بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
1
46 hadith
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَلْفَاظُهُمْ، مُتَقَارِبَةٌ - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، - عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، قَالَ كُنْتُ أُتَرْجِمُ بَيْنَ يَدَىِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَبَيْنَ النَّاسِ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ تَسْأَلُهُ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ، فَقَالَ إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنِ الْوَفْدُ أَوْ مَنِ الْقَوْمُ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا رَبِيعَةُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَرْحَبًا بِالْقَوْمِ أَوْ بِالْوَفْدِ غَيْرَ خَزَايَا وَلاَ النَّدَامَى ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَأْتِيكَ مِنْ شُقَّةٍ بَعِيدَةٍ وَإِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ هَذَا الْحَىَّ مِنْ كُفَّارِ مُضَرَ وَإِنَّا لاَ نَسْتَطِيعُ أَنْ نَأْتِيَكَ إِلاَّ فِي شَهْرِ الْحَرَامِ فَمُرْنَا بِأَمْرٍ فَصْلٍ نُخْبِرْ بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا نَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ ‏.‏ قَالَ فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ ‏.‏ قَالَ أَمَرَهُمْ بِالإِيمَانِ بِاللَّهِ وَحْدَهُ ‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ هَلْ تَدْرُونَ مَا الإِيمَانُ بِاللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ شَهَادَةُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامُ الصَّلاَةِ وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ وَصَوْمُ رَمَضَانَ وَأَنْ تُؤَدُّوا خُمُسًا مِنَ الْمَغْنَمِ ‏"‏ ‏.‏ وَنَهَاهُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ ‏.‏ قَالَ شُعْبَةُ وَرُبَّمَا قَالَ النَّقِيرِ ‏.‏ قَالَ شُعْبَةُ وَرُبَّمَا قَالَ الْمُقَيَّرِ ‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ احْفَظُوهُ وَأَخْبِرُوا بِهِ مِنْ وَرَائِكُمْ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي رِوَايَتِهِ ‏"‏ مَنْ وَرَاءَكُمْ ‏"‏ وَلَيْسَ فِي رِوَايَتِهِ الْمُقَيَّرِ ‏.‏
Abu Jamra reported:I was an interpreter between Ibn Abbas and the people, that a woman happened to come there and asked about nabidh or the pitcher of wine. He replied: A delegation of the people of 'Abdul-Qais came to the Messenger of Allah (ﷺ). He (the Holy Prophet) asked the delegation or the people (of the delegation about their identity). They replied that they belonged to the tribe of Rabi'a. He (the Holy Prophet) welcomed the people or the delegation which were neither humiliated nor put to shame. They (the members of the delegation) said: Messenger of Allah, we come to you from a far-off distance and there lives between you and us a tribe of the unbelievers of Mudar and, therefore, it is not possible for us to come to you except in the sacred months. Thus direct us to a clear command, about which we should inform people beside us and by which we may enter heaven. He (the Holy Prophet) replied: I command you to do four deeds and forbid you to do four (acts), and added: I direct you to affirm belief in Allah alone, and then asked them: Do you know what belief in Allah really implies? They said: Allah and His Messenger know best. The Prophet said: It implies testimony to the fact that there is no god but Allah, and that Muhammad is the messenger of Allah, establishment of prayer, payment of Zakat, fast of Ramadan, that you pay one-fifth of the booty (fallen to your lot) and I forbid you to use gourd, wine jar, or a receptacle for wine. Shu'ba sometimes narrated the word naqir (wooden pot) and sometimes narrated it as muqayyar. The Prophet also said: Keep it in your mind and inform those who have been left behind
شعبہ نے ابو جمرہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں حضرت عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ اور ( دوسرے ) لوگوں کے درمیان ترجمان تھا ، ان کے پاس ایک عورت آئی ، وہ ان سے گھڑے کی نبیذ کے بارے میں سوال کر رہی تھی توحضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے جواب دیا : رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عبد القیس کا وفد آیا ۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا : ’’یہ کون سا وفد ہے ؟ ( یا فرمایا : یہ کو ن لوگ ہیں ؟ ) ‘ ‘ انہوں نے کہا : ربیعہ ( قبیلہ سے ہیں ۔ ) فرمایا : ’’ اس قوم ( یا وفد ) کو خوش آمدید جو رسوا ہوئے نہ نادم ۔ ‘ ‘ ( ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ) کہا ، ان لوگوں نے عرض کی : اے اللہ کےرسول ! ہم لوگ آپ کے پاس بہت دور سے آتے ہیں ، ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کے کافروں کا یہ قبیلہ ( حائل ) ہے ، ہم ( کسی ) حرمت والے مہینے کے سوا آپ کے پاس نہیں آ سکتے ، آپ ہمیں فیصلہ کن بات بتائیے جو ہم اپنے ( گھروں میں ) پیچھے لوگوں کو ( بھی ) بتائیں اور اس کے ذریعے سے ہم جنت میں داخل ہو جائیں ۔ ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے بتایا : آپ نے ان چار باتوں کا حکم دیا اور چار چیزیں سے روکا ۔ آپ نے ان کو اکیلے اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا کا حکم دیا اور پوچھا : ’’جانتے ہو ، صرف اللہ پر ایمان لانا کیا ہے ؟ ‘ ‘ انہوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’اس حقیقت کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، نماز قائم کرنا ، زکاۃ دینا ، رمضان کے روزے رکھنا اور یہ کہ تم مال غنیمت میں سے اس کا پانچواں حصہ ادا کرو ۔ ‘ ‘ اور انہیں خشک کدو سے بنائے ہوئے برتن ، سبز مٹکے اور تارکول ملے ہوئے برتن ( استعمال کرنے ) سے منع کیا ( شعبہ نے کہا : ) ابو جمرہ نے شاید نقیر ( لکڑی میں کھدائی کر کے بنایا ہوا برتن کہا یا شاید مقیر ( تارکول ملا ہوا برتن ) کہا ۔ اور آپ نے فرمایا : ’’ان کو خوب یاد رکھو اور اپنے پیچھے ( والوں کو ) بتا دو ۔ ‘ ‘ ابو بکر بن ابی شیبہ کی روایت میں ( من ورائکم کے بجائے ) من وراءکم ( ان کو ( بتاؤ ) جو تمہارے پیچھے ہیں ) کے الفاظ ہیں اور ان کی روایت میں مقیر کا ذکر نہیں ( بلکہ نقیر کا ہے ۔)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالاَ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَرَضِهِ الَّذِي لَمْ يَقُمْ مِنْهُ ‏ "‏ لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَلَوْلاَ ذَاكَ أُبْرِزَ قَبْرُهُ غَيْرَ أَنَّهُ خُشِيَ أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَلَوْلاَ ذَاكَ لَمْ يَذْكُرْ قَالَتْ ‏.‏
A'isha reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said during his illness from which he never recovered: Allah cursed the Jews and the Christians that they took the graves of their prophets as mosques. She ('A'isha) reported: Had it not been so, his (Prophet's) grave would have been in an open place, but it could not be due to the fear that it may not be taken as a mosque
۔ ابوبکر ابی شیبہ او رعمرو ناقد نے کہا : ہم سے ہاشم بن قاسم نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں شیبان نے ہلال بن ابی حمید سے حدیث سنائی ، انہوں نے عروہ بن زبیر سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے اپنی اس بیماری میں جس سے آپ اٹھ نہ سکے ( جاں بر نہ ہوئے ) فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ یہود اور نصاریٰ پر لعنت کرے! انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا ۔ ‘ ‘ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) کہا : اس لیے اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا تو آپ کی قبر کو ظاہر رکھا جاتا لیکن یہ ڈر تھا کہ اسے مسجد بنا لیا جائے گا ۔ ( اس لیے اللہ کی مشیت سے وہ حجرہ مبارکہ میں بنائی گئی ۔ ) ابن ابی شیبہ کی روایت میں فلو لا کی جگہ ولو لا ( اور اگر ) کے الفاظ ہیں اور اس سے پہلے قالت ( انہوں نے کہا ) کا لفظ نہیں کہا
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ الْمُثَنَّى، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَهُوَ الْقَطَّانُ ح وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ح وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏
A hadith like this has been narrated by the same chain of transmitters
یحییٰ قطان ، ابن ابی زائدہ اور عقبہ بن خالد نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی ۔
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَلَمْ يَقُلْ وَهِيَ سَاعَةٌ خَفِيفَةٌ ‏.‏
Hammam b. Munabbih reported this hadith from Abu Huraira who reported from the Messenger of Allah (ﷺ) but he did not say:" That time is short
ہمام بن منبہ نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی لیکن انھوں نے ( وهي ساعة خفيفة ) ( وہ ایک چھوٹی سی گھڑی ہے ) نہیں کہا ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ بَيْنَمَا الْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِحِرَابِهِمْ إِذْ دَخَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَأَهْوَى إِلَى الْحَصْبَاءِ يَحْصِبُهُمْ بِهَا ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ دَعْهُمْ يَا عُمَرُ
Abu Huraira reported:While the Abyssinians were busy playing with their arms in the presence of the Messenger of Allah (ﷺ) 'Umar b. Khattab came there. He bent down to take up pebbles to throw at them (in order to make them go off). The Messenger of Allah (ﷺ) said to him: 'Umar, leave them alone
حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : جبکہ حبشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے بھالوں سے کھیل رہے تھے توحضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہنچ گئے اور کنکریاں اٹھانے کے لئے جھکے تاکہ وہ انھیں کنکریاں ماریں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : " عمر!انھیں چھوڑ دو ۔
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيْسَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَقُومُوا فَصَلُّوا ‏"‏ ‏.‏
Abu Mas'ud reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said:Verily the sun and the moon do not eclipse on account of the death of any one of the people, but they are the two signs among the signs of Allah. So when you see it, stand up and observe prayer
معتمر نے اسماعیل سے ، انھوں نے قیس سے اور انھوں نے حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سورج اور چاند کو لوگوں میں سے کسی کے مرنے پر گرہن نہیں لگتا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سےدو نشانیاں ہیں ۔ لہذا جب تم اس ( گرہن ) کو دیکھو تو قیام کرو اور نماز پڑھو ۔
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ جَعَلَ صُهَيْبٌ يَقُولُ وَاأَخَاهْ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ يَا صُهَيْبُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَىِّ ‏"‏ ‏.‏
Abu Burda narrated on the authority of his father that when 'Umar was wounded Suhaib uttered (loudly in lamentation):O brother! Upon this 'Umar said: Suhaib, did you not know that the Messenger of Allah (ﷺ) said:" The dead is punished because of the lamentation of the living"?
۔ ( ابو اسحاق ) شیبانی نے ابو بردہ سے اور انھوں نے اپنے والد ( حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، انھوں نے کہا : جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زخمی کیا گیا تو حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ کہنا شروع کر دیا : ہائے میرا بھا ئی ! تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا : صہیب !کیا تمھیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " زندہ کے رونے سے میت کو عذاب دیا جا تا ہے :
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ ثَلاَثَةِ أَصْنَافٍ الأَقِطِ وَالتَّمْرِ وَالشَّعِيرِ ‏.‏
Abu Sa'id al Khudri reported:We used to take out the Zakat of Fitr in three kinds, cheese, dates and barley
حارث بن عبد الر حمان بن ابی ذباب نے عیاض بن عبد اللہ بن ابی سرح سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : ہم فطرا نہ ان تین اجناس سے نکالا کرتے تھے پنیر ، کھجور اور جو ۔ ( یہی ان کی بنیا دی خوردنی اجنا س تھیں ۔)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَلِيِّ، بْنِ مُبَارَكٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَقَدَّمُوا رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ وَلاَ يَوْمَيْنِ إِلاَّ رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمًا فَلْيَصُمْهُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Do not observe fast for a day, or two days ahead of Ramadan except a person who is in the habit of observing a particular fast; he may fast on that day
علی بن مبارک ، یحییٰ بن ابن کثیر ، ابی سلمہ ، حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم رمضان المبارک سے نہ ایک دن اور نہ ہی دو دن پہلے روزہ رکھو سوائے اس آدمی کے جو اس دن روزہ رکھتاتھا تو اسے چاہیے کہ وہ رکھ لے ۔
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ فَإِنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَخْبَرَنِي عَنْ أَبِيهِ، - رضى الله عنه - قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُهِلُّ مُلَبِّدًا يَقُولُ ‏ "‏ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ لاَ يَزِيدُ عَلَى هَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ ‏.‏ وَإِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ - رضى الله عنهما - كَانَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرْكَعُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ ‏.‏ ثُمَّ إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ النَّاقَةُ قَائِمَةً عِنْدَ مَسْجِدِ الْحُلَيْفَةِ أَهَلَّ بِهَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ - رضى الله عنهما - يَقُولُ كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رضى الله عنه - يُهِلُّ بِإِهْلاَلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ هَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ وَيَقُولُ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ ‏.‏
Abdullah b. 'Umar (Allah be pleased with them) reported:I heard the Messenger of Allah (ﷺ) pronouncing Talbiya with compacted hair: Here I am at Thy service. O Allah: here I am at Thy service; here I am at Thy service. There is no associate with Thee; here I am at Thy service. Verily all praise and grace is due to Thee and the Sovereignty (too). There is no associate with Thee; and he did not make any addition to these words. 'Abdullah b. 'Umar (Allah be pleased with them) (further) said: The Messenger of Allah (ﷺ) used to offer two rak'ahs of prayer at Dhu'l-Hulaifa and then when his camel stood up with him on its back near the mosque at Dhu'l-Hulaifa, he pronounced these words (of Talbiya). And 'Abdullah b. 'Umar (Allah be pleased'with them) said that 'Umar b. Khattab (Allah be pleased with him) pronounced, the Talbiya of the Messenger of Allah (ﷺ) in these words of his (Prophet's words) and said: Here I am at Thy service, O Lord; here I am at Thy service, ready to obey Thee, and good is in Thy Hand, Here I am at Thy service. Unto Thee is the petition and deed (is also for Thee)
ابن شہاب نے کہا : بلا شبہ سالم بن عبد اللہ بن عمر نے مجھے اپنے والد ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے خبر دی انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں تلبیہ پکا رتے سنا کہ آپ کے بال جڑے ( گوندیا خطمی بو ٹی وغیرہ کے ذریعے سے باہم چپکے ) ہو ئے تھے آپ کہہ رہے تھے ۔ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ ، وَالنِّعْمَةَ ، لَكَ وَالْمُلْكَ ، لاَ شَرِيكَ لَكَان کلما ت پر اضا فہ نہیں فر ما تے تھے ۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فر ما یا کرتے تھے کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحلیفہ میں دو رکعت نماز ادا کرتے پھر جب آپ کی اونٹنی مسجد ذوالحلیفہ کے پاس آپ کو لے کر کھڑی ہو جا تی تو آپ ان کلما ت سے تلبیہ پکا رتے ۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا کرتے تھے کہ عمر بن خطا ب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کلما ت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا تلبیہ پکا رتے تھے اور ( ساتھ یہ ) کہتے : : لبيك اللهم لبيك لبيك لبيك وسعديك ، والخير بيديك ، والرغباء إليك والعمل "" : "" میں با ر بار حاضر ہوں ، اے اللہ !میں تیرے سامنے حاضر ہوں حاضر ہوں تیری طرف سے سعادتوں کا طلب گا ر ہوں ہر قسم کی بھلا ئی تیرے دو نوں ہاتھوں میں ہے اے اللہ !میں تیرے حضور حاضر ہوں ۔ ہر دم تجھی سے مانگنے کی رغبت ہے اور ہر عمل تیری رضا کے لیے ہے ۔
وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، حَدَّثَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْفَتْحِ إِلَى مَكَّةَ ‏.‏ فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ بِشْرٍ ‏.‏ وَزَادَ قَالَتْ وَهَلْ يَصْلُحُ ذَاكَ وَفِيهِ قَالَ إِنَّ بُرْدَ هَذَا خَلَقٌ مَحٌّ ‏.‏
Rabi' b. S'abra al-jahanni reported on the authority of his father. We went with Allah's Messenger (ﷺ) to Mecca during the year of Victory and he narrated like this a hadith transmitted by Bishr (the previous one) but with this addition:" She said: Can it be possible?" And it is also mentioned in it:" He said: The cloak of this (man) is old and worn out
ہمیں وُہَیب نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عُمارہ بن غزیہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ربیع بن سبرہ جہنی نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : فتح مکہ کے سال ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف نکلے ، آگے بشر کی حدیث کے مانند بیان کیا اور یہ اضافہ کیا : اس عورت نے کہا : کیا یہ ( متعہ ) جائز ہے؟ اور اسی ( روایت ) میں ہے : ( میرے ساتھی نے ) کہا : اس کی چادر پرانی بوسیدہ ہے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، كُلُّهُمْ عَنِ الْمُعْتَمِرِ، - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ، قَالَتْ دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي بَيْتِي فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي كَانَتْ لِي امْرَأَةٌ فَتَزَوَّجْتُ عَلَيْهَا أُخْرَى فَزَعَمَتِ امْرَأَتِي الأُولَى أَنَّهَا أَرْضَعَتِ امْرَأَتِي الْحُدْثَى رَضْعَةً أَوْ رَضْعَتَيْنِ ‏.‏ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تُحَرِّمُ الإِمْلاَجَةُ وَالإِمْلاَجَتَانِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَمْرٌو فِي رِوَايَتِهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ‏.‏
Umm al-Fadl reported:A bedouin came to Allah's Apostle (ﷺ) when he was in my house and said: Allah's Apostle, I have had a wife and I married another besides her, and my first wife claimed that she had suckled once or twice my newly married wife, thereupon Allah's Apostle (ﷺ) said: One suckling or two do not make the (marriage) unlawful
یحییٰ بن یحییٰ ، عمرو ناقد اور اسحاق بن ابراہیم سب نے معتمر سے حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ یحییٰ کےہیں ۔ ۔ کہا : ہمیں معتمر بن سلیمان نے ایوب سے خبر دی ، وہ ابوخلیل سے حدیث بیان کر رہے تھے ، انہوں نے عبداللہ بن حارث سے ، انہوں نے ام فضل رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک اعرابی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ میرے گھر میں تشریف فرما تھے ، اس نے عرض کی : اے اللہ کے نبی! ( پہلے ) میری ایک بیوی تھی ، اس پر میں نے دوسری سے شادی کر لی ، میری پہلی بیوی کا خیال ہے کہ اس نے میری نئی بیوی کو ایک یا دو مرتبہ دودھ پلایا تھا ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک دو مرتبہ دودھ دینا ( رشتے کو ) حرام نہیں کرتا ۔ " عمرو نے اپنی روایت میں کہا : عبداللہ بن حارث بن نوفل سے روایت ہے ( عبداللہ کے والد کے ساتھ دادا کا نام بھی لیا)
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، أَنَّ أَبَا الصَّهْبَاءِ، قَالَ لاِبْنِ عَبَّاسٍ هَاتِ مِنْ هَنَاتِكَ أَلَمْ يَكُنِ الطَّلاَقُ الثَّلاَثُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ وَاحِدَةً فَقَالَ قَدْ كَانَ ذَلِكَ فَلَمَّا كَانَ فِي عَهْدِ عُمَرَ تَتَايَعَ النَّاسُ فِي الطَّلاَقِ فَأَجَازَهُ عَلَيْهِمْ ‏.‏
Abu al-Sahba' said to Ibn 'Abbas:Enlighten us with your information whether the three divorces (pronounced at one and the same time) were not treated as one during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) and Abu Bakr. He said: It was in fact so, but when during the caliphate of 'Umar (Allah be pleased with him) people began to pronounce divorce frequently, he allowed them to do so (to treat pronouncements of three divorces in a single breath as one)
ابراہیم بن میسرہ نے طاوس سے روایت کی کہ ابوصبہاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عرض کی : آپ اپنے نوادر ( جن سے اکثر لوگ بے خبر ہیں ) فتووں میں سے کوئی چیز عنایت کریں ۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں تین طلاقیں ایک نہیں تھیں؟ انہوں نے جواب دیا : یقینا ایسے ہی تھا ، اس کے بعد جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو لوگوں نے پے در پے ( غلط طریقے سے ایک ساتھ تین ) طلاقیں دینا شروع کر دیں ۔ تو انہوں نے اس بات کو ان پر لاگو کر دیا
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ - وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ - قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلاَمًا أَسْوَدَ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَمَا أَلْوَانُهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ حُمْرٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَنَّى أَتَاهَا ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَهَذَا عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported:There came a person to the Prophet (may peace he upon him) ) from Banu Fazara and said: My wife has given birth to a child who is black, whereupon Allah's Apostle (ﷺ) said: Have you any camels? He said: Yes. He again said: What is this colour? He said: They are red. He said: Is there a dusky one among them? He said: Yes, there are dusky ones among them He said: How has it come about? He said: It is perhaps the strain to which it has reverted, whereupon he (the Holy Prophet) said: It is perhaps the strain to which he (the child) has reverted
ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے ایک شخص بنی فزارہ میں سے آیا روسل اﷲ ﷺ کے پاس او رکہا میری جورو کو ایک کالا بچہ پیدا ہوا ہے ( تو وہ میرا معلوم نہیں ہوتا کیونکہ میں کالا نہیں ہوں ) ۔ جناب رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا تیرے پاس اونٹ ہیں؟ اس کہا ہاں ہیں ۔ آپ نے فرمایا ان کا رنگ کیا ہے؟ وہ بولا لال ہے ۔ آپ نے فرمایا ان میں کوئی خاکی بھی ہے؟ اس نے کہا ہاں خاکی بھی ہیں ۔ آپ نے فرمایا پھر یہ رنگ کہاں سے آیا؟ اس نے کہا کسی رگ نے گھسیٹ لیا ہوگا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ خَطَبَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ مَنْ زَعَمَ أَنَّ عِنْدَنَا، شَيْئًا نَقْرَأُهُ إِلاَّ كِتَابَ اللَّهِ وَهَذِهِ الصَّحِيفَةَ - قَالَ وَصَحِيفَةٌ مُعَلَّقَةٌ فِي قِرَابِ سَيْفِهِ - فَقَدْ كَذَبَ ‏.‏ فِيهَا أَسْنَانُ الإِبِلِ وَأَشْيَاءُ مِنَ الْجِرَاحَاتِ وَفِيهَا قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى ثَوْرٍ فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لاَ يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلاَ عَدْلاً وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ وَمَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لاَ يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلاَ عَدْلاً ‏"‏ ‏.‏
Ibrahim al-Taimi reported on the authority of his father:'Ali b. Abu Talib (Allah be pleased with him) addressed us and said: He who thinks that we (the members of the Prophet's family) read anything else besides the Book of Allah and this Sahifa (and he said that Sahifa was tied to the scabbard of the sword) tells a lie. (This Sahifa) contains (problems) pertaining to the ages of the camels and (the recompense) of the injuries, and it also records the words of the Prophet (ﷺ): Medina is a sacred territory from 'Ayr to Thaur (it is most probably Uhud). He who innovates (an act or practice) or gives protection to an innovator, there is a curse of Allah and that of His angels and that of the whole humanity upon him. Allah will not accdpt from him (as a recompense) any obligatory act or supererogatory act, and the responsibility of the Muslims is a joint responsibility; even the lowest in rank can undertake the responsibility (on behalf of others), and he who claims anyone else as his father besides his own father or makes one his ally other than the one (who freed him), there is a curse of Allah. that of His angels and that of the wholemankind upon him. Allah will not accept the obligatory act of the supererogatery act (as a recompense) from him
ابراہیم تیمی کے والد یزید بن شریک سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور کہا : جس کا گمان ہے کہ ہمارے پاس کتاب اللہ اور اس صحیفے کے سوا ۔ ۔ ۔ کہا : وہ صحیفہ ان کی تلوار کی نیام سے لٹکا ہوا تھا ۔ ۔ کوئی اور چیز ہے جسے ہم پڑھتے ہیں تو وہ جھوٹا ہے ۔ اس میں ( دیت وغیرہ کے ) اونٹوں کی عمریں اور زخموں ( کی دیت ) سے متعلقہ کچھ چیزیں ( لکھی ہوئی ) ہیں ۔ اور اس میں ( یہ لکھا ہوا ہے کہ ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جبل عیر سے لے کر جبل ثور تک مدینہ حرم ہے ، جس نے اس میں ( گمراہی پھیلانے کی ) کوئی واردات کی یا واردات کرنے والے کسی شخص کو پناہ دی تو اس پر اللہ کی ، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے کوئی سفارش قبول کرے گا نہ بدلہ ۔ تمام مسلمانوں کی پناہ ایک ہے ۔ ان کا ادنی آدمی بھی کسی کو پناہ دے سکتا ہے ۔ جس نے اپنے والد کے سوا کسی کی طرف نسبت کی یا ( کوئی غلام ) اپنے آزاد کرنے والے مالکوں کے سوا کسی اور کا مولیٰ بنا ، اس پر اللہ کی ، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے کوئی سفارش قبول کرے گا نہ فدیہ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ زُهَيْرٌ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ ‏
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported it directly from Allah's Apostle (ﷺ):The townsman'should not sell for a man from the desert (with a view to taking advantage of his ignorance of the market conditions of the city). And Zuhair reported from the Prophet (ﷺ) that he forbade the townsman to sell on behalf of the man from the desert
ابوبکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد اور زُہَیر بن حرب نے کہا : ہمیں سفیان نے زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، وہ اس ( سند ) کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے تھے ، آپ نے فرمایا : "" کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے بیع نہ کرے ۔ "" زہیر نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ آپ نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کی طرف سے بیع کرے
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ،لا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، تَقَاضَى دَيْنًا لَهُ عَلَى ابْنِ أَبِي حَدْرَدٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ ‏.‏
The above hadith is narrated through another chain with a slight variation of words at the begining and the rest is of the hadith is the same
عثمان بن عمر نے ہمیں خبر دی ، انہوں نے کہا : ہمیں یونس نے زہری سے خبر دی ، انہوں نے عبداللہ بن کعب بن مالک سے روایت کی کہ انہیں کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انہوں نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے اپنے قرض کا مطالبہ کیا ۔ ۔ ۔ ( آگے ) ابن وہب کی حدیث کی طرح ہے
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ نَحَلَنِي أَبِي نُحْلاً ثُمَّ أَتَى بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِيُشْهِدَهُ فَقَالَ ‏"‏ أَكُلَّ وَلَدِكَ أَعْطَيْتَهُ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَلَيْسَ تُرِيدُ مِنْهُمُ الْبِرَّ مِثْلَ مَا تُرِيدُ مِنْ ذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ بَلَى ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنِّي لاَ أَشْهَدُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ فَحَدَّثْتُ بِهِ مُحَمَّدًا فَقَالَ إِنَّمَا تَحَدَّثْنَا أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ قَارِبُوا بَيْنَ أَوْلاَدِكُمْ ‏"‏ ‏.‏
Nu'man b. Bashir reported:My father conferred a gift upon me, and then brought me to Allah's Messenger (ﷺ) to make him a witness (to it). He (the Holy Prophet) said: Have you given such gift to every son of yours (as you have given to Nu'man)? He said: No. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Don't you expect goodness from them as you expect from him? He said: Yes. of course. He (the Holy Prophet) said: I am not going to bear witness to it (as it is injustice). Ibn Aun (one of the narrators) said: I narrated this hadith to Muhammad (the other narrator) who said: Verily we narrated that lie (the Holy Prophet) had said: Observe equity amongst your children
ابن عون نے ہمیں شعبی سے ، انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میرے والد نے مجھے ایک تحفہ دیا ، پھر مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ کو گواہ بنائیں ۔ آپ نے پوچھا : "" کیا تم نے اپنے سب بچوں کو یہ ( اسی طرح کا ) تحفہ دیا ہے؟ "" انہوں نے جواب دیا : نہیں ۔ آپ نے پوچھا : "" کیا تم ان سب سے اسی طرح کا نیک سلوک نہیں چاہتے جس طرح اس ( بیٹے ) سے چاہتے ہو؟ "" انہوں نے جواب دیا : کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تو میں ( ظلم پر ) گواہ نہیں بنتا ۔ "" ( کیونکہ اس عمل کی بنا پر پہلے تمہاری طرف سے اور پھر جوابا ان کی طرف سے ظلم کا ارتکاب ہو گا ۔ "" ابن عون نے کہا : میں نے یہ حدیث محمد ( بن سیرین ) کو سنائی تو انہوں نے کہا : مجھے بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا : اپنے بیٹوں کے درمیان یکسانیت روا رکھو ( لفظی معنی ہیں : تقریبا ایک جیسا سلوک "" یعنی ان کو اس بات کا عادی بناؤ)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى هَلْ أَوْصَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لاَ ‏.‏ قُلْتُ فَلِمَ كُتِبَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ الْوَصِيَّةُ أَوْ فَلِمَ أُمِرُوا بِالْوَصِيَّةِ قَالَ أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏.‏
Talha b. Musarrif reported:I asked 'Abdullah b. Abu Aufa whether Allah's Messenger (ﷺ) had made any will (in regard to his property). He said: NO. I said: Then why has making of will been made necessary for the Muslims, or why were they commanded to make will? Thereupon he said: He made the will according to the Book of Allah, the Exalted and Majestic
عبدالرحمان بن مہدی نے ہمیں مالک بن مغول سے خبر دی اور انہوں نے طلحہ بن مصرف سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کی؟ انہوں نے جواب دیا : نہیں ۔ میں نے پوچھا : تو مسلمانوں پر وصیت کرنا کیوں فرض کیا گیا ہے یا انہیں وصیت کا حکم کیوں دیا گیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ترکے کو تقسیم کرنے کی وصیت نہیں کی بلکہ ) اللہ تعالیٰ کی کتاب ( کو اپنانے ، عمل کرنے ) کی وصیت کی
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْبَجَلِيُّ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ طَرِيفٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَدِيٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا حَلَفَ أَحَدُكُمْ عَلَى الْيَمِينِ فَرَأَى خَيْرًا مِنْهَا فَلْيُكَفِّرْهَا وَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ‏"‏ ‏.‏
Adi reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When anyone amongst you takes an oath, but he finds (something) better than that he should expiate (the breaking of the oath), and do that which is better
اعمش نے عبدالعزیز بن رفیع سے ، انہوں نے تمیم طائی سے اور انہوں نے حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی کسی کام کی قسم کھائے ، پھر اس سے بہتر ( کام ) دیکھے تو وہ اس ( قسم ) کا کفارہ ادا کر دے اور وہی کرے جو بہتر ہے
وَحَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ جَارِيَةً، وُجِدَ رَأْسُهَا قَدْ رُضَّ بَيْنَ حَجَرَيْنِ فَسَأَلُوهَا مَنْ صَنَعَ هَذَا بِكِ فُلاَنٌ فُلاَنٌ حَتَّى ذَكَرُوا يَهُودِيًّا فَأَوْمَتْ بِرَأْسِهَا فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ فَأَقَرَّ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُرَضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ ‏.‏
Anas b. Malik reported:A girl was found with her head crushed between two stones. They asked her as to who had done that-has so and so (done it) until they mentioned a Jew. She indicated with the nod of her head (that it was so). So the Jew was caught, and he made confession (of his guilt). And Allah's Messenger (ﷺ) commanded that his head be smashed with stones
قتادہ نے ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان کچلا ہوا ملا تو لوگوں نے اس سے پوچھا : تمہارے ساتھ یہ کس نے کیا؟ فلاں نے؟ فلاں نے؟ حتی کہ انہوں نے خاص ( اسی ) یہودی کا ذکر کیا تو اس نے اپنے سر سے اشارہ کیا ۔ یہودی کو پکڑا گیا تو اس نے اعتراف کیا ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کا سر پتھر سے کچل دیا جائے
قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي مَنْ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ فَكُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَهُ فَرَجَمْنَاهُ بِالْمُصَلَّى فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ هَرَبَ فَأَدْرَكْنَاهُ بِالْحَرَّةِ فَرَجَمْنَاهُ ‏.‏
Ibn Shihab (one of the narrators) said:One who had heard Jabir b. 'Abdullah saying this informed me thus: I was one of those who stoned him. We stoned him at the place of prayer (either that of 'Id or a funeral). When the stones hurt him, he ran away. We caught him in the Harra and stoned him (to death)
عبدالرحمان بن خالد بن مسافر نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي عَامِرٍ، قَالَ عَبْدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ سَأَلْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ رَجُلٍ، لَهُ ثَلاَثَةُ مَسَاكِنَ فَأَوْصَى بِثُلُثِ كُلِّ مَسْكَنٍ مِنْهَا قَالَ يُجْمَعُ ذَلِكَ كُلُّهُ فِي مَسْكَنٍ وَاحِدٍ ثُمَّ قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ عَمِلَ عَمَلاً لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ ‏"‏ ‏.‏
Sa'd b. Ibrahim reported:I asked Qasim b. Muhammad about a person who had three dwelling houses and he willed away the third part of every one of these houses; he (Qasim b. Muhammad) said: All of them could be combined in one house; and then said: 'A'isha informed me that Allah's Messenger (ﷺ) said: He who did any act for which there is no sanction from our behalf, that is to be rejected
عبداللہ بن جعفر زہری نے ہمیں سعد بن ابراہیم سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے قاسم بن محمد سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا جس کے تین گھر ہیں اور اس نے ان میں سے ہر گھر کے ایک تہائی حصے کی وصیت کی ہے ۔ انہوں نے جواب دیا ۔ اس کے تہائی کو ایک گھر کی صورت میں جمع کر دیا جائے گا ۔ پھر انہوں نے کہا : مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے ایسا عمل کیا ، ہمارا دین جس کے مطابق نہیں تو وہ مردود ہے
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الأَحْزَابِ فَقَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ سَرِيعَ الْحِسَابِ اهْزِمِ الأَحْزَابَ اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ ‏"‏ ‏.‏
It is narrated on the authority of Ibn Abu Aufa that the Messenger of Allah (ﷺ) cursed the tribes (who had marched upon Medina with a combined force in 5 H) and said:O Allah, Revealer of the Book, swift in (taking) account, put the tribes to rout. O Lord, defeat them and shake them
خالد بن عبداللہ نے ہمیں اسماعیل بن ابی خالد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مدینہ پر حملے کرنے والے ) لشکروں کے خلاف یہ دعا کی : " اے اللہ! کتاب کو اتارنے والے! جلد حساب کرنے والے! سب لشکروں کو شکست دے ، اے اللہ! انہیں شکست دے اور ان کے قدم لرزا دے
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ أَلاَ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ فَالأَمِيرُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ بَعْلِهَا وَوَلَدِهِ وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْهُمْ وَالْعَبْدُ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُ أَلاَ فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ‏"‏ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Ibn 'Umar that the Prophet (May be upon him) said:Beware. every one of you is a shepherd and every one is answerable with regard to his flock. The Caliph is a shepherd over the people and shall be questioned about his subjects (as to how he conducted their affairs). A man is a guardian over the members of his family and shal be questioned about them (as to how he looked after their physical and moral well-being). A woman is a guardian over the household of her husband and his children and shall be questioned about them (as to how she managed the household and brought up the children). A slave is a guardian over the property of his master and shall be questioned about it (as to how he safeguarded his trust). Beware, every one of you is a guardian and every one of you shall be questioned with regard to his trust
عبیداللہ بن عمر ، ایوب ، ضحاک بن عثمان اور اسامہ ( بن زید لیثی ) سب نے نافع سے ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ‌ہے ‌رسول ‌اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌نے ‌فرمایا ‌تم ‌میں ‌سے ‌ہر ‌شخص ‌حاكم ‌ہے ‌اور ‌ہر ‌ایك ‌سے ‌سوال ‌ہوگا ‌اس ‌كی ‌رعیت ‌كا ‌( ‌حاكم ‌سے ‌مراد ‌منتظم ‌اور ‌نگراں ‌كار ‌اور ‌محافظ ‌ہے ‌) ‌پھر ‌جو ‌كوئی ‌بادشاہ ‌ہے ‌وہ ‌لوگوں ‌كا ‌حاكم ‌ہے ‌اور ‌اس ‌سے ‌سوال ‌ہوگا ‌اس ‌كی ‌رعیت ‌كا ‌كہ ‌اس ‌نے ‌اپنی ‌رعیت ‌كے ‌حق ‌ادا ‌كیے ‌ان ‌كی ‌جان ‌و ‌مال ‌كی ‌حفاظت ‌كی ‌یا ‌نہیں ‌اور ‌آدمی ‌حاكم ‌ہے ‌اپنے ‌گھر ‌والوں ‌كا ‌اس ‌سے ‌سوال ‌ہوگا ‌ان ‌كا ‌اور ‌عورت ‌حاكم ‌ہے ‌اپنے ‌خاوند ‌كے ‌گھر ‌كی ‌اور ‌بچوں ‌كی ‌اس ‌سے ‌ان ‌كا ‌سوال ‌ہو گا ‌اور ‌غلام ‌حاكم ‌ہے ‌اپنے ‌مالك ‌كے ‌مال ‌كا ‌اس ‌سے ‌اس ‌كا ‌سوال ‌ہوگا ‌. ‌غرض ‌یہ ‌ہے ‌كہ ‌تم ‌میں ‌سے ‌ہر ‌ایك ‌شخص ‌حاكم ‌ہے ‌اور ‌تم ‌میں ‌سے ‌ہر ‌ایك ‌سے ‌سوال ‌ہوگا ‌اس ‌كی ‌رعیت ‌كا
وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
This hadith has been transmitted on the authority of Shu'ba
سہل بن حماد نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ ضَحَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ وَسَمَّى وَكَبَّرَ وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا ‏.‏
Anas reported that Allah's Messenger (ﷺ) sacrificed with his own hands two horned rams which were white with black markings reciting the name of Allah and glorifying Him (saying Allah-o-Akbar). He placed his foot on their sides (while sacrificing)
ابو عوانہ نے قتادہ سے انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سفید رنگ کے بڑے سینگوں والے مینڈھوں کی قربانی دی ۔ آپ نے انھیں اپنے ہا تھ سے ذبح کیا بسم اللہ پڑھی اور تکبیر کہی ۔ آپ نے ( قربانی کے وقت انھیں لٹا کر ) ان کے رخسار پر اپنا قدم مبارک رکھا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو مَسْلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَخْلِطَ بَيْنَ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ وَأَنْ نَخْلِطَ الْبُسْرَ وَالتَّمْرَ ‏.‏
Abu Sa'id reported that Allah's Messenger (ﷺ) prohibited us to mix grapes and dry dates together and unripe dates and dry dates (to prepare Nabidh)
سعید بن یزید ابو مسلمہ نے ابونضرہ سے ، انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ ہم ( نبیذ بنانے کے لئے ) کشمش اور خش کھجوروں کو ایک دوسرے سے ملا دیں اور کچی اور خشک کھجوروں کو باہم یکجا کرلیں ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، مَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ وَكَانَ خَالَ وَلَدِ عَطَاءٍ قَالَ أَرْسَلَتْنِي أَسْمَاءُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَتْ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَرِّمُ أَشْيَاءَ ثَلاَثَةً الْعَلَمَ فِي الثَّوْبِ وَمِيثَرَةَ الأُرْجُوَانِ وَصَوْمَ رَجَبٍ كُلِّهِ ‏.‏ فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ رَجَبٍ فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ الأَبَدَ وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنَ الْعَلَمِ فِي الثَّوْبِ فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ فَخِفْتُ أَنْ يَكُونَ الْعَلَمُ مِنْهُ وَأَمَّا مِيثَرَةُ الأُرْجُوَانِ فَهَذِهِ مِيثَرَةُ عَبْدِ اللَّهِ فَإِذَا هِيَ أُرْجُوَانٌ ‏.‏ فَرَجَعْتُ إِلَى أَسْمَاءَ فَخَبَّرْتُهَا فَقَالَتْ هَذِهِ جُبَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَأَخْرَجَتْ إِلَىَّ جُبَّةَ طَيَالَسَةٍ كِسْرَوَانِيَّةً لَهَا لِبْنَةُ دِيبَاجٍ وَفَرْجَيْهَا مَكْفُوفَيْنِ بِالدِّيبَاجِ فَقَالَتْ هَذِهِ كَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ حَتَّى قُبِضَتْ فَلَمَّا قُبِضَتْ قَبَضْتُهَا وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَلْبَسُهَا فَنَحْنُ نَغْسِلُهَا لِلْمَرْضَى يُسْتَشْفَى بِهَا ‏.‏
Abdullah. the freed slave of Asma' (the daughter of Abu Bakr). the maternal uncle of the son of 'Ata, reported:Asma' sent me to 'Abdullah b. 'Umar saying: The news has reached me that you prohibit the use of three things: the striped robe. saddle cloth made of red silk. and the fasting in the holy month of Rajab. 'Abdullah said to me: So far as what you say about fasting in the month of Rajab, how about one who observes continuous fasting? -and so far as what you say about the striped garment, I heard Umar b. Khatab say that he had heard from Allah's Messenger (ﷺ): He who wears silk garment has no share for him (in the Hereafter), and I am afraid it may not be that striped garment; and so far as the red saddle clotb is concerned that is the saddle cloth of Abdullah and it is red. I went back to Asma' and informed her. whereupon she said: Here is the cloak of Allah's Messenger (ﷺ). and she brought out to me that cloak made of Persian cloth with a hem of brocade, and its sleeves bordered with brocade and said: This wall Allah's Messenger's cloak with 'A'isha until she died, and when she died. I got possession of it. The Apostle of Allah (ﷺ) used to wear that, and we waslied it for the sick and sought cure thereby
حضرت اسماء بنت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام عبداللہ ( کیسان ) سے روایت ہے ، جو کہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کا مولیٰ اور عطاء کے لڑکے کا ماموں تھا نے کہا کہ مجھے اسماء رضی اللہ عنہا نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا اور کہلایا کہ میں نے سنا ہے کہ تم تین چیزوں کو حرام کہتے ہو ، ایک تو کپڑے کو جس میں ریشمی نقش ہوں ، دوسرے ارجوان ( یعنی سرخ ڈھڈھاتا ) زین پوش کو اور تیسرے تمام رجب کے مہینے میں روزے رکھنے کو ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رجب کے مہینے کے روزوں کو کون حرام کہے گا؟ جو شخص ہمیشہ روزہ رکھے گا ( سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمیشہ روزہ علاوہ عیدین اور ایام تشریق کے رکھتے تھے اور ان کا مذہب یہی ہے کہ صوم دہر مکروہ نہیں ہے ) ۔ اور کپڑے کے ریشمی نقوش کا تو نے ذکر کیا ہے تو میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ حریر ( ریشم ) وہ پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ، تو مجھے ڈر ہوا کہ کہیں نقشی کپڑا بھی حریر ( ریشم ) نہ ہو اور ارجوانی زین پوش ، تو خود عبداللہ کا زین پوش ارجوانی ہے ۔ یہ سب میں نے جا کر سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے کہا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جبہ موجود ہے ، پھر انہوں نے طیالسی کسروانی جبہ ( جو ایران کے بادشاہ کسریٰ کی طرف منسوب تھا ) نکالا جس کے گریبان پر ریشم لگا ہوا تھا اور دامن بھی ریشمی تھے ۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ یہ جبہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی وفات تک ان کے پاس تھا ۔ جب وہ فوت ہو گئیں تو یہ جبہ میں نے لے لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو پہنا کرتے تھے اب ہم اس کو دھو کر اس کا پانی بیماروں کو شفاء کے لئے پلاتے ہیں ۔
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ مَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلاَثًا ‏.‏ وَلَمْ يَقُلْ مِنْ كَفٍّ وَاحِدَةٍ ‏.‏ وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ‏.‏
Malik b. Anas narrated it from 'Amr b. Yahya with the same chain of transmitters, transmitters and mentioned the rinsing (of mouth) and snuffing (of water into the nostrils) three times, but he did not mention" from one palm," and made this addition:He moved them (his hands) for wiping to the front of his head and then the nape of his neck, then bringing them back till he reached the place from which he had begun, after which he washed his feet
مالک بن انس نے عمرو بن یحییٰ کی سند سے یہی روایت بیان کی اور کہا : انہوں نےتین بار کلی کی اور ناک میں جھاڑی ۔ انہوں نے ’’ایک ہی چلو سے ‘ ‘ کےالفاظ ذکر نہیں کیے اور ’’دونوں ہاتھ آگے سے ( پیچھے کو ) لائے اور پیچھےسے ( آگے کو ) لائے ‘ ‘ کے بعد یہ الفاظ بڑھائے : انہوں نے سر کے اگلے حصے سے ( مسح ) شروع کیا اور دونوں ہاتھ گدی تک لائے ، پھر ان کوواپس کر کے اسی جگہ تک لائے جہاں سے شروع کیا تھا اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے ۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ سَمَّيْتُ ابْنَتِي بَرَّةَ فَقَالَتْ لِي زَيْنَبُ بِنْتُ أَبِي سَلَمَةَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ هَذَا الاِسْمِ وَسُمِّيتُ بَرَّةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمُ اللَّهُ أَعْلَمُ بِأَهْلِ الْبِرِّ مِنْكُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا بِمَ نُسَمِّيهَا قَالَ ‏"‏ سَمُّوهَا زَيْنَبَ ‏"‏ ‏.‏
Muhammad b. 'Amr b. 'Ata' reported:I had given the name Barra to my daughter. Zainab, daughter of Abu Salama, told me that Allah's' Messenger (ﷺ) had forbidden me to give this name. (She said): I was also called Barra, but Allah's Messenger (ﷺ) said: Don't hold yourself to be pious. It is God alone who knows the people of piety among you. They (the Companions) said: Then, what name should we give to her? He said: Name her as Zainab
یزید بن ابی حبیب نے محمد بن عمرو بن عطاء سے روایت کی ، کہا : میں نے اپنی بیٹی کانام برہ رکھا تو حضرت زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مجھ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نام رکھنے سے منع فرمایا ہے ۔ اور ( بتایا کہ ) میرا نام بھی پہلے برہ رکھا گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم لوگ اپنی پارسائی بیان کرو اللہ تعالیٰ ہی خوب جانتا ہے کہ تم میں سے نیکو کار کون ہے ۔ "" ( گھرکے ) لوگوں نے کہا : پھر ہم اس کا کیا نام رکھیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اس کا نام زینب رکھ دو ۔ "" یزید بن ابی حبیب نے محمد بن عمرو بن عطاء سے روایت کی ، کہا : میں نے اپنی بیٹی کانام برہ رکھا تو حضرت زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مجھ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نام رکھنے سے منع فرمایا ہے ۔ اور ( بتایا کہ ) میرا نام بھی پہلے برہ رکھا گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم لوگ اپنی پارسائی بیان کرو اللہ تعالیٰ ہی خوب جانتا ہے کہ تم میں سے نیکو کار کون ہے ۔ "" ( گھرکے ) لوگوں نے کہا : پھر ہم اس کا کیا نام رکھیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اس کا نام زینب رکھ دو ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَسَيَرَانِي فِي الْيَقَظَةِ أَوْ لَكَأَنَّمَا رَآنِي فِي الْيَقَظَةِ لاَ يَتَمَثَّلُ الشَّيْطَانُ بِي ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported:I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: He who saw me in a dream would soon see me in the state of wakefulness, or as if he saw me in a state of wakefulness, for the satan does not appear in my form
یو نس نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہو ئے سنا ، " جس شخص نے خواب میں مجھے دیکھا وہ عنقریب بیداری میں بھی مجھے دیکھ لے گا یا ( فرما یا : ) گو یا اس نے مجھ کو بیداری کے عالم میں دیکھا ، شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَثَلِي وَمَثَلُ الأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بُنْيَانًا فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ إِلاَّ مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهُ فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِهِ وَيَعْجَبُونَ لَهُ وَيَقُولُونَ هَلاَّ وُضِعَتْ هَذِهِ اللَّبِنَةُ - قَالَ - فَأَنَا اللَّبِنَةُ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Hurairh reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The similitude of mine and that of the Apostles before me is that of a person who built a house quite imposing and beautiful, but for one brick in one of its corners. People would go round it, appreciating the building, but saying: Why has the brick not been fixed here? He said: I am that brick and I am the last of the Apostles
ابو صالح سمان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " : میری اور دوسرے پیغمبروں کی مثال جو کہ میرے سے پہلے ہو چکے ہیں ، ایسی ہے جیسے کسی شخص نے گھر بنایا اور اس کی زیبائش اور آرائش کی ، لیکن اس کے کونوں میں سے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی پس لوگ اس کے گرد پھرنے لگے اور انہیں وہ عمارت پسند آئی اور وہ کہنے لگے کہ یہ تو نے ایک اینٹ یہاں کیوں نہ رکھ دی گئی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم الانبیاء ہوں ۔
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ، خَالِدٍ ح وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَالْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، بِإِسْنَادِ يُونُسَ نَحْوَ حَدِيثِهِ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Yunus through another chain of transmitters
صالح نے یو نس کی سند کے ساتھ انھی کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ،
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ، خَالِدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ وَيُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ ‏"‏ ‏.‏
Anas b. Malik reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:He who likes that his sustenance should be expanded and his age may be lengthened should join the tie of kinship
عقیل بن خالد نے کہا : ابن شہاب نے کہا : مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص یہ چاہتا کہ اس کے لیے اس کے رزق میں کشادگی کی جائے اور جو اس نے چھوڑ جانا ہے اس کی مہلت لمبی کی جائے تو وہ صلہ رحمی کرے ۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ النَّجَّارِ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح
Abu Huraira narrated a hadith like this through another chain of transmitters
ابوسلمہ اور ہمام بن منبہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان ( گزشتہ راویوں ) کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُمْرَانَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي جَعْفَرٌ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of 'Abdullah b. Amr b. al-'As through another chain of transmitters
جعفر نے عمر بن حکم سے ، انہوں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہشام بن عروہ کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو عَامِرٍ الأَشْعَرِيُّ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Musa reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:He who loves to meet Allah, Allah too loves to meet him, and he who dislikes to meet Allah, Allah abhors to meet him
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " جو شخص اللہ سے ملاقات کو پسند کرے ، اللہ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرے ، اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
This hadith has been transmitted on the authority of Mu'tamir, reported on the authority of his father
معتمر نے اپنے والد ( سلیمان تیمی ) سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ - وَاللَّفْظُ لَهُمَا - قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، - قَالاَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَرْقُدُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ قَالَ ‏ "‏ نَعَمْ إِذَا تَوَضَّأَ ‏"‏ ‏.‏
Ibn 'Umar reported:Umar said: Is one amongst us permitted to sleep in a state of impurity (i. e. after having sexual intercourse)? He (the Holy Prophet) said: Yes, after performing ablution
عبید اللہ نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےر وایت کی کہ حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! ہم میں سے کوئی جنابت کی حالت میں ہو تو کیا وہ ( اسی طرح ) سو سکتا ؟ آپ نے فرمایا : ’’ہاں ، جب وضو کر لے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ خَمْسٌ قَدْ مَضَيْنَ الدُّخَانُ وَاللِّزَامُ وَالرُّومُ وَالْبَطْشَةُ وَالْقَمَرُ ‏.‏
Abdullah said that five signs have (become things) of the past (and have proved the truth of the Holy Prophet):(Enveloping) by the smoke, inevitable (punishment to the Meccans at Badr), (the victory of) Rome, (violent) seizing (of the Meccans at Badr) and (the splitting up of) the Moon
قتیبہ بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں جریر نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو ضحیٰ سے ، انھوں نے مسروق سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : پانچ ( نشانیاں گزر چکی ہیں : دھواں ، چمٹ جانے والا عذاب ( بدر کے دن شکست اور ہلاکتیں ) روم کی فتح ( بدر کےدن ستر مشرکوں کی گرفتاری ) سخت گرفت اور چاند ( کادو ٹکڑے ہونا ۔)
وَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ وَيُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالتَّكْبِيرَ كَمَا يُلْهَمُونَ النَّفَسَ ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been transmitted on the authority of Jabir with a slight variation of wording
یحییٰ نے کہا : ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی کہا : مجھے ابو زبیر نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبردی ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ( حدیث ) روایت کی مگر انھوں نےکہا : " اور انھیں تسبیح و تکبیر اسی طرح الہام کی جائےگی جس طرح سانس لینا الہام کیا جاتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، كِلاَهُمَا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، - وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ - حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ زَوَى لِيَ الأَرْضَ فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا وَإِنَّ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مُلْكُهَا مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا وَأُعْطِيتُ الْكَنْزَيْنِ الأَحْمَرَ وَالأَبْيَضَ وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي لأُمَّتِي أَنْ لاَ يُهْلِكَهَا بِسَنَةٍ بِعَامَّةٍ وَأَنْ لاَ يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَى أَنْفُسِهِمْ فَيَسْتَبِيحَ بَيْضَتَهُمْ وَإِنَّ رَبِّي قَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي إِذَا قَضَيْتُ قَضَاءً فَإِنَّهُ لاَ يُرَدُّ وَإِنِّي أَعْطَيْتُكَ لأُمَّتِكَ أَنْ لاَ أُهْلِكَهُمْ بِسَنَةٍ بِعَامَّةٍ وَأَنْ لاَ أُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَى أَنْفُسِهِمْ يَسْتَبِيحُ بَيْضَتَهُمْ وَلَوِ اجْتَمَعَ عَلَيْهِمْ مَنْ بِأَقْطَارِهَا - أَوْ قَالَ مَنْ بَيْنَ أَقْطَارِهَا - حَتَّى يَكُونَ بَعْضُهُمْ يُهْلِكُ بَعْضًا وَيَسْبِي بَعْضُهُمْ بَعْضًا ‏"‏ ‏.‏
Thauban reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:Allah drew the ends of the world near one another for my sake. And I have seen its eastern and western ends. And the dominion of my Ummah would reach those ends which have been drawn near me and I have been granted the red and the white treasure and I begged my Lord for my Ummah that it should not be destroyed because of famine, nor be dominated by an enemy who is not amongst them to take their lives and destroy them root and branch, and my Lord said: Muhammad, whenever I make a decision, there is none to change it. I grant you for your Ummah that it would not be destroyed by famine and it would not be dominated by an enemy who would not be amongst it and would take their lives and destroy them root and branch even if all the people from the different parts of the world join hands together (for this purpose), but it would be from amongst them, viz. your Ummah, that some people would kill the others or imprison the others
ایوب نے ابو قلابہ سے انھوں نے ابو اسماء سے اور انھوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین کو لپیٹ دیا اور میں نے اس کے مشارق و مغارب کو دیکھ لیا اور جہاں تک یہ زمین میرے لیے لپیٹی گئی عنقریب میری امت کی حکومت وہاں تک پہنچے گی اور مجھے سرخ اور سفید دونوں خزانے ( سونے اور چاندی کے ذخائر ) دیے گئے اور میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے لیے یہ سوال کیا کہ وہ اس کو عام قحط سالی سے ہلاک نہ کرے اور ان کے علاوہ سے ان پر کوئی دشمن مسلط نہ کرے جو مجموعی طور پر ان سب ( کی جانوں ) کورواکر لے ۔ بے شک میرے رب نے فرمایا : " اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !جب میں کو ئی فیصلہ کردوں تو وہ رد نہیں ہوتا ۔ بلاشبہ میں نے آپ کی امت کے لیے آپ کو یہ بات عطا کردی ہے کہ ان کو عام قحط سالی سے ہلاک نہیں کروں گا اور ان پر ان کے علاوہ سے کسی اور دشمن کو مسلط نہ کروں گاجو ان سب ( کی جانوں ) کورواقراردے لے ۔ چاہے ان کے خلاف ان کے اطراف والے ۔ یا کہا : ان کے اطراف والوں کے اندر سے ہوں اکٹھے کیوں نہ ہوں جائیں ۔ یہاں تک کہ یہ ( خود ) ایک دوسرے کو ہلاک کریں گے ۔ اور ایک دوسرے کو قیدی بنائیں گے ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:O Allah, make for the family of Muhammad the provision which is a bare subsistence
ابو زرعہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( دعا کرتے ہوئے ) فرمایا : " اے اللہ !محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے گھروالوں کے رزق کو زندگی برقرار رکھنے جتنا کردے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، قَالَ قَالَ لِيَ ابْنُ عَبَّاسٍ تَعْلَمُ - وَقَالَ هَارُونُ تَدْرِي - آخِرَ سُورَةٍ نَزَلَتْ مِنَ الْقُرْآنِ نَزَلَتْ جَمِيعًا قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ ‏{‏ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ‏}‏ قَالَ صَدَقْتَ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ تَعْلَمُ أَىُّ سُورَةٍ ‏.‏ وَلَمْ يَقُلْ آخِرَ ‏.‏
Ubaidullah b. 'Abdullah b. 'Utba reported:Ibn Abbas said to me: Do you know-and in the words of Harun (another narrator): Are you aware of-the last Sura which was revealed in the Qur'an as a whole? I said: Yes," When came the help from Allah and the victory" (cx.). Thereupon, he said: You have told the truth. And in the narration of Abu Shaiba (the words are): Do you know the Sura? And he did not mention the words" the last one
ابو بکر بن ابی شیبہ ہارون بن عبد اللہ اور عبد بن حمید نے ہمیں ھدیث بیان کی ، عبد نے کہا : ہمیں خبر دی اور دوسروں نے کہا : ہمیں حدیث بیان کی ، جعفر بن عون نے انھوں نے کہا : ہمیں ابو عمیس نے عبد المجید بن سہیل سے خبردی ۔ انھوں نے عبید اللہ بن عبد اللہ عتبہ سے روایت کی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ قرآن مجید کی آخری سورت جو یکبارگی مکمل نازل ہوئی کون سی ہے؟ میں نے کہا : جی ہاں ۔ إِذَا جَاء نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ انھوں نے فرمایا : تم نے سچ کہا ۔ اور ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے ۔ تم جانتے ہو کہ کون سی سورت ہے اور "" آخری "" ( کالفظ ) نہیں کہا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ كُلُّهُمْ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، - عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ مَنْكِبَيْهِ وَقَبْلَ أَنْ يَرْكَعَ وَإِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّكُوعِ وَلاَ يَرْفَعُهُمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ ‏.‏
Salim narrated it on the authority of his father who reported:I saw the Messenger of Allah (ﷺ) raising his hands apposite the shoulders at the time of beginning the prayer and before bowing down and after coming back to the position after bowing. but he did not raise them between two prostrations
۔ سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے والد ( عبد اللہ بن عمرؓ ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا : جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے حتیٰ کہ انہیں کندھوں کے برابر لے آتے اور رکوع سے پہلے اور ( اس وقت بھی ) جب رکوع سے سر اٹھاتے ۔ آپ دو سجدوں کے درمیان انہیں نہ اٹھاتے تھے ۔