حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَى قَوْلِهِ " وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَىْءٍ بَعْدُ " . وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ .
Ibn Abbas reported from the Messenger of Allah (ﷺ) the words:" And that would fill that which will please Thee besides (them)!" and he did not mention the subsequent (portion of supplication)
حفص نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ہشام بن حسان نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نبیﷺ سے ان الفاظ تک روایت کی : ’’اور ان کے بعد جو تو چاہے اس کی وعست بھر ۔ ‘ انہوں ( حفص ) نے آگے کا حصہ بیان نہیں کیا ۔
وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ - أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا فَقَالَتْ يَا رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا . فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ فَهُوَ أَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الزَّمْهَرِيرِ " .
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: The Fire made a complaint before the Lord saying." O Lord, some parts of mine have consumed the others." So it was allowed to take two exhalations, one exhalation in winter and the other exhalation in summer. That is why you find extreme heat (in summer) and extreme cold (in winter)
ابن شہاب سے روایت ہے ، کہا : مجھ سے ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے حدیث نے حدیث بیان کی کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’آگ نےاپنے رب کے حضور شکایت کی اور کہا : اے میرے رب ! میرا ایک حصہ دوسرے کو کھارہا ہے ۔ تو اللہ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت عطا کردی : ایک سانس سردی میں اور ایک سانس گرمی ، گرمی اور سردی کے موسم میں جو تم شدید ترسین گرمی اور شدید ترسین سردی محسوس کرتے ہو تو یہ وہی ( چیز ) ہے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي، هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَفْتَتِحْ صَلاَتَهُ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ
Abu Huraira reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying When any one of you gets up at night, he should begin the prayer with two short rak'ahs
حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی رات کو ( نماز کے لئے ) اٹھے تو وہ اپنی نماز کا آغاز دو ہلکی رکعتوں سے کرے ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ وَهْبٍ، يُحَدِّثُ عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ ح وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ أُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ يَقُولُ لأَقُومَنَّ اللَّيْلَ وَلأَصُومَنَّ النَّهَارَ مَا عِشْتُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " آنْتَ الَّذِي تَقُولُ ذَلِكَ " . فَقُلْتُ لَهُ قَدْ قُلْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَإِنَّكَ لاَ تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَنَمْ وَقُمْ وَصُمْ مِنَ الشَّهْرِ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فَإِنَّ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَذَلِكَ مِثْلُ صِيَامِ الدَّهْرِ " . قَالَ قُلْتُ فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ . قَالَ " صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمَيْنِ " . قَالَ قُلْتُ فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا وَذَلِكَ صِيَامُ دَاوُدَ - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - وَهُوَ أَعْدَلُ الصِّيَامِ " . قَالَ قُلْتُ فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ " . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو رضى الله عنهما لأَنْ أَكُونَ قَبِلْتُ الثَّلاَثَةَ الأَيَّامَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ أَهْلِي وَمَالِي .
Abdullah b. 'Amr b. al-'As reported that the Messenger of Allah (ﷺ) was informed that he could stand up for (prayer) throughout the night and observe fast every day so long as he lived. Thereupon the Messenger of Allah (ﷺ) said:Is it you who said this? I said to him: Messenger of Allah, it is I who said that. Thereupon the Messenger of Allah may peace be upon him) said: You are not capable enough to do so. Observe fast and break it; sleep and stand for prayer, and observe fast for three days during the month; for every good is multiplied ten times and this is like fasting for ever. I said: Messenger of Allah. I am capable of doing more than this. Thereupon he said: Fast one day and do not fast for the next two days. I said: Messenger of Allah, I have the strength to do more than that. The Prophet (ﷺ), said: Fast one day and break on the other day. That is known as the fasting of David (peace be upon him) and that is the best fasting. I said: I am capable of doing more than this. Thereupon the Messenger of Allah (ﷺ) said: There is nothing better than this. 'Abdullah b. 'Amr (Allah be pleased with them) said: Had I accepted the three days (fasting during every month) as the Messenger of Allah (ﷺ) had said, it would have been more dear to me than my family and my property
ابن شہاب نے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمان سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی گئی کہ وہ ( عبداللہ ) کہتاہے : میں جب تک زندہ ہوں ( مسلسل ) رات کا قیام کروں گا اور دن کا روزہ رکھوں گا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم ہی ہو جو یہ باتیں کرتے ہو؟ "" میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !واقعی میں نے ہی یہ کہا ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم یہ کام نہیں کرسکو گے ، لہذا روزہ رکھو اور روزہ ترک بھی کرو ۔ نیند بھی کرو اور قیام بھی کرو ، مہینے میں تین دن کے روزے رکھ لیا کرو کیونکہ ہر نیکی ( کا اجر ) دس گنا ہے ۔ اس طرح یہ سارے وقت کے روزوں کی طرح ہے ۔ "" میں نے عرض کی : میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ایک دن روزہ رکھو اور دو دن نہ رکھو ۔ "" کہا : "" میں نے عرض کی : میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ایک دن روزہ رکھو اورایک دن نہ رکھو ۔ "" یہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے ۔ اور یہ روزوں کا سب سے منصفانہ ( طریقہ ) ہے ۔ "" کہا : میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اس سے افضل کوئی صورت نہیں ۔ "" عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : یہ بات مجھے اپنے اہل وعیال سے بھی زیاد عزیز ہے کہ میں ( مہینے میں ) تین دنوں کی بات تسلیم کرلیتا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی تھی ۔
وَحَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، ح وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ فِي رِوَايَةِ بَهْزٍ " لَحَلَلْتُ" .
This hadith is narrated by Salim b. Hayyin with the same chain of transmitters, but with a slight variation of words
عبد الصمد اور بہزدونوں نے کہا : ہمیں سلیم بن حیان نے اسی سند کے ساتھ اسی کی طرح حدیث بیان کی ، البتہ بہز کی روایت میں " حلال ہو جا تا " ( احرا م کھو ل دیتا ) کے الفا ظ ہیں ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عِيسَى، - وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ ح وَحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ حَدَّثَنِيهِ أَوَّلاً أَبِي، عَنْ أَبَانِ بْنِ تَغْلِبَ، عَنِ الأَعْمَشِ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ مِنْهُ، .
This hadith is narrated by another chain of transmitters, (namely) lshaq b. Ibrahim. Ibn Idris says:My father transmitted it from Aban b. Taghlib who heard it from A'mash; then I heard it also from him (A'mash)
اسحٰق بن ابراہیم اور علی بن خشرم نے کہا : ہمیں عیسٰی بن یونس نے خبر دی ، نیز منجاب بن حارث تمیمی نے کہا : ہمیں ابن مسہر نے خبر دی ، نیز ابو کریب نے کہا : ہمیں ابن ادریس نے خبر دی ، پھر ان تینوں ( عیسیٰ ، ابن مسہر اور ابن ادریس ) نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی ۔ ابوکریب نے کہا : ابن ادریس نے کہا : پہلے مجھے میرے والد نے ابان بن تغلب سے اور انہوں نے اعمش سے روایت کی ، پھر میں نے یہ روایت خود انہی ( اعمش ) سے سنی ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ سُمَىٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ وَجَدَ غُصْنَ شَوْكٍ عَلَى الطَّرِيقِ فَأَخَّرَهُ فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ " . وَقَالَ " الشُّهَدَاءُ خَمْسَةٌ الْمَطْعُونُ وَالْمَبْطُونُ وَالْغَرِقُ وَصَاحِبُ الْهَدْمِ وَالشَّهِيدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
It has been narrated on the authority of Abu Huraira that the, Messenger of Allah (ﷺ) said:While a man walks along a path, finds a thorny twig lying on the way and puts it aside, Allah would appreciate it and forgive him The Prophet (ﷺ) said: The martyrs are of five kinds: one who dies of plague; one who dies of diarrhoea (or cholera) ; one who is drowned; one who is buried under debris and one who dies fighting in the way of Allah
سُمی نے ابوصالح سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک بار ایک شخص کسی راستے پر جا رہا تھا ، اس نے راستے میں ایک خاردار شاخ دیکھی تو اس کو ( راستے سے ) پیچھے کر دیا ، اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے عمل کی جزا دی اور اس کو بخش دیا ۔ " پھر آپ نے فرمایا : " شہید پانچ ( قسم کے اشخاص ) ہیں : ( 1 ) طاعون کی بیماری میں مرنے والا ۔ ( 2 ) پیٹ کی بیماری میں مرنے والا ۔ ( 3 ) ڈوب کر مرنے والا ۔ ( 4 ) کسی چیز کے نیچے دب کر مرنے والا ۔ ( 5 ) اور جو شخص اللہ عزوجل کی راہ میں ( لڑتے ہوئے ) شہید ہوا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِيُضِيفَهُ فَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ مَا يُضِيفُهُ فَقَالَ " أَلاَ رَجُلٌ يُضِيفُ هَذَا رَحِمَهُ اللَّهُ " . فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو طَلْحَةَ فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى رَحْلِهِ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ جَرِيرٍ وَذَكَرَ فِيهِ نُزُولَ الآيَةِ كَمَا ذَكَرَهُ وَكِيعٌ .
Abu Huraira reported that a man came to Allah's Messenger (ﷺ) so that he should entertain him as a guest, but he had nothing with which he could entertain him. He, therefore, asked if there was any person who would entertain him (assuring the audience) that Allah would show mercy to him. A person from the Ansar who was called Abu Talha stood up and he took him to his house. The rest of the hadith is the same and mention is (also) made in that about the revelation of the verse as narrated by Waki
ابن فضیل نے اپنے والد سے ، انھوں نے ابو حازم سے انھوں نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے مہمان بنالیں ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کی میزبانی کےلئے کچھ بھی نہ تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی ایسا شخص ہے جواس کو مہمان بنائے؟اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے! " انصار میں سے ایک شخص کھڑے ہوگئے ، انھیں ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہاجاتا تھا ، وہ اس ( مہمان ) کواپنے گھر لے گئے ، اس کے بعد جریر کی حدیث کے مطابق حدیث بیان کی ، انھوں نے بھی وکیع کی طرح آیت نازل ہونے کا ذکر کیا ۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ أَخْبَرَتْنِي أُمُّ مُبَشِّرٍ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ عِنْدَ حَفْصَةَ " لاَ يَدْخُلُ النَّارَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ أَحَدٌ . الَّذِينَ بَايَعُوا تَحْتَهَا " . قَالَتْ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَانْتَهَرَهَا فَقَالَتْ حَفْصَةُ { وَإِنْ مِنْكُمْ إِلاَّ وَارِدُهَا} فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " قَدْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا}
Umm Mubashshir reported that she heard Allah's Apostle (ﷺ) as saying in presence of Hafsa:God willing, the people of the Tree would never enter the fire of Hell one amongst those who owed allegiance under that. She said: Allah's Messenger, why not? He scolded her. Hafsa said: And there is none amongst you but shall have to pass over that (narrow Bridge). Thereupon Allah's Apostle (ﷺ) said: Allah, the Exalted and Glorious, has said: We would rescue those persons who are God-conscious and we would leave the tyrants to their fate there (xix)
ابو زبیر نے خبر دی کہا : انھوں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے ۔ مجھےام مبشر رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خبر دی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں یہ فرما تے ہو ئے سنا ، " ان شاء اللہ اصحاب شجرہ ( درخت والوں ) میں سے کو ئی ایک بھی جس نے اس کے نیچے بیعت کی تھی جہنم میں داخل نہ ہو گا ۔ وہ ( حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) کہنے لگیں ۔ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیوں نہیں ! ( داخل تو ہوں گے ۔ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں جھڑک دیا تو حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آیت پڑھی : " تم میں سے کو ئی نہیں مگر اس پر وارد ہو نے والاہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ( اس کے بعد ) اللہ تعا لیٰ نے یہ ( بھی ) فرمایا ہے ۔ پھر ہم تقویٰ اختیار کرنے والوں کو ( جہنم میں گرنے سے ) بچا لیں گے اور ظالموں کو اسی میں گھٹنوں کے بل پڑا رہنے دیں گے ۔