بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
4
9 hadith
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ قَزْعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ ‏ "‏ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَىْءٍ بَعْدُ أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ اللَّهُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلاَ مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلاَ يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ ‏"‏ ‏.‏
Abu Sa'id al-Khudri reported:When the Messenger of Allah (ﷺ) raised his head after bowing, he said: O Allah! our Lord, to Thee be the praise that would fill all the heavens and the earth, and all that it pleases Thee besides (them). O, thou art worthy of praise and glory, most worthy of what a servant says, and we all are Thy servants, no one can withhold what Thou givest or give what Thou withholdest, and riches cannot avail a wealthy person against Thee
حضرت ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو فرماتے : ’’اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تعریف ہے آسمان بھر ، زمین بھر اور ان کے سوا جو چیز تو چاہے اس کی وسعت بھر ۔ ثنا اورعظمت کے حق دار! ( یہی ) صحیح ترین بات ہے جو بندہ کہہ سکتا ہے اور ہم سب تیری ہی بندے ہیں ۔ اے اللہ! جو کچھ تو عنایت فرمانا چاہے ، اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سےتو محروم کر دے ، وہ کوئی دے نہیں سکتا اور نہ ہی کسی مرتبہ والے کو تیرے سامنے اس کا مرتبہ نفع دے سکتا ہے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَبْرِدُوا عَنِ الْحَرِّ فِي الصَّلاَةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ‏"‏ ‏.‏
Hammam b. Munabbih reported:This is what Abu Huraira narrated to us from the Prophet and he transmitted some ahadith-one of them was that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Let the heat become less severe before prayer, for the intensity of heat is from the exhalation of Hell
ہمام بن منبہ نے کہا : یہ وہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے رسول اللہ ﷺسے بیان کیں ، پھر انھوں نے کئی احادیث بیان کیں ، ان میں سے ( ایک ) یہ : اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’نمازوں میں گرمی سے بچنے کے لیے ( وقت ) ٹھنڈا ہونے دو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹوں میں سے ہے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَانْتَهَيْنَا إِلَى مَشْرَعَةٍ فَقَالَ ‏ "‏ أَلاَ تُشْرِعُ يَا جَابِرُ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ بَلَى - قَالَ - فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَشْرَعْتُ - قَالَ - ثُمَّ ذَهَبَ لِحَاجَتِهِ وَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوءًا - قَالَ - فَجَاءَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ فَقُمْتُ خَلْفَهُ فَأَخَذَ بِأُذُنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ ‏.‏
Jabir b. 'Abdullah reported:I accompanied the Messenger of Allah (ﷺ) in a journey and we reached a watering place. He said: Jabir, are you going to enter it? I said: Yes. The Messenger of Allah (ﷺ) then got down and I entered it. He (the Holy Prophet) then went away to relieve himself and I placed for him water for ablution. He then came back and performed ablution, and then stood and prayed in one garment, having its ends tied from the opposite sides. I stood behind him and he caught hold of my ear and made me stand on his right side
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ، ہم پانی کے ایک گھاٹ پر پہنچے تو آپ نے فرمایا : " جابر!کیا تم سواری کو پلانے کے لئے گھاٹ پر نہیں اتروں گے؟ " میں نے کہا : کیوں نہیں!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( بھی ) گھاٹ پر اترے اور میں بھی اترا ، پھر آپ ضرورت کے لئے تشریف لے گئے اور میں نے آپ کے لئے وضو کا پانی رکھ دیا ، آپ واپس آئے اور وضو فرمایا ، پھر آپ کھڑ ے ہوئے اور ایک کپڑے میں نماز پڑھی جس کے دونوں کنارے آپ نے مخالف سمتوں میں ڈال رکھے تھے ( دائیں کنارے کو بائیں کندھے پر اور بائیں کنارے کو دائیں کندھے پر ڈالا ) میں آپ کے پیچھے کھڑا ہوگیا تو آپ نے میرے کان سے پکڑ کر مجھے اپنی دائیں طرف کرلیا ۔
وَحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ح وَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، كِلاَهُمَا عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ بِمِثْلِهِ ‏.‏
The same hadith as the previous hadith has been transmitted through another chain
علی بن مسہر اور عیسیٰ بن یونس دونوں نے اسی سند کے ساتھ عثمان بن حکیم سے اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنِي حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَأَتَاهُ آتٍ فَقَالَ إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَابْنَ الزُّبَيْرِ اخْتَلَفَا فِي الْمُتْعَتَيْنِ فَقَالَ جَابِرٌ فَعَلْنَاهُمَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ نَهَانَا عَنْهُمَا عُمَرُ فَلَمْ نَعُدْ لَهُمَا ‏
Abd Nadra reported:While I was in the company of Jibir, a person came and said: There is difference of opinion amomg Ibn Abbas and Ibn Zubair about two Mut'as (benefits, Tamattul in Hajj and temporary marriage with women), whereupon jibir said: We have been doing this during the lifetime of Allah's Messenger (way peace be upon him), and then 'Umar forbade us to do so, and we never resorted to them
ابو نضر ہ سے روایت ہے کہا : میں جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں موجود تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا : ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دونوں متعوں ( حج تمتع اور عورتوں سے متعہ ) کے بارے میں ایک دوسرے سے اختلاف کیا ہے ۔ حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فر ما یا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ دونوں متعے کیے پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں ان دونوں سے روک دیا تو دوبار ہ ہم نے دونوں نہیں کیے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ، أَعْتَقَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِائَةَ رَقَبَةٍ وَحَمَلَ عَلَى مِائَةِ بَعِيرٍ ثُمَّ أَعْتَقَ فِي الإِسْلاَمِ مِائَةَ رَقَبَةٍ وَحَمَلَ عَلَى مِائَةِ بَعِيرٍ ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ ‏.‏
Hisham b. Urwa narrated it on the authority of his father:Hakim b. Hizam freed one hundred slave and donated one hundred camels (for the sake of Allah) during the state of ignorance. Then he freed one hundred slaves and donated one hundred camel (for the sake of Allah) after) he had embraced Islam. He subsequently came to the Apostle (ﷺ). The rest of the hadith is the same as narrated above
عبد اللہ بن نمیر نے ہشام سے سابقہ سند سے روایت کی کہ حکیم بن حزام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے دور جاہلیت میں سو غلام آزاد کیے تھے اور سو اونٹ سواری کے لیے ( مستحقین کو ) دیے تھے ، پھر اسلام لانے کے بعد ( دوبارہ ) سو غلام آزاد کیے اور سواونٹ سواری کے لیے دیے ، پھر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ..... آگے مذکورہ بالا حدیث کے مطابق بیان کیا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَهْرَامَ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، - يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ - عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السَّمِطِ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ رِبَاطُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ خَيْرٌ مِنْ صِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ وَإِنْ مَاتَ جَرَى عَلَيْهِ عَمَلُهُ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُهُ وَأُجْرِيَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ وَأَمِنَ الْفَتَّانَ ‏"‏ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Salman who said:I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Keeping watch for a day and a night is better (in point of reward) than fasting for a whole month and standing in prayer every night. If a person dies (while, performing this duty), his (meritorious) activity will continue and he will go on receiving his reward for it perpetually and will be saved from the torture of the grave
لیث بن سعد نے ہمیں ایوب بن موسیٰ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے مکحول سے ، انہوں نے شرجیل بن سمط سے ، انہوں نے سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " ایک دن اور ایک رات سرحد پر پہرپ دینا ، ایک ماہ کے روزوں اور قیام سے بہتر ہے اور اگر ( پہرہ دینے والا ) فوت ہو گیا تو اس کا وہ عمل جو وہ کر رہا تھا ، ( آئندہ بھی ) جاری رہے گا ، اس کے لیے اس کا رزق جاری کیا جائے گا اور وہ ( قبر میں سوالات کر کے ) امتحان لینے والے سے محفوظ رہے گا ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي مَجْهُودٌ ‏.‏ فَأَرْسَلَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ فَقَالَتْ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا عِنْدِي إِلاَّ مَاءٌ ‏.‏ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أُخْرَى فَقَالَتْ مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى قُلْنَ كُلُّهُنَّ مِثْلَ ذَلِكَ لاَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا عِنْدِي إِلاَّ مَاءٌ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ مَنْ يُضِيفُ هَذَا اللَّيْلَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى رَحْلِهِ فَقَالَ لاِمْرَأَتِهِ هَلْ عِنْدَكِ شَىْءٌ ‏.‏ قَالَتْ لاَ إِلاَّ قُوتُ صِبْيَانِي ‏.‏ قَالَ فَعَلِّلِيهِمْ بِشَىْءٍ فَإِذَا دَخَلَ ضَيْفُنَا فَأَطْفِئِي السِّرَاجَ وَأَرِيهِ أَنَّا نَأْكُلُ فَإِذَا أَهْوَى لِيَأْكُلَ فَقُومِي إِلَى السِّرَاجِ حَتَّى تُطْفِئِيهِ ‏.‏ قَالَ فَقَعَدُوا وَأَكَلَ الضَّيْفُ ‏.‏ فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ قَدْ عَجِبَ اللَّهُ مِنْ صَنِيعِكُمَا بِضَيْفِكُمَا اللَّيْلَةَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported that a person came to Allah's Messenger (ﷺ) and said:I am hard pressed by hunger. He sent (message) to one of his wives (to procure food for him). but she said: By Him Who has sent you with Truth, thrre is nothing with me (to serve him) but only water. He (the Holy Prophet) then sent the (same) message to another, and she gave the same reply, until all of them gave the same reply: By Him Who has sent thee with the Truth, there is nothing with me but only water, whereupon he (the Holy Prophet) said: Allah would show mercy to him who will entertain this guest tonight. A person from the Ansar stood up and said: Messenger of Allah, I (am ready to entertain). He took him to his house and said to his wife: Is there anything with you (to serve the gdest)? She said: No, but only a subsistence for our children. He said: Distract their attention with something, and when the guest enters extinguish the lamp and give him the impression that we are eating. So they sat down. and the guest had his meal. When it was morning he went to Allah's Apostle (ﷺ) who said: Allah was well pleased with what you both did for your guest this night
جریر بن عبدالحمید نےفضیل بن غزوان سے ، انھوں نے ابو حازم اشجعی سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ مجھے ( کھانے پینے کی ) بڑی تکلیف ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی زوجہ مطہرہ کے پاس کہلا بھیجا ، وہ بولیں کہ قسم اس کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچائی کے ساتھ بھیجا ہے کہ میرے پاس تو پانی کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری زوجہ کے پاس بھیجا تو انہوں نے بھی ایسا ہی کہا ، یہاں تک کہ سب ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن سے یہی جواب آیا کہ ہمارے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج کی رات کون اس کی مہمانی کرتا ہے؟ اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے ، تب ایک انصاری اٹھا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! میں کرتا ہوں ۔ پھر وہ اس کو اپنے ٹھکانے پر لے گیا اور اپنی بیوی سے کہا کہ تیرے پاس کچھ ہے؟ وہ بولی کہ کچھ نہیں البتہ میرے بچوں کا کھانا ہے ۔ انصاری نے کہا کہ بچوں سے کچھ بہانہ کر دے اور جب ہمارا مہمان اندر آئے اور دیکھنا جب ہم کھانے لگیں تو چراغ بجھا دینا ۔ پس جب وہ کھانے لگا تو وہ اٹھی اور چراغ بجھا دیا ( راوی ) کہتا ہے وہ بیٹھے اور مہمان کھاتا رہا ۔ اس نے ایسا ہی کیا اور میاں بیوی بھوکے بیٹھے رہے اور مہمان نے کھانا کھایا ۔ جب صبح ہوئی تو وہ انصاری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے تعجب کیا جو تم نے رات کو اپنے مہمان کے ساتھ کیا ( یعنی خوش ہوا ) ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ح وَحَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ - كُلُّهُمْ عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبَا مَرْثَدٍ الْغَنَوِيَّ وَالزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ وَكُلُّنَا فَارِسٌ فَقَالَ ‏ "‏ انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ فَإِنَّ بِهَا امْرَأَةً مِنَ الْمُشْرِكِينَ مَعَهَا كِتَابٌ مِنْ حَاطِبٍ إِلَى الْمُشْرِكِينَ ‏"‏ ‏.‏ فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ عَلِيٍّ ‏.‏
Ali reported that Allah's Messenger (ﷺ) sent me and Abu Marthad al-Ghitnavi and Zubair b. 'Awwam and we were all riders, and he said:Ride on until you reach the garden of Khakh for there is a woman amongst the polytheists and there is a letter with her sent by Hatib to the polytheists; the rest of the hadith is the same
ابو عبد الرحمٰن سلمی نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ، حضرت ابو مرثد غنوی اور زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو روانہ کیا ہم سب گھوڑوں پر سوار تھے آپ نے فر ما یا : " تم خاخ کے باغ کی طرف روانہ ہو جاؤ ، وہاں ایک مشرک عورت ہو گئی ، اس کے پاس مشرکین کے نام حاطب کا ایک خط ہو گا ۔ " آگے عبید اللہ بن ابی رافع کی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی حدیث کے ہم معنی بیان کیا ۔