بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
4
9 hadith
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، ح وَحَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، ح قَالَ وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ - أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ، وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو ح قَالَ وَحَدَّثَنِي هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، - إِلاَّ الضَّحَّاكَ وَابْنَ عَجْلاَنَ فَإِنَّهُمَا زَادَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ، - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كُلُّهُمْ قَالُوا نَهَانِي عَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَأَنَا رَاكِعٌ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِي رِوَايَتِهِمُ النَّهْىَ عَنْهَا فِي السُّجُودِ كَمَا ذَكَرَ الزُّهْرِيُّ وَزَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ وَالْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ وَدَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ‏.‏
This hadith has been narrated by some other narrators, Ibn 'Abbas and others, and they all reported that 'Ali said:The Apostle of Allah (ﷺ) forbade me to recite the Qur'an while I am in a state of bowing and prostration, and in their narration (there is a mention of) forbiddance from that (recital) in the state of prostration as it has been transmitted by Zuhri, Zaid b. Aslam, al-Wahid b. Kathir, and Dawud b. Qais
نافع ، یزید بن ابی حبیب ، ضحاک بن عثمان ، ابن عجلان ، اسامہ بن زید ، محمد بن عمرو اور محمد بن اسحاق سب نے مختلف سندوں سے ابراہیم بن عبد اللہ حنین سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ روایت کی ، البتہ ان میں ضحاک اور ابن عجلان نے اضافہ کرتے ہوئے کہا : حضرت ابن عباس سے روایت ہے ، انہوں نے حضرت علی سے ، انہوں نے رسول اللہﷺ سے روایت کی کہ آپ نے مجھے رکوع کی حالت میں قرآن کی قراءت سے روکا اور ان میں سے کسی نے اپنی روایت میں ( ابراہیم کے پچھلی روایتوں : 1076 ۔ 1079 میں مذکورہ شاگردوں ) زہری ، زید بن اسلم ، ولید بن کثیر اور داؤد بن قیس کی روایات کی طرح سجدے میں قراءت کرنے سے روکنے کا ذکر نہیں کیا
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي فَيَأْتِي الْعَوَالِيَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ قُتَيْبَةُ فَيَأْتِي الْعَوَالِيَ ‏.‏
Anas b. Malik reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to pray the afternoon prayer when the sun was high and bright, then one would go off to al-'Awali and get there while the sun was still high. Ibn Qutaiba made no mention of" one would go off to al-'Awali
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے کہا : لیث نے ہمیں ابن شہاب سے روایت کی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ انھوں نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ ﷺ عصرکی نماز ( ایسے وقت میں ) پڑھتے تھے جب سورج بلند اور زندہ ( روشنی میں کمی کے بغیر ) ہوتا تھا ، عوالی کی طرف جانے والا ( عصر پڑھ کر ) چلتا اور عوالی ( مدینہ کے بالائی حصے کی بستیوں میں ) پہنچتا تو سورج ابھی بلند ہوتا تھا ۔ یہ بستیاں مدینہ سے دو تا آٹھ میل کی میل کی مسافت پر تھیں ۔ قتیبہ نے ( اپنی حدیث میں ) عوالی پہنچنے کا ذکر نہیں کیا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ، كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ، نُمَيْرٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الأَحْنَفِ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ فَافْتَتَحَ الْبَقَرَةَ فَقُلْتُ يَرْكَعُ عِنْدَ الْمِائَةِ ‏.‏ ثُمَّ مَضَى فَقُلْتُ يُصَلِّي بِهَا فِي رَكْعَةٍ فَمَضَى فَقُلْتُ يَرْكَعُ بِهَا ‏.‏ ثُمَّ افْتَتَحَ النِّسَاءَ فَقَرَأَهَا ثُمَّ افْتَتَحَ آلَ عِمْرَانَ فَقَرَأَهَا يَقْرَأُ مُتَرَسِّلاً إِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا تَسْبِيحٌ سَبَّحَ وَإِذَا مَرَّ بِسُؤَالٍ سَأَلَ وَإِذَا مَرَّ بِتَعَوُّذٍ تَعَوَّذَ ثُمَّ رَكَعَ فَجَعَلَ يَقُولُ ‏"‏ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ ‏"‏ ‏.‏ فَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَامَ طَوِيلاً قَرِيبًا مِمَّا رَكَعَ ثُمَّ سَجَدَ فَقَالَ ‏"‏ سُبْحَانَ رَبِّيَ الأَعْلَى ‏"‏ ‏.‏ فَكَانَ سُجُودُهُ قَرِيبًا مِنْ قِيَامِهِ ‏.‏ قَالَ وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ مِنَ الزِّيَادَةِ فَقَالَ ‏"‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ"‏ ‏.‏
Hudhaifa reported:I prayed with the Messenger of Allah (ﷺ) one night and he started reciting al-Baqara. I thought that he would bow at the end of one hundred verses, but he proceeded on; I then thought that he would perhaps recite the whole (surah) in a rak'ah, but he proceeded and I thought he would perhaps bow on completing (this surah). He then started al-Nisa', and recited it; he then started Al-i-'Imran and recited leisurely. And when he recited the verses which referred to the Glory of Allah, he glorified (by saying Subhan Allah-Glory to my Lord the Great), and when he recited the verses which tell (how the Lord) is to be begged, he (the Holy Prophet) would then beg (from Him), and when he recited the verses dealing with protection from the Lord, he sought (His) protection and would then bow and say: Glory be to my Mighty Lord; his bowing lasted about the same length of time as his standing (and then on returning to the standing posture after ruku') he would say: Allah listened to him who praised Him, and he would then stand about the same length of time as he had spent in bowing. He would then prostrate himself and say: Glory be to my Lord most High, and his prostration lasted nearly the same length of time as his standing. In the hadith transmitted by Jarir the words are:" He (the Holy Prophet) would say:" Allah listened to him who praised Him, our Lord, to Thee i the praise
عبداللہ بن نمیر ، ابو معاویہ اور جریر سب نے اعمش سے ، انھوں نے سعد بن عبیدہ سے ، انھوں نے مستورد بن احنف سے ، انھوں نے صلہ بن زفر سے اور انھوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، ۔ انھوں نے کہا : ایک رات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ، آپ نے سورہ بقرہ کا آغاز فرمایا ، میں نے ( دل میں ) کہا : آپ سو آیات پڑھ کر رکوع فرمائیں گے مگر آپ آگے بڑھ گئے میں نے کہا : آپ اسے ( پوری ) رکعت میں پڑھیں گے ، آپ آگے پڑھتے گئے ، میں نے سوچا ، اسے پڑھ کر رکوع کریں گے مگر آپ نے سورہ نساءشروع کردی ، آپ نے وہ پوری پڑھی ، پھر آپ نے آل عمران شروع کردی ، اس کو پورا پڑھا ، آپ ٹھر ٹھر کر قرائت فرماتے رہے جب ایسی آیت سے گزرتے جس میں تسبیح ہے توسبحان اللہ کہتے اور جب سوال ( کرنے والی آیت ) سے گزرتے ( پڑھتے ) تو سوا ل کرتے اور جب پناہ مانگنے والی آیت سے گزرتے تو ۔ ( اللہ سے ) پناہ مانگتے ، پھر آپ نے ر کوع فرمایا اور سبحان ربي العظيم کہنے لگے ، آپ کا رکوع ( تقریباً ) آپ کے قیام جتنا تھا ۔ پھر آپ نے "" سمع الله لمن حمده "" کہا : پھر آپ لمبی دیر کھڑے رہے ، تقریباً اتنی دیر جتنی دیر رکوع کیا تھا ، پھر سجدہ کیا اور "" سبحان ربي الاعلي "" کہنے لگے اور آپ کا سجدہ ( بھی ) آپ کے قیام کے قریب تھا ۔ جریر کی روایت میں یہ اضافہ ہےکہ آپ نے کہا : ( سمع الله لمن حمده ربنا لك الحمد "" ) یعنی ربنا لك الحمدکا اضافہ ہے ۔
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبٍ، سَمِعَ أَبَا الْعَبَّاسِ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، - رضى الله عنهما - قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو إِنَّكَ لَتَصُومُ الدَّهْرَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ وَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتْ لَهُ الْعَيْنُ وَنَهِكَتْ لاَ صَامَ مَنْ صَامَ الأَبَدَ صَوْمُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ صَوْمُ الشَّهْرِ كُلِّهِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ فَإِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا وَلاَ يَفِرُّ إِذَا لاَقَى ‏"‏ ‏.‏
Abdullah b. Amr (Allah be pleased with both of them) reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: 'Abdullah b. Amr, you fast continuously and stand in prayer for the whole of night. If you do like that, your eyes would be highly strained and would sink and lose sight. There is no (reward for) fasting (for him) who fasts perpetually. Fasting for three days during the month is like fasting, the whole of the month. I said: I am capable of doing more than this, whereupon he said: Observe the fast of David. He used to fast one day and break (the other) day. And he did not turn back in the encounter
شعبہ نے ہمیں حبیب سے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے ابو عباس ( سائب بن فروخ ) سے سنا ، انھوں نے عبداللہ بن عمرو سے سنا ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " اے عبداللہ بن عمرو!تم ہمیشہ ( بلاوقفہ روازانہ ) روزے رکھتے ہو اور رات بھر قیام کرتے ہو اور جب تم ایسا ہی کرو گے تو ( ایسا کرنے والے کی ) آنکھیں اندر دھنس جائیں گی اور ( جا گ جاگ کر ) کمزور ہوجائیں گی ، ( اور جہاں تک اجر کا تعلق ہے تو ) جس نے ہمیشہ روزہ رکھا ، اس نے روزہ نہ رکھا ، مہینے میں سے تیس دن کے روزے پورے مہینے کے روزے ( متصور ) ہوں گے ۔ " میں نے عرض کی : میں اس سے زیادہ ( روزے رکھنے ) کی طاقت رکھتاہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم داود علیہ السلام کے روزے کی طرح روزے رکھو ، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ترک کرتے تھے اور ( دشمن سے ) آمنے سامنے کے وقت بھاگتے نہیں تھے ۔
وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً، يُخْبِرُ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، قَالَ كُنْتُ أَنَا وَابْنُ، عُمَرَ مُسْتَنِدَيْنِ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ وَإِنَّا لَنَسْمَعُ ضَرْبَهَا بِالسِّوَاكِ تَسْتَنُّ - قَالَ - فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَعْتَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي رَجَبٍ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ أَىْ أُمَّتَاهُ أَلاَ تَسْمَعِينَ مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَتْ وَمَا يَقُولُ قُلْتُ يَقُولُ اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي رَجَبٍ ‏.‏ فَقَالَتْ يَغْفِرُ اللَّهُ لأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَعَمْرِي مَا اعْتَمَرَ فِي رَجَبٍ وَمَا اعْتَمَرَ مِنْ عُمْرَةٍ إِلاَّ وَإِنَّهُ لَمَعَهُ ‏.‏ قَالَ وَابْنُ عُمَرَ يَسْمَعُ فَمَا قَالَ لاَ وَلاَ نَعَمْ ‏.‏ سَكَتَ ‏.‏
Ataa reported that 'Urwa b. Zubair (Allah be pleased with him) had informed him (this):I and Ibn 'Umar were reclining against the (wall) of the apartment of A'isha and we were listening to the sound produced by the brushing of her teeth. I said Abu Abd al-Rahman (the kunya of 'Abdullah b. Umar), did Allah's Apostle (ﷺ) perform 'Umra in the month of Rijab? He said: Yes. I said to 'A'isha: Mother, are you listening to what Abu Abd al-Rabman is saying? She said: What is he Saying? I said: He is saying that Allah's Apostle (ﷺ) performed 'Umra during the month of Rajab, whereupon she said: May Allah grant pardon to Abu Abd al-Rahman I By my life he (the Holy Prophet) did not perform 'Umra during the month of Rajab. And never was there an Umra performed by him (the Holy Prophet) in which he ('Abdullah b. 'Umar) did not join him. Ibn 'Umar heard this and said nothing to affirm It or to deny it, but kept quiet
ابو اسحاق سے روایت ہے کہا : میں نے زید بن را قم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پو چھا : آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر کتنی جنگیں لریں؟کہا : سترہ ۔ ( ابو اسحا ق نے ) کہا : مجھے زید بن را قم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کل ) انیس غزوے کیے ۔ آپ نے ہجرت کے بعد ایک ہی حج حجۃ الوداع ادا کیا ۔ ابو اسحاق نے کہا : آپ نے مکہ میں ( رہتے ہو ئے ) اور حج ( بھی ) کیے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا هَمَّ عَبْدِي بِحَسَنَةٍ وَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبْتُهَا لَهُ حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا كَتَبْتُهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ وَإِذَا هَمَّ بِسَيِّئَةٍ وَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ أَكْتُبْهَا عَلَيْهِ فَإِنْ عَمِلَهَا كَتَبْتُهَا سَيِّئَةً وَاحِدَةً ‏"‏ ‏.‏
It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) observed:Allah, the Great and Glorious, said: Whenever my bondsman intends to do good, but does not do it, I write one good act for him, but if he puts it into practice I wrote from ten to seven hundred good deeds in favour of him. When he intends to commit an evil, but does not actually do it, do not record it. But if he does it, I write only one evil
علاء کے والد عبد الرحمن بن یعقوب نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے کہا : ’’ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جب میرا بندہ کسی نیکی کا قصد کرے اور اس کو عمل میں نہ لائے تو میں اس کے لیے ایک نیکی لکھوں گا ، پھر اگر وہ اسے کر لے تو میں اس کو دس سے سات سو گنا برس تک لکھوں گا اور جب میرا بندہ کسی برائی کا قصدکرے اور اس کو عمل میں نہ لائے تو اس میں اس بندے کے خلاف نہیں لکھوں گا ، پھر اگر وہ اس پر عمل کرے تو میں ایک برائی لکھوں گا ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمْ أَرَضُونَ وَيَكْفِيكُمُ اللَّهُ فَلاَ يَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَلْهُوَ بِأَسْهُمِهِ ‏"‏ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Uqba b. Amir who said:I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Lands shall be thrown open to you and Allah will suffice you (against your enemies), but none of you should give up playing with his arrows
ابن وہب نے کہا : مجھے عمرو بن حارث نے ابوعلی ( ثمامہ بن شفی ) سے خبر دی ، انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " جلد ہی تمہارے لیے بہت سی زمینوں ( پر قبضے ) کے دروازے کھول دیے جائیں گے اور اللہ تمہارے لیے کافی ہو گا ، اس لیے تم میں سے کوئی اپنے تیروں کی مشق سے غافل نہ رہے ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ح وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الاِثْنَيْنِ وَطَعَامُ الاِثْنَيْنِ يَكْفِي الأَرْبَعَةَ وَطَعَامُ الأَرْبَعَةِ يَكْفِي الثَّمَانِيَةَ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ إِسْحَاقَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ لَمْ يَذْكُرْ سَمِعْتُ ‏.‏
Jabir b. 'Abdullah reported:I heard Allah'. s Messenger (ﷺ) as saying: Food for one person suffices two persons and food for two persons suffices four persons, and food for four persons suffices eight persons; and in the tradition transmitted on the authority of Ishaq there is no mention of the fact that he heard it directly (from the Holy Prophet)
اسحاق بن ابراہیم اور یحییٰ بن حبیب نے روح بن عبادہ سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابن جریج نےبتایا ، کہا : مجھے ابو زبیر نے خبر دی کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ فرمارہے تھے : "" ایک آدمی کا کھانا دو کےلیے کافی ہوجاتا ہے ۔ اور دو کا کھانا چار کے لئے کافی ہوجاتا ہے ۔ اور چار کا کھانا آٹھ کے لئے کافی ہوجاتا ہے ۔ "" اور اسحاق کی روایت میں ہے : ( حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : "" میں نے سنا "" کے الفاظ ذکر نہیں کیے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، بْنِ قُرَّةَ عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ، أَتَى عَلَى سَلْمَانَ وَصُهَيْبٍ وَبِلاَلٍ فِي نَفَرٍ فَقَالُوا وَاللَّهِ مَا أَخَذَتْ سُيُوفُ اللَّهِ مِنْ عُنُقِ عَدُوِّ اللَّهِ مَأْخَذَهَا ‏.‏ قَالَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَتَقُولُونَ هَذَا لِشَيْخِ قُرَيْشٍ وَسَيِّدِهِمْ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ ‏ "‏ يَا أَبَا بَكْرٍ لَعَلَّكَ أَغْضَبْتَهُمْ لَئِنْ كُنْتَ أَغْضَبْتَهُمْ لَقَدْ أَغْضَبْتَ رَبَّكَ ‏"‏ ‏.‏ فَأَتَاهُمْ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ يَا إِخْوَتَاهْ أَغْضَبْتُكُمْ قَالُوا لاَ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ يَا أُخَىَّ ‏.‏
A'idh b. Amr reported that Abu Sufyan came to Salman, Suhaib and Bilal in the presence of a group of persons. They said:By Allah, the sword of Allah did not reach the neck of the enemy of Allah as it was required to reach. Thereupon Abu Bakr said: Do you say this to the old man of the Quraish and their chief? Then he came to Allah's Apostle (may peace be upon'him) and informed him of this. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Abu Bakr, you have perhaps annoyed them and if you annoyed them you have in fact annoyed your Lord. So Abu Bakr came to them and said: O my brothers, I have annoyed you. They said: No, our brother, may Allah forgive you
معاویہ بن قرہ نے عائذ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ابوسفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ چند اور لوگوں کی موجودگی میں حضرت سلیمان ، حضرت صہیب اور حضرت بلال رضوان اللہ عنھم اجمعین کے پاس سے گزرے تو انھوں نے کہا : اللہ کی قسم! اللہ کی تلواریں اللہ کے دشمن کی گردن میں اپنی جگہ تک نہیں پہنچیں ۔ کہا : اس پر ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فر ما یا : تم لوگ قریش کے شیخ اور سردار کے متعلق یہ کہتے ہو ۔ پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو یہ بات بتا ئی تو آپ نے فر ما یا : " ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! شاید تم نے ان کو ناراض کر دیا ہے ۔ اگر تم نے ان کو ناراض کر دیا ہے تو اپنے رب کو ناراض کر دیا ہے ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے پاس آئے اور کہا : میرے بھائیو! کیا میں نے تم کو ناراض کردیا؟ انھوں نے کہا : نہیں بھا ئی ! اللہ آپ کی مغفرت فر ما ئے ۔