حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا هَذَا الْحَىَّ مِنْ رَبِيعَةَ وَقَدْ حَالَتْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ فَلاَ نَخْلُصُ إِلَيْكَ إِلاَّ فِي شَهْرِ الْحَرَامِ فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَعْمَلُ بِهِ وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا . قَالَ " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ الإِيمَانِ بِاللَّهِ - ثُمَّ فَسَّرَهَا لَهُمْ فَقَالَ - شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلاَةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَأَنْ تُؤَدُّوا خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُقَيَّرِ " . زَادَ خَلَفٌ فِي رِوَايَتِهِ " شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ " . وَعَقَدَ وَاحِدَةً .
It is narrated on the authority of Ibn 'Abbas that a delegation of Abdul Qais came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said:Messenger of Allah, verily ours is a tribe of Rabi'a and there stand between you and us the unbelievers of Mudar and we find no freedom to come to you except in the sacred month. Direct us to an act which we should ourselves perform and invite those who live beside us. Upon this the Prophet remarked: I command you to do four things and prohibit you against four acts. (The four deeds which you are commanded to do are): Faith in Allah, and then he explained it for them and said: Testifying the fact. that there is no god but Allah, that Muhammad is the messenger of Allah, performance of prayer, payment of Zakat, that you pay Khums (one-fifth) of the booty fallen to your lot, and I prohibit you to use round gourd, wine jars, wooden pots or skins for wine. Khalaf b. Hisham has made this addition in his narration: Testifying the fact that there is no god but Allah, and then he with his finger pointed out the oneness of the Lord
خلف بن ہشام نے بیان کیا ( کہا ) ہمیں حماد بن زید نے ابو جمرہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا ، نیز یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : ( الفاظ انہی کے ہیں ) ہمیں عباد بن عباد نے ابو جمرہ سے خبر دی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہﷺ کی خدمت میں عبدالقیس کا وفد آیا ۔ وہ ( لوگ ) کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! ہم لوگ ( یعنی ) بنو ربیعہ کا یہ قبیلہ ہے ۔ ہمارے اور آپ کے درمیان ( قبیلہ ) مضر کے کافر حائل ہیں اور ہم حرمت والے مہینے کے سوا بحفاظت آپ تک نہیں پہنچ سکتے ، لہٰذا آپ ہمیں وہ حکم دیجیے جس پر خود بھی عمل کریں اور جو پیچھے ہیں ان کو بھی اس کی دعوت دیں ۔ آپﷺ نے فرمایا : ’’ میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں : ( جن کا حکم دیتا ہوں وہ ہیں : ) ’’اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا ‘ ‘ پھر آپ نے ان کے سامنے ایمان باللہ کی وضاحت کی ، فرمایا : ’’ اس حقیقت کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمدﷺ بالیقین اللہ کے رسول ہیں ۔ نماز قائم کرنا ، زکاۃ ادا کرنا اور جومال غنیمت تمہیں حاصل ہو ، اس میں سے خمس ( پانچواں حصہ ) ادا کرنا ۔ اور میں تمہیں روکتا ہوں کدو کے برتن ، سبز گھڑے ، لکڑی کے اندر سے کھود کر ( بنائے ہوئے ) برتن اور ا یسے برتنوں کے استعمال سے جن پر تارکول ملا گیا ہو ۔ ‘ ‘ خلف نےاپنی روایت میں یہ اضافہ کیا : ’’ اس ( سچائی ) کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔ ‘ ‘ اسے انہوں نےانگلی کے اشارے سے ایک شمار کیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ ذَكَرْنَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَنِيسَةً رَأَيْنَهَا بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ يُقَالُ لَهَا مَارِيَةُ . بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ .
A'isha reported:The wives of the Messenger of Allah (may peace be Upon him) made a mention of the church which they had seen in Abyssinia which was called Marya, and the rest of the hadith is the same
۔ ( یحییٰ اور وکیع کے بجائے ) ابو معاویہ نے کہا : ہمیں ہشام نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ازواج نبی ﷺ نے ایک کنیسے کا ذکر کیا جو انہوں نے حبشہ کی سرزمین میں دیکھا تھا ، اسے ( کنیسۂ ) ماریہ کہا جاتا تھا .... ( آگے ) ان ( پہلے راویوں ) کی حدیث کی طرح ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ وَأَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ وَعُمَرُ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ وَعُثْمَانُ صَدْرًا مِنْ خِلاَفَتِهِ ثُمَّ إِنَّ عُثْمَانَ صَلَّى بَعْدُ أَرْبَعًا . فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا صَلَّى مَعَ الإِمَامِ صَلَّى أَرْبَعًا وَإِذَا صَلاَّهَا وَحْدَهُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ .
Ibn 'Umar reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said two rak'ahs at Mina, and Abu Bakr after him, and 'Umar after Abu Bakr, and 'Uthman at the beginning of his caliphate; then 'Uthman observed four rak'ahs, and when Ibn 'Umar prayed with the Imam, he said four rak'ahs, but when he observed prayer alone, he said two rak'ahs
ابو اسامہ نے کہا : ہمیں عبیداللہ بن عمر نے نافع سے حدیث سنائی ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں دو رکعتیں پڑھیں ، آپ کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی خلافت کے ابتدائی سالوں میں ( دورکعتیں پڑھیں ) پھر عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے بعد چار رکعتیں پڑھیں ۔ اس لئے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب امام کے ساتھ نماز پڑھتے تو چار رکعات پڑھتے اور جب اکیلے پڑھتے تو وہ رکعتیں پڑھتے ۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلاَّمٍ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ، - يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا خَيْرًا إِلاَّ أَعْطَاهُ إِيَّاهُ " . قَالَ وَهِيَ سَاعَةٌ خَفِيفَةٌ
Abu Huraira reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:"There is a time on Friday at which no Muslim would ask Allah for what is good but He would give it to him." And further said: "This is a very short time
محمد بن زیاد نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ آپ نے فر ما یا " جمعے کے دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ کو ئی مسلمان اللہ تعا لیٰ سے کسی خیر کا سوال کرتے ہو ئے اس کی موافقت نہیں کرتا مگر اللہ تعا لیٰ اسے وہی خیر عطا کر دیتا ہے " فر ما یا یہ ایک چھوٹی سی گھڑی ہے ۔
وَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ، وَعُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، كُلُّهُمْ عَنْ أَبِي، عَاصِمٍ - وَاللَّفْظُ لِعُقْبَةَ - قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ، أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ، أَنَّهَا قَالَتْ لِلَعَّابِينَ وَدِدْتُ أَنِّي أَرَاهُمْ قَالَتْ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقُمْتُ عَلَى الْبَابِ أَنْظُرُ بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ . قَالَ عَطَاءٌ فُرْسٌ أَوْ حَبَشٌ . قَالَ وَقَالَ لِي ابْنُ عَتِيقٍ بَلْ حَبَشٌ .
A'isha said that she sent a message to the players (of this armed fight) saying:I like to see them (fighting). She further said: The Messenger of Allah (ﷺ) stood up and I stood at the door (behind him) and saw (this fight) between his ears and his shoulders they played in the mosque. 'Ata' (one of the narra- tors) said: Were they persians or Abyssinians? Ibn 'Atiq told me they were Abyssinians
عطاء نے بتایا کہ مجھے عبید بن عمیر نے خبر دی ، انھوں نے کہا : مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خبر دی کہ انھوں نے کھیلنے والوں کے بارے میں کہا : میں ان کاکھیل دیکھناچاہتی ہوں ۔ کہا : اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور میں دروازے پر کھڑی ہوکر آپ کے کانوں اور کندھوں کےدرمیان سے دیکھنے لگی اور وہ لوگ مسجد میں کھیل رہے تھے ۔ عطاء نے کہا : وہ ایرانی تھے یا حبشی ۔ اور کہا : مجھے ابن عتیق یعنی عبید بن عمیر نے بتایا کہ وہ حبشی تھے ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِمَا عِبَادَهُ وَإِنَّهُمَا لاَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا فَصَلُّوا وَادْعُوا اللَّهَ حَتَّى يُكْشَفَ مَا بِكُمْ " .
Abu Mas'ud al-Ansari reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Verily the sun and the moon are the two signs among the signs of Allah by which He frightens his servants and they do not eclipse on account of the death of any one of the people. So when you see anything about them, observe prayer, supplicate Allah till it is cleared from you
ہشیم نے اسماعیل سے ، انھوں نے قیس بن ابی حازم سے ، اور انھوں نے ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی دو نشانیوں میں سے نشانیاں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے اپنے بندوں کو خوف دلاتاہے ۔ اور ان دونوں کو انسانوں میں سے کسی کی موت کی بناء پر گرہن نہیں لگتا ، لہذا جب تم ان میں سے کوئی نشانی دیکھو تو نماز پڑھو اور اللہ تعالیٰ کو پکارو یہاں تک کہ جو کچھ تمہارے ( ساتھ ہوا ) ہے وہ کھل جائے ۔
وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي، صَالِحٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فَصِيحَ عَلَيْهِ فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ أَمَا عَلِمْتُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَىِّ " .
Ibn 'Umar reported:When 'Umar was wounded he fainted, and there was a loud lamentation over him. When he regained consciousness he said: Didn't you know that the Messenger of Allah (ﷺ) said:" The dead is punished because of the weeping of the living"?
ابو صالح نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی ، انھوں نے کہا : جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زخمی کیا گیاوہ بے ہو ش ہو گئے تب ان پر بلند آواز سے چیخ و پکار کی گئی جب ان کو افاقہ ہوا تو انھوں نے کہا : کیا تم لوگ جانتے نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : " میت کو زندہ کے رونے سے عذاب دیا جا تا ہے ؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي عِياضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِينَا عَنْ كُلِّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ حُرٍّ وَمَمْلُوكٍ مِنْ ثَلاَثَةِ أَصْنَافٍ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ فَلَمْ نَزَلْ نُخْرِجُهُ كَذَلِكَ حَتَّى كَانَ مُعَاوِيَةُ فَرَأَى أَنَّ مُدَّيْنِ مِنْ بُرٍّ تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ . قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَأَمَّا أَنَا فَلاَ أَزَالُ أُخْرِجُهُ كَذَلِكَ .
Sa'd b. Abu Sarh heard Abu Sa'id al-Khudri as saying:We, on behalf of young or old, free or slave, used to take out the Zakat of Fitr while the Messenger of Allah (may peace he upon him) was among us, in three kinds, one sa' of dates, one sa' of cheese, or one sa' of barley, and we continued to take that out till the time of Mu'awiya, for he saw that two mudds of wheat were equal to one sa' of dates. Abu Sa'id sald: I would continue to take that out as before (i e. one sa' of wheat)
اسماعیل بن امیہ نے کہا : مجھے عیاض بن عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح نے خبردی کہ انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں زکا ۃ الفطر ہر چھوٹے بڑے آزاد اور غلام کی طرف سے تین ( قسم کی ) اصناف سے نکا لتے تھے کھجوروں سے ایک صاع پنیر سے ایک صاع اور جو سے ایک صاع ہم ہمیشہ اس کے مطا بق نکا لتے رہے یہاں تک کہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دور آگیا تو انھوں نے یہ را ئے پیش کی کہ گندم کے دو مد کھجوروں کے ایک صاع کے برا بر ہیں ۔ حضرت ابو خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : لیکن میں تو اسی ( پہلے طریقے سے ) نکا لتا رہوں گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ، عُمَرَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْهِلاَلَ فَقَالَ " إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلاَثِينَ " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (may peace he upon him) made a mention of the new moon and (in this connection) said:Observe fast when you see it (the new moon) and break fast when you see it (the new moon of Shawwal), but when (the actual position of the month is) concealed from you (on account of cloudy sky), then count thirty days
اعرج ، ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے فرمایا کہ تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کرروزہ افطار ( عید ) کرو ۔ تو اگر تم پر مہینہ پوشیدہ رہے تو تم تیس روزوں کی تعداد پوری کرو ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - قَالَ تَلَقَّفْتُ التَّلْبِيَةَ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ .
Ibn 'Umar (Allah be pleased with him) reported:I immediately learnt Talbiya from the Messenger of Allah (ﷺ), and he then narrated the hadith
عبید اللہ ( بن عمربن حفص العدوی المدنی ) نے کہا مجھے نا فع نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے سنتے ہی تلبیہ یا د کر لیا پھر سالم نافع اور حمزہ کی حدیث کی طرح روایت بیا ن کی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ - حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتْحَ مَكَّةَ قَالَ فَأَقَمْنَا بِهَا خَمْسَ عَشْرَةَ - ثَلاَثِينَ بَيْنَ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ - فَأَذِنَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مُتْعَةِ النِّسَاءِ فَخَرَجْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنْ قَوْمِي وَلِي عَلَيْهِ فَضْلٌ فِي الْجَمَالِ وَهُوَ قَرِيبٌ مِنَ الدَّمَامَةِ مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنَّا بُرْدٌ فَبُرْدِي خَلَقٌ وَأَمَّا بُرْدُ ابْنِ عَمِّي فَبُرْدٌ جَدِيدٌ غَضٌّ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِأَسْفَلِ مَكَّةَ أَوْ بِأَعْلاَهَا فَتَلَقَّتْنَا فَتَاةٌ مِثْلُ الْبَكْرَةِ الْعَنَطْنَطَةِ فَقُلْنَا هَلْ لَكِ أَنْ يَسْتَمْتِعَ مِنْكِ أَحَدُنَا قَالَتْ وَمَاذَا تَبْذُلاَنِ فَنَشَرَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنَّا بُرْدَهُ فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَى الرَّجُلَيْنِ وَيَرَاهَا صَاحِبِي تَنْظُرُ إِلَى عِطْفِهَا فَقَالَ إِنَّ بُرْدَ هَذَا خَلَقٌ وَبُرْدِي جَدِيدٌ غَضٌّ . فَتَقُولُ بُرْدُ هَذَا لاَ بَأْسَ بِهِ . ثَلاَثَ مِرَارٍ أَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ اسْتَمْتَعْتُ مِنْهَا فَلَمْ أَخْرُجْ حَتَّى حَرَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Rabi' b. Sabra reported that his father went on an expedition with Allah's Messenger (ﷺ) during the Victory of Mecca, and we stayed there for fifteen days (i. e. for thirteen full days and a day and a night), and Allah's Messenger (ﷺ) permitted us to contract temporary marriage with women. So I and another person of my tribe went out, and I was more handsome than he, whereas he was almost ugly. Each one of us had a cloaks, My cloak was worn out, whereas the cloak of my cousin was quite new. As we reached the lower or the upper side of Mecca, we came across a young woman like a young smart long-necked she-camel. We said:Is it possible that one of us may contract temporary marriage with you? She said: What will you give me as a dower? Each one of us spread his cloak. She began to cast a glance on both the persons. My companion also looked at her when she was casting a glance at her side and he said: This cloak of his is worn out, whereas my cloak is quite new. She, however, said twice or thrice: There is no harm in (accepting) this cloak (the old one). So I contracted temporary marriage with her, and I did not come out (of this) until Allah's Messenger (ﷺ) declared it forbidden
بشر بن مفضل نے ہمیں حدیث بیان کی ، کیا : ہمیں عمارہ بن غزیہ نے ربیع بن سبرہ سے حدیث بیان کی کہ ان کے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ فتح مکہ میں شرکت کی ، کہا : ہم نے وہاں پندرہ روز ۔ ۔ ۔ ( الگ الگ دن اور راتیں گنیں تو ) تیس شب و روز ۔ ۔ قیام کیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عورتوں سے متعہ کرنے کی اجازت دے دی ، چنانچہ میں اور میری قوم کا ایک آدمی نکلے ۔ مجھے حسن میں اس پر ترجیح حاصل تھی اور وہ تقریبا بدصورت تھا ۔ ہم دونوں میں سے ہر ایک کے پاس چادر تھی ، میری چادر پرانی تھی اور میرے چچا زاد کی چادر نئی ( اور ) ملائم تھی ، حتی کہ جب ہم مکہ کے نشیبی علاقے میں یا اس کے بالائی علاقے میں پہنچے تو ہماری ملاقات لمبی گردن والی جوان اور خوبصورت اونٹنی جیسی عورت سے ہوئی ، ہم نے کہا : کیا تم چاہتی ہو کہ ہم میں سے کوئی ایک تمہارے ساتھ متعہ کرے؟ اس نے کہا : تم دونوں کیا خرچ کرو گے؟ اس پر ہم میں سے ہر ایک نے اپنی اپنی چادر ( اس کے سامنے ) پھیلا دی ، اس پر اس نے دونوں آدمیوں کو دیکھنا شروع کر دیا اور میرا ساتھی اس کو دیکھنے لگا اور اس کے پہلو پر نظریں گاڑ دیں اور کہنے لگا : اس کی چادر پرانی ہے اور میری چادر نئی اور ملائم ہے ۔ اس پر وہ کہنے لگی : اس کی چادر میں بھی کوئی خرابی نہیں ۔ تین بار یا دو بار یہ بات ہوئی ۔ پھر میں نے اس سے متعہ کر لیا اور پھر میں اس کے ہاں سے ( اس وقت تک ) نہ نکلا حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ( متعے کو ) حرام قرار دے دیا
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، ح وَحَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، كِلاَهُمَا عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ سُوَيْدٌ وَزُهَيْرٌ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ " .
A'isha (Allah be pleased with her), Suwaid and Zubair reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:One suckling or two do not make (marriage) unlawful
زہیر بن حرب ، محمد بن عبداللہ بن نمیر اور سوید بن سعید نے ، اپنی اپنی سندوں سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ۔ سوید اور زہیر نے کہا : بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ۔ : " ( دودھ کی ) ایک یا دو چسکیاں حرمت کا سبب نہیں بنتیں
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا الصَّهْبَاءِ، قَالَ لاِبْنِ عَبَّاسٍ أَتَعْلَمُ أَنَّمَا كَانَتِ الثَّلاَثُ تُجْعَلُ وَاحِدَةً عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ وَثَلاَثًا مِنْ إِمَارَةِ عُمَرَ . فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ نَعَمْ .
Abu Sahba' said toIbn 'Abbas (Allah be pleased with them):Do you know that three (divorces) were treated as one during the lifetime of Allah's Apostle (ﷺ), and that of Abu Bakr, and during three (years) of the caliphate of Umar (Allah be pleased with him)? Ibn Abbas (Allah be pleased with them) said: Yes
ابن جریج نے ہمیں خبر دی ، کہا : مجھے ابن طاوس نے اپنے والد ( طاوس بن کیسان ) سے خبر دی کہ ابوصبہاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا آپ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں ، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ( ابتدائی ) تین سالوں تک تین طلاقوں کو ایک شمار کیا جاتا ہے؟ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : ہاں
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، بْنِ عُمَيْرٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ . وَقَالَ غَيْرَ مُصْفِحٍ . وَلَمْ يَقُلْ عَنْهُ .
A hadith like this has been transmitted on the authority, of 'Abd al-Malik b. Umair with the same chain of narraters but with a slight change of words
اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے اس روایت میں ’’غَیْرَ مُصْفَعٍ ‘ ‘ کے الفاظ ہیں اور ’عَنْہ ‘ ‘ نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ تَوَلَّى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لاَ يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلٌ وَلاَ صَرْفٌ " . وَحَدَّثَنِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " وَمَنْ وَالَى غَيْرَ مَوَالِيهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:He who took the freed slave as his ally without the consent of his previous master, there is upon him the curse of Allah and that of His angels and that of the whole mankind, and there will not be accepted from him his obligatory acts or supercrogatory acts on the Day of Resurrection. This hadith is narrated through the same chain of transmitters, but with a slight change of words
زائدہ نے سلیمان ( اعمش ) سے ، انہوں نے ابوصالح سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " جس نے اپنے آزاد کرنے والوں کی اجازت کے بغیر کسی ( دوسری ) قوم کی ولاء اختیار کی ، اس پر اللہ کی ، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے ، اور قیامت کے دن اس سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا نہ کوئی سفارش
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي هِشَامٌ، الْقُرْدُوسِيُّ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَلَقَّوُا الْجَلَبَ . فَمَنْ تَلَقَّاهُ فَاشْتَرَى مِنْهُ فَإِذَا أَتَى سَيِّدُهُ السُّوقَ فَهُوَ بِالْخِيَارِ" .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Do not meet the merchant in the way and enter into business transaction with him, and whoever meets him and buys from him (and in case it is done, see) that when the owner of (merchandise) comes into the market (and finds that he has been paid less price) he has the option (to declare the transaction null and void)
ابن جریج نے کہا : مجھے ہشام قردوسی نے ابن سیرین سے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سامانِ تجارت کو راستے میں جا کر حاصل نہ کرو ۔ جس نے باہر مل کر ان سے سامان خرید لیا ، تو جب اس کا مالک بازار میں آئے گا تو اسے ( بیع کو برقرار رکھنے یا فسخ کرنے کا ) اختیار ہو گا
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا كَانَ لَهُ عَلَيْهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى كَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِهِ وَنَادَى كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ فَقَالَ " يَا كَعْبُ " . فَقَالَ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَأَشَارَ إِلَيْهِ بِيَدِهِ أَنْ ضَعِ الشَّطْرَ مِنْ دَيْنِكَ . قَالَ كَعْبٌ قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قُمْ فَاقْضِهِ " .
Abdullah b. Ka'ab b. Malik reported from his father that he pressed in the mosque Ibn Abu Hadrad for the payment of the debt that he owed to him during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ). (In this altercation) their voices became loud, until Allah's Messenger (ﷺ) heard them, while he was in the house, so Allah's Messenger (ﷺ) came out towards them, and he lifted the curtain of his apartment and he called upon Ka'b b. Malik and said:O Ka'b. He said: At thy beck and call, Allah's Messenger. He pointed out with the help of his hand to remit half of the loan due to him. Ka'b said: Allah's Messenger, I am ready to do that, whereupon Allah's Messenger (ﷺ) said (to Ibn Abu Hadrad): Stand up and make him the payment (of the rest)
عبداللہ بن وہب نے ہمیں خبر دی ، کہا : مجھے یونس نے ابن شہاب سے خبر دی ، کہا : مجھے عبداللہ بن کعب بن مالک نے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ، مسجد میں ، ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے قرض کا مطالبہ کیا جو ان کے ذمے تھا تو ان کی آوازیں بلند ہو گئیں ، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر کے اندر ان کی آوازیں سنیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف گئے یہاں تک کہ آپ نے اپنے حجرے کا پردہ ہٹایا اور کعب بن مالک کو آواز دی : " کعب! " انہوں نے عرض کی : حاضر ہوں ، اے اللہ کے رسول! آپ نے اپنے ہاتھ سے انہیں اشارہ کیا کہ اپنے قرض کا آدھا حصہ معاف کر دو ۔ کعب نے کہا : اللہ کے رسول! کر دیا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( دوسرے سے ) فرمایا : " اٹھو اور اس کا قرض چکا دو
وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ، الرَّحْمَنِ - يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ - قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . غَيْرَ أَنَّ فِي، حَدِيثِ غُنْدَرٍ " وَمَنْ تَرَكَ كَلاًّ وَلِيتُهُ " .
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters
(محمد بن جعفر ) غندر اور عبدالرحمان بن مہدی نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، مگر غندر کی حدیث میں ہے : " جس نے بوجھ چھوڑا اس کی ذمہ داری میں نے لے لی
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، وَعَبْدُ الأَعْلَى، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، - وَاللَّفْظُ لِيَعْقُوبَ - قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ انْطَلَقَ بِي أَبِي يَحْمِلُنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اشْهَدْ أَنِّي قَدْ نَحَلْتُ النُّعْمَانَ كَذَا وَكَذَا مِنْ مَالِي . فَقَالَ " أَكُلَّ بَنِيكَ قَدْ نَحَلْتَ مِثْلَ مَا نَحَلْتَ النُّعْمَانَ " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي - ثُمَّ قَالَ - أَيَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا إِلَيْكَ فِي الْبِرِّ سَوَاءً " . قَالَ بَلَى . قَالَ " فَلاَ إِذًا " .
Nu'man b. Bashir (Allah be pleased with them) reported:My father took me to Allah's Messenger (ﷺ) and said: Allah's Messenger, bear witness that I have given such and such gift to Nu'man from my property, whereupon he (the Holy Prophet) said: Have you conferred upon all of your sons as you have conferred upon Nu'man? He said: No. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Call someone else besides me as a witness. And he further said: Would it, please you that they (your children) should all behave virtuously towards you? He said: Yes. He (the Holy Prophet) said: Then don't do that (i e. don't give gift to one to the exclusion of others)
داود بن ابی ہند نے شعبی سے اور انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے والد مجھے اٹھائے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول! گواہ رہیں کہ میں نے نعمان کو اپنے مال میں سے اتنا اتنا دیا ہے ۔ آپ نے فرمایا : " کیا تم نے اپنے سب بیٹوں کو اسی جیسا عطیہ دیا ہے جیسا تم نے نعمان کو دیا ہے؟ " انہوں نے جواب دیا : نہیں ۔ آپ نے فرمایا : " اس پر میرے سوا کسی اور کو گواہ بناؤ ۔ " پھر فرمایا : " کیا تمہیں یہ بات اچھی لگتی ہے کہ وہ سب تمہارے ساتھ نیکی ( حسنِ سلوک ) کرنے میں برابر ہوں؟ " انہوں نے کہا : کیوں نہیں! آپ نے فرمایا : " تو پھر ( تم بھی ایسا ) نہ کرو
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ أَصَبْتُ أَرْضًا مِنْ أَرْضِ خَيْبَرَ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ أَصَبْتُ أَرْضًا لَمْ أُصِبْ مَالاً أَحَبَّ إِلَىَّ وَلاَ أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهَا . وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ وَلَمْ يَذْكُرْ فَحَدَّثْتُ مُحَمَّدًا وَمَا بَعْدَهُ .
Umar reported:I acquired land from the lands of Khaibar. I came to Allah's Messenger (ﷺ) and said: I have acquired a piece of land. Never have I acquired land more loved by me and more cherished by me than this. The rest of the hadith is the same, but he made no mention of this:" I narrated it to Muhammad" and what follows
سفیان نے ابن عون سے ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے خیبر کی زمینوں سے ایک زمین ملی ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا : مجھے ایک زمین ملی ہے ، مجھے کبھی کوئی مال ایسا نہیں ملا جو مجھے اس سے زیادہ محبوب اور میرے نزدیک اس سے زیادہ عمدہ ہوانہوں نے ان سب کی حدیث کی طرح بیان کیا اور انہوں نےمیں نے یہ حدیث محمد کو بیان کی اور اس کے بعد والا حصہ بیان نہیں کیا
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلْيَتْرُكْ يَمِينَهُ " .
Adi b. Hatim reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who took an oath, but he found something else better than that, should do that which is better and break his oath
شعبہ نے عبدالعزیز بن رفیع سے ، انہوں نے تمیم بن طرفہ سے اور انہوں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے کوئی قسم کھائی ، پھر کسی دوسرے کام کو اس سے بہتر سمجھا تو وہ وہی کام کرے جو بہتر ہے اور اپنی قسم کو ترک کر دے ۔ ( اور کفارہ ادا کر دے)
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
This hadith has been narrated on the authority of Ayyub with the same chain of transmitters
ابن جریج نے کہا : مجھے معمر نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ أَتَى رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَنَادَاهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ . فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَتَنَحَّى تِلْقَاءَ وَجْهِهِ فَقَالَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ . فَأَعْرَضَ عَنْهُ حَتَّى ثَنَى ذَلِكَ عَلَيْهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ دَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَبِكَ جُنُونٌ " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَهَلْ أَحْصَنْتَ " . قَالَ نَعَمْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ " .
Abu Huraira reported that a person from amongst the Muslims came to Allah's Messenger (ﷺ) while he was in the mosque. He called him saying:Allah's Messenger. I have committed adultery. He (the Holy Prophet) turned away from him, He (again) came round facing him and said to him: Allah's Messenger, I have committed adultery. He (the Holy Prophet) turned away until he did that four times, and as he testified four times against his own self, Allah's Messenger (ﷺ) called him and said: Are you mad? He said: No. He (again) said: Are you married? He said: Yes. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Take him and stone him
عقیل ( بن خالد اموی ) نے ابن شہاب سے ، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمان بن عوف اور سعید بن مسیب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : مسلمانوں میں سے ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ مسجد میں تشریف فرما تھے ، اس نے آپ کو آواز دی اور کہا : اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف سے منہ پھیر لیا ، وہ گھوم کر ایک طرف سے آپ کے سامنے آیا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے ۔ آپ نے ( پھر ) اس سے منہ پھر لیا حتی کہ اس نے آپ کے سامنے یہی کلمات چار مرتبہ دہرائے ۔ جب اس نے اپنے خلاف چار گواہیاں دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور پوچھا : "" کیا تمہیں جنون ہے؟ "" اس نے کہا : نہیں ۔ آپ نے پوچھا : "" کیا تم نے شادی کی ہے؟ "" اس نے کہا : جی ہاں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اسے لے جاؤ اور رجم کرو ۔ "" ابن شہاب نے کہا : مجھے اس آدمی نے بتایا جس نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی تھی ، وہ کہہ رہے تھے : میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے اسے رجم کیا ، ہم نے اسے جنازہ گاہ میں رجم کیا تھا ، جب پتھروں نے اس کی برداشت ختم کر دی تو وہ بھاگ نکلا ، ہم نے اسے سیاہ پتھروں والی زمین میں جا لیا اور رجم کر دیا
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ الْهِلاَلِيُّ جَمِيعًا عَنْ إِبْرَاهِيمَ، بْنِ سَعْدٍ قَالَ ابْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ " .
A'isha reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who innovates things in our affairs for which there is no valid (reason) (commits sin) and these are to be rejected
ابراہیم بن سعد بن ابراہیم بن عبدالرحمان بن عوف نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں میرے والد نے قاسم بن محمد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے ہمارے اس امر ( دین ) میں کوئی ایسی نئی بات شروع کی جو اس میں نہیں تو وہ مردود ہے
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُوسَى، بْنُ عُقْبَةَ عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ كِتَابِ، رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يُقَالُ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى فَكَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ حِينَ سَارَ إِلَى الْحَرُورِيَّةِ يُخْبِرُهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ الَّتِي لَقِيَ فِيهَا الْعَدُوَّ يَنْتَظِرُ حَتَّى إِذَا مَالَتِ الشَّمْسُ قَامَ فِيهِمْ فَقَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ لاَ تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ وَاسْأَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلاَلِ السُّيُوفِ " . ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ " اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ وَمُجْرِيَ السَّحَابِ وَهَازِمَ الأَحْزَابِ اهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ " .
It is narrated by Abu Nadr that he learnt from a letter sent by a man from the Aslam tribe, who was a Companion of the Prophet (ﷺ) and whose name was 'Abdullah b. Abu Aufa, to 'Umar b. 'Ubaidullah when the latter marched upon Haruriyya (Khawarij) informing him that the Messenger of Allah (ﷺ) in one of those days when lie was confronting the enemy waited until the sun had declined. Then he stood up (to address the people) and said:O ye men, do not wish for an encounter with the enemy. Pray to Allah to grant you security; (but) when you (have to) encounter them exercise patience, and you should know that Paradise is under the shadows of the swords. Then the Messenger of Allah (ﷺ) stood up (again) and said: O Allah. Revealer of the Book, Disperser of the clouds, Defeater of the hordes, put our enemy to rout and help us against them
ابونضر سے روایت ہے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے قبیلہ اسلم کے ایک آدمی ، جنہیں عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا ، کے خط سے روایت کی ، انہوں نے عمر بن عبیداللہ کو ، جب انہوں نے ( جہاد کی غرض سے ) حروریہ کی طرف کوچ کیا ، یہ بتانے کے لیے خط لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعض ایام ( جنگ ) میں ، جن میں آپ کا دشمن سے مقابلہ ہوتا ، انتظار کرتے ، یہاں تک کہ جب سورج ڈھل جاتا ، آپ ان ( ساتھیوں ) کے درمیان کھڑے ہوتے اور فرماتے : " لوگو! دشمن سے مقابلے کی تمنا مت کرو اور اللہ سے عافیت مانگو ، ( لیکن ) جب تم ان کا سامنا کرو تو صبر کرو اور جان رکھو کہ جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے ۔ " پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا : " اے اللہ! کتاب کو اتارنے والے ، بادلوں کو چلانے والے اور لشکروں کو شکست دینے والے! انہیں شکست دے اور ہمیں ان پر نصرت عطا فرما
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ حَرْمَلَةَ، الْمِصْرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُمَاسَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ
This hadith has been narrated on the authority of Abd al-Rahman b. Shumasa with another chain of transmitters
جریر بن حازم نے حرملہ مصری سے ، انہوں نے عبدالرحمان بن ابی شماسہ سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی کے مانند روایت کی ۔ ( 4724 ) لیث نے نافع سے ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : "" سن رکھو! تم میں سے ہر شخص حاکم ہے اور ہر شخص سے اس کی رعایا کے متعلق سوال کیا جائے گا ، سو جو امیر لوگوں پر مقرر ہے وہ راعی ( لوگوں کی بہبود کا ذمہ دار ) ہے اس سے اس کی رعایا کے متعلق پوچھا جائے گا اور مرد اپنے اہل خانہ پر راعی ( رعایت پر مامور ) ہے ، اس سے اس کی رعایا کے متعلق سوال ہو گا اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں کی راعی ہے ، اس سے ان کے متعلق سوال ہو گا اور غلام اپنے مالک کے مال میں راعی ہے ، اس سے اس کے متعلق سوال کیا جائے گا ، سن رکھو! تم میں سے ہر شخص راعی ہے اور ہر شخص سے اس کی رعایا کے متعلق پوچھا جائے گا
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مَيْمُونِ، بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ .
Ibn 'Abbas reported that Allah's Messenger (ﷺ) prohibited the eating of all fanged beasts of prey, and all the birds having talons
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے حکم سے ، انھوں نے میمون بن مہران سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلیوں والے درندے اور ناخنوں والے پرندے ( کو کھانے ) سے منع فرمایا ۔
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ - أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ، - وَهُوَ ابْنُ سَلاَّمٍ - حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَخْبَرَنِي بَعْجَةُ بْنُ عَبْدِ، اللَّهِ أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَسَمَ ضَحَايَا بَيْنَ أَصْحَابِهِ . بِمِثْلِ مَعْنَاهُ .
This hadith has been transmitted on the authority of 'Uqba b. 'Amir al-Juhan with a slight change of wording
معاویہ بن سلام نے کہا : مجھے یحییٰ بن ابی کثیر نے حدیث بیان کی ، کہا مجھے بعجہ بن عبد اللہ نے بتا یا کہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں میں قربانی کے جا نور تقسیم کیے ۔ اسی ( سابقہ ) حدیث کے ہم معنی ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ أَنْ يُخْلَطَ بَيْنَهُمَا وَعَنِ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ أَنْ يُخْلَطَ بَيْنَهُمَا .
Abu Sa'id reported that Allah's Apostle (ﷺ) prohibited that fresh dates and grapes be mixed together and that fresh dates and unripe dates be mixed together
تیمی نے ابو نضرہ سے ، انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( نبیذ بناتے ہوئے ) خشک کھجوروں اورکشمش کو ملانے سے اورپختہ کھجوروں اورکچی کھجوروں کو ملانے سے منع فرمایا ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ قَالَ لِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فِي الإِسْتَبْرَقِ قَالَ قُلْتُ مَا غَلُظَ مِنَ الدِّيبَاجِ وَخَشُنَ مِنْهُ . فَقَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ رَأَى عُمَرُ عَلَى رَجُلٍ حُلَّةً مِنْ إِسْتَبْرَقٍ فَأَتَى بِهَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم . فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَقَالَ " إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتُصِيبَ بِهَا مَالاً " .
Ibn 'Umar reported that 'Umar saw a person with a garment of brocade and he brought it to Allah's Apostle (may peace he upon him) -the rest of the hadith is the same, except for the words that he (the Holy Prophet) said:I sent it to you that you might get money thereby
یحییٰ بن ابی اسحاق نے حدیث بیان کی ، کہا : سالم بن عبداللہ نے مجھ سے استبرق کے متعلق دریافت کیا ، کہا : میں نے کہا : وہ دیباج جو موٹا اور سخت ہو ۔ انھوں نے کہا : میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک شخص ( کے کندھے ) پر استبرق کا ایک حلہ دیکھا ، وہ اس ( حلے ) کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، پھر انھوں نے ان سب کی حدیث کے مانند بیان کیا ، البتہ اس میں یہ کہا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نےیہ جبہ اس لئے تمھارے پاس بھیجا کہ تم اس کے ذریعے سے ( اسے بیچ کر ) کچھ مال حاصل کرلو ۔
وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، - هُوَ ابْنُ بِلاَلٍ - عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرِ الْكَعْبَيْنِ .
This hadith is narrated by Amr b. Yahya with the same chain of transmitters, but there is no mention of ankles
(خالدبن عبداللہ کے بجائے ) سلیمان بن بلا ل نےعمرو بن یحییٰ سے باقی ماندہ پچھلی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی ، اس میں ’’ٹخنوں تک ‘ ‘ کے الفاظ نہیں ہیں ۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ، بِنْتُ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ كَانَ اسْمِي بَرَّةَ فَسَمَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَيْنَبَ . قَالَتْ وَدَخَلَتْ عَلَيْهِ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ وَاسْمُهَا بَرَّةُ فَسَمَّاهَا زَيْنَبَ .
Zainab, daughter of Umm Salama, reported:My name first was Barra. Allah's Messenger (ﷺ) gave me the name of Zainab. Then there entered (into the house of Allah's Prophet as a wife) Zainab, daughter of Jahsh, and her name was also Barra, and he gave her the name of Zainab
ولید بن کثیر نے کہا : مجھے محمد بن عمرو بن عطاء نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے حضرت زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا ، کہا : میرا نام برہ تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام زینب رکھ دیا ۔ انھوں نے کہا : جب زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ کے حبالہ عقد میں داخل ہوئیں تو ان کا نام بھی برہ تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بھی زینب رکھا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ خَرَجَتْ سَوْدَةُ بَعْدَ مَا ضُرِبَ عَلَيْهَا الْحِجَابُ لِتَقْضِيَ حَاجَتَهَا وَكَانَتِ امْرَأَةً جَسِيمَةً تَفْرَعُ النِّسَاءَ جِسْمًا لاَ تَخْفَى عَلَى مَنْ يَعْرِفُهَا فَرَآهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ يَا سَوْدَةُ وَاللَّهِ مَا تَخْفَيْنَ عَلَيْنَا فَانْظُرِي كَيْفَ تَخْرُجِينَ . قَالَتْ فَانْكَفَأَتْ رَاجِعَةً وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَيْتِي وَإِنَّهُ لَيَتَعَشَّى وَفِي يَدِهِ عَرْقٌ فَدَخَلَتْ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي خَرَجْتُ فَقَالَ لِي عُمَرُ كَذَا وَكَذَا . قَالَتْ فَأُوحِيَ إِلَيْهِ ثُمَّ رُفِعَ عَنْهُ وَإِنَّ الْعَرْقَ فِي يَدِهِ مَا وَضَعَهُ فَقَالَ " إِنَّهُ قَدْ أُذِنَ لَكُنَّ أَنْ تَخْرُجْنَ لِحَاجَتِكُنَّ " . وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ يَفْرَعُ النِّسَاءَ جِسْمُهَا . زَادَ أَبُو بَكْرٍ فِي حَدِيثِهِ فَقَالَ هِشَامٌ يَعْنِي الْبَرَازَ .
A'isha reported that Sauda (Allah he pleated with her) went out (in the fields) in order to answer the call of nature even after the time when veil had been prescribed for women. She had been a bulky lady, significant in height amongst the women, and she could not conceal herself from him who had known her. 'Umar b. Khattab saw her and said:Sauda, by Allah, you cannot conceal from us. Therefore, be careful when you go out. She ('A'isha) said: She turned back. Allah's Messenger (ﷺ) was at that time in my house having his evening meal and there was a bone in his hand. She (Sauda) cline and said: Allah's Messenger. I went out and 'Umar said to me so and so. She ('A'isha) reported: There came the revelation to him and then it was over; the bone was then in his hand and he had not thrown it and he said:" Permission has been granted to you that you may go out for your needs
ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے کہا : ہمیں ابو اسامہ نے ہشام سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : پردہ ہم پرلاگو ہوجانےکےبعد حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا قضائے حاجت کے لیے باہر نکلیں ، حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جسامت میں بڑی تھیں ، جسمانی طور پر عورتوں سے اونچی ( نظر آتی ) تھیں ۔ جوشخص انہیں جانتا ہو ( پردے کے باوجود ) اس کے لیے مخفی نہیں رہتی تھی ، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں دیکھ کر کہا : سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا !اللہ کی قسم!آپ ہم سے پوشیدہ نہیں رہ سکتیں اس لیے دیکھ لیجئے آپ کیسے باہر نکلا کریں گی ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ( یہ سنتے ہی ) الٹے پاؤں لوٹ آئیں اور ( اس وقت ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں رات کا کھانا تناول فرما رہے تھے ۔ آپ کے دست مبارک میں گوشت والی ایک ہڈی تھی وہ اندر آئیں اور کہنے لگیں ۔ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں باہر نکلی تھی اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے اس اس طرح کہا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : اسی وقت اللہ تعا لیٰ نے آپ پر وحی نازل فر ما ئی ، پھر آپ سے وحی کی کیفیت زائل ہو گئی ، ہڈی اسی طرح آپ کے ہاتھ میں تھی ، آپ نے اسے رکھا نہیں تھا ، آپ نے فر ما یا : تم سب ( امہات المومنین ) کو اجازت دے دی گئی ہے کہ تم ضرورت کے لیے باہر جا سکتی ہو ۔ "" ابوبکر ( ابن ابی شیبہ ) کی روایت میں ہے : "" ان کا جسم عورتوں سے اونچاتھا "" ابو بکر نے اپنی حدیث ( کی سند ) میں یہ اضافہ کیا : تو ہشام نے کہا : آپ کا مقصود قضائے حاجت کے لیے جا نے سے تھا ۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، وَأَبُو طَاهِرٍ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى قَالَ أَحْمَدُ حَدَّثَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا اسْتَجْمَرَ اسْتَجْمَرَ بِالأَلُوَّةِ غَيْرِ مُطَرَّاةٍ وَبِكَافُورٍ يَطْرَحُهُ مَعَ الأَلُوَّةِ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا كَانَ يَسْتَجْمِرُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Nafi' reported that when Ibn Umar wanted fumigation he got it from aloeswood without mixing anything with it, or he put camphor along with aloeswood and then said:This is how Allah's Messenger (ﷺ) fumigated
نافع نے کہا : حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب خوشبو کا دھواں لیتے تو عودکا دھواں لیتے ، اس میں کسی اور چیز کی آمیزش نہ ہو تی اور کافور کا دھواں لیتے ۔ اس میں کچھ عود ملا لیتے ، پھر بتا یا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح خوشبو کا دھواں لیتے ( اور کپڑوں میں بساتے ) تھے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، وَهِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لاَ يَتَمَثَّلُ بِي " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who saw me in a dream in fact saw me, for the satan does not appear in my form
محمد ( بن سیرین ) نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " جس نے خواب میں مجھے دیکھا تو اس نے مجھی کو دیکھا کیونکہ شیطان میری شکل اختیار نہیں کر سکتا ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم " مَثَلِي وَمَثَلُ الأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ ابْتَنَى بُيُوتًا فَأَحْسَنَهَا وَأَجْمَلَهَا وَأَكْمَلَهَا إِلاَّ مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهَا فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ وَيُعْجِبُهُمُ الْبُنْيَانُ فَيَقُولُونَ أَلاَّ وَضَعْتَ هَا هُنَا لَبِنَةً فَيَتِمَّ بُنْيَانُكَ " . فَقَالَ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم " فَكُنْتُ أَنَا اللَّبِنَةَ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The similitude of mine and that of the Apostles before me is that of a person who built a house quite imposing and beautiful and he made it complete but for one brick in one of its corners. People began to walk round it, and the building pleased them and they would say: But for this brick your building would have been perfect. Muhammad (ﷺ) said: And I am that final brick
معمر نے ہمیں ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی ، کہا : یہ ( احادیث ) ہمیں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، انھوں نے کئی احادیث بیان کیں ، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ابو القاسم نے فرمایا : " میری اور مجھ سے پہلے انبیاء علیہ السلام کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے ( ایک عمارت میں ) کئی گھر بنائے ، انھیں بہت اچھا ، بہت خوبصورت بنایا اور اس کے کونوں میں سے ایک کونے میں ، ایک اینٹ کی جگہ کے سوا اس ( پوری عمارت ) کو اچھی طرح مکمل کردیا ، لوگ اس کے ارد گرد گھومنے لگے وہ عمارت انھیں بہت اچھی لگتی اور وہ کہتے : آپ نے اس جگہ ایک اینٹ کیوں نہ لگادی تاکہ تمھاری عمارت مکمل ہوجاتی ۔ " تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں ہی وہ اینٹ تھا ( جس کے لگ جانے کے بعد وہ عمارت مکمل ہوگئی ۔)
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ، الْمُسَيَّبِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي عَلَى قَلِيبٍ عَلَيْهَا دَلْوٌ فَنَزَعْتُ مِنْهَا مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أَخَذَهَا ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ فَنَزَعَ بِهَا ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ وَفِي نَزْعِهِ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ضَعْفٌ ثُمَّ اسْتَحَالَتْ غَرْبًا فَأَخَذَهَا ابْنُ الْخَطَّابِ فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَنْزِعُ نَزْعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:While I was asleep I saw myself on a well with a leathern bucket on a pulley. I drew (water) out of that as Allah wished me (to draw). Then the son of Abu Quhafa (Abu Bakr) drew from it one bucketful or two and there was some weakness in drawing that (may Allah forgive him). Then that bucket (changed into a large bucket) and Ibn Khattab drew it. I did not see any strongest man drawing it like 'Umar b. Khattab. He brought out so much water that the camels of the people had enough to drink and then laid down (for rest)
یو نس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ سعید بن مسیب نے انھیں خبر دی ، انھوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہتے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فر ما رہےتھے ۔ " میں سویا ہوا تھا کہ میں نے خود ایک کنویں پر دیکھا اس پر ایک ڈول تھا میں نے اس میں جتنا اللہ نے چا ہا پانی نکالا ، پھر ابن ابی قحافہ نے اس سے ایک یا دوڈول نکالے ، اللہ ان کی مغفرت کرے!ان کے پانی نکا لنے میں کچھ کمزوری تھی ، پھر وہ ایک بڑا ڈول بن گیا تو عمر بن خطاب نے اسے پکڑ لیا ، چنانچہ میں نے لوگوں میں کو ئی ایسا عبقری ( غیر معمولی صلاحیت کا مالک ) نہیں دیکھا جو عمر بن خطاب کی طرح سے پانی نکا لے حتی کہ لو گ اونٹوں کو ( سیراب کر کے گھاٹ سے سے باہر ) آرام کرنے کی جگہ پر لے گئے ۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُبْسَطَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ أَوْ يُنْسَأَ فِي أَثَرِهِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ " .
Anas b. Malik reported:I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: He who is desirous that his means of sustenance should be expanded for him or his age may be lengthened, should join the tie of relationship
یونس نے ابن شہاب سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس پر اس کا رزق کشادہ کیا جائے یا اس کے چھوڑے ہوئے کو مؤخر کیا جائے ( خود اس کی اور اس کی چھوڑی ہوئی اشیاء ، اعمال اور اولاد کی عمر لمبی ہو ) وہ صلہ رحمی کرے ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ، حَاتِمٍ قَالاَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى فَقَالَ لَهُ مُوسَى أَنْتَ آدَمُ الَّذِي أَخْرَجَتْكَ خَطِيئَتُكَ مِنَ الْجَنَّةِ فَقَالَ لَهُ آدَمُ أَنْتَ مُوسَى الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَبِكَلاَمِهِ ثُمَّ تَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدْ قُدِّرَ عَلَىَّ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There was an argument between Adam and Moses. Moses said: Are you that Adam whose lapse caused you to get out of Paradise? Adam said to him: Are you that Moses whom Allah selected for His Messengership, for His conversation and you blame me for an affair which had been ordained for me before I was created? This is how Adam came the better of Moses
حمید بن عبدالرحمٰن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہم السلام نے دلائل کا تبادلہ کیا ۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا : آپ آدم ہیں جن کی خطا نے انہیں جنت سے باہر نکالا؟ تو حضرت آدم علیہ السلام نے ان سے کہا : کیا تم موسیٰ ہو جسے اللہ نے اپنی رسالت اور ہم کلامی سے دوسروں پر فضیلت دی ، پھر تم مجھے اس معاملے میں ملامت کر رہے ہو جو میری پیدائش سے پہلے میرے لیے مقدر کر دیا گیا تھا؟ اس طرح آدم علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام کو دلیل سے خاموش کر دیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، وَأَبُو أُسَامَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَعَبْدَةُ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ فَسَأَلْتُهُ فَرَدَّ عَلَيْنَا الْحَدِيثَ كَمَا حَدَّثَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ .
This hadith has been narrated on the authority of 'Abdullah b. Umar through other chains of transmitters, but in the hadith transmitted by Umar b. 'Ali there is an addition of these words:, I met 'Abdullah b. 'Amr at the end of the year and I asked him about it, and he narrated to us the hadith as he had narrated before that he had heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying.... (The rest of the hadith is the same)
حماد بن زید ، عباد بن عباد ، ابومعاویہ ، وکیع ، ابن ادریس ، ابواسامہ ، ابن نمیر ، عبدہ ، سفیان ( بن عیینہ ) ، یحییٰ بن سعید ، عمر بن علی اور شعبہ بن حجاج ، سب نے ہشام بن عروہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جریر کی روایت کردہ حدیث کے مطابق روایت کی اور عمر بن علی کی حدیث میں مزید یہ ہے : پھر میں ایک سال بعد حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے سوال کیا تو انہوں نے وہ حدیث مجھے دوبارہ اسی طرح سنائی جیسے ( پہلے ) بیان کی تھی ۔ کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنِي جَرِيرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ عَبْثَرٍ .
This hadith has been reported on the authority of Mutarrif with the same chain of transmitters
جریر نے مطرف سے اسی سند کے ساتھ عبثر کی حدیث کے مانند خبر دی ۔
حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ لِلَّهِ مِائَةَ رَحْمَةٍ فَمِنْهَا رَحْمَةٌ بِهَا يَتَرَاحَمُ الْخَلْقُ بَيْنَهُمْ وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
Salman Farisi reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Verily, there are one hundred (parts of) mercy for Allah, and it is one part of this mercy by virtue of which there is mutual love between the people and ninety-nine reserved for the Day of Resurrection
معاذ نے کہا : ہمیں سلیمان تیمی نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں ابوعثمان نہدی نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیں ، ان میں سے ایک رحمت ہے جس کے ذریعے سے مخلوق آپس میں ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے اور ننانوے ( رحمتیں ) قیامت کے دن کے لیے ( محفوظ ) ہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ، يُحَدِّثُ .
This hadith has been transmitted by Shu'ba with the same chain of transmitters. Ibn at-Muthanna said in his narration:AI-Hakam narrated to us who heard from Ibrahim narrating that
محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار دونوں نے کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث سنائی ، اسی طرح عبیداللہ بن معاذ نے حدیث سنائی ، کہا : مجھے میرے والد نے حدیث سنائی ۔ ان دونوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی ۔ ابن مثنیٰ کی حدیث میں ہے ، حکم نے کہا : میں نے ابراہیم کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ۔ ( آگے وہی حدیث ہے جو اوپر بیان ہو ئی ۔)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ، الأَشَجُّ أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ جَاءَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ رَجُلٌ فَقَالَ تَرَكْتُ فِي الْمَسْجِدِ رَجُلاً يُفَسِّرُ الْقُرْآنَ بِرَأْيِهِ يُفَسِّرُ هَذِهِ الآيَةَ { يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ} قَالَ يَأْتِي النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ دُخَانٌ فَيَأْخُذُ بِأَنْفَاسِهِمْ حَتَّى يَأْخُذَهُمْ مِنْهُ كَهَيْئَةِ الزُّكَامِ . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ مَنْ عَلِمَ عِلْمًا فَلْيَقُلْ بِهِ وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ فَلْيَقُلِ اللَّهُ أَعْلَمُ فَإِنَّ مِنْ فِقْهِ الرَّجُلِ أَنْ يَقُولَ لِمَا لاَ عِلْمَ لَهُ بِهِ اللَّهُ أَعْلَمُ . إِنَّمَا كَانَ هَذَا أَنَّ قُرَيْشًا لَمَّا اسْتَعْصَتْ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم دَعَا عَلَيْهِمْ بِسِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ فَأَصَابَهُمْ قَحْطٌ وَجَهْدٌ حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ يَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ فَيَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ مِنَ الْجَهْدِ وَحَتَّى أَكَلُوا الْعِظَامَ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَغْفِرِ اللَّهَ لِمُضَرَ فَإِنَّهُمْ قَدْ هَلَكُوا فَقَالَ " لِمُضَرَ إِنَّكَ لَجَرِيءٌ " . قَالَ فَدَعَا اللَّهَ لَهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلاً إِنَّكُمْ عَائِدُونَ} قَالَ فَمُطِرُوا فَلَمَّا أَصَابَتْهُمُ الرَّفَاهِيَةُ - قَالَ - عَادُوا إِلَى مَا كَانُوا عَلَيْهِ - قَالَ - فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ * يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ} { يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنْتَقِمُونَ} قَالَ يَعْنِي يَوْمَ بَدْرٍ .
Masruq reported that there came to Abdullah a person and said:I have left behind in the mosque a man who explains the Qur'an according to his personal discretion and he explained this verse:" So wait for the day when the Heaven brings a clear smoke." He says that a smoke would come to the people on the Day of Resurrection anl it will withhold breath and they would be inflicted with cold. 'Abdullah said: He who has knowledge should say something and he who has no knowledge should simply say: Allah is best aware. This reflects the understanding of a person that he should say about that which he does not know that it is Allah who knows best. The fact is that when the Quraish disobeyed Allah's Apostle (ﷺ) he supplicated Allah that they should be afflicted with famine and starvation as was done in case of Yusuf. And they were so much hard pressed that a person would ace the sky and he would see between him and the sky something like smoke and they were so much hard pressed that they began to cat the bones, and a person came to Allah's Apostle (ﷺ) and said: Allah's Messenger. seek forgiveness for the tribe of Mudar for (its people) have been undone. The Messenger (ﷺ) said: For Mudar? You are overbold, but he supplicated Allah for them. It was upon this that this verse was revealed:" We shall remove the chastisement a little, but they will surely return to evil" (xliv. 15). lie (the narrator) said: There was a downpoor of rain upon them. When there was some relief for them they returned to the same position as they had been before, and Allah, the Exalted and Glorious, revealed this verse:" So wait for the day when the heaven brings a clear smoke enveloping people. This is a grievous torment on the day when We seize them with the most violent seizing; surely, We shall exact retribution." And this (seizing) implied (Battle) of Badr
ابو معاویہ ، وکیع ، اور جریر نے اعمش سے ، انھوں نے مسلم بن صحیح سے اور انھوں نے مسروق سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا : میں مسجد میں ایک ایسے شخص کو چھوڑ کر آرہا ہوں جو اپنی رائے سے قرآن مجید کی تفسیر کرتا ہے وہ ( قرآن کی ) آیت : " جب آسمان سے واضح دھواں اٹھے گا " کی تفسیر کرتا ہے ، کہتا ہے : " قیامت کےدن لوگوں کے پاس ایک دھواں آئے گا جو لوگوں کی سانسوں کو گرفت میں لے لے گا ، یہاں تک کہ لوگوں کو زکام جیسی کیفیت ( جس میں سانس لینی مشکل ہوجاتی ہے ) درپیش ہوگی ، توحضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : جس کے پاس علم ہو وہ اس کے مطابق بات کہے اور جو نہ جانتا ہو ، وہ کہے : اللہ زیادہ جاننے والا ہے ۔ یہ بات انسان کے فہم ( دین ) کاحصہ ہے ۔ کہ جس بات کو وہ نہیں جانتا اس کے بارے میں کہے : اللہ زیادہ جاننے والاہے ۔ اس ( دھوئیں ) کی حقیقت یہ تھی کہ قریش نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سخت نافرمانی سے کام لیا تو آپ نے ان کے خلاف یوسف علیہ السلام ( کے زمانےوالے ) قحط کے سالوں جیسی قحط سالی کی دعاکی ۔ انھیں قحط اور تنگ دستی نے آلیا یہاں تک کہ ( ان میں سے ) کوئی شخص آسمان کی طرف دیکھنے لگتا تو بھوک کی شدت سے اسے اپنے اور آسمان کے درمیان دھواں ساچھایا ہوا نظرآتا یہاں تک کہ ان لوگوں نے ( بھوک کی شدت سے ) ہڈیاں تک کھائیں ، چنانچہ ( ان میں سے ) ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ ( قبیلہ ) مضر کے لئے بخشش طلب فرمائیں ۔ وہ ہلاکت کا شکار ہیں ، تو آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مضر کے لئے؟تو بہت جراءت والا ہے ( کہ اللہ سے شرک اور اس کے رسول سے بغض کے باوجود د رخواست کررہا ہے کہ میں تمہارے لئے اللہ سے دعا کروں ) " کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( پھر بھی ) ان کے حق میں دعا فرمادی ۔ اس پر اللہ عزوجل نے ( آیت ) نازل فرمائی : " ہم ( تم سے ) تھوڑے عرصے کے لئے عذاب ہٹادیتے ہیں ۔ تم ( پھر کفر ہی میں ) لوٹنے والا ہو ۔ " ( حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : پھر ان پر بارش برسائی گئی ۔ انھیں خوشحالی مل گئی ، کہا : ( تو پھر ) وہ اپنی اسی روش پر لوٹ گئے جس سے پہلے تھے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ( یہ حصہ ) نازل فرمایا : " آپ انتظار کیجئے جب آسمان ظاہر دھواں لے آئے گا ۔ جو لوگوں کو ڈھانپ لے گا ، یہ دردناک عذاب ہوگا ۔ ( پھر یہ آیت نازل فرمائی ) جس دن ہم بڑ ی گرفت میں لیں گے ، ہم انتقام لینے والے ہوں گے ۔ " کہا : یعنی جنگ بدر کو ۔
وَحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي عَاصِمٍ، - قَالَ حَسَنٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، - عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ، عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَأْكُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ وَلاَ يَتَغَوَّطُونَ وَلاَ يَمْتَخِطُونَ وَلاَ يَبُولُونَ وَلَكِنْ طَعَامُهُمْ ذَاكَ جُشَاءٌ كَرَشْحِ الْمِسْكِ يُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالْحَمْدَ كَمَا يُلْهَمُونَ النَّفَسَ " . قَالَ وَفِي حَدِيثِ حَجَّاجٍ " طَعَامُهُمْ ذَلِكَ " .
Jabir b. Abdullah reported that Allah's Messenger (ﷺ) said that the inmates of Paradise would eat therein and they would also drink, but they would neither void excrement, nor suffer catarrh, nor pass water, and their eating (would be digested) in the form of belching and their sweat would be musk aged they would glorify and praise Allah as easily ai you breathe
حسن بن علی حلوانی اور حجاج بن شاعر دونوں نے مجھے ابو عاصم سے روایت کی ۔ حسن نے کہا : ہمیں ابو عاصم نے حدیث بیان کی کہا : ابن جریج سے روایت ہے انھوں نے کہا : مجھے ابو زبیر نے بتایا کہ انھوں نے حضرت جابرعبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ، " اہل جنت اس میں کھائیں اور پئیں گے ۔ ( لیکن ) وہ اس میں رفع حاجت کریں گے ۔ نہ ناک سنکیں گے ۔ نہ پیشاب کریں گے البتہ ان کا کھانا ذکاء ( کی شکل میں تحلیل ) ہوجائے گا ۔ جو مشک کی طرح خوشبودارہو گی ۔ انھیں ( خود بخود ) اللہ کی پاکیزگی اور اس کی حمد کرنا الہام کیا جا ئے گا جس طرح انھیں ( خود بخود ) سانس لینا الہام کیا گیا ہے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ الْهَرْجُ " . قَالُوا وَمَا الْهَرْجُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " الْقَتْلُ الْقَتْلُ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The last Hour will not come unless there is much bloodshed. They said: What is harj? Thereupon he said: Bloodshed. bloodshed
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ بہت زیادہ ہرج ( جانوں کی تباہی ) ہوجائے گی؟انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے پوچھا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہرج ( تباہی ) کیا ہو گی؟فرمایا : " قتل ، قتل ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ، هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدٍ الْمُكْتِبِ، عَنْ فُضَيْلٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَضَحِكَ فَقَالَ " هَلْ تَدْرُونَ مِمَّ أَضْحَكُ " . قَالَ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ " مِنْ مُخَاطَبَةِ الْعَبْدِ رَبَّهُ يَقُولُ يَا رَبِّ أَلَمْ تُجِرْنِي مِنَ الظُّلْمِ قَالَ يَقُولُ بَلَى . قَالَ فَيَقُولُ فَإِنِّي لاَ أُجِيزُ عَلَى نَفْسِي إِلاَّ شَاهِدًا مِنِّي قَالَ فَيَقُولُ كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ شَهِيدًا وَبِالْكِرَامِ الْكَاتِبِينَ شُهُودًا - قَالَ - فَيُخْتَمُ عَلَى فِيهِ فَيُقَالُ لأَرْكَانِهِ انْطِقِي . قَالَ فَتَنْطِقُ بِأَعْمَالِهِ - قَالَ - ثُمَّ يُخَلَّى بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَلاَمِ - قَالَ - فَيَقُولُ بُعْدًا لَكُنَّ وَسُحْقًا . فَعَنْكُنَّ كُنْتُ أُنَاضِلُ " .
Anas b. Malik reported:We were in the company of Allah's Messenger (ﷺ) when he smiled, and said: Do you know why I laughed? We said: Allah and His Messenger, know best. Thereupon he said: It was because (there came to my mind the) talk which the servant would have with his Lord (on the Day of judgment). He would say: My Lord, have you not guaranteed me protection against injustice? He would say: Yes. Then the servant would say: I do not deem valid any witness against me but my own self, and He would say: Well, enough would be the witness of your self against you and that of the two angels who had been appointed to record your deeds. Then the seal would be set upon his mouth and it would be said to his hands and feet to speak and they would speak of his deeds. Then the mouth would be made free to talk, he would say (to the hands and feet): Be away, let there be curse of Allah upon you. It was for your safety that I contended
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( بیٹھے ہوئے ) تھے کہ آپ ہنس پڑے پھر آپ نے پوچھا : " کیا تمھیں یہ معلوم ہے کہ میں کس بات پر ہنس رہا ہو ں ؟ " ہم نے عرض کی اللہ اور اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جاننے والے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : " مجھے بندے کی اپنے رب کے ساتھ کی کئی بات پر ہنسی آتی ہے وہ کہے گا ۔ اے میرے رب!کیا تونے مجھے ظلم سے پناہ نہیں دی؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : وہ فرمائے گا ۔ کیوں نہیں !فرمایا بندہ کہے گا میں اپنے خلاف اپنی طرف کے گواہ کے سوا اور کسی ( کی گواہی ) کو جائز قرار نہیں دیتا ۔ تو وہ فرمائے گا آج تم اپنے خلاف بطور گواہ خود کافی ہواور کراماً کا تبین بھی گواہ ہیں چنانچہ اس کے منہ پر مہرلگادی جائے گی ۔ اور اس کے ( اپنے ) اعضاء سے کہا جائے گا ۔ بولو ، فرمایا : تو وہ اس کے اعمال کے بارے میں بتائیں گے پھر اسے اور ( اس کے اعمال کے بارے میں بتائیں گے پھر اسے اور ( اس کے اعضاء کے ) بولنے کو اکیلا چھوڑ دیا جا ئے گا ۔ فرمایا : تو ( ان کی گواہی سن کر ) وہ کہے گا دورہوجاؤ ، میں تمھاری طرف سے ( دوسروں کے ساتھ ) لڑا کرتا تھا ۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ - عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ أَلِمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا مِنْ تَوْبَةٍ قَالَ لاَ . قَالَ فَتَلَوْتُ عَلَيْهِ هَذِهِ الآيَةَ الَّتِي فِي الْفُرْقَانِ { وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلاَ يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ} إِلَى آخِرِ الآيَةِ . قَالَ هَذِهِ آيَةٌ مَكِّيَّةٌ نَسَخَتْهَا آيَةٌ مَدَنِيَّةٌ { وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا} . وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ هَاشِمٍ فَتَلَوْتُ هَذِهِ الآيَةَ الَّتِي فِي الْفُرْقَانِ{ إِلاَّ مَنْ تَابَ}
Sa'id b. Jubair reported:I said to Ibn Abbas: Will the repentance of that person be accepted who kills a believer intentionally? He said: No. I recited to him this verse of Sura al-Furqan (xix.):" And those who call not upon another god with Allah and slay not the soul which Allah has forbidden except in the cause of justice" to the end of the verse. He said: This is a Meccan verse which has been abrogated by a verse revealed at Medina:" He who slays a believer intentionally, for him is the requital of Hell-Fire where he would abide for ever," and in the narration of Ibn Hisham (the words are): I recited to him this verse of Sura al-Furqan:" Except one who made repentance
عبد اللہ بن ہاشم اور عبد الرحمٰن بن بشر عبدی نے مجھے حدیث بیان کی دونوں نے کہا : ہمیں یحییٰ بن سعید قطان نے ابن جریج سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : مجھے قاسم بن ابی بزہ نے سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا : کیا جس شخص نے کسی مومن کو عمدا قتل کر دیا اس کے لیے توبہ ( کی گنجائش ) ہے؟انھوں نے کہا : نہیں ( سعید بن جبیرنے ) کہا : پھر میں نے ان کے سامنے سورہ فرقان کی یہ آیت تلاوت کی ۔ " وہ لوگ جو اللہ کے سواکسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور کسی جان کو جسے اللہ نے حرام کیا ہے حق کے بغیر قتل نہیں کرتے " آیت کے آخر تک انھوں نے کہا : یہ مکی آیت ہےاس کو اس مدنی آیت نے منسوخ کر دیا : " اور جو کسی مومن کو عمدا قتل کر دے تو اس کی سزا جہنم ہے وہ اس میں ہمیشہ رہے گا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ إِنْ يَدْرِي كَيْفَ صَلَّى " .
A hadith like it has been narrated by Abu Huraira but for these words:" He (the man saying the prayer) does not know how much he has prayed
ہمام بن منبہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبیﷺ سے مذکورہ بالا روایت کے مانند بیان کیا ، مگر انہوں نے ( ما يدري كم صلى کے بجائے ) إن يدري كيف صلى ’’وہ نہیں جانتا کیسے نماز پڑھی ‘ ‘ کہا ۔