وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ، وَأَنَا رَاكِعٌ، . لاَ يَذْكُرُ فِي الإِسْنَادِ عَلِيًّا .
Ibn 'Abbas reported:I was forbidden to recite (the Qur'an) while I was bowing, and there is no mention of 'Ali in the chain of transmitters
عبد اللہ بن حنین نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : مجھے رکوع کی حالت میں قراءت سے منع کیا گیا ہے ۔ اس سند میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ ثُمَّ يَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى قُبَاءٍ فَيَأْتِيهِمْ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ .
Anas b. Malik reported:We used to offer the 'Asr prayer, then one would go to Quba' and reach there and the sun would be still high
امام مالک نے ابن شہاب سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ہم عصر کی نماز پڑھتے تھے ، پھر جانے والا قباء جاتا ، ان لوگوں کے پاس پہنچتا اور سورج ابھی اونچا ہوتا ۔ ( قباء مدینہ سے دو میل کی مسافت پر ہے ۔)
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْخَلِيلِ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَهُ .
A hadith like this has been narrated by A'mash with the same chain of transmitters
علی بن مسہر نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، - رضى الله عنهما - قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ " . قُلْتُ إِنِّي أَفْعَلُ ذَلِكَ . قَالَ " فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتْ عَيْنَاكَ وَنَفِهَتْ نَفْسُكَ لِعَيْنِكَ حَقٌّ وَلِنَفْسِكَ حَقٌّ وَلأَهْلِكَ حَقٌّ قُمْ وَنَمْ وَصُمْ وَأَفْطِرْ " .
Abdullah b. 'Amr (Allah be pleased with both of them) reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: I have been informed that you stand for prayer the whole of night and fast during the day. I said: I do that, whereupon he said: If you did that you in fact strained heavily your eyes and made yourself weak. There is a right of your eyes (upon you) and a right of your self (upon you) and a right of your family (upon you). Stand for prayer and sleep. observe fasts and break (them)
سفیان بن عینیہ نے عمر و سے ، انھوں نے ابوعباس سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر و رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : " کیا مجھے خبر نہیں دی گئی کہ تم رات بھر قیام کرتے ہو اور ( روزانہ ) دن کا روزہ رکھتے ہو؟ " میں نے عرض کی : میں یہ کام کرتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم یہ کام کرو گے تو ( اس کانتیجہ یہ ہوگاکہ ) تمھاری آنکھیں اندر کو دھنس جائیں گی ۔ اور تمھاری جان کمزورہوجائے گی ۔ تم پر تمھاری آنکھ کا حق ہے ۔ تمھاری اپنی ذات کا حق ہے ۔ اور تمھارے گھر والوں کاحق ہے ۔ قیام کرو اورنیند بھی لو ، روزہ رکھو بھی اور روزہ چھوڑو بھی ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يُحَدِّثُنَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاِمْرَأَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ سَمَّاهَا ابْنُ عَبَّاسٍ فَنَسِيتُ اسْمَهَا " مَا مَنَعَكِ أَنْ تَحُجِّي مَعَنَا " . قَالَتْ لَمْ يَكُنْ لَنَا إِلاَّ نَاضِحَانِ فَحَجَّ أَبُو وَلَدِهَا وَابْنُهَا عَلَى نَاضِحٍ وَتَرَكَ لَنَا نَاضِحًا نَنْضِحُ عَلَيْهِ قَالَ " فَإِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فَاعْتَمِرِي فَإِنَّ عُمْرَةً فِيهِ تَعْدِلُ حَجَّةً " .
Ataa reported:I heard Ibn Abbas (Allah be pleased with him) narrating to us that Allah's Messenger (ﷺ) said to a woman of the Ansar (Ibn Abbas had mentioned her name but I have forgotten it): 'What has prevented you that you do not perform Hajj along with us? She said: We have only two camels for carrying water. One of the camels has been taken by my husband and my son for performing Hajj and one has been left for us for carrying water, whereupon he (the Holy Prophet) said: So when the month of Ramadan come, perform Umra, for'Umra in this (month) is equal to Hajj (in reward)
مجا ہد سے روایت ہے کہا : میں اور عروہ بن زبیر مسجد میں داخل ہو ئے دیکھا تو عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرے ( کی دیوار ) سے ٹیک لگا ئے بیٹھے تھے اور لو گ مسجد میں چاشت کی نماز پڑھنے میں مصروف تھے ۔ ہم نے ان سے لوگوں کی ( اس ) نماز کے بارے میں سوال کیا ، انھوں نے فرمایا کہ بدعت ہے ۔ عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے پو چھا : ابو عبد الرحمٰن !رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کل ) کتنے عمرے کیے ؟انھوں نے جواب دیا : چار عمرے اور ان میں سے ایک رجب کے مہینے میں کیا ۔ ( ان کی یہ بات سن کر ) ہم نے انھیں جھٹلا نا اور ن کا رد کرنا منا سب نہ سمجھا ، ( اسی دورا ن میں ) ہم نے حجرے میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مسواک کرنے کی آواز سنی ۔ عروہ نے کہا : المومنین !ابو عبد الرحمٰن کو کہہ رہے ہیں آپ نہیں سن رہیں؟ انھوں نے کہا وہ کیا کہتے ہیں؟ ( عروہنے ) کہا : وہ کہتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے اور ان میں سے ایک عمرہ رجب میں کیا ہے انھوں نے فرمایا : اللہ تعا لیٰ ابو عبد الرحمٰن پر رحم فر ما ئے !رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنے بھی عمرے کیے یہ ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) ان کے ساتھ تھے ( یہ بھول گئے ہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں کبھی عمرہ نہیں کیا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً وَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَعَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ عَشْرًا إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُكْتَبْ وَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ " .
It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) observed:He who intended to do good, but did not do it, one good was recorded for him, and he who intended to do good and also did it, ten to seven hundred good deeds were recorded for him. And he who intended evil, but did not commit it, no entry was made against his name, but if he committed that, it was recorded
ابن سیرین نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے کسی نیکی کا ارادہ کیا ، پھر اس پر عمل نہیں کیا ، اس کے لیے ایک نیکی لکھی جاتی ہے او رجس نے کسی نیکی کا ارادہ کر کے اس پر عمل بھی کیا ، اس کے لیے دس سے سات سو گنا تک نیکیاں لکھی جاتی ہیں او رجس نے کسی برائی کا ارادہ کیا لیکن اس کا ارتکاب نہیں کیا تو وہ نہیں لکھی جاتی اور اگر اس کا ارتکاب کیا تو وہ لکھی جاتی ہے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شَمَاسَةَ، أَنَّ فُقَيْمًا اللَّخْمِيَّ، قَالَ لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ تَخْتَلِفُ بَيْنَ هَذَيْنِ الْغَرَضَيْنِ وَأَنْتَ كَبِيرٌ يَشُقُّ عَلَيْكَ . قَالَ عُقْبَةُ لَوْلاَ كَلاَمٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ أُعَانِهِ . قَالَ الْحَارِثُ فَقُلْتُ لاِبْنِ شُمَاسَةَ وَمَا ذَاكَ قَالَ إِنَّهُ قَالَ " مَنْ عَلِمَ الرَّمْىَ ثُمَّ تَرَكَهُ فَلَيْسَ مِنَّا أَوْ قَدْ عَصَى " .
It has been reported by 'Abd al-Rahman b. Shamasa that Fuqaim al- Lakhmi said to Uqba b. Amir:You frequent between these two targets and you are an old man, so you will be finding it very hard. 'Uqba said: But for a thing I heard from the Prophet (ﷺ), I would not strain myself. Harith (one of the narrators in the chain of transmitters) said: I asked Ibn Shamasa: What was that? He said that he (the Holy Prophet) said: Who learnt archery and then gave it up is not from us. or he has been guilty of disobedience (to Allah's Apostle)
حارث بن یعقوب نے عبدالرحمٰن بن شماسہ سے روایت کی کہ فُقَیم لخمی نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ ( تیر چھوڑنے اور جا لگنے کے ) ان دو نشانوں کے درمیان چکر لگاتے ہیں جبکہ آپ بوڑھے ہیں اور یہ آپ کے لیے باعث مشقت بھی ہے ۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات نہ سنی ہوتی تو میں یہ تکلیف نہ اٹھاتا ۔ حارث نے کہا : میں نے ابن شماسہ سے پوچھا : وہ بات کیا ہے؟ انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : " جس شخص نے تیر اندازی سیکھی ، پھر اس کو ترک کر دیا ، وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ " یا ( فرمایا : ) " اس نے نافرمانی کی ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَأَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي، سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الاِثْنَيْنِ وَطَعَامُ الاِثْنَيْنِ يَكْفِي الأَرْبَعَةَ " .
Jabir reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Food for one suffices two and food for two suffices for four
ابو معاویہ نے ہمیں اعمش سے خبر دی ، انھوں نے ابو سفیان سے اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک آدمی کا کھانا دو آدمیوں کے لیے کافی ہوجاتا ہے اور دو کا کھانا چار کے لئے کافی ہوجاتا ہے ۔