ صَوْمُ الدَّهْرِ " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بِي قُوَّةً . قَالَ " فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا " . فَكَانَ يَقُولُ يَا لَيْتَنِي أَخَذْتُ بِالرُّخْصَةِ .
Abdullah b. 'Amr (Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said to me! 'Abdullah b. 'Amr, it has been conveyed to me that you observe fast during the day and stand in prayer during the whole night. Don't do that, for your body has a share of its own in you, your eye has a share of its own in you, your wife has a share of her own in you. Observe fast and break it too. Fast for three days in every month and that is a prepetual fasting. I said! Messenger of Allah, I have got strength enough (to do more than this), whereupon he said:Then observe the fast of David (peace be upon him). Observe fast one day and break it (on the other) day. And he ('Abdullah b. 'Amr) used to say: Would that I had availed myself of this concession
سعید بن میناء نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : عبداللہ بن عمرو عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : "" اے عبداللہ بن عمرو! مجھے خبر ملی ہے کہ تم ( روزانہ ) دن کاروزہ رکھتے ہو اور رات بھر قیام کرتے ہو ، ایسا مت کرو کیونکہ تم پرتمھارے جسم کا حصہ ( ادا کرناضروری ) ہے ، تم پر تمھاری آنکھ کا حصہ ( ادا کرنا ضروری ہے ) تم پر تمھاری بیوی کا حصہ ( ادا کرنا ضروری ہے ) روزے رکھو اور ترک بھی کرو ، ہر مہینے میں سے تین دن کے روزے رکھ لیا کرو ۔ یہ سارے وقت کے روزوں ( کے برابر ) ہیں ۔ "" میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میرے اندر ( زیادہ روزے رکھنے کی ) قوت ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم داود علیہ السلام کے روزے کی طرح ( روزے ) رکھو ، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن چھوڑ دیتے تھے ۔ "" وہ کہا کرتے تھے : کاش! میں نے رخصت کو قبول کیا ہوتا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَامَ الْفَتْحِ مِنْ كَدَاءٍ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ . قَالَ هِشَامٌ فَكَانَ أَبِي يَدْخُلُ مِنْهُمَا كِلَيْهِمَا وَكَانَ أَبِي أَكْثَرَ مَا يَدْخُلُ مِنْ كَدَاءٍ .
A'isha (Allah be pleased with her) reported that Allah's Messenger (ﷺ) entered Mecca during the year of Victory from Kada I. e. from the upper side. Hisham said.. My father entered It from both the Fides, but generally he entered from Kada
ابو اسامہ نے ہشام سے مذکورہ سند کے ساتھ روایت کی کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ والے سال کداء سے مکہ کی با لا ئی جا نب سے مکہ میں دا خل ہوئے تھے ۔ ہشا م نے کہا : میرے والد دونوں ( بالائی اور زیریں ) جانبوں سے مکہ میں داخل ہو تے تھے لیکن اکثر اوقات وہ کداء ہی سے داخل ہو تے ۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الصَّفَّارُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَثَّامٍ، عَنْ سُعَيْرِ بْنِ الْخِمْسِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْوَسْوَسَةِ قَالَ " تِلْكَ مَحْضُ الإِيمَانِ " .
It is narrated on the authority of 'Abdullah b. Mas'ud that the Apostle (ﷺ) was asked about evil prompting, to which he replied:It is pure faith
حضرت عبد اللہ ( بن مسعود ( رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ سے وسوسے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : ’’یہی تو خالص ایمان ہے ۔)
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
It has been narrated on the authority of Jabir b. 'Abdullah who said:I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: A group of people from my Umma will continue to fight In defence of truth and remain triumphant until the Day of judgment
جابر بن عبداﷲ سے روایت ہے میں نے سنا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ فرماتے تھے ہمیشہ ایک گروہ میری امت کا حق پر لڑتا رہے گا قیامت تک۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، وَابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ " .
Ibn 'Umar reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:A believer eats in one intestine, whereas a non-believer eats in seven intestines
عبد الرحمٰن نے سفیان سے ، انھوں نے ابو زبیر سے انھوں نے حضرت جا بر اور ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " مومن ایک آنت سے کھا تا ہے جبکہ کافرسات آنتوں میں کھا تا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الأَنْصَارَ كَرِشِي وَعَيْبَتِي وَإِنَّ النَّاسَ سَيَكْثُرُونَ وَيَقِلُّونَ فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَاعْفُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ " .
Anas b. Malik reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The Ansar are my family and my trusted friends. and the people would increase in number whereas they (the Ansar) would become less and less, so appreciate the deeds of those from amongst them who do good and overlook their failings
ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی ، کہا : میں نے قتادہ سے سنا ، وہ حجرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " انصار میرا پوٹا ہیں ( جہاں پرندوں کی غذا محفوظ رہتی ہے ) اور میرا قیمتی چیزیں رکھنے کا صندوق ( اثاثہ ) ہیں ۔ لو گ پڑھتے جا ئیں گے اور یہ کم ہو تے جائیں گے ۔ ان میں سے جواچھا کام کرے اسے قبول کرو اور جو غلط کرے اس سے در گزر کرو ۔