وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّهُ قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَلاَ أَقُولُ نَهَاكُمْ .
Ali b. Abi Talib reported:The Messenger of Allah (ﷺ) forbade me from the recitation (of the Qur'an) in bowing and prostration and I do not say that he forbade you
زید بن اسلم نے ابراہیم بن عبد اللہ بن حنین سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے رسول اللہﷺ نے رکوع اور سجدے میں ( قرآن کی ) قراءت کرنے سے منع کیا ۔ میں ( یہ ) نہیں کہتا : تمہیں منع کیا ۔ ( حضرت علی نے اپنے حوالےا سے جو سنا وہی بتایا ۔ پچھلی احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ حکم سب کے لیے ہے ۔)
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، وَعَوْنُ بْنُ سَلاَّمٍ، - قَالَ عَوْنٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ يُونُسَ، وَاللَّفْظُ، لَهُ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، - قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ خَبَّابٍ، قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ حَرَّ الرَّمْضَاءِ فَلَمْ يُشْكِنَا . قَالَ زُهَيْرٌ قُلْتُ لأَبِي إِسْحَاقَ أَفِي الظُّهْرِ قَالَ نَعَمْ . قُلْتُ أَفِي تَعْجِيلِهَا قَالَ نَعَمْ .
Khabbab reported:We came to the Messenger of Allah (ﷺ) and we complained to the Messenger of Allah (ﷺ) about (saying prayer) on the extremely heated ground (or sand), but he paid no heed to us. Zuhair said: I asked Abu Ishaq whether it was about the noon prayer. He said: Yes. I again said whether it concerned the (offering) of the noon (prayer) in earlier hours. He said: Yes. I said: Did it concern expediting it? He said: Yes
زہیر نے کہا : ہمیں ابو اسحاق نے سعید بن وہب سے حدیث سنائی اور انھوں نے حضرت خباب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے ریت کی گرمی کی شکایت کی تو آپ نے ہماری شکایت کا ازالہ نہ فرمایا ۔ زہیر نے کہا : میں نے ابو اسحاق سے پوچھا : کیا ظہر کے بارے میں ( شکایت کی ؟ ) انھوں نے جواب دیا : ہاں ۔ میں نےکہا : کیا اس کو جلد ی پڑھنے ( کی مشقت ) کے بارے میں ؟ انھوں نے جواب دیا : ہاں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْمَاجِشُونُ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَبْدِ، الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ قَالَ " وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلاَتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَاىَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ . أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّهُ لاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ وَاهْدِنِي لأَحْسَنِ الأَخْلاَقِ لاَ يَهْدِي لأَحْسَنِهَا إِلاَّ أَنْتَ وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لاَ يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلاَّ أَنْتَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ " . وَإِذَا رَكَعَ قَالَ " اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعَظْمِي وَعَصَبِي " . وَإِذَا رَفَعَ قَالَ " اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الأَرْضِ وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَىْءٍ بَعْدُ " . وَإِذَا سَجَدَ قَالَ " اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ " . ثُمَّ يَكُونُ مِنْ آخِرِ مَا يَقُولُ بَيْنَ التَّشَهُّدِ وَالتَّسْلِيمِ " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ " .
Ali b. Abu Talib reported that when the Messenger of Allah (ﷺ) got up at night for prayer he would say:I turn my face in complete devotion to One Who is the Originator of the heaven and the earth and I am not of the polytheists. Verily my prayer, my sacrifice, my living and my dying are for Allah, the Lord of the worlds; There is no partner with Him and this is what I have been commanded (to profess and believe) and I am of the believers. O Allah, Thou art the King, there is no god but Thee, Thou art my Lord, and I am Thy bondman. I wronged myself and make a confession of my Sin. Forgive all my sins, for no one forgives the sins but Thee, and guide me in the best of conduct for none but Thee guideth anyone (in) good conduct. Remove sins from me, for none else but Thou can remove sins from me. Here I am at Thy service, and Grace is to Thee and the whole of good is in Thine hand, and one cannot get nearneststo Thee through evil. My (power as well as existence) is due to Thee (Thine grace) and I turn to Thee (for supplication). Thou art blessed and Thou art exalted. I seek forgiveness from Thee and turn to Thee in repentance: and when he would bow, he would say: O Allah, it is for Thee that I bowed. I affirm my faith in Thee and I submit to Thee, and submit humbly before Thee my hearing, my eyesight, my marrow, my bone, my sinew; and when he would raise his head, he would say: O Allah, our Lord, praise is due to Thee, (the praise) with which is filled the heavens and the earth, and with which is filled that (space) which exists between them, and filled with anything that Thou desireth afterward. And when he prostrated himself, he (the Holy Prophet) would say: O Allah, it is to Thee that I prostrate myself and it is in Thee that I affirm my faith, and I submit to Thee. My face is submitted before One Who created it, and shaped it, and opened his faculties of hearing and seeing. Blessed is Allah, the best of Creators; and he would then say between Tashahhud and the pronouncing of salutation: Forgive me of the earlier and later open and secret (sins) and that where I made transgression and that Thou knowest better than I. Thou art the First and the Last. There is no god, but Thee
یوسف ماجثون نے کہا : مجھ سے میرے والد ( یعقوب بن ابی سلمہ ماجثون ) نے عبدالرحمان اعرج سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عبیداللہ بن ابی رافع سے ، انھوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ر وایت کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے کھڑ ے ہوتے تھے تو فرماتے : "" میں نے اپنا رخ اس ذات کی طرف کردیا ہے ۔ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا ، ہر طرف سے یکسو ہوکر ، اور میں اس کے ساتھ شریک ٹھہرانے والوں میں سے نہیں ، میری نماز اور میری ہر ( بدنی ومالی ) عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ کے لئے ہے جو کائنات کا رب ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں اور اسی کا مجھے حکم ملا ہے اور میں فرمانبرداری کرونے والوں میں سے ہوں ۔ اے اللہ ! تو ہی بادشاہ ہے تیرے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں ، تو میرا رب ہے میں تیرا بندہ ہوں اور میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے اور اپنے گناہ کا اعتراف کیا ہے ، اس لئے میرے سارے گناہ بخش دے کیونکہ گناہوں کو بخشنے والا تیرے سوا کوئی نہیں ، اور میری بہترین اخلاق کی طرف راہنمائی فرما ، تیرے سوا بہترین اخلاق کی راہ پر چلانے والا کوئی نہیں ، اور برے اخلاق مجھ سے ہٹا دے ، تیرے سوا برے اخلاق کو مجھ سے دور کرنے والا کوئی نہیں ، میں تیرے حضور حاضر ہوں اور دونوں جہانوں کی سعادتیں تجھ سے ہیں ہر طرح کی بھلائی تیر ے ہاتھ میں ہے اور برائی کا تیر ی طرف کوئی گزر نہیں ہے میں تیرے ہی سہارے ہوں ، اور تیری ہی طرف میرا رخ ہے ، تو برکت والا رفعت والا اور بلندی والا ہے میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور تیرے حضور توبہ کر تا ہوں ۔ "" اور جب آپ رکوع کرتے تو فرماتے : "" اے اللہ ! میں تیرے سامنے جھکا ہوا ہوں اور میں تجھ ہی پر ایمان لایاہوں ، اپنے آپ کو تیرے ہی سپرد کر دیا ہے ، میرے کان اور میری آنکھیں اور میرا مغز اور میری ہڈیاں اور میری رگیں اور میرے پٹھے تیرے ہی حضور جھکے ہوئے ہیں ۔ "" اور جب رکوع سے اٹھتے تو کہتے : "" اے اللہ! ہمارے رب ، تیرے ہی لئے حمد ہے جس سے آ سمانوں اور زمین کی وسعتیں بھر جائیں اور اس کے بعد جو تو چاہے اس کی وسعتیں بھر جائیں ۔ "" اور جب آپ سجدہ کرتے تو کہتے : "" اے اللہ!میں نے تیرے ہی حضور سجدہ کیااور تجھ ہی پر ایمان لایا اور ا پنے آپ کو تیرے ہی حوالے کیا ، میرا چہرہ اس ذات کے سامنے سجدہ ریز ہے جس نےاسے پیدا کیا ، اس کی صورت گری کی اور اس کے کان اور اس کی آنکھیں تراشیں ، برکت والاہے اللہ جو بہترین خالق ہے ۔ "" پھر تشہد اور سلام کے درمیان میں یہ دعا پڑھتے ۔ "" اے اللہ ! بخش دے جو خطائیں میں نے پہلے کیں یا بعد میں کیں اور چھپا کر کہیں یا علانیہ کیں اور جو بھی زیادتی میں نے کی اور جس کا مجھ سے زیادہ تمھیں علم ہے ( اطاعت اور خیر میں ) تو ہی آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے اور تیرے سوا کوئی عبادت کا حقدار نہیں ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً، يَزْعُمُ أَنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، - رضى الله عنهما - يَقُولُ بَلَغَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَصُومُ أَسْرُدُ وَأُصَلِّي اللَّيْلَ فَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَىَّ وَإِمَّا لَقِيتُهُ فَقَالَ " أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ وَلاَ تُفْطِرُ وَتُصَلِّي اللَّيْلَ فَلاَ تَفْعَلْ فَإِنَّ لِعَيْنِكَ حَظًّا وَلِنَفْسِكَ حَظًّا وَلأَهْلِكَ حَظًّا . فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَصَلِّ وَنَمْ وَصُمْ مِنْ كُلِّ عَشْرَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ تِسْعَةٍ " . قَالَ إِنِّي أَجِدُنِي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ . قَالَ " فَصُمْ صِيَامَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ " . قَالَ وَكَيْفَ كَانَ دَاوُدُ يَصُومُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ " كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا وَلاَ يَفِرُّ إِذَا لاَقَى " . قَالَ مَنْ لِي بِهَذِهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ عَطَاءٌ فَلاَ أَدْرِي كَيْفَ ذَكَرَ صِيَامَ الأَبَدِ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ صَامَ مَنْ صَامَ الأَبَدَ لاَ صَامَ مَنْ صَامَ الأَبَدَ لاَ صَامَ مَنْ صَامَ الأَبَدَ " .
Abdu'llah b. 'Amr b. 'As (Allah be pleased with them) reported:It was conveyed to the Messenger of Allah (ﷺ) that I observe fast successively and pray during the whole night. He sent for me or I met him and he (the Holy Prophet) said: It has been conveyed to me that you observe fast continuously and do not break it and pray during the whole night. Don't do that. for there is share for your eyes, share for your own self, share for your family; so observe fast and break it, pray and sleep and observe fast for one day during the ten days, and there is a reward for you (for other) nine (days besides the tenth day of the fast). I said: Apostle of Allah, I find myself more powerful than this. He said: Then observe the fast of David (peace be upon him). He ('Amr) said: Apostle of Allah, how did David observe fast? He (the Holy Prophet) said: He used to fast one day and break it on the other day, and he did not run (from the battlefield) as he encountered (the enemy). He said: Apostle of Allah, who can guarantee this for me (will I also encounter the enemy dauntlessly)? 'Ata', the narrator of the hadith, said: I do not know how there (crept in) the matter of perpetual fast. The Apostle of Allah (ﷺ), however, said: He who observed perpetual fast did not fast at all; he who observed perpetual fast did not fast at all, he who observed perpetual fast did not fast at all
عبدالرزاق نے کہا : ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، کہا : میں نے عطاء سے سنا وہ کہتے تھے کہ ابو عباس نے ان کوخبر دی کہ انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ میں روزے رکھتا ہوں ، لگاتار رکھتا ہوں اور رات بھر قیام کرتاہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پیغام بھیجا یا میری آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا مجھے نہیں بتایا گیا کہ تم روزے رکھتے ہواور ( کوئی روزہ ) نہیں چھوڑتے اور رات بھر نماز پڑھتے ہو؟تم ایسا نہ کرو کیونکہ ( تمھارے وقت میں سے ) تمھاری آنکھ کا بھی حصہ ہے ۔ ( کہ وہ نیند کے دوران میں آرام کرے ) اور تمھاری جان کا بھی حصہ ہے ۔ اور تمھارے گھر والوں کا بھی حصہ ہے ۔ لہذا تم روزے رکھو بھی اور ترک بھی کرو ، نماز پڑو آرام بھی کرو ، اور ہردس دن میں سے ایک دن کاروزہ رکھو اور تمھیں ( باقی ) نو دنوں کا ( بھی ) اجر ملے گا ۔ " کہا : اے اللہ کے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میں خود کو اس سے زیادہ طاقت رکھنے والا پاتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " توپھر داودعلیہ السلام کے سے روزے رکھو ۔ " کہا : اے اللہ کے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) !داودعلیہ السلام کے روزے کس طرح تھے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے ایک دن افطار کرتے تھے اورجب ( دشمن سے ) آمنا سامنا ہوتا تو بھاگتے نہیں تھے ۔ " کہا : اے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے اس کی ضمانت کون دےگا ( کہ میری زندگی کا ہردن روزے سے شمار ہوگا؟ ) عطاء نے کہا : میں نہیں جانتا کہ انھوں نے ہمیشہ روزہ رکھنے کا ذکر کس طرح کیا ۔ تونبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس نے روزہ نہیں رکھا جس نے ( وقفے کے بغیر ) ہمیشہ روزہ رکھا ، اس نے روزہ نہیں رکھا جس نے ہمیشہ روزہ رکھا ۔ " اس نے روزہ نہیں رکھا جس نے ہمیشہ روزہ رکھا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا كَمْ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ حَجَّةً وَاحِدَةً وَاعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ . ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ هَدَّابٍ .
Qatada said:I asked Anas (Allah be pleased with him) as to how many Pilgrimages had been performed by Allah's Messenger (ﷺ), and he replied: One Hajj and four `Umras were performed by him. The rest of the hadith is the same
ہذاب بن خالد نے ہمیں حدیث سنا ئی ( کہا ) ہمیں ہمام نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا ) ہمیں قتادہ نے حدیث بیان کی کہ حجرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتا یا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کل ) چار عمرے کیے ، اور اپنے حج والے عمرے کے سوا تمام عمرے ذوالقعدہ ہی میں کیے ۔ ایک عمرہ حدیبیہ سے یا حدیبیہ کے زمانے کا ذوالقعد ہ میں ( جو عملاً نہ ہو سکا لیکن حکماً ہو گیا ) اور دوسرا عمرہ ( اس کی ادائیگی کے لیے ) اگلے سال ذوالقعدہ میں ادا فرمایا ( تیسرا ) عمرہ جعرانہ مقام سے ( آکر ) کیا جہا ں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے اموال غنیمت تقسیم فرما ئے ۔ ( یہ بھی ) ذوالقعدہ میں کیا اور ( چوتھا ) عمرہ آپ نے اپنے حج کے ساتھ ذوالحجہ میں ) ادا کیا ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، وَهِشَامٌ، ح وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ شَيْبَانَ، جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
The same hadith has been narrated by Zuhair b. Harb, Waki, Ishaq b. Mansur, Husain b. 'Ali
مسعر ، ہشام اور شیبان سب نے قتادہ سے سابقہ سند کے ساتھ اسی حدیث کی طرح روایت کی ۔
وَحَدَّثَنَاهُ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَاصِمٍ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ .
This hadith has been narrated on the authority of 'Asim through the same chain of transmitters
علی بن مسہر نےعاصم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ الْعَطَّارُ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ نَزَلَ عَلَيْنَا أَضْيَافٌ لَنَا - قَالَ - وَكَانَ أَبِي يَتَحَدَّثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ اللَّيْلِ - قَالَ - فَانْطَلَقَ وَقَالَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ افْرُغْ مِنْ أَضْيَافِكَ . قَالَ فَلَمَّا أَمْسَيْتُ جِئْنَا بِقِرَاهُمْ - قَالَ - فَأَبَوْا فَقَالُوا حَتَّى يَجِيءَ أَبُو مَنْزِلِنَا فَيَطْعَمَ مَعَنَا - قَالَ - فَقُلْتُ لَهُمْ إِنَّهُ رَجُلٌ حَدِيدٌ وَإِنَّكُمْ إِنْ لَمْ تَفْعَلُوا خِفْتُ أَنْ يُصِيبَنِي مِنْهُ أَذًى - قَالَ - فَأَبَوْا فَلَمَّا جَاءَ لَمْ يَبْدَأْ بِشَىْءٍ أَوَّلَ مِنْهُمْ فَقَالَ أَفَرَغْتُمْ مِنْ أَضْيَافِكُمْ قَالَ قَالُوا لاَ وَاللَّهِ مَا فَرَغْنَا . قَالَ أَلَمْ آمُرْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ قَالَ وَتَنَحَّيْتُ عَنْهُ فَقَالَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ . قَالَ فَتَنَحَّيْتُ - قَالَ - فَقَالَ يَا غُنْثَرُ أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ إِنْ كُنْتَ تَسْمَعُ صَوْتِي إِلاَّ جِئْتَ - قَالَ - فَجِئْتُ فَقُلْتُ وَاللَّهِ مَا لِي ذَنْبٌ هَؤُلاَءِ أَضْيَافُكَ فَسَلْهُمْ قَدْ أَتَيْتُهُمْ بِقِرَاهُمْ فَأَبَوْا أَنْ يَطْعَمُوا حَتَّى تَجِيءَ - قَالَ - فَقَالَ مَا لَكُمْ أَلاَ تَقْبَلُوا عَنَّا قِرَاكُمْ - قَالَ - فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فَوَاللَّهِ لاَ أَطْعَمُهُ اللَّيْلَةَ - قَالَ - فَقَالُوا فَوَاللَّهِ لاَ نَطْعَمُهُ حَتَّى تَطْعَمَهُ . قَالَ فَمَا رَأَيْتُ كَالشَّرِّ كَاللَّيْلَةِ قَطُّ وَيْلَكُمْ مَا لَكُمْ أَنْ لاَ تَقْبَلُوا عَنَّا قِرَاكُمْ قَالَ ثُمَّ قَالَ أَمَّا الأُولَى فَمِنَ الشَّيْطَانِ هَلُمُّوا قِرَاكُمْ - قَالَ - فَجِيءَ بِالطَّعَامِ فَسَمَّى فَأَكَلَ وَأَكَلُوا - قَالَ - فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَرُّوا وَحَنِثْتُ - قَالَ - فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ " بَلْ أَنْتَ أَبَرُّهُمْ وَأَخْيَرُهُمْ " . قَالَ وَلَمْ تَبْلُغْنِي كَفَّارَةٌ .
Abd al-Rahman b. Abd Bakr reported:There came to our house some guests. It was a common practice with my father to (go) and talk to Allah's Messenger (ﷺ) during the night. While going he said: 'Abd al-Rahman, entertain the guests. When it was evening we served the food to them, but they refused saying: So long as the owner of the house does not come and join us, we would not take the meal. I said to them: He ('Abd Bakr) is a stern person, and if you would not do that (if you do not take the food). I fear, I may be harmed by him, but they refused. As he (my father) came, the first thing he asked was: Have you served the guests? They (the peopleof the household) said: We have not served them sofar. He said: Did I not command 'Abd al-Rahman (to do this)? He ('Abd al-Rahman) said: I slunk away and kept myself away by that time. He again said: O stupid fellow, I ask you on oath that In case you hear my voice you come to me. I came and said: By Allah, there is no fault of mine. These are your guests; you may ask them. I provided them with food but they refused to eat until you came. He said to them: Why is it that you did not accept our food? By Allah, I shall not even take food tonight (as you have not taken). They said: By Allah, we would not take until you join us. Thereupon he Abu Bakr) said: I have never seen a more unfortunate night than this. Woe be to thee! that you do not accept from us food prepared for you. He again said: What I did first (that is the taking of vow for not eating the food) was prompted by the Satan. Bring the food. The food was brought, and he ate by reciting the name of Allah and they also ate, and when it was morning he came to Allah's Apostle (ﷺ) and said: Allah's Messenger, their oath (that of the guests) came to be true, but mine was not true, and after that he informed him of the whole incident. He said: Your oath came to be the most true and you are the best of them. He (the narrator) said. I do not know whether he made an atonement for it
جریری نے ابو عثمان سے ، انھوں نے حضرت عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہمارے ہاں ہمارے کچھ مہمان آئے ، میرے والد رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ کر گفتگو کیا کرتے تھے ، وہ چلے گئے اور مجھ سے فرمایا : عبدالرحمان! تم اپنے مہمانوں کی سب خدمت بجا لانا ۔ جب شام ہوئی تو ہم نے ( ان کے سامنے ) کھانا پیش کیا ، کہا : توانھوں نے انکار کردیا اور کہا : جب گھر کے مالک ( بچوں کے والد ) آئیں گے اور ہمارے ساتھ کھانا کھائیں گے ( ہم اس وقت کھانا کھائیں گے ۔ ) کہا : میں نے ان کو بتایا کہ وہ ( میرے والد ) تیز مزاج آدمی ہیں ، اگرتم نے کھانا نہ کھایا تو مجھے خدشہ ہے کہ مجھے ان کی طرف سے سزا ملے گی ۔ کہا : لیکن وہ نہیں مانے ، جب حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے تو ان ( کے متعلق پوچھنے ) سے پہلے انھوں نے کوئی ( اور ) بات شروع نہ کی ۔ انھوں نے کہا : مہمانوں ( کی میزبانی ) سے فارغ ہوگئے ہو؟گھر والوں نے کہا : واللہ! ابھی ہم فارغ نہیں ہوئے ، حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : کیا میں نے عبدالرحمان کو کہا نہیں تھا؟ ( حضرت عبدالرحمان نے ) کہا : میں ایک طرف ہٹ گیا انھوں نے آواز دی : عبدالرحمان! میں کھسک گیا ۔ پھر انہوں نے کہا : اے احمق!میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ اگر تو میری آوازسن رہا ہے تو آجا ۔ حضرت عبدالرحمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں آگیا اور میں نے کہا : اللہ کی قسم ! میرا کوئی قصور نہیں ہے ۔ یہ ہیں آپ کے مہمان ان سے پوچھ لیجئے ، میں ان کاکھانا ان کے پاس لایاتھا ، انہوں نے آپ کے آنے تک کھانے سے انکاور کردیا ، ( عبدالرحمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہاتو انھوں ( حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے ( ان سے ) کہا : کیا بات ہے؟تم نے ہمارا پیش کیا ہواکھانا کیوں قبول نہیں کیا؟ ( عبدالرحمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم!میں آج رات یہ کھانا نہیں کھاؤں گا ۔ مہمانوں نے کہا اللہ کی قسم!ہم بھی اس وقت تک کھانا نہیں کھائیں گے جب تک آپ نہیں کھاتے ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اس شر جیسا ( شر ) ، اس رات جیسی ( رات ) میں نے کبھی نہیں دیکھی ، تم لوگوں پر افسوس!تمھیں کیا ہے؟تم لوگوں نے ہماری دعوت قبول کیوں نہیں کی؟پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ( میری ) پہلی بات ( نہ کھانے کی قسم ) شیطان کی طرف سے ( ابھارنے پر ) تھی ۔ چلو ، اپنا میزبانی کا کھانا لاؤ ۔ حضرت عبدالرحمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : پھر کھانالایا گیا ، حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بسم اللہ پڑھ کر کھانا کھایا اور مہمانوں نے بھی کھایا صبح ہوئی تو ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ان لوگوں نے قسم پوری کرلی اور میں نے توڑدی ( کہا ) پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پورا واقعہ سنایا ، ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا : نہیں ، تم ان سے بڑھ کر قسم پوری کرنے والے ہو ، ان سے بہتر ہو ، " ( حضرت عبدالرحمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : مجھ تک کفارہ دینے کی بات نہیں پہنچی ( مجھے معلوم نہیں کہ میرے والد نے کفارہ دیا یا کب دیا ۔)
حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَعْقِرِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ، - وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الْيَمَامِيُّ - حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ الْمُسْلِمُونَ لاَ يَنْظُرُونَ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ وَلاَ يُقَاعِدُونَهُ فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَا نَبِيَّ اللَّهِ ثَلاَثٌ أَعْطِنِيهِنَّ قَالَ " نَعَمْ " . قَالَ عِنْدِي أَحْسَنُ الْعَرَبِ وَأَجْمَلُهُ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ أُزَوِّجُكَهَا قَالَ " نَعَمْ " . قَالَ وَمُعَاوِيَةُ تَجْعَلُهُ كَاتِبًا بَيْنَ يَدَيْكَ . قَالَ " نَعَمْ " . قَالَ وَتُؤَمِّرُنِي حَتَّى أُقَاتِلَ الْكُفَّارَ كَمَا كُنْتُ أُقَاتِلُ الْمُسْلِمِينَ . قَالَ " نَعَمْ " . قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ وَلَوْلاَ أَنَّهُ طَلَبَ ذَلِكَ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَا أَعْطَاهُ ذَلِكَ لأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُسْئَلُ شَيْئًا إِلاَّ قَالَ " نَعَمْ " .
Ibn Abbas reported that the Muslims neither looked to Abu Sufyan (with respect) nor did they sit in his company. he (Abu Sufyan) said to Allah's Apostle (ﷺ):Allah's Apostle, confer upon me three things. He replied in the affirmative. He (further) said: I have with me the most handsome and the best (woman) Umm Habiba, daughter of Abu Sufyan; marry her, whereupon he said: Yes. And he again said: Accept Mu'awiya to serve as your scribe. He said: Yes. He again said: Make me the commander (of the Muslim army) so that I should fight against the unbelievers as I fought against the Muslims. He said: Yes. Abu Zumnail said: If he had not asked for these three things from Allah's Apostle (ﷺ), he would have never conferred them upon him, for it was (his habit) to accede to everybody's (earnest) request
عکرمہ نے کہا : ہمیں ابو زمیل نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : مجھے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا : مسلمان نہ حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بات کرتے تھے نہ ان کے ساتھ بیٹھتے اٹھتے تھے ۔ اس پر انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !آپ مجھے تین چیزیں عطا فر ما دیجیے ۔ ( تین چیزوں کے بارے میں میری درخواست قبول فرما لیجیے ۔ ) آپ نے جواب دیا : " ہاں ۔ " کہا میری بیٹی ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا عرب کی سب سے زیادہ حسین و جمیل خاتون ہے میں اسے آپ کی زوجیت میں دیتا ہوں ۔ آپ نے فر مایا : " ہاں ۔ " کہا : اور معاویہ ( میرابیٹا ) آپ اسے اپنے پاس حاضر رہنے والا کا تب بنا دیجیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ہاں ۔ " پھر کہا : آپ مجھے کسی دستے کا امیر ( بھی ) مقرر فرمائیں تا کہ جس طرح میں مسلمانوں کے خلاف لڑتا تھا اسی طرح کافروں کے خلا ف بھی جنگ کروں ۔ آپ نے فرمایا : " ہاں ۔ " ابو زمیل نے کہا : اگر انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان باتوں کا مطالبہ نہ کیا ہو تا تو آپ ( از خود ) انھیں یہ سب کچھ عطا نہ فر ما تے کیونکہ آپ سے کبھی کو ئی چیز نہیں مانگی جا تی تھی مگر آپ ( اس کے جواب میں ) " ہاں " کہتے تھے ۔