وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ دِقَّهُ وَجِلَّهُ وَأَوَّلَهُ وَآخِرَهُ وَعَلاَنِيَتَهُ وَسِرَّهُ " .
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) used to say while prostrating himself: O Lord, forgive me all my sins, small and great, first and last, open and secret
ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ سجدے میں کہا کرتے تھے : ’’ اللہ! میرے سارے گناہ بخش دے ، چھوٹے بھی اور بڑے بھی ، پہلے بھی اور پچھلے بھی ، کھلے بھی اور چھپے بھی ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي دَارِهِ بِالْبَصْرَةِ حِينَ انْصَرَفَ مِنَ الظُّهْرِ وَدَارُهُ بِجَنْبِ الْمَسْجِدِ فَلَمَّا دَخَلْنَا عَلَيْهِ قَالَ أَصَلَّيْتُمُ الْعَصْرَ فَقُلْنَا لَهُ إِنَّمَا انْصَرَفْنَا السَّاعَةَ مِنَ الظُّهْرِ . قَالَ فَصَلُّوا الْعَصْرَ . فَقُمْنَا فَصَلَّيْنَا فَلَمَّا انْصَرَفْنَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " تِلْكَ صَلاَةُ الْمُنَافِقِ يَجْلِسُ يَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بَيْنَ قَرْنَىِ الشَّيْطَانِ قَامَ فَنَقَرَهَا أَرْبَعًا لاَ يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلاَّ قَلِيلاً " .
Ala' b. 'Abd al-Rahman reported that they came to the house of Anas b. Malik in Basra after saying the noon prayer. His (Anas) house was situated by the side of the mosque. As revisited him he (Anas) said:Have you said the afternoon prayer? We said to him: It is just a few minutes before that we finished the noon prayer. He said: Offer the afternoon prayer. So we stood up and said our prayer. And when we completed it, he said: I have heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: This is how the hypocrite prays: he sits watching the sun, and when it is between the horns of devil, he rises and strikes the ground four times (in haste) mentioning Allah a little during it
علاء بن عبدالرحمان سے روایت ہے کہ وہ نماز ظہر سے فارغ ہو کر حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ہاں بصرہ میں ان کے گھر حاضر ہوئے ، ان کا گھر مسجد کے پہلو میں تھا ، جب ہم ان کی خدمت میں پہنچے تو انھوں نے پوچھا : کیا تم لوگوں نے عصر کی نماز پڑھ لی ہے ؟ ہم نے ان سے عرض کی : ہم تو ابھی ظہر کی نماز پڑھ کر لوٹے ہیں ۔ انھوں نے فرمایا : تو عصر پڑھ لو ۔ ہم نے اٹھ کر ( عصر کی ) نماز پڑھ لی ، جب ہم فارغ ہوئے تو انھوں نےکہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ’’ یہ منافق کی نماز ہے ، وہ بیٹھا ہوا سورج کو دیکھتا رہتا ہے یہاں تک کہ ( جب وہ زرد پڑ کر ) شیطان کے دو سنگوں کے درمیان چلا جاتا ہے تو کھڑا ہو کر اس ( نماز ) کی چار ٹھونگیں مار دیتا ہے اور اس میں اللہ کو بہت ہی کم یاد کرتا ہے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ، حَدَّثَهُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ فَقَالَ " أَلاَ تُصَلُّونَ " . فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا . فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ قُلْتُ لَهُ ذَلِكَ ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُدْبِرٌ يَضْرِبُ فَخِذَهُ وَيَقُولُ " وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَىْءٍ جَدَلاً " .
Husain b. 'Ali narrated on the authority of (his father) 'Ali b. Abu Talib that the Messenger of Allah (ﷺ) came one night to see him ('Ali) and Fatimah (the daughter of the Holy Prophet) and said:Don't you observe (Tahajjud) prayer? I ('Ali) said: Messenger of Allah, verily our souls are in the hands of Allah and when He wants to awaken us, He awakens us. The Messenger of Allah (ﷺ) went back when I said this to him. He was striking his hand on his thigh while returning, and I heard him say: Verily the man disputes with many things
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت انھیں اور فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو جگایا اور فر ما یا : " کیا تم لوگ نماز نہیں پڑھو گے؟ میں نےکہا : اے اللہ کے رسول !ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں جب وہ ہمیں اٹھانا چاہتا ہے اٹھا دیتا ہے جب میں نے آپ سے یہ کہا تو آپ واپس چلے گئے پھر میں نے آپ کو سنا کہ آپ واپس پلٹتے ہو ئے اپنی ران پر ہاتھ مارتے تھے اور کہتے ( آیتکا ایک ٹکڑاپڑھتے ) تھے : " انسان سب سے بڑھ کر جھگڑا کرنے والا ہے ( جدل ( جھگڑا ) یہ تھی کہ جگا ئے جا نے پر ممنون ہو نے اور نماز پڑھنے کی بجا ئے عذر پیش کیا گیا ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو، بْنُ دِينَارٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، - رضى الله عنهما - أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ كَانَ يَصُومُ نِصْفَ الدَّهْرِ وَأَحَبُّ الصَّلاَةِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صَلاَةُ دَاوُدَ - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - كَانَ يَرْقُدُ شَطْرَ اللَّيْلِ ثُمَّ يَقُومُ ثُمَّ يَرْقُدُ آخِرَهُ يَقُومُ ثُلُثَ اللَّيْلِ بَعْدَ شَطْرِهِ " . قَالَ قُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَعَمْرُو بْنُ أَوْسٍ كَانَ يَقُولُ يَقُومُ ثُلُثَ اللَّيْلِ بَعْدَ شَطْرِهِ قَالَ نَعَمْ .
Abdullah b. 'Amr b. al-'As reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The best fasting in the eye of Allah is that of David, for he fasted for half of the age (he fasted on alternate days), and the best prayer in the eye of Allah, the Exalted and Majestic, is that of David (peace be upon him), for he slept for half of the night and then stood for prayer and then again slept. He prayed for one-third of the night after midnight. He (the narrator) said: I asked 'Amr b. Dinar whether 'Amr b. Aus said that he stood for prayer one-third of the night after midnight. He said: Yes
ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، انھوں نے کہا : مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی کہ ان کو عمرو بن اوس نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ( یہ ) خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں ۔ وہ آدھا زمانہ روزے رکھتے تھے ۔ اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ نماز داود علیہ السلام کی نماز ہے ، وہ آدھی رات تک سوتے تھے پھر قیام کرتے تھے ، پھر اس کے آخری حصے میں سوجاتے تھے ، وہ آدھی رات کے بعدرات کا ایک تہائی حصہ قیام کرتے تھے ۔ "" حدیث نمبر ۔ میں ( ابن جریج ) نے عمرو بن دینارسے پوچھا : کیا عمرو بن اوس یہ کہتے تھے : "" وہ آدھی رات کے بعد رات کاتہائی حصہ قیام کرتے تھے؟ "" انھوں نے جواب دیا : ہاں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَخْرُجُ مِنْ طَرِيقِ الشَّجَرَةِ وَيَدْخُلُ مِنْ طَرِيقِ الْمُعَرَّسِ وَإِذَا دَخَلَ مَكَّةَ دَخَلَ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا وَيَخْرُجُ مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى .
Ibn 'Umar reported that Allah's Messenger (ﷺ) used to come out (of Medina) by way of al-Shajarah and entered it by the way of al-Mu'arras and whenever he entered Mecca, he entered it from the upper side and went out of it from the lower side
محمد بن عبد اللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث سنا ئی ( کہا : ) ہمیں عبید اللہ نے نافع سے انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( مدینہ سے ) شجرہ کے راستے سے نکلتے اور معرس کے راستے سے داخل ہو تے تھے ۔ اور جب مکہ میں داخل ہو تے تو ثنیہ علیا سے داخل ہو تے اور ثنیہ سفلیٰ سے باہر نکلتے تھے ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ . وَزَادَ " وَمَحَاهَا اللَّهُ وَلاَ يَهْلِكُ عَلَى اللَّهِ إِلاَّ هَالِكٌ " .
This hadith has been narrated with another chain of transmitters with the addition of these words:Allah would even wipe out (the evil committed by a man) and Allah does not put to destruction anyone except he who is doomed to destruction
جعفر بن سلیمان نے جعد ابوعثمان سے عبد الوارث کی حدیث کے ہم معنی روایت کی اور یہ اضافہ کیا : ’’یا اللہ نے اسے مٹا دیا او راللہ کے ہاں صرف وہی ہلاک ہوتا ہے جو ( خود ) ہلاک ہونے والا ہے ( کہ اللہ کے اس قدر فضل و کرم کے باوجود تباہی سے بچ سکا ۔ ‘ ‘)
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَعَبْدَةُ كِلاَهُمَا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، - يَعْنِي الْفَزَارِيَّ - عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لَنْ يَزَالَ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى النَّاسِ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ ظَاهِرُونَ " .
It has been narrated on the authority of Mughira who said:I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: A group of people from my Umma will continue to be triumphant over the people until the Command of Allah overtakes them while they are still triumphant
ترجمہ وہی جو اوپر گزرا۔ ( اس حدیث کا بیان کتاب الایمان میں گزرا ) ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالُوا أَخْبَرَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ وَالْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ " .
Ibn 'Umar reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying that a non-Muslim eats in seven intestines whereas a Muslim eats in one intestine
یحییٰ قطان نے عبید اللہ سے روایت کی ، کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کا فر سات آنتوں میں کھا تا ہے جبکہ مومن ایک آنت میں کھا تا ہے ۔
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، - وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ - عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى صِبْيَانًا وَنِسَاءً مُقْبِلِينَ مِنْ عُرْسٍ فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُمْثِلاً فَقَالَ " اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَىَّ اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَىَّ " . يَعْنِي الأَنْصَارَ .
Anas reported that Allah's Messenger (ﷺ) saw children and women of the Ansar coming back from a wedding feast. Allah's Apostle (ﷺ) stood up motionless (as a mark of respect) and said:O Allah, (bear witness) (and addressing the Ansar), said: You are dearest to me amongst people, (and said: O Allah (bear witness) (and addressing the Ansar), said: You are dearest to me amongst people. And he meant Ansar
عبد العزیز بن صہیب نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ( انصارکے ) کچھ بچوں اور عورتوں کو شادی سے آتے ہو ئے دیکھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے کھڑے ہو گئے ۔ اور فرما یا : " میرا اللہ! ( گواہ ہے ) تم ان لوگوں میں سے ہو جو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں ۔ میرا اللہ ! ( گواہ ہے ) تم ان لوگوں میں سے ہوجو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں ۔ " آپ کی مراد انصار سے تھی ۔