حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، قَالَ وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ فِي رِوَايَةِ مُعَاذٍ " كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّرَنِ " . وَفِي رِوَايَةِ يَزِيدَ " مِنَ الدَّنَسِ " .
This hadith with the same chain of transmitters has been narrated by Shu'ba, and in the narration of Mu'adh the words are:" just as the white garment is cleansed from filth," and in the narration of Yazid:" from dirt
عبید اللہ کے والد معاذ عنبری اور یزید بن ہارون دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی ۔ معاذ کی روایت میں ( من الوسخ کے بجائے ) من الدرن اور یزید کی روایت میں من الدنس کے الفاظ ہیں ( تینوں لفظوں کے معنیٰ ایک ہی ہیں ۔)
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ هَذَا الْحَرَّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلاَةِ " .
Abu Huraira reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said:This heat is from the exhalation of Hell-fire, so delay the prayer till it is cool
علاء نے اپنے والد ( عبدالرحمان بن یعقوب ) سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’یہ گرمی آتش دوزخ کی لپٹوں میں سے ہے ، اس لیے نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھو
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَخْبَرَهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ لأَرْمُقَنَّ صَلاَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اللَّيْلَةَ فَصَلَّى . رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ أَوْتَرَ فَذَلِكَ ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً .
Zaid b Khalid al-Juhani said:I would definitely watch at night the prayer observed by the Messenger of Allah (ﷺ). He prayed two short rak'ahs, then two long, long, long rak'ahs, then he prayed two rak'ahs which were shorter than the two preceding rak'ahs, then he prayed two rak'ahs which were shorter than the two preceding, then he prayed two rak'ahs which were shorter than the two preceding, then observed a single one (Witr), making a total of thirteen rak'ahs
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ۔ کہ انھوں نے ( دل میں ) کہا : میں آج رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا ( گہری نظر سے ) مشاہدہ کروں گا ، تو ( میں نے دیکھا کہ ) آپ نے دو ہلکی رکعتیں پڑھیں ، پھر دو انتہائی لمبی رکعتیں بہت ہی زیادہ لمبی رکعتیں اداکیں ، پھر دو رکعتیں پڑھیں ۔ جو ( ان طویل ترین ) رکعتوں سے ہلکی تھیں ، پھر دو رکعتیں پڑھیں جو اپنے سے پہلے کی دو رکعتوں سے ہلکی تھیں ، پھر دو رکعتیں پڑھیں جو ا پنے سے پہلے کی دو رکعتوں سے کم تر تھیں ، پھر دو رکعتیں پڑھیں جو اپنے سے پہلی والی رکعتوں سے کم تھیں ، پھر وتر پڑھا تو یہ تیرہ رکعتیں ہوئیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ صَوْمِ، رَجَبٍ - وَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ فِي رَجَبٍ - فَقَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لاَ يُفْطِرُ . وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لاَ يَصُومُ .
Uthman b. Hakim al-Ansari said:I asked Sa'id b. Jubair about fasting In Rajab, and we were then passing through the month of Rajab, whereupon he said: I heard Ibn 'Abbas (Allah be pleased with both of them) as saying: The Messenger of Allah (ﷺ) used to observe fast (so continuously) that we (were inclined) to say that he would not break (them) and did not observe them so conti- nuously) that we (were inclined to say) that he would not observe fast
عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں عثمان بن حکیم نے حدیث سنائی ، کہا : میں نے سعید بن جبیر سے رجب میں روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا ، اور ہم ان دنوں رجب میں ہی تھے ، تو انھوں نے کہا : میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے حتیٰ کہ ہم کہتے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے ترک نہیں کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے ترک کرتے حتیٰ کہ ہم کہتے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے نہیں رکھیں گے ۔
وَحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرٍ، وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، - رضى الله عنهما - قَالاَ قَدِمْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ نَصْرُخُ بِالْحَجِّ صُرَاخًا .
jibir and Abil Salld al-Khudri (Allah be pleased with them) reported:We went with Allah's Apostle (ﷺ) and we were pronouncing Talbiya for Hajj loudly
وہیب بن خا لد نے داود سے انھوں نے ابو نضرہ سے انھوں نے جابر اور ابو خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، ان دونوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ پہنچے اور ہم بہت بلند آواز سے حج کا تلبیہ پکا ر رہے تھے ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَشْيَاءَ كُنْتُ أَفْعَلُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ - قَالَ هِشَامٌ يَعْنِي أَتَبَرَّرُ بِهَا - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَسْلَمْتَ عَلَى مَا أَسْلَفْتَ لَكَ مِنَ الْخَيْرِ " . قُلْتُ فَوَاللَّهِ لاَ أَدَعُ شَيْئًا صَنَعْتُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِلاَّ فَعَلْتُ فِي الإِسْلاَمِ مِثْلَهُ .
It is narrate on the authority of Hakim b. Hizam:I said: Messenger of Allah, I did so some of the deeds in the state of ignorance. (One of the transmitters Hisham b. Urwa explained them as acts of piety. Upon this the Messenger, of Allah remarked: You have embraced Islam with all the previous acts of virtue. I said: By God, I would leave nothing undone in Islam the like of which I did in the state of ignorance)
ابن شہاب زہری کے ایک اور شاگرد معمر نے اسی ( سابقہ ( سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی ، نیز ( ایک دوسری سند کے ساتھ ) ابو معاویہ نے ہمیں خبر : ہمیں ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے حدیث سنائی ، انہوں نے حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سےروایت کی ، انہون نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : وہ ( بھلائی کی ) چیزیں ( کام ) جو میں جاہلیت کے دور میں کیا کرتا تھا؟ ( ہشام نے کہا : ان کی مراد تھی کہ میں نیکی کےلیے کرتا تھا ) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’تم اس بھلائی سمیت اسلام میں داخل ہوئے جو تم نے پہلے کی ۔ ‘ ‘ میں نےکہا : اللہ کی قسم ! میں نے جو ( نیک ) کام جاہلیت میں کیے تھے ، ان میں سے کوئی عمل نہیں چھوڑوں گا مگر اس جیسے کام اسلام میں بھی کروں گا ۔
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ابْنَةَ مِلْحَانَ خَالَةَ أَنَسٍ فَوَضَعَ رَأْسَهُ عِنْدَهَا . وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ وَمُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ .
It has been reported by 'Abdullah b. 'Abd al-Rahman that he heard Anas b. Malik say:The Messenger of Allah (ﷺ) paid a visit to Milhan's daughter, maternal aunt of Anas (and the sister of the Holy Prophet's foster-mother). He placed his head near her (from this point onward, the narrator carried on the previous tradition to its end)
عبداللہ بن عبدالرحمٰن نے کہا کہ انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی خالہ ، بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور ان کے ہاں ( تکیے پر ) سر رکھ کر سو گئے ، اس کے بعد اسحاق بن ابی طلحہ اور محمد بن یحییٰ بن حبان کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ، - وَاللَّفْظُ مِنْهُمَا قَرِيبٌ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، - فِي رِوَايَةِ حَجَّاجِ بْنِ يَزِيدَ أَبُو زَيْدٍ الأَحْوَلُ - حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَفْلَحَ، مَوْلَى أَبِي أَيُّوبَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَزَلَ عَلَيْهِ فَنَزَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي السُّفْلِ وَأَبُو أَيُّوبَ فِي الْعُلْوِ - قَالَ - فَانْتَبَهَ أَبُو أَيُّوبَ لَيْلَةً فَقَالَ نَمْشِي فَوْقَ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَتَنَحَّوْا فَبَاتُوا فِي جَانِبٍ ثُمَّ قَالَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " السُّفْلُ أَرْفَقُ " . فَقَالَ لاَ أَعْلُو سَقِيفَةً أَنْتَ تَحْتَهَا . فَتَحَوَّلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي الْعُلْوِ وَأَبُو أَيُّوبَ فِي السُّفْلِ فَكَانَ يَصْنَعُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم طَعَامًا فَإِذَا جِيءَ بِهِ إِلَيْهِ سَأَلَ عَنْ مَوْضِعِ أَصَابِعِهِ فَيَتَتَبَّعُ مَوْضِعَ أَصَابِعِهِ فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا فِيهِ ثُومٌ فَلَمَّا رُدَّ إِلَيْهِ سَأَلَ عَنْ مَوْضِعِ أَصَابِعِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقِيلَ لَهُ لَمْ يَأْكُلْ . فَفَزِعَ وَصَعِدَ إِلَيْهِ فَقَالَ أَحَرَامٌ هُوَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ " . قَالَ فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا تَكْرَهُ أَوْ مَا كَرِهْتَ . قَالَ وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُؤْتَى .
Aflah, the freed slave of Abu Ayyub Ansiri, reported:Allah's Messnger (ﷺ) had alighted in his house (viz. of Abu Ayyub Ansari at the time of his emigration to Medina) and he occupied the lower storey, whereas Abu Ayyub Ansari lived in the upper storey. One night, Abu Ayyub Ansari got up and said (to himself): (How unfortunate it is) that we walk above the head of Allah's Messenger (ﷺ), so they went aside and spent the night in a nook and then told Allah's Apostle (ﷺ) about it whereupon Allah's Apostle (ﷺ) said: The lower storey is more comfortable (for me). but he (Abu Ayyub Ansari) said: We (would not live) over the roof under which you live. So Allah's Messenger (ﷺ) shifted to the upper storey, whereas Abu Ayyub Ansari shifted to the lower storey; and he (Abu Ayyub Ansari) used to prepare food for Allah's Apostle (ﷺ) ; and when it was brought (back) to him he asked (to locate) the part, where his fingers had touched (the food), and he followed his fingers on that part where his fingers (those of the Holy Prophet) had touched it. (One day) he prepared food which contained garlic, and when it was returned to him he asked (to locate) the part which the fingers of Allah's Apostle (ﷺ) had touched. It was said to him that he had not eaten (the food). He (Abd Ayyub Ansari) was distressed and went up to him (to the Holy Prophet) and said: Is it forbidden? But Allah's Messenger (ﷺ) said: No, (it is not forbidden), but I do not like it. and he (Abu Ayyub Ansari) said: I also do not like what you do not like or which you did not like. He (Abu Ayyub Ansari) said: (The Prophet did not eat garlic) as Allah's Apostle (ﷺ) was visited (by angels) and brought him the message of Allah
حضرت ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام افلح نے حضرت ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں مہمان ٹھرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے کے مکان میں رہے اور سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ اوپر کے درجہ میں تھے ۔ ایک دفعہ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ رات کو جاگے اور کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے اوپر چلا کرتے ہیں ، پھر ہٹ کر رات کو ایک کونے میں ہو گئے ۔ پھر اس کے بعد سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اوپر جانے کے لئے کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نیچے کا مکان آرام کا ہے ( رہنے والوں کے لئے اور آنے والوں کے لئے اور اسی لئے رسول اللہ نیچے کے مکان میں رہتے تھے ) ۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا میں اس چھت پر نہیں رہ سکتا جس کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں ۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اوپر کے درجہ میں تشریف لے گئے اور ابوایوب رضی اللہ عنہ نیچے کے درجے میں آ گئے ۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھانا تیار کرتے تھے ، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھانا آتا ( اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے کھاتے اور اس کے بعد بچا ہوا کھانا واپس جاتا ) تو سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ ( آدمی سے ) پوچھتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیاں کھانے کی کس جگہ پر لگی ہیں اور وہ وہیں سے ( برکت کے لئے ) کھاتے ۔ ایک دن سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کھانا پکایا ، جس میں لہسن تھا ۔ جب کھانا واپس گیا تو سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیاں کہاں لگی تھیں؟ انہیں بتایا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا نہیں کھایا ۔ یہ سن کر سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ گھبرا گئے اور اوپر گئے اور پوچھا کہ کیا لہسن حرام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ، لیکن میں اسے ناپسند کرتا ہوں ۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا جو چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناپسند ہے ، مجھے بھی ناپسند ہے ۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( فرشتے ) آتے تھے ( اور فرشتوں کو لہسن کی بو سے تکلیف ہوتی اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ کھاتے ) ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ، عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ، - وَهُوَ كَاتِبُ عَلِيٍّ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا، رضى الله عنه وَهُوَ يَقُولُ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَا وَالزُّبَيْرَ وَالْمِقْدَادَ فَقَالَ " ائْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ فَإِنَّ بِهَا ظَعِينَةً مَعَهَا كِتَابٌ فَخُذُوهُ مِنْهَا " . فَانْطَلَقْنَا تَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا فَإِذَا نَحْنُ بِالْمَرْأَةِ فَقُلْنَا أَخْرِجِي الْكِتَابَ . فَقَالَتْ مَا مَعِي كِتَابٌ . فَقُلْنَا لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ أَوْ لَتُلْقِيَنَّ الثِّيَابَ . فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا فَأَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا فِيهِ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى نَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا حَاطِبُ مَا هَذَا " . قَالَ لاَ تَعْجَلْ عَلَىَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ - قَالَ سُفْيَانُ كَانَ حَلِيفًا لَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهَا - وَكَانَ مِمَّنْ كَانَ مَعَكَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ لَهُمْ قَرَابَاتٌ يَحْمُونَ بِهَا أَهْلِيهِمْ فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي ذَلِكَ مِنَ النَّسَبِ فِيهِمْ أَنْ أَتَّخِذَ فِيهِمْ يَدًا يَحْمُونَ بِهَا قَرَابَتِي وَلَمْ أَفْعَلْهُ كُفْرًا وَلاَ ارْتِدَادًا عَنْ دِينِي وَلاَ رِضًا بِالْكُفْرِ بَعْدَ الإِسْلاَمِ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " صَدَقَ " . فَقَالَ عُمَرُ دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ . فَقَالَ " إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ " . فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ} وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَبِي بَكْرٍ وَزُهَيْرٍ ذِكْرُ الآيَةِ وَجَعَلَهَا إِسْحَاقُ فِي رِوَايَتِهِ مِنْ تِلاَوَةِ سُفْيَانَ .
Ubaidullah b. Rafi', who was the scribe of 'All, reported:I heard 'Ali (Allah be pleased with him) as saying: Allah's Messenger (ﷺ) sent me and Zubair and Miqdad saying: Go to the garden of, Khakh [it is a place between Medina and Mecca at a distance of twelve miles from Medina] and there you will find a woman riding a camel. She would be in possession of a letter, which you must get from her. So we rushed on horses and when we met that woman, we asked her to deliver that letter to us. She said: There is no letter with me. We said: Either bring out that letter or we would take off your clothes. She brought out that letter from (the plaited hair of) her head. We delivered that letter to Allah's Messenger (ﷺ) in which Hatib b. Abu Balta'a had informed some people amongst the polytheists of Mecca about the affairs of Allah's Messenger (ﷺ). Allah's Messenger (ﷺ) said: Hatib, what is this? He said: Allah's messenger, do not be hasty in judging my intention. I was a person attached to the Quraish. Sufyan said: He was their ally but had no relationship with them. (Hatib further said): Those who are with you amongst the emigrants have blood-relationship with them (the Quraish) and thus they would protect their families. I wished that when I had no blood-relationship with them I should find some supporters from (amongst them) who would help my family. I have not done this because of any unbelief or apostasy and I have no liking for the unbelief after I have (accepted) Islam. Thereupon Allah's Apostle (ﷺ) said: You have told the truth. 'Umar said: Allah's Messenger, permit me to strike the neck of this hypocrite. But he (the Holy Prophet) said: He was a participant in Badr and you little know that Allah revealed about the people of Badr: Do what you like for there is forgiveness for you. And Allah, the Exalted and Glorious, said:" O you who believe, do not take My enemy and your enemy for friends" (lx. 1). And there is no mention of this verse in the hadith transmitted on the authority of Abu Bakr and Zubair and Ishaq has in his narration made a mention of the recitation of this verse by Sufyan
ابو بکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد ، زہیر بن حرب ، اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی ، الفاظ عمرو کے ہیں ۔ اسحاق نے کہا : ہمیں خبر دی ، دوسروں نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے عمرو ( بن دینار ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حسن بن محمد سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے عبیداللہ بن ابی رافع نے جو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کاتب تھے ، خبر دی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : کہ ہمیں یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو روضہ خاخ مقام پر بھیجا اور فرمایا کہ جاؤ اور وہاں تمہیں ایک عورت اونٹ پر سوار ملے گی ، اس کے پاس ایک خط ہے وہ اس سے لے کر آؤ ۔ ہم گھوڑے دوڑاتے ہوئے چلے اچانک وہ عورت ہمیں ملی تو ہم نے اس سے کہا کہ خط نکال ۔ وہ بولی کہ میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہے ۔ ہم نے کہا کہ خط نکال یا اپنے کپڑے اتار ۔ پس اس نے وہ خط اپنے جوڑے سے نکالا ۔ ہم وہ خط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے ، اس میں لکھا تھا حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے مکہ کے بعض مشرکین کے نام ( اور اس میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض باتوں کا ذکر تھا ( ایک روایت میں ہے کہ حاطب نے اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیاری اور فوج کی آمادگی اور مکہ کی روانگی سے کافروں کو مطلع کیا تھا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے حاطب! تو نے یہ کیا کیا؟ وہ بولے کہ یا رسول اللہ! آپ جلدی نہ فرمائیے ۔ میں قریش سے ملا ہوا ایک شخص تھا یعنی ان کا حلیف تھا اور قریش میں سے نہ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہاجرین جو ہیں ان کے رشتہ دار قریش میں بہت ہیں جن کی وجہ سے ان کے گھربار کا بچاؤ ہوتا ہے تو میں نے یہ چاہا کہ میرا ناتا تو قریش سے نہیں ہے ، میں بھی ان کا کوئی کام ایسا کر دوں جس سے میرے اہل و عیال والوں کا بچاؤ کریں گے اور میں نے یہ کام اس وجہ سے نہیں کیا کہ میں کافر ہو گیا ہوں یا مرتد ہو گیا ہوں اور نہ مسلمان ہونے کے بعد کفر سے خوش ہو کر کیا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حاطب نے سچ کہا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہ کہ یا رسول اللہ! آپ چھوڑئیے میں اس منافق کی گردن ماروں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو بدر کی لڑائی میں شریک تھا اور تو نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ نے بدر والوں کو جھانکا اور فرمایا کہ تم جو اعمال چاہو کرو ( بشرطیکہ کفر تک نہ پہنچیں ) میں نے تمہیں بخش دیا ۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ ”اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ“ ۔ ( سورۃ : الممتحنہ : 1 ) ۔