بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
4
8 hadith
وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا صَالِحٍ، ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: The nearest a servant comes to his Lord is when he is prostrating himself, so make supplication (in this state)
۔ ذکوان نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس حالت میں ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہوتا ہے ، لہٰذا اس میں کثرت سے دعا کرو ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ ثُمَّ يَخْرُجُ الإِنْسَانُ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَيَجِدُهُمْ يُصَلُّونَ الْعَصْرَ ‏.‏
Anas b. Malik reported:We used to offer the afternoon prayer (at such a time) that a person would go to Bani 'Amr b. Auf and he would find them busy offering the afternoon prayer
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت اسن بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ ، کہا ہم عصر کی نماز پڑھتے ، پھر ایک انسان بنو عمرو بن عوف کے محلے ( قباء میں ) جاتا تو انھیں عصر کی نماز پڑھتے ہوئے پاتا ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ، قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ نَامَ لَيْلَةً حَتَّى أَصْبَحَ قَالَ ‏"‏ ذَاكَ رَجُلٌ بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ فِي أُذُنِهِ ‏"‏ ‏.‏
Abdullah (b. Mas'ud) reported that a mention was made of a man who slept the whole night till morning. He (the Holy Prophet) remarked:That is a man in whose ears (or in whose ear) the devil urinated
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک ایسے آدمی کا ذکر کیا گیا جو رات نھر سویا رہا یہاں تک کہ صبح ہو گئی آپ نے فر ما یا : وہ ( ایسا ) شخص ہے کہ شیطان نے اس کے کان میں ۔ " یا فر ما یا : " اس کے دونوں کا نوں میں پیشاب کر دیا ہے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ، عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، - رضى الله عنهما - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ أَحَبَّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ وَأَحَبَّ الصَّلاَةِ إِلَى اللَّهِ صَلاَةُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ وَيَقُومُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ وَكَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا ‏"‏ ‏.‏
Abdullah b. 'Amr (Allah be pleased with both of them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:With Allah the best fasting is that of David and the best prayer is that of David (peace be upon him) for he slept half of the night and stood for prayer for the third of it and (then) slept the sixth part of it and he observed fast one day and broke on the other
ہمیں سفیان بن عینیہ نے عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عمرو بن اوس سے اور انھوں نے عبداللہ بن عمرو سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ ( نفلی ) روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ ( نفلی ) نماز داود علیہ السلام کی نماز ہے ۔ وہ آدھی رات تک سوتے تھے اور اس کا ایک تہائی قیام کرتے تھے اور اس کے ( آخری ) چھٹےحصے میں سوجاتے تھے ۔ اور ایک دن روزہ رکھتے تھے اورایک دن افطارکرتے ( روزہ نہ رکھتے ) تھے ۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيمَا يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ ثُمَّ بَيَّنَ ذَلِكَ فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَهَا اللَّهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً وَإِنْ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا كَتَبَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ وَإِنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَهَا اللَّهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً وَإِنْ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا كَتَبَهَا اللَّهُ سَيِّئَةً وَاحِدَةً ‏"‏ ‏.‏
It is narrated on the authority of Ibn Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) transmitted it from the Blessed and Great Lord:Verily Allah recorded the good and the evil and then made it clear that he who intended good but did not do it, Allah recorded one complete good in his favour, but if he intended it and also did it, the Glorious and Great Allah recorded ten to seven hundred virtues and even more to his credit. But it he intended evil, but did not commit it, Allah wrote down full one good in his favour. If he intended that and also committed it, Allah made an entry of one evil against him
عبدالوارث نے جعد ابو عثمان سے حدیث سنائی ، انہوں نےکہا : ہمیں ابو رجاء عطاردی نے حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث سنائی ، انہوں نے رسو ل اللہ ﷺ سے روایت کی ( ان احادیث میں سے جنہیں وہ رسو ل اللہ ﷺ اپنے رب عزو جل سے روایت کرتے ہیں ) آپ ﷺ نے فرمایا : ’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے نیکیاں اوربرائیاں لکھی ہیں ، پھر ان کی تفصیل بتائی ہے کہ جس نے کسی نیکی کا ارادہ کیا ، پھر وہ نیکی نہیں کی تو اللہ نے اسے اپنے ہاں ایک پوری نیکی لکھ دی ۔ اور اگر نیکی کا ارادہ کیا ، پھر وہ نیکی کر ڈالی تو اللہ عزوجل نے اسے اپنے ہاں دس سے سات سو گنا ( یا ) اس سے زیادہ گنا تک لکھ لیا ۔ اور اگر اس نے برائی کا ارادہ کیا ، پھر اس کا ارتکاب نہ کیا تو اللہ نے اسے اپنے ہاں ایک پوری نیکی لکھی ۔ اور اگر اس نے ( برائی کا ) ارادہ کیا اور اس کو کر ڈالا تو اللہ نے ایک برائی لکھی ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ - عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ لاَ يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ كَذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ قُتَيْبَةَ ‏"‏ وَهُمْ كَذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Thauban that the Messenger of Allah (ﷺ) said:A group of people from my Umma will always remain triumphant on the right path and continue to be triumphant (against their opponents). He who deserts them shall not be able to do them any harm. They will remain in this position until Allah's Command is executed (i.e. Qiyamah is established). In Qutaiba's version of the tradition, we do not have the words:" They will remain in this position
حضرت ثوبان رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم نے فرمایا ہمیشہ میری امت کا ایک گروہ حق پر قائم رہے گا کوئی ان کا نقصان نہ پہنچا سکے گا یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ کا حکم آوے ( یعنی قیامت ) اور وہ اسی حال میں ہوں گے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ طَعَامُ الرَّجُلِ يَكْفِي رَجُلَيْنِ وَطَعَامُ رَجُلَيْنِ يَكْفِي أَرْبَعَةً وَطَعَامُ أَرْبَعَةٍ يَكْفِي ثَمَانِيَةً ‏"‏ ‏.‏
Jabir reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Food for one (person) suffices two, and food for two (persons) suffices four persons and food for four persons suffices eight persons
جریر نے اعمش سے ، انھوں نے ابو سفیان سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک آدمی کا کھانا دو آدمیوں کے لئے کافی ہوجاتا ہے ۔ اور دو آدمیوں کا کھانا چا ر کے لئے کافی ہوجاتا ہے ۔ اور چار کا کھانا آٹھ کے لیے کافی ہوجاتا ہے ۔
حَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، - وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ - أَنَّ أَنَسًا، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَغْفَرَ لِلأَنْصَارِ - قَالَ - وَأَحْسِبُهُ قَالَ ‏ "‏ وَلِذَرَارِيِّ الأَنْصَارِ وَلِمَوَالِي الأَنْصَارِ ‏"‏ ‏.‏ لاَ أَشُكُّ فِيهِ ‏.‏
Anas reported that Allah's Messenger (ﷺ) sought forgiveness for the Ansar and he said:I think (he also sought forgiveness) for the children of the Ansar and the slaves and the freed men of the Ansar. I have no doubt about it
عکرمہ بن عمار نے کہا : ہمیں اسحٰق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ نے حدیث بیان کی ، کہا : حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے لیے مغفرت کی دعاکی ۔ ( اسحاق نے ) کہا : میرا خیال ہے کہ انھوں ( انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : " اور انصارکی اولاد دوں اور انصارکے ساتھ نسبت رکھنے والوںکی بھی ( مغفرت فرما ۔ ) " مجھے اس کے بارےمیں کو ئی شک نہیں ۔