حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلاَّ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ أَلاَ وَإِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ عَزَّ وَجَلَّ وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ " .
Ibn 'Abbas reported:The Messenger of Allah (ﷺ) drew aside the curtain (of his apartment) and (he saw) people in rows (saying prayer) behind Aba Bakr. And he said: Nothing remains of the glad tidings of apostlehood, except good visions which a Muslim sees or someone is made to see for him. And see that I have been forbidden to recite the Qur'an in the state of bowing and prostration. So far as Ruk'u is concerned, extol in it the Great and Glorious Lord, and while prostrating yourselves be earnest in supplication, for it is fitting that your supplications should be answered
سعید بن منصور ، ابو بکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی کہ مجھے سلیمان بن سحیم نے خبر دی ، انہوں نے ابراہیم بن عبد اللہ بن معبد سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے ( دروازے کا ) پردہ اٹھایا ( اس وقت ) لوگ ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف بستہ تھے ۔ آپ نے فرمایا : ’’لوگو! نبوت کی بشارتوں میں سے اب صرف سچے خواب باقی رہ گئے ہیں جو مسلمان خود دیکھے گا یا اس کے لیے کسی دوسرے کو ) دکھایا جائے گا ۔ خبردار رہو! بلاشبہ مجھے رکوع اور سجدے کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے ، جہاں تک رکوع کا تعلق ہے اس میں اپنے رب عزوجل کی عظمت وکبریائی بیان کرو اور جہاں تک سجدے کا تعلق ہے اس میں خوب دعا کرو ، ( یہ دع اس ) لائق ہے کہ تمہارے حق میں قبول کر لی جائے ۔ ‘ ‘ امام مسلم کے اساتذہ میں سے ایک استاد ابو بکر بن ابی شیبہ نے حدیث یبان کرتے ہوئے ( ’’مجھے سلیمان نے خبر دی ‘ ‘ کے بجائے ) سلیمان سے روایت ہے ، کہا ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، مَوْلَى الأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا كَانَ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلاَةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ " . وَذَكَرَ " أَنَّ النَّارَ اشْتَكَتْ إِلَى رَبِّهَا فَأَذِنَ لَهَا فِي كُلِّ عَامٍ بِنَفَسَيْنِ نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ " .
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: When it is hot, make delay (in the noon prayer) till it cools down, for the intensity of beat is from the Exhalation of Hell; and he also mentioned that Hellfire complained to the Lord (about the congested atmosphere) and so it was permitted to take two exhalations during the whole year, one exhalation during the winter and one exhalation during the summer
اسود بن سفیان کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن یزید نے ابو سلمہ بن عبدالرحمن اور محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب گرمی ہو تو نماز ٹھنڈے وقت تک مؤخر کر کے پڑھوکیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہوتی ہے ۔ ‘ ‘ اور آپ ﷺ نے یہ ( یہ بھی ذکر فرمایا : ) ’’جہنم کی ) آگ نے اپنے رب کےحضور شکایت کی تو اللہ نےاسے سال میں دو سانس لینے کی اجازت دی : ایک سانس سردی مین اور ایک سانس گرمی میں ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ، عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ " اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ أَنْتَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَأَخَّرْتُ وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ أَنْتَ إِلَهِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ " .
Ibn `Abbas reported that when the Messenger of Allah (ﷺ) got up during the night to pray, he used to say:O Allah, to Thee be the praise Thou art the light of the heavens and the earth. To Thee be the praise; Thou art the Supporter of the heavens and the earth. To Thee be the praise; Thou art the Lord of the heavens and the earth and whatever is therein. Thou art the Truth; Thy promise is True, the meeting with Thee is True. Paradise is true, Hell is true, the Hour is true. O Allah, I submit to Thee; affirm my faith in Thee; repose my trust in Thee, and I return to Thee for repentance; by Thy help I have disputed; and to Thee I have come for decision, so forgive me my earlier and later sins, the sins that I committed in secret and openly. Thou art my God. There is no god but Thee
امام مالک ؒ نے ابو زہیر سے ، انھوں نے طاؤس سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کی آ خری تہائی میں نماز کے لئے اٹھتے تو فرماتے : " اے اللہ ! تمام تعریف تیرے ہی لئے ہے ، تو آسمانوں اور زمین کا نور ہے اور تیرے ہی لئے حمد ہے تو آسمانوں اور زمین کو قائم رکھنے والا ہے اور تیرے ہی لئے حمد ہےتو آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان میں ہے تو پالنے والا ہے ۔ اور توبرحق ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تیرا قول اٹل ہے اور تیرے ساتھ ملاقات قطعی ہے اور جنت حق ہے اور جہنم حق ہے اور قیامت حق ہے ۔ اے اللہ میں نے اپنے آپ کو تیرے سپرد کردیا اور میں تجھ پر ایمان لایا اور میں نے تجھ پر توکل اور بھروسہ کیا اور تیری طرف رجوع کیا اور تیر ی توفیق سے ( تیرے منکروں سے ) جھگڑا کیا اور تیرے ہی حضور فیصلہ لایا ( تجھے ہی حاکم تسلیم کیا ) تو بخش دے وہ گناہ جو میں نے پہلے کیے اور جو بعد میں کئے اور جو چھپ کرکئے اور جو ظاہرا کیے تو ہی میرا معبود ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّومِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، - وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ - حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَتَّى نَأْتِيَ أَبَا سَلَمَةَ فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهِ رَسُولاً فَخَرَجَ عَلَيْنَا وَإِذَا عِنْدَ بَابِ دَارِهِ مَسْجِدٌ - قَالَ - فَكُنَّا فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى خَرَجَ إِلَيْنَا . فَقَالَ إِنْ تَشَاءُوا أَنْ تَدْخُلُوا وَإِنْ تَشَاءُوا أَنْ تَقْعُدُوا هَا هُنَا . - قَالَ - فَقُلْنَا لاَ بَلْ نَقْعُدُ هَا هُنَا فَحَدِّثْنَا . قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ - رضى الله عنهما - قَالَ كُنْتُ أَصُومُ الدَّهْرَ وَأَقْرَأُ الْقُرْآنَ كُلَّ لَيْلَةٍ - قَالَ - فَإِمَّا ذُكِرْتُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَىَّ فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ لِي " أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ الدَّهْرَ وَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ كُلَّ لَيْلَةٍ " . قُلْتُ بَلَى يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَلَمْ أُرِدْ بِذَلِكَ إِلاَّ الْخَيْرَ . قَالَ " فَإِنَّ بِحَسْبِكَ أَنْ تَصُومَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ " . قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ . قَالَ " فَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا - قَالَ - فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِنَّهُ كَانَ أَعْبَدَ النَّاسِ " . قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَمَا صَوْمُ دَاوُدَ قَالَ " كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا " . قَالَ " وَاقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ " . قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ " فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ عِشْرِينَ " . قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ " فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ عَشْرٍ " . قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ . قَالَ " فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ سَبْعٍ وَلاَ تَزِدْ عَلَى ذَلِكَ . فَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا " . قَالَ فَشَدَّدْتُ فَشُدِّدَ عَلَىَّ . قَالَ وَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّكَ لاَ تَدْرِي لَعَلَّكَ يَطُولُ بِكَ عُمْرٌ " . قَالَ فَصِرْتُ إِلَى الَّذِي قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا كَبِرْتُ وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ قَبِلْتُ رُخْصَةَ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Yahya reported:I and 'Abdullah b. Yazid set out till we came to Abu Salama. We sent a messenger to him (in his house in order to inform him about our arrival) and he came to us. There was a mosque near the door of his house, and we were in that mosque, till he came out to us. He said: If you like you may enter (the house) and, if you like, you may sit here (in the mosque). We said: We would rather sit here and (you) relate to us. He (Yahya) then narrated that 'Abdullah b Amr b. al-'As (Allah be pleased with them) told him: I used to observe fast uninterruptedly and recited the (whole of the) Qur'an every night. It (the uninterrupted fasting and recital of the Qur'an every night) was mentioned to the Messenger of Allah (ﷺ) or he sent for me, and I went to him and he said to me: I have been informed that you fast continuously and recite (the whole of the Qur'an) every night. I said: Apostle of Allah, it is right, but I covet thereby nothing but good, whereupon he said: It suffices for you that you should observe fast for three days during every month. I said: Apostle of Allah, I am capable of doing more than this. He said: Your wife has a right upon you, your visitor has a right upon you, your body has a right upon you; so observe the fast of David, the Messenger of Allah (peace be upon him), for he was the best worshipper of Allah. I said: Apostle of Allah, what is the fast of David? He said: He used to fast one day and did not fast the other day. He (also) said: Recite the Qur'an during every month. I said: Apostle of Allah, I am capable of doing more than this, whereupon he said: Recite it in twenty days; recite it in ten days. I said: I am capable of doing more than this, whereupon he said: Recite it every week, and do not exceed beyond this, for your wife has a right upon you, your visitor has a right upon you, your body has a right upon you. He ('Amr b. 'As) said: I was hard to myself and thus I was put to hardship. The Apostle of Allah (ﷺ) had told me: 'You do not know you may live long (thus and bear the hardships for a long time), and I accepted that which the Messenger of Allah (ﷺ) had told me. When I grew old I wished I had availed myself of the concession (granted by) the Messenger of Allah (ﷺ)
عکرمہ بن عمار نے کہا : ہمیں یحییٰ نے حدیث سنائی کہا : میں اور عبداللہ بن یزید حضرت ابو سلمہ کے پاس حاضری کے لیے ( اپنے گھروں سے ) روانہ ہوئے ۔ ہم نے ایک پیغام لے جانے والا آدمی ان کے پاس بھیجا تو وہ بھی ہمارے لئے باہر نکل آئے ۔ وہاں ان کے گھر کے دروازے کے پاس ایک مسجد تھی ، کہا : ہم مسجد میں رہے یہاں تک کہ وہ بھی ہمارے پاس آگئے ۔ انھوں نے کہا : اگر تم چاہو تو ( گھر میں ) داخل ہوجاؤ ۔ اور اگر چاہو تو یہیں ( مسجد میں ) بیٹھ جاؤ ۔ کہا : ہم نے کہا : نہیں ، ہم یہیں بیٹھیں گے ، آپ ہمیں احادیث سنائیں ۔ انھوں نے کہا : مجھے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث سنائی ، کہا : میں مسلسل روزے رکھتا تھا اور ہر رات ( قیام میں پورے ) قرآن کی قراءت کرتاتھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میرا ذکر کیا گیا ( اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ) یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پیغام بھیجا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : کیا مجھے نہیں بتایا گیا کہ تم ہمیشہ ( ہرروز ) روزہ رکھتے ہو اور ہر رات ( پورا ) قرآن پڑھتے ہو؟ "" میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم !کیوں نہیں ( یہ بات درست ہے ) اور ایسا کرنے میں میرے پیش نظر بھلائی کے سوا کچھ نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تمھارے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ تم ہر مہینے میں تین دن روزے رکھو ۔ "" میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !میں اس سے افضل عمل کرنے کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم پر تمھاری بیوی کا حق ہے ، تم پر تمھارے مہمانوں کاحق ہے ، اور تم پر تمھارے جسم کاحق ہے ، "" ( آخر میں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" اللہ کے نبی داود علیہ السلام کے روزوں کی طرح روزے رکھو وہ سب لوگوں سے بڑھ کر عبادت گزار تھے ۔ "" کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !داود علیہ السلام کا روزہ کیا تھا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے ۔ "" فرمایا : "" قرآن کی قراءت ایک ماہ میں ( مکمل کیا ) کرو ۔ "" کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ۔ اسے ہر بیس دن میں پڑھ لیاکرو ۔ کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ۔ اسے ہر دس دن میں پڑھ لیاکرو ۔ کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ۔ اسے ہر سات دن میں پڑھ لیاکرو ۔ اس سے زیادہ نہ کرو تم پر تمھاری بیوی کا حق ہے ، تم پر تمھارے مہمانوں کاحق ہے ، اور تم پر تمھارے جسم کاحق ہے ، "" کہا : میں نے ( اپنے اوپر ) سختی کی تو مجھ پر سختی کی گئی ۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : "" تم نہیں جانتے شاید تمھاری عمر طویل ہو ۔ "" کہا : میں اسی کی طرف آگیا جو مجھے ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا ، جب میں بوڑھا ہوگیا تو میں نے پسند کیا ( اور تمنا کی ) کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رخصت قبول کرلی ہوتی ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ، وَأُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ، - وَاللَّفْظُ لأُمَيَّةَ - قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، - وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ - عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم { لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ} قَالَ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ بَرَكُوا عَلَى الرُّكَبِ فَقَالُوا أَىْ رَسُولَ اللَّهِ كُلِّفْنَا مِنَ الأَعْمَالِ مَا نُطِيقُ الصَّلاَةُ وَالصِّيَامُ وَالْجِهَادُ وَالصَّدَقَةُ وَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيْكَ هَذِهِ الآيَةُ وَلاَ نُطِيقُهَا . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَتُرِيدُونَ أَنْ تَقُولُوا كَمَا قَالَ أَهْلُ الْكِتَابَيْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا بَلْ قُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ " . قَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ . فَلَمَّا اقْتَرَأَهَا الْقَوْمُ ذَلَّتْ بِهَا أَلْسِنَتُهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي إِثْرِهَا { آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلاَئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لاَ نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ} فَلَمَّا فَعَلُوا ذَلِكَ نَسَخَهَا اللَّهُ تَعَالَى فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { لاَ يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلاَّ وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لاَ تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا} قَالَ نَعَمْ { رَبَّنَا وَلاَ تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا} قَالَ نَعَمْ { رَبَّنَا وَلاَ تُحَمِّلْنَا مَا لاَ طَاقَةَ لَنَا بِهِ} قَالَ نَعَمْ { وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلاَنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ} قَالَ نَعَمْ .
It is reported on the authority of Abu Huraira that when it was revealed to the Messenger of Allah (ﷺ):To Allah belongs whatever is in the heavens and whatever is in the earth and whether you disclose that which is in your mind or conceal it, Allah will call you to account according to it. Then He forgives whom He pleases and chastises whom He Pleases; and Allah is over everything Potent" (ii. 284). the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) felt it hard and severe and they came to the Messenger of Allah (ﷺ) and sat down on their knees and said: Messenger of Allah, we were assigned some duties which were within our power to perform, such as prayer, fasting, struggling (in the cause of Allah), charity. Then this (the above-mentioned) verse was revealed unto you and it is beyond our power to live up to it. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Do you intend to say what the people of two books (Jews and Christians) said before you:" We hear and disobey"? You should rather say:" We hear and we obey, (we seek) Thy forgiveness, our Lord! and unto Thee is the return." And they said:" We hear and we obey, (we seek) Thy forgiveness, Our Lord! and unto Thee is the return." When the people recited it and it smoothly flowed on their tongues, then Allah revealed immediately afterwards:" The Apostle believes in that which is sent down unto him from his Lord, and so do the believers. Each one believes in Allah and His Angels and His Books and His Apostles, saying: We differentiate not between any of His Apostles and they say: We hearken and we obey: (we seek) Thy forgiveness, our Lord! and unto Thee is the return" (ii. 285). When they did that, Allah abrogated this (verse) and the Great, Majestic Allah revealed:" Allah burdens not a soul beyond its capacity. It gets every good that it earns and it suffers every ill that it earns. Our Lord, punish us not if we forget or make a mistake." (The Prophet said: ) Yes, our Lord! do not lay on us a burden as Thou didst lay on those before us. (The Prophet said: ) Yes, our Lord, impose not on us (burdens) which we have not the strength to bear (The Prophet said: ) Yes, and pardon us and grant us protection! and have mercy on us. Thou art our Patron, so grant us victory over the disbelieving people" (ii. 286). He (the Lord) said: Yes
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ پر یہ آیت اتری : ’’ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے ، اللہ ہی کا ہے اور تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے ظاہر کرو یا چھپاؤ ، اللہ تعالیٰ اس پر تمہارا محاسبہ کرے گا ، پھر جسے چاہے گا بخش دے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا اور ا للہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ ‘ ‘ تو رسول اللہ ﷺ سے ساتھیوں پر یہ بات انتہائی گراں گزری ۔ کہا : وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! ( پہلے ) ہمیں ایسے اعمال کا پابند کیا گیا جو ہماری طاقت میں ہیں : نماز ، روزہ ، جہاد اور صدقہ او راب آپ پر یہ آیت اتری ہے جس کی ہم طاقت نہیں رکھتے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ کیا تم وہی بات کہنا چاہتے ہو جو تم سے پہلے دونوں اہل کتاب نے کہی : ہم نے سنا اور نافرمانی کی ! بلکہ تم کہو : ہم نے سنا اور اطاعت کی ۔ اے ہمارے رب ! تیری بخشش چاہتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے ۔ ‘ ‘ جب صحابہ نے یہ الفاظ دہرانے لگے اور ان کی زبانیں ان الفاظ پر رواں ہو گئیں ، تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری : ’’رسو ل اللہ ﷺ اس ( ہدایت ) پر ایمان لائے جوان کے رب کی طرف ان پر نازل کی گئی اور سارے مومن بھی ۔ سب ایمان لائے اللہ پر ، اس کے فرشتوں پر ، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ، ( اورکہا : ) ہم ( ایمان لانے میں ) اس کے رسولوں کے درمیان فرق نہیں کرتے اور انہوں نے کہا : ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی ، اے ہمارے رب !تیری بخشش چاہتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے ۔ ‘ ‘ چنانچہ جب انہوں نے یہ ( مان کر اس پر عمل ) کیا تو اللہ عزوجل نےاس آیت ( کے ابتدائی معنی ) منسوخ کرتے ہوئے یہ آیت نازل فرمائی : ’’ اللہ کسی شخص پر اس کی طاق سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا ۔ اس نے جو ( نیکی ) کمائی اورجو ( برائی ) کمائی ( اس کا وبال ) اسی پر ہے ، اے ہمارے رب ! اگر ہم بھول جائیں یا ہم خطا کریں تو ہمارا مؤاخذہ نہ کرنا ۔ ‘ ‘ ( اللہ نے ) فرمایا : ہاں ۔ ( انہوں نے کہا : ) ’’ اے ہمارے پروردگار ! اور ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جیسا تو نے ان لوگوں پر ڈالا جوہم سے پہلے ( گزر چکے ) ہیں ۔ ‘ ‘ ( اللہ نے ) فرمایا : ہاں! ( پھر کہا : ) ’’اے ہمارے رب ! ہم سے وہ چیز نہ اٹھوا جس کے اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں ۔ ‘ ‘ ( اللہ نے ) فرمایا : ہاں ! ( پھر کہا : ) ’’ او رہم سےدرگزر فرما اور ہمیں بخشش دے اور ہم پر مہربانی فرما ۔ تو ہی ہمارا کارساز ہے ، پس تو کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما ۔ ‘ ‘ ( اللہ نے ) فرمایا : ہاں ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا تَعُدُّونَ الشَّهِيدَ فِيكُمْ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ قَالَ " إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ " . قَالُوا فَمَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ مَاتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ مَاتَ فِي الطَّاعُونِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ مَاتَ فِي الْبَطْنِ فَهُوَ شَهِيدٌ " . قَالَ ابْنُ مِقْسَمٍ أَشْهَدُ عَلَى أَبِيكَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ قَالَ " وَالْغَرِيقُ شَهِيدٌ " .
It has been narrated on the authority of Abu Huraira (through another chain of transmitters) that the Messenger of Allah (ﷺ) said:Whom do you consider to be a martyr among you? They (the Companions) said: Messenger, of Allah, one who is slain in the way of Allah is a martyr. He said: Then (if this is the definition of a martyr) the martyrs of my Umma will be small in number. They asked: Messenger of Allah, who are they? He said: One who is slain in the way of Allah is a martyr; one who dies in the way of Allah, is a martyr; one who dies of plague is a martyr; one who dies of cholera is a martyr. Ibn Miqsam said: I testify the truth of your father's statement (with regard to this tradition) that the Prophet (ﷺ) said: One who is drowned is a martyr
جریر نے سہیل سے ، انہوں نے اپنے والد ( ابوصالح ) سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم آپس میں ( بات کرتے ہوئے ) شہید کس کو شمار کرتے ہو؟ "" صحابہ نے عرض کی : اللہ کے رسول! جو شخص اللہ کی راہ میں قتل کیا جائے وہ شہید ہے ۔ آپ نے فرمایا : "" پھر تو میری امت کے شہداء بہت کم ہوئے ۔ "" صحابہ نے عرض کی : یا رسول اللہ! پھر وہ کون ہیں؟ آپ نے فرمایا : "" جو شخص اللہ کی راہ میں مارا جائے وہ شہید ہے اور جو شخص اللہ کی راہ میں ( طلبِ علم ، سفرِ حج ، جہاد کے دوران میں اپنی موت ) مر جائے وہ شہید ہے ، جو شخص طاعون میں مرے وہ شہید ہے ، جو شخص پیٹ کی بیماری میں ( مبتلا ہو کر ) مر جائے وہ شہید ہے ۔ "" ( ابوصالح سے بیان کرنے والے ایک اور راوی عبیداللہ ) بن مقسم نے ( سہیل بن ابی صالح سے ) کہا : میں تمہارے والد کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ انہوں نے ( حدیث بیان کرتے ہوئے یہ بھی ) کہا تھا : "" اور غرق ہونے والا شہید ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْمِقْدَادِ، قَالَ أَقْبَلْتُ أَنَا وَصَاحِبَانِ، لِي وَقَدْ ذَهَبَتْ أَسْمَاعُنَا وَأَبْصَارُنَا مِنَ الْجَهْدِ فَجَعَلْنَا نَعْرِضُ أَنْفُسَنَا عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْهُمْ يَقْبَلُنَا فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَانْطَلَقَ بِنَا إِلَى أَهْلِهِ فَإِذَا ثَلاَثَةُ أَعْنُزٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " احْتَلِبُوا هَذَا اللَّبَنَ بَيْنَنَا " . قَالَ فَكُنَّا نَحْتَلِبُ فَيَشْرَبُ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنَّا نَصِيبَهُ وَنَرْفَعُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَصِيبَهُ - قَالَ - فَيَجِيءُ مِنَ اللَّيْلِ فَيُسَلِّمُ تَسْلِيمًا لاَ يُوقِظُ نَائِمًا وَيُسْمِعُ الْيَقْظَانَ - قَالَ - ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ فَيُصَلِّي ثُمَّ يَأْتِي شَرَابَهُ فَيَشْرَبُ فَأَتَانِي الشَّيْطَانُ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَقَدْ شَرِبْتُ نَصِيبِي فَقَالَ مُحَمَّدٌ يَأْتِي الأَنْصَارَ فَيُتْحِفُونَهُ وَيُصِيبُ عِنْدَهُمْ مَا بِهِ حَاجَةٌ إِلَى هَذِهِ الْجُرْعَةِ فَأَتَيْتُهَا فَشَرِبْتُهَا فَلَمَّا أَنْ وَغَلَتْ فِي بَطْنِي وَعَلِمْتُ أَنَّهُ لَيْسَ إِلَيْهَا سَبِيلٌ - قَالَ - نَدَّمَنِي الشَّيْطَانُ فَقَالَ وَيْحَكَ مَا صَنَعْتَ أَشَرِبْتَ شَرَابَ مُحَمَّدٍ فَيَجِيءُ فَلاَ يَجِدُهُ فَيَدْعُو عَلَيْكَ فَتَهْلِكُ فَتَذْهَبُ دُنْيَاكَ وَآخِرَتُكَ . وَعَلَىَّ شَمْلَةٌ إِذَا وَضَعْتُهَا عَلَى قَدَمَىَّ خَرَجَ رَأْسِي وَإِذَا وَضَعْتُهَا عَلَى رَأْسِي خَرَجَ قَدَمَاىَ وَجَعَلَ لاَ يَجِيئُنِي النَّوْمُ وَأَمَّا صَاحِبَاىَ فَنَامَا وَلَمْ يَصْنَعَا مَا صَنَعْتُ - قَالَ - فَجَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمَ كَمَا كَانَ يُسَلِّمُ ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ فَصَلَّى ثُمَّ أَتَى شَرَابَهُ فَكَشَفَ عَنْهُ فَلَمْ يَجِدْ فِيهِ شَيْئًا فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقُلْتُ الآنَ يَدْعُو عَلَىَّ فَأَهْلِكُ . فَقَالَ " اللَّهُمَّ أَطْعِمْ مَنْ أَطْعَمَنِي وَأَسْقِ مَنْ أَسْقَانِي " . قَالَ فَعَمَدْتُ إِلَى الشَّمْلَةِ فَشَدَدْتُهَا عَلَىَّ وَأَخَذْتُ الشَّفْرَةَ فَانْطَلَقْتُ إِلَى الأَعْنُزِ أَيُّهَا أَسْمَنُ فَأَذْبَحُهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا هِيَ حَافِلَةٌ وَإِذَا هُنَّ حُفَّلٌ كُلُّهُنَّ فَعَمَدْتُ إِلَى إِنَاءٍ لآلِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم مَا كَانُوا يَطْمَعُونَ أَنْ يَحْتَلِبُوا فِيهِ - قَالَ - فَحَلَبْتُ فِيهِ حَتَّى عَلَتْهُ رَغْوَةٌ فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَشَرِبْتُمْ شَرَابَكُمُ اللَّيْلَةَ " . قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اشْرَبْ . فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَنِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اشْرَبْ . فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَنِي فَلَمَّا عَرَفْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَدْ رَوِيَ وَأَصَبْتُ دَعْوَتَهُ ضَحِكْتُ حَتَّى أُلْقِيتُ إِلَى الأَرْضِ - قَالَ - فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِحْدَى سَوْآتِكَ يَا مِقْدَادُ " . فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ مِنْ أَمْرِي كَذَا وَكَذَا وَفَعَلْتُ كَذَا . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَا هَذِهِ إِلاَّ رَحْمَةٌ مِنَ اللَّهِ أَفَلاَ كُنْتَ آذَنْتَنِي فَنُوقِظَ صَاحِبَيْنَا فَيُصِيبَانِ مِنْهَا " . قَالَ فَقُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أُبَالِي إِذَا أَصَبْتَهَا وَأَصَبْتُهَا مَعَكَ مَنْ أَصَابَهَا مِنَ النَّاسِ .
Miqdad reported:I and two of my companions were so much afflicted by hunger that we had lost our power of seeing and hearing. We presented ourselves (as guests) to the Companions of the Prophet (ﷺ), but none amongst them would entertain us. So we came to Allah's Apostle (ﷺ), and he took us to his residence and there were three goats. Allah's Apostle (ﷺ) said: Milk these for us. So we milked them and every person amongst us drank his share and we set aside the share of Allah's Apostle (ﷺ). (It was his habit) to come during the night and greet (the people present there) in a manner that would not wake up one in sleep but make one who was awake hear it. He would then go to the mosque and say prayer, then go to the milk and drink it. Miqdad added: One night the Satan came to me when I had taken my share, and he said: Muhammad has gone to the Ansar, who would offer him hospitality and he would get what is with them, and he has no need for this draught (of milk). So I took (that milk) and drank it, and when it had penetrated deeply in my stomach and I was certain that there was no way out (but to digest it), the Satan aroused (my sense of) remorse and said: Woe be to thee! what have you done? You have taken the drink reserved for Muhammad! When he would come and he would not find it, he would curse you, and you would be ruined, and thus there would go (waste) this world and the Hereafter (for) you. There was a sheet over me; as I placed (pulled) it upon my feet, my head was uncovered and as I placed it upon my head, my feet were uncovered, and I could not sleep, but my two companions had gone to sleep for they had not done what I had done. There came Allah's Apostle (ﷺ), and he greeted as he used to greet (by saying as-Salamu 'Alaikum). He then came to the mosque and observed prayer and then came to his drink (milk) and uncovered it, but did not find anything in it. He raised his head towards the sky, and I said (to myself) that he (the Holy Prophet) was going to invoke curse upon me and I would be thus ruined; but he (the Holy Prophet) said: Allah, feed him who fed me and give drink to him who provided me drink. I held tight the sheet upon myself (and when he had supplicated), I took hold of the knife and went to the goats (possessed by the Holy Prophet) so that I may slauhter one for Allah's Messenger (ﷺ) which was the fattest amongst them, and in fact all of them were milch goats; then I took hold of the vessel which belonged to the family of Allah's Messenger (ﷺ) in which they used to milk and drink therefrom, and milked them in that until it swelled up with foam. I came to Allah's Messenger (ﷺ) and he said: Have you taken your share of the milk during the night? I said: Drink it. and he drank it; he then handed over (the vessel) to me and I said: Allah's Messenger, drink it, and he drank it and handed over (the vessel) to me again, I then perceived that Allah's Apostle (ﷺ) had been satiated and I had got his blessings. I burst into laughter (so much) so that I fell upon the ground, whereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Miqdad, it must be one of your mischiefs. I said: Allah's Messenger, this affair of mind is like this and this. and I have done so. Thereupon. Allah's Apostle (ﷺ) said: This is nothing but a mercy from Allah. Why is it that you did not give me an opportunity so that we should have awakened our two friends and they would have got their share (of the milk)? I said: By Him Who has sent you with Truth. I do not mind whatever you give (to them), and whatever the (other) people happen to get, when I had got it along with you from among the people
شبانہ بن سوار نے کہا : ہمیں سلیمان بن مغیرہ نے ثابت سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے ، انھوں نے حضرت مقدار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے دونوں ساتھی آئے اور ( فاقہ وغیرہ کی ) تکلیف سے ہماری آنکھوں اور کانوں کی قوت جاتی رہی تھی ۔ ہم اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پر پیش کرتے تھے لیکن کوئی ہمیں قبول نہ کرتا تھا ۔ آخر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اپنے گھر لے گئے ۔ وہاں تین بکریاں تھیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کا دودھ دوہو ، ہم تم سب پئیں گے پھر ہم ان کا دودھ دوہا کرتے اور ہم میں سے ہر ایک اپنا حصہ پی لیتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ رکھ چھوڑتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تشریف لاتے اور ایسی آواز سے سلام کرتے جس سے سونے والا نہ جاگے اور جاگنے والا سن لے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آتے ، نماز پڑھتے ، پھر اپنے دودھ کے پاس آتے اور اس کو پیتے ۔ ایک رات جب میں اپنا حصہ پی چکا تھا کہ شیطان نے مجھے بھڑکایا ۔ شیطان نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو انصار کے پاس جاتے ہیں ، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے دیتے ہیں اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرورت ہے ، مل جاتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس ایک گھونٹ دودھ کی کیا ضرورت ہو گی؟ آخر میں آیا اور وہ دودھ پی گیا ۔ جب دودھ پیٹ میں سما گیا اور مجھے یقین ہو گیا کہ اب وہ دودھ نہیں ملنے کا تو اس وقت شیطان نے مجھے ندامت کی اور کہنے لگا کہ تیری خرابی ہو تو نے کیا کام کیا؟ تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ پی لیا ، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئیں گے اور دودھ کو نہ پائیں گے تو تجھ پر بددعا کریں گے اور تیری دنیا اور آخرت دونوں تباہ ہوں گی ۔ میں ایک چادر اوڑھے ہوئے تھا جب اس کو پاؤں پر ڈالتا تو سر کھل جاتا اور جب سر ڈھانپتا تو پاؤں کھل جاتے تھے اور مجھے نیند بھی نہ آ رہی تھی جبکہ میرے ساتھی سو گئے اور انہوں نے یہ کام نہیں کیا تھا جو میں نے کیا تھا ۔ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور معمول کے موافق سلام کیا ، پھر مسجد میں آئے اور نماز پڑھی ، اس کے بعد دودھ کے پاس آئے ، برتن کھولا تو اس میں کچھ نہ تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا میں سمجھا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بددعا کرتے ہیں اور میں تباہ ہوا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ! کھلا اس کو جو مجھے کھلائے اور پلا اس کو جو مجھے پلائے ۔ یہ سن کر میں نے اپنی چادر کو مضبوط باندھا ، چھری لی اور بکریوں کی طرف چلا کہ جو ان میں سے موٹی ہو اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ذبح کروں ۔ دیکھا تو اس کے تھن میں دودھ بھرا ہوا ہے ۔ پھر دیکھا تو اور بکریوں کے تھنوں میں بھی دودھ بھرا ہوا ہے ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کا ایک برتن لیا جس میں وہ دودھ نہ دوہتے تھے ( یعنی اس میں دوہنے کی خواہش نہیں کرتے تھے ) ۔ اس میں میں نے دودھ دوہا ، یہاں تک کہ اوپر جھاگ آ گیا ( اتنا بہت دودھ نکلا ) اور میں اس کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اپنے حصے کا دودھ رات کو پیا یا نہیں؟ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ دودھ پیجئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پی کر مجھے دیا تو میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اور پیجئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور پیا ۔ پھر مجھے دیا ، جب مجھے معلوم ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیر ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا میں نے لے لی ہے ، تب میں ہنسا ، یہاں تک کہ خوشی کے مارے زمین پر گر گیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے مقداد! تو نے کوئی بری بات کی؟ وہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرا حال ایسا ہوا اور میں نے ایسا قصور کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس وقت کا دودھ ( جو خلاف معمول اترا ) اللہ کی رحمت تھی ۔ تو نے مجھ سے پہلے ہی کیوں نہ کہا ہم اپنے دونوں ساتھیوں کو بھی جگا دیتے کہ وہ بھی یہ دودھ پیتے؟ میں نے عرض کیا کہ قسم اس کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا کلام دے کر بھیجا ہے کہ اب مجھے کوئی پرواہ نہیں جب آپ نے اللہ کی رحمت حاصل کر لی اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاصل کی تو کوئی بھی اس کو حاصل کرے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الأَشْعَرِيُّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، قَالَ أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ نَازِلٌ بِالْجِعْرَانَةِ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ وَمَعَهُ بِلاَلٌ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ أَلاَ تُنْجِزُ لِي يَا مُحَمَّدُ مَا وَعَدْتَنِي فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَبْشِرْ " . فَقَالَ لَهُ الأَعْرَابِيُّ أَكْثَرْتَ عَلَىَّ مِنْ " أَبْشِرْ " . فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى أَبِي مُوسَى وَبِلاَلٍ كَهَيْئَةِ الْغَضْبَانِ فَقَالَ " إِنَّ هَذَا قَدْ رَدَّ الْبُشْرَى فَاقْبَلاَ أَنْتُمَا " . فَقَالاَ قَبِلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ فِيهِ وَمَجَّ فِيهِ ثُمَّ قَالَ " اشْرَبَا مِنْهُ وَأَفْرِغَا عَلَى وُجُوهِكُمَا وَنُحُورِكُمَا وَأَبْشِرَا " . فَأَخَذَا الْقَدَحَ فَفَعَلاَ مَا أَمَرَهُمَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَنَادَتْهُمَا أُمُّ سَلَمَةَ مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ أَفْضِلاَ لأُمِّكُمَا مِمَّا فِي إِنَائِكُمَا . فَأَفْضَلاَ لَهَا مِنْهُ طَائِفَةً .
Abu Musa reported:I was in the company of Allah's Apostle (ﷺ) as he had been sitting in Ji'rana (a place) between Mecca and Medina and Bilal was also there, that there came to Allah's Apostle (ﷺ) a desert Arab, and he said: Muhammad, fulfill your promise that you made with me. Allah's Messenger (ﷺ) said to him: Accept glad tidings. Thereupon the desert Arab said: You shower glad tidings upon me very much; then Allah's Messenger (ﷺ) turned towards Abu Musa and Bilal seemingly in a state of annoyance and said: Verily he has rejected glad tidings but you two should accept them. We said: Allah's Messenger, we have readily accepted them. Then Allah's Messenger (ﷺ) called for a cup of water and washed his hands in that and face too and put the saliva in it and then said: Drink out of it and pour it over your faces and over your chest and gladden yourselves. They took hold of the cup and did as Allah's Messenger (ﷺ) had commanded them to do. Thereupon Umm Salama called from behind the veil: Spare some water in your vessel for your mother also, and they also gave some water which had been spared for her
ابو بردہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اور آپ نے مکہ اور مدینہ کے درمیان جعرانہ میں پڑاؤ کیا ہوا تھا ۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بدو شخص آیا ، اس نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا اسے پورا نہیں کریں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " خوش ہو جاؤ ۔ " ( میں نے وعدہ کیا ہے تو پورا کروں گا ۔ ) اس بدو نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : آپ مجھ سے بہت دفعہ " خوش ہو جاؤ ۔ " کہہ چکے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے جیسی کیفیت میں ابو موسیٰ اور بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف متوجہ ہو ئے اور فرما یا : " اس شخص نے میری بشارت کو مسترد کر دیا ہے اب تم دونوں میری بشارت کو قبول کرلو ۔ " ان دونوں نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہم نے قبول کی ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا آپ نے اس پیالے میں اپنے ہاتھ اور اپنا چہرہ دھویا اور اس میں اپنے دہن مبارک کا پانی ڈالا پھر فر ما یا : " تم دونوں اسے پی لو اور اس کو اپنے اپنے چہرے اور سینے پر مل لو اور خوش ہو جاؤ ۔ " ان دونوں نے پیا لہ لے لیا اور جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا تھا اسی طرح کیا تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پردے کے پیچھے سے ان کو آواز دے کر کہا : جو تمھا رے برتن میں ہے اس میں سے کچھ اپنی ماں کے لیے بھی بچا لو ، تو انھوں نے اس میں سے کچھ ان کے لیے بھی بچا لیا ۔