بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
4
9 hadith
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ، قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ نَهَانِي حِبِّي صلى الله عليه وسلم أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا ‏.‏
Ali reported:My loved one (the Holy Prophet) forbade me that I should recite (the Qur'an) in a state of bowing and prostration
داؤد بن قیس نے کہا : مجھے ابراہیم بن عبد اللہ بن حنین نے اپنے والد ، انہوں نے حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے حضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ میرے حبیبﷺ نے مجھے اس بات سے منع فرمایا تھا کہ میں رکوع یا سجدے میں قرآن پڑھوں ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ غَالِبٍ الْقَطَّانِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي شِدَّةِ الْحَرِّ فَإِذَا لَمْ يَسْتَطِعْ أَحَدُنَا أَنْ يُمَكِّنَ جَبْهَتَهُ مِنَ الأَرْضِ بَسَطَ ثَوْبَهُ فَسَجَدَ عَلَيْهِ ‏.‏
Anas b. Malik reported:We used to say (the noonprayer) with the Messenger of Allah (ﷺ) in the intense heat, but when someone amongst us found it hard to place his forehead on the ground, he spread his cloth and prostrated on it
حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ ہم گرمی کی شدت میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے ، جب ہم میں سے کوئی اپنی پیشانی زمین پر نہ رکھ سکتا تو اپنا کپڑا پھیلا کر اس پر سجدہ کر لیتا
وَحَدَّثَنَاهُ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ، إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَمِّهِ، الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنِ الأَعْرَجِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلاَةَ كَبَّرَ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ وَجَّهْتُ وَجْهِي ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ ‏"‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُوَرَهُ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ وَإِذَا سَلَّمَ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ ‏"‏ .‏ إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ وَلَمْ يَقُلْ بَيْنَ التَّشَهُّدِ وَالتَّسْلِيمِ ‏.‏
A'raj reported that when the Messenger of Allah (ﷺ) would start the prayer, he would pronounce takbir (Allah-o-Akbar) and then say:I turn my face (up to Thee), I am the first of the believers; and when he raised his head from ruku' he said: Allah listened to him who praised Him; O our Lord, praise be to Thee; and he said: He shaped (man) and how fine is his shape? And he (the narrator) said: When he pronounced salutation he said: O Allah, forgive me my earlier (sins), to the end of the hadith; and he did not say it between the Tashahhud and salutation (as mentioned above)
عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابی سلمہ نے اپنے چچا الماجثون ( یعقوب ) بن ابی سلمہ سے اور انھوں نے ( عبدالرحمان ) اعرج سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کا آغاز فرماتے تو اللہ اکبر کہتے ، پھر د عا پڑھتے : وجهت وجهيي اس میں ( کے بجائے ) " انا من المسلمين " اور میں اطاعت وفرمانبرداری میں اولین ( مقام پر فائز ) ہوں " کے الفاظ ہیں اور کہا : جب آپ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو " سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد " کہتے اورصوره ( اس کی صورت گری کی ) کے بعد " فاحسن صوره " ( اس کو بہترین شکل وصورت عنایت فرمائی ) کے الفاظ کہے اور کہا جب سلام پھیرتے تو کہتے : " اللهم اغفرلي ما قدمت " اے اللہ! بخش دے جو میں نے پہلے کیا ۔ " حدیث کے آخر تک اور انھوں نے " تشہد اور سلام پھیرنے کے درمیان " کے الفاظ نہیں کہے ۔
وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ إِنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ أَخْبَرَهُ ‏.‏ قَالَ مُسْلِمٌ أَبُو الْعَبَّاسِ السَّائِبُ بْنُ فَرُّوخَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ ثِقَةٌ عَدْلٌ ‏.‏
This hadith has been narrated by Ibn Juraij with the same chain of transmitters. Imam Muslim has narrated this hadith on the authority of Abu 'Abbas al-Sa'ib b. Farrukh and he was a trustworthy and reliable (narrator) among the people of Mecca
محمد بن بکر نے ہم سے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں ابن جریج نے اسی سند سے ( سابقہ حدیث کے مانند ) حدیث سنائی اور کہا کہ ابو عباس الشاعر نے ان کوخبر دی ۔ امام مسلم ؒ نے کہا : ابو عباس سائب بن فروخ اہل مکہ سے ہیں ، ثقہ اورعدول ہیں ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ كَمْ غَزَوْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ سَبْعَ عَشْرَةَ ‏.‏ قَالَ وَحَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَزَا تِسْعَ عَشْرَةَ وَأَنَّهُ حَجَّ بَعْدَ مَا هَاجَرَ حَجَّةً وَاحِدَةً حَجَّةَ الْوَدَاعِ ‏.‏ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ وَبِمَكَّةَ أُخْرَى ‏.‏
Abu lshaq said:I asked Zaid b. Arqam: In how many military expeditions have you participated with Allah's Messenger (ﷺ)? He said: In seventeen (expeditions). He (Abu Ishaq) said: Zaid b. Arqam reported to me that Allah's Messenger (ﷺ) had led nineteen expeditions. And he performed Hajj only once after Migration, and that was the Farewell Pilgrimage. Abu Ishaq also said: The second (Hajj) he performed at Mecca (before his Migration to Medina)
محمد بن مثنیٰ نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) مجھے عبد الصمد نے حدیث سنا ئی ( کہا ) ہمیں ہمام نے حدیث بیان کی ( کہا : ) ہمیں قتادہ نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پو چھا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے حج کیے ؟ انھوں نے کہا : حج ایک ہی کیا ( البتہ ) عمرے چار کیے ، پھر آگے ہذاب کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لأَبِي بَكْرٍ قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا - ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا هَمَّ عَبْدِي بِسَيِّئَةٍ فَلاَ تَكْتُبُوهَا عَلَيْهِ فَإِنْ عَمِلَهَا فَاكْتُبُوهَا سَيِّئَةً وَإِذَا هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا فَاكْتُبُوهَا حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا فَاكْتُبُوهَا عَشْرًا ‏"‏ ‏.‏
It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) said:The Great and the Glorious Lord said (to angels): Whenever My bondsman intends to corn it an evil, do not record it against him, but if he actually commits it, then write it as one evil. And when he intends to do good but does not do it, then take it down is one act of goodness, but if he does it, then write down ten good deeds (in his record)
اعرج نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ عز وجل نے فرمایا : جب میرا بندہ کسی برائی کا قصد کرے تو اس کو ( اس کے نامہ اعمال میں ) نہ لکھو ۔ اگر وہ اس کو کر گزرے تو اسے ایک برائی لکھو ۔ اور جب کسی نیکی کا قصد کرے تو اس کو ایک نیکی لکھ لو ، پھر اگر اس پر عمل کرے تو دس نیکیاں لکھو ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ، ثُمَامَةَ بْنِ شُفَىٍّ أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ ‏ "‏ وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ أَلاَ إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْىُ أَلاَ إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْىُ أَلاَ إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْىُ ‏"‏
It has been narrated on the authority of Ibn Amir who said:I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say-and he was delivering a sermon from the pulpit: Prepare to meet them with as much strength as you can afford. Beware, strength consists in archery. Beware, strength consists in archery. Beware, strength consists in archery
ثمامہ بن شُفی سے روایت ہے ، انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ منبر پر فرما رہے تھے : " ( عربی ) " تم ان کے مقابلے کے لیے جتنی کر سکو ، قوت تیار کرو ۔ " ( الانفال 60 : 8 ) سن رکھو! قوت تیر اندازی ( کا نام ) ہے ، سن رکھو! قوت تیر اندازی ( کا نام ) ہے ، سن رکھو! قوت تیر اندازی ( کا نام ) ہے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ طَعَامُ الاِثْنَيْنِ كَافِي الثَّلاَثَةِ وَطَعَامُ الثَّلاَثَةِ كَافِي الأَرْبَعَةِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Food for two persons suffices three persons and food for three persons suffices four persons
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دو آدمیوں کا کھانا تین کے لئے کفایت کرنے والا ہوتاہے اور تین کا کھانا چار کو کافی ہوتا ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنِي بُرَيْدٌ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ بَلَغَنَا مَخْرَجُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ بِالْيَمَنِ فَخَرَجْنَا مُهَاجِرِينَ إِلَيْهِ أَنَا وَأَخَوَانِ لِي أَنَا أَصْغَرُهُمَا أَحَدُهُمَا أَبُو بُرْدَةَ وَالآخَرُ أَبُو رُهْمٍ - إِمَّا قَالَ بِضْعًا وَإِمَّا قَالَ ثَلاَثَةً وَخَمْسِينَ أَوِ اثْنَيْنِ وَخَمْسِينَ رَجُلاً مِنْ قَوْمِي - قَالَ فَرَكِبْنَا سَفِينَةً فَأَلْقَتْنَا سَفِينَتُنَا إِلَى النَّجَاشِيِّ بِالْحَبَشَةِ فَوَافَقْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَأَصْحَابَهُ عِنْدَهُ فَقَالَ جَعْفَرٌ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَنَا هَا هُنَا وَأَمَرَنَا بِالإِقَامَةِ فَأَقِيمُوا مَعَنَا ‏.‏ فَأَقَمْنَا مَعَهُ حَتَّى قَدِمْنَا جَمِيعًا - قَالَ - فَوَافَقْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ فَأَسْهَمَ لَنَا - أَوْ قَالَ أَعْطَانَا مِنْهَا - وَمَا قَسَمَ لأَحَدٍ غَابَ عَنْ فَتْحِ خَيْبَرَ مِنْهَا شَيْئًا إِلاَّ لِمَنْ شَهِدَ مَعَهُ إِلاَّ لأَصْحَابِ سَفِينَتِنَا مَعَ جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ قَسَمَ لَهُمْ مَعَهُمْ - قَالَ - فَكَانَ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ يَقُولُونَ لَنَا - يَعْنِي لأَهْلِ السَّفِينَةِ - نَحْنُ سَبَقْنَاكُمْ بِالْهِجْرَةِ ‏.‏ قَالَ فَدَخَلَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ - وَهِيَ مِمَّنْ قَدِمَ مَعَنَا - عَلَى حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم زَائِرَةً وَقَدْ كَانَتْ هَاجَرَتْ إِلَى النَّجَاشِيِّ فِيمَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِ فَدَخَلَ عُمَرُ عَلَى حَفْصَةَ وَأَسْمَاءُ عِنْدَهَا فَقَالَ عُمَرُ حِينَ رَأَى أَسْمَاءَ مَنْ هَذِهِ قَالَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ ‏.‏ قَالَ عُمَرُ الْحَبَشِيَّةُ هَذِهِ الْبَحْرِيَّةُ هَذِهِ فَقَالَتْ أَسْمَاءُ نَعَمْ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ سَبَقْنَاكُمْ بِالْهِجْرَةِ فَنَحْنُ أَحَقُّ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْكُمْ ‏.‏ فَغَضِبَتْ وَقَالَتْ كَلِمَةً كَذَبْتَ يَا عُمَرُ كَلاَّ وَاللَّهِ كُنْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُطْعِمُ جَائِعَكُمْ وَيَعِظُ جَاهِلَكُمْ وَكُنَّا فِي دَارِ أَوْ فِي أَرْضِ الْبُعَدَاءِ الْبُغَضَاءِ فِي الْحَبَشَةِ وَذَلِكَ فِي اللَّهِ وَفِي رَسُولِهِ وَايْمُ اللَّهِ لاَ أَطْعَمُ طَعَامًا وَلاَ أَشْرَبُ شَرَابًا حَتَّى أَذْكُرَ مَا قُلْتَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ كُنَّا نُؤْذَى وَنُخَافُ وَسَأَذْكُرُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَسْأَلُهُ وَوَاللَّهِ لاَ أَكْذِبُ وَلاَ أَزِيغُ وَلاَ أَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّ عُمَرَ قَالَ كَذَا وَكَذَا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَيْسَ بِأَحَقَّ بِي مِنْكُمْ وَلَهُ وَلأَصْحَابِهِ هِجْرَةٌ وَاحِدَةٌ وَلَكُمْ أَنْتُمْ أَهْلَ السَّفِينَةِ هِجْرَتَانِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُوسَى وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ يَأْتُونِي أَرْسَالاً يَسْأَلُونِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ مَا مِنَ الدُّنْيَا شَىْءٌ هُمْ بِهِ أَفْرَحُ وَلاَ أَعْظَمُ فِي أَنْفُسِهِمْ مِمَّا قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ أَبُو بُرْدَةَ فَقَالَتْ أَسْمَاءُ فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُوسَى وَإِنَّهُ لَيَسْتَعِيدُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنِّي ‏.‏
Abu Musa reported:We were in Yemen when we heard of the migration of Allah's Messenger (ﷺ). We also set out as immigrants to him. And I was accompanied by two brothers of mine, I being the youngest of them; one of them was Abu Burda and the other one was Abu Ruhm, and there were some other persons with them. Some say they were fifty-three or fifty-two persons of my tribe. We embarked upon a boat, and the boat sailed away to the Negus of Abyssinia. There we met Ja'far b. Abu Talib and his companions. Ja'far said: Allall's Messenger (ﷺ) has sent us here and has commanded us to stay here and you should also stay with us. So we stayed with him and we came back (to Medina) and met Allah's Messenger (ﷺ) when Khaibar had been conquered. He (the Holy Prophet) allocated a share to us and in the ordinary course he did not allocate the share to one who had been absent on the occasion of the conquest of Khaibar but conferred (a share) upon him only who had been present there with him. He, however, made an exception for the people of the boat, viz. for Ja'far and his companions. He allocated a share to them, and some persons from amongst the people said to us, viz. the people of the boat: We have preceded you in migration. Asma' bint 'Umais who had migrated to Abyssinia and had come back along with them (along with immigrants) visited Hafsa, the wife of Allah's Apostle (ﷺ). (Accordingly), Umar had been sitting with her (Hafsa). As 'Umar saw Asma, he said: Who is she? She (Hafsa) said: She is Asma, daughter of 'Umais. He said: She is an Abyssinian and a sea-woman. Asma said: Yes, it is so. Thereupon 'Umar said: We preceded you in migration and so we have more right to Allah's Messenger (ﷺ) as compared with you. At this she felt annoyed and said: 'Umar, you are not stating the fact; by Allah, you had the privilege of being in the company of the Messenger (ﷺ) who fed the hungry among you and instructed the ignorant amongst you, whereas we had been far (from here) in the land of Abyssinia amongst the enemies and that was all for Allah and Allah's Messenger (ﷺ) and, by Allah, I would never take food nor take water unless I make a mention to Allah's Messenger (ﷺ) of what you have said. We remained in that country in constant trouble and dread and I shall talk about it to Allah's Messenger (way peace be upon him) and ask him (about it). By Allah, I shall not tell a lie and deviate (from the truth) and add anything to that. So, when Allah's Apostle (ﷺ) came, she said: Allah's Apostle, 'Umar says so and so. Upon this Allah's Messenger (ﷺ) said: His right is not more than yours, for him and his companions there is one migration, but for you, i. e. for the people of the boat, there are two migrations. She said: I saw Abu Musa and the people of the boat coming to me in groups and asking me about this hadith, because there was nothing more pleasing and more significant for them than this. Abu Burda reported that Asma said: I saw Abu Musa, asking me to repeat this hadith to him again and again
بُرَید نے ابو بُردہ سے انھوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ( مکہ سے ) نکلنے کی خبر ملی تو ہم یمن میں تھے ۔ ہم ( بھی ) آپ کی طرف ہجرت کرتے ہو ئے نکل پڑے ۔ میں میرے دو بھا ئی جن سے میں چھوٹا تھا ۔ ایک ابو بردہ اور دوسرا ابو رہم ۔ ۔ ۔ اور میری قوم میں سے پچاس سے کچھ اوپریا کہا : تریپن یا باون لوگ ( نکلے ) ۔ ۔ کہا : ہم کشتی میں سوار ہو ئے تو ہماری کشتی نے ہمیں حبشہ میں نجا شی کے ہاں جا پھینکا ۔ اس کے ہاں ہم حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ اکٹھے ہو گئے ۔ جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہاں بھیجا ہے اور ہمیں یہاں ٹھہرنے کا حکم دیا ہے تم لو گ بھی ہمارے ساتھ یہیں ٹھہرو ۔ کہا : ہم ان کے ساتھ ٹھہرگئے ۔ حتی کہ ہم سب اکٹھے ( واپس ) آئے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( عین ) اس وقت آکر ملے جب آپ نے خیبر فتح کیا تو آپ نے ہمارا بھی حصہ نکا لا یا کہا : ہمیں بھی اس مال میں سے عطا فر ما یا : آپ نے کسی شخص کو بھی جو فتح خیبر میں مو جود نہیں تھا کو ئی حصہ نہیں دیا تھا ، سوائے ان لوگوں کے جو آپ کے ساتھ ( فتح میں ) شریک تھے مگر حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے ہمراہ ہماری کشتی والوں کو دیا ، ان کے لیے ان ( فتح میں شریک ہو نے والوں ) کے ساتھ ہی حصہ نکا لا ۔ کہا : تو ان میں سے کچھ لوگ ہمیں ۔ ۔ ۔ یعنی کشتی والوں کو ۔ ۔ ۔ کہتے تھے ، ہم نے ہجرت میں تم سے سبقت حاصل کی ۔