بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
4
10 hadith
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا رَفَعَ ظَهْرَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ ‏ "‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَىْءٍ بَعْدُ ‏"‏ ‏.‏
(Abdullah b ) Ibn Abi Aufa reported:When the Messenger of Allah (ﷺ) raised his back from the rukd' he pronounced: Allah listened to him who praised Him. O Allah! our Lord! unto Thee be praise that would fill the heavens and the earth and fill that which will please Thee besides them
اعمش نے عبید بن حسن سے اور انہوں نے حضرت ابن ابی اوفیٰ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺجب رکوع سے اپنی پشت اٹھاتے تو کہتے ، ’’ اللہ نے سن لی جس نے اس کی حمد کی ، اے اللہ ہمارے رب! تیرے ہی لیے تعریف وتوصیف ہے آسمان بھر ، زمین بھر اور ان کے سوا جو تو چاہے اس کی وسعت بھر ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخ ْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي، سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلاَةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported that the Messenger of Allah (may peace he upon him) said:When it is very hot, say (the noon prayer) when the extreme heat passes away, for intensity of heat is from the exhalation of Hell
لیث نے ابن شہاب سے ، انھوں نے ( سعید ) بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے اور انھوں حضرت ابو ہریرہ ﷺ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول لللہ ﷺنے فرمایا : ’’ جب گرمی شدید ہو جائے تو نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھوکونکہ گرمی کی شدت دوزخ کی لپٹوں ( گرمی کے پھیلاؤ ) میں سے ہے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ، يُحَدِّثُ عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ بَعَثَنِي الْعَبَّاسُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَبِتُّ مَعَهُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَقَامَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَتَنَاوَلَنِي مِنْ خَلْفِ ظَهْرِهِ فَجَعَلَنِي عَلَى يَمِينِهِ ‏.‏
Ibn `Abbas reported:(My father) Al-`Abbas sent me to the Messenger of Allah (ﷺ) and he was in the house of my mother's sister Maimuna and I spent that night along with him. He (the Holy Prophet) got up and prayed at night, and I stood up on his left side. He caught hold of me from behind his back and made me stand on his right side
قیس بن سعد ، عطاء سے حدیث بیان کرتے ہیں ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری خالہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں تھے تو وہ رات میں نے آپ کے ساتھ گزاری ، آپ رات کو اٹھ کر نماز پڑھنے لگےاور میں آپ کے بائیں طرف کھڑا ہوگیا تو آپ نے مجھے اپنی پشت کے پیچھے سے پکڑا اور اپنی دائیں جانب کرلیا ( اس حدیث میں مذید یہ تفصیل سامنے آئی کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کے والد نے بھیجاتھا)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، ح . وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرٍو، - وَهُوَ ابْنُ مُرَّةَ - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَتَاهُ قَوْمٌ بِصَدَقَتِهِمْ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ ‏"‏ ‏.‏ فَأَتَاهُ أَبِي أَبُو أَوْفَى بِصَدَقَتِهِ فَقَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى ‏"‏ ‏.‏
Abdullah b. Abu Aufa said that it was the common practice of the Messenger of Allah (ﷺ) that when the people brought to him sadaqa he blessed them:O Allah, bless them. So when Abu Aufa brought to him Sadaqa he (the Holy Prophet) said: O Allah, bless, the posterity of Abu Aufa
وکیع اور معاذ عنبری نے شعبہ سے اور انھوں نے عمرو بن مرہ سے روایت کی انھوں نے کہا حضرت عبد اللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں حدیث بیان کی انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب لو گ ( بیت المال میں ادائیگی کے لیے ) اپنا صدقہ لا تے آپ فر ما تے اے اللہ !ال پر صلا ۃ بھیج ( رحمت فر ما ! ) میرے والد ابو اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی آپ کے پا س اپنا صدقہ لائے تو آپ نے فر ما یا : " اے اللہ !ابو اوفیٰ کی آل پر رحمت نا زل فر ما ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ، أَبِي كَثِيرٍ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الشَّهْرِ مِنَ السَّنَةِ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ وَكَانَ يَقُولُ ‏"‏ خُذُوا مِنَ الأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَمَلَّ حَتَّى تَمَلُّوا ‏"‏ ‏.‏ وَكَانَ يَقُولُ ‏"‏ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَى اللَّهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ وَإِنْ قَلَّ ‏"‏ ‏.‏
A'isha (Allah be pleased with her) reported:The Messenger of Allah (ﷺ) did not observe fast in any month of the year more than in the month of Sha'ban, and used to say: Do as many deeds as you are capable of doing, for Allah will not become weary (of giving you reward), but you would be tired (of doing good deeds) ; and he also said: The deed liked most by Allah is one to which the doer adheres constantly even if it is small
یحییٰ بن ابی کثیر نے ابو سلمہ سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سےروایت کی ، اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سال کے کسی مہینے میں ، شعبان سے بڑھ کر ، روزے نہیں رکھتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کر تے تھے : " اتنے ہی اعمال اپناؤ جتنوں کی تم طاقت رکھتے ہو ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہرگز نہیں اکتائے گا حتیٰ کہ تم خود ہی ( عمل کرنے سے ) اکتا جاؤ گے ۔ " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کر تے تھے : " اللہ کے ہاں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل و ہ ہے جس پر عمل کرنے والا ہمیشہ قائم رہے چاہے وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو ۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ لِي مُعَاوِيَةُ أَعَلِمْتَ أَنِّي قَصَّرْتُ مِنْ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ الْمَرْوَةِ بِمِشْقَصٍ فَقُلْتُ لَهُ لاَ أَعْلَمُ هَذَا إِلاَّ حُجَّةً عَلَيْكَ ‏.‏
Ibn Abbas reported that Mu'awiya had said to them:Do you know that I clipped some hair from the head of Allah's Messenger (ﷺ) at al- Marwa with the help of a clipper? I said: I do not know it except as it verdict against you
ہشام بن حجیر نے طاوس سے روایت کی ، کہا : حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ذکر کیا کہ مجھے معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتا یا کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں نے مروہ کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال قینچی سے کا ٹے تھے؟میں نے کہا : میں یہ تو نہیں جانتا مگر ( یہ جا نتا ہوں کہ ) آپ کی یہ بات آپ ہی کے خلا ف دلیل ہے ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ، - وَاللَّفْظُ لإِبْرَاهِيمَ - قَالاَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، - وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ - عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ نَاسًا، مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ قَتَلُوا فَأَكْثَرُوا وَزَنَوْا فَأَكْثَرُوا ثُمَّ أَتَوْا مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا إِنَّ الَّذِي تَقُولُ وَتَدْعُو لَحَسَنٌ وَلَوْ تُخْبِرُنَا أَنَّ لِمَا عَمِلْنَا كَفَّارَةً فَنَزَلَ ‏{‏ وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلاَ يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ وَلاَ يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا‏}‏ وَنَزَلَ ‏{‏ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لاَ تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ‏{‏ ‏.‏}
It is narrated on the authority of Ibn 'Abbas that some persons amongst the polytheist had committed a large number of murders and had excessively indulged in fornication. Then they came to Muhammad (ﷺ) and said:Whatever you assert and whatever you call to is indeed good. But if you inform us that there is atonement of our past deeds (then we would embrace Islam). Then it was revealed: And those who call not unto another god along with Allah and slay not any soul which Allah has forbidden except in the cause of justice, nor commit fornication; and he who does this shall meet the requital of sin. Multiplied for him shall be the torment on the Day of Resurrection, and he shall therein abide disgraced, except him who repents a believes and does good deeds. Then these! for the Allah shall change their vices into virtues. Verily Allah is Ever Forgiving, Merciful (xxv. 68-70). Say thou: O my bondsmen woo have committed extravagance against themselves despair not of the Mercy of Allah I Verily Allah will forgive the sins altogether. He is indeed the Forgiving, the Merciful (xxxix)
حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ ( جاہلی دور میں ) مشرکین میں سے کچھ لوگوں نے قتل کیے تھے تو بہت کیے تھے اور زنا کیا تھا تو بہت کیا تھا ، پھر وہ حضرت محمدﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگے : آپ جو کچھ فرماتے ہیں اور جس ( راستے ) کی دعوت دیتے ہیں ، یقیناً وہ بہت اچھا ہے ۔ اگر آپ ہمیں بتا دیں کہ جو کام ہم کر چکے ہیں ، ان کا کفارہ ہو سکتا ہے ( تو ہم ایمان لے آئیں گے ) اس پر یہ آیت نازل ہوئی : ’’ جو اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے ، اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق ہلاک نہیں کرتے ، اور نہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں یہ کام جو کوئی کرے وہ اپنے گناہ کا بدلہ پائے گا ‘ ‘ ( ہر مسلمان پر ان ابدی احکام کی پابندی ضروری ہے ) اور یہ آیت نازل ہوئی : ’’اے میرے بندو! جو اپنے اوپر زیادتی کر چکے ہو ، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو ۔ ( جو اسلام سے پہلے یہ کام کر چکے ان کے بارے میں وہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں ۔ ‘ ‘)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي، طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ وَكَانَتْ أُمُّ حَرَامٍ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا فَأَطْعَمَتْهُ ثُمَّ جَلَسَتْ تَفْلِي رَأْسَهُ فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ قَالَتْ فَقُلْتُ مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَىَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ مُلُوكًا عَلَى الأَسِرَّةِ أَوْ مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الأَسِرَّةِ ‏"‏ ‏.‏ يَشُكُّ أَيَّهُمَا قَالَ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَدَعَا لَهَا ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ قَالَتْ فَقُلْتُ مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَىَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ كَمَا قَالَ فِي الأُولَى قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهَ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ ‏"‏ أَنْتِ مِنَ الأَوَّلِينَ ‏"‏ ‏.‏ فَرَكِبَتْ أُمُّ حَرَامٍ بِنْتُ مِلْحَانَ الْبَحْرَ فِي زَمَنِ مُعَاوِيَةَ فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ فَهَلَكَتْ ‏.‏
It has been reported on the authority of Anas b. Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) used to visit Umm Haram daughter of Milhan (who was the sister of his foster-mother or his father's aunt). She was the wife of 'Ubada b. Samit, One day the Messenger of Allah (ﷺ) paid her a visit. She entertained him with food and then sat down to rub his head. The Messenger of Allah (ﷺ) dozed off and when he woke up (after a while), he was laughing. She asked:What made you laugh. Messenger of Allah? He said: Some people from my Umma were presented to me who were fighters in the way of Allah and were sailing in this sea. (Gliding smoothly on the water), they appeared to be kings or like kings (sitting) on thrones (the narrator has a doubt about the actual expression used by the Holy Prophet). She said: Messenger of Allah, pray to Allah that He may include me among these warriors. He prayed for her. Then he placed his head (down) and dozed off (again). He woke up laughing, as before. (She said) I said: Messenger of Allah, what makes you laugh? He replied: A people from my Umma were presented to me. They were fighters in Allah's way. (He described them in the same words as he had described the first warriors.) She said: Messenger of Allah, pray to God that He may include me among these warriors. He said: You are among the first ones. Umm Haram daughter of Milhan sailed in the aea in the time of Mu'awiya. When she came out of the sea and (was going to mount a riding animal) she fell down and died
اسحٰق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا ( جو حضور کی رضاعی خالہ لگتی تھیں ) کے پاس تشریف لے جاتے اور وہ آپ کو کھانا پیش کرتی تھیں ، ( بعد ازاں ) وہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے نکاح میں ( آ گئی ) تھیں ، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں گئے ، انہوں نے آپ کو کھانا پیش کیا اور پھر بیٹھ کر آپ کے سر میں جوئیں تلاش کرنے لگیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے ، پھر آپ ہنستے ہوئے بیدار ہوئے ، حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا نے کہا ، میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا : "" میری امت کے کچھ لوگ ، اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے میرے سامنے پیش کیے گئے ، وہ اس سمندر کی پشت پر سوار ہوں گے ۔ وہ تخت پر بیٹھے ہوئے بادشاہ ہوں گے ، یا اپنے اپنے تخت پر بیٹھے ہوئے بادشاہ ہوں گے ، یا اپنے اپنے تخت پر بیٹھے ہوئے بادشاہوں کی طرح ہوں گے ۔ "" انہٰں شک تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ کہا : تو ام حرام رضی اللہ عنہا نے کہا : میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی ان مجاہدین میں شامل کر دے ۔ آپ نے ان کے لیے دعا کی اور پھر اپنا سر ( تکیے پر ) رکھ کر سو گئے ، پھر آپ ہنستے ہوئے بیدار ہوئے ، میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا : "" مجھے ( خواب میں ) میری امت کے کچھ لوگ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے دکھائے گئے ۔ "" جس طرح پہلی مرتبہ فرمایا تھا ، میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! آپ اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر دے ۔ آپ نے فرمایا : "" تم اولین لوگوں میں سے ہو ۔ "" پھر حضرت ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں سمندر میں ( بحری بیڑے پر ) سوار ہوئیں اور جب سمندر سے باہر نکلیں تو اپنی سواری کے جانور سے گر کر شہید ہو گئیں ۔ ( اس طرح شہادت پائی ۔)
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي، زَيْنَبَ حَدَّثَنِي أَبُو سُفْيَانَ، طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنْتُ جَالِسًا فِي دَارِي فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَشَارَ إِلَىَّ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَى بَعْضَ حُجَرِ نِسَائِهِ فَدَخَلَ ثُمَّ أَذِنَ لِي فَدَخَلْتُ الْحِجَابَ عَلَيْهَا فَقَالَ ‏"‏ هَلْ مِنْ غَدَاءٍ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا نَعَمْ ‏.‏ فَأُتِيَ بِثَلاَثَةِ أَقْرِصَةٍ فَوُضِعْنَ عَلَى نَبِيٍّ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُرْصًا فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَخَذَ قُرْصًا آخَرَ فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَىَّ ثُمَّ أَخَذَ الثَّالِثَ فَكَسَرَهُ بِاثْنَيْنِ فَجَعَلَ نِصْفَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَنِصْفَهُ بَيْنَ يَدَىَّ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ هَلْ مِنْ أُدُمٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لاَ ‏.‏ إِلاَّ شَىْءٌ مِنْ خَلٍّ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَاتُوهُ فَنِعْمَ الأُدُمُ هُوَ ‏"‏ ‏.‏
Jabir b. 'Abdullah reported:While I was sitting in my house there happened to pass by me Allah's Messenger (ﷺ). He made a gesture to me and I stood up for him. He took hold of my hand until we came to one of the apartments of his wives. He entered and then asked me to get in. So I entered and there was hanging a curtain beside her. He (the Holy Prophet) said: Is there any food (with you)? They (the members of the household) said: Yes And then there were brought three loaves of bread for him (the Holy Prophet) and placed in the basket of palm leaves. Allah's Messenger (ﷺ) picked up one loaf and placed that before him, and then picked up another one and placed it before me. He then picked up the third one and broke it into two parts, and kept the one-half before him and the other half before me, and then said: Is there any condiment? They (the members of the household) said: There is nothing (in the form of condiment) but some vinegar only. He said: Bring that, for vinegar is a good condiment
حجاج بن ابی زینب نے کہا : مجھے ابو سفیان طلحہ بن نافع نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہا : میں کسی گھر میں بیٹھا ہوا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر میرے پاس سے ہوا ، آپ نے میری طرف اشارہ کیا میں اٹھ کر آپ کے پاس آیا آپ نے میرا ہا تھ پکڑا اور چل پرے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجروں میں سے کسی کےحجرے پر آئے اور اندر داخل ہو گئےپھر مجھے بھی آنے کی اجازت دی میں ( حجرہ انورمیں ) ان کے حجاب کے عالم میں داخل ہوا آپ نے فرما یا : " کچھ کھا نے کو ہے؟ " گھر والوں نے کہا : ہے اور تین روٹیاں لا ئی گئیں اور ان کو ایک اونی رومال ( دستراخوان ) پر رکھ دیا گیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روٹی اپنے سامنے رکھی اور ایک روٹی میرے سامنے رکھی پھر آپ نے تیسری کے دوٹکڑے کیے ، آدھی اپنے سامنے رکھی اور آدھی میرے سامنے رکھی پھر آپ نے پو چھا : " کو ئی سالن بھی ہے؟ " گھر والوں نے کہا : تھوڑا سا سرکہ ہے اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " لے آؤ سرکہ کیا خوب سالن ہے
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ أَلاَ يُعْجِبُكَ أَبُو هُرَيْرَةَ جَاءَ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِ حُجْرَتِي يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يُسْمِعُنِي ذَلِكَ وَكُنْتُ أُسَبِّحُ فَقَامَ قَبْلَ أَنْ أَقْضِيَ سُبْحَتِي وَلَوْ أَدْرَكْتُهُ لَرَدَدْتُ عَلَيْهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُ الْحَدِيثَ كَسَرْدِكُمْ ‏.‏
A'isha reported:Don't you feel surprised at Abu Huraira? He came (one day) and sat beside the nook of my apartment and began to narrate (the hadith of Allah's Apostle). I was hearing while I was engaged in extolling Allah (reciting Subhan Allah) constantly. He stood up before I finished my repetition of Subhan Allah. if I were to meet him I would have warned him in stern words that Allah's Messenger (ﷺ) did not speak so quickly as you talk
یو نس نے ابن شہاب سے روایت کی عروہ بن زبیر نے انھیں حدیث بیان کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا : کیا تمھیں ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( ایسا کرتے ہوئے ) اچھے نہیں لگتے کہ وہ آئے میرے حجرے کے ساتھ بیٹھ گئےاور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث بیان کرنے لگے وہ مجھے ( یہ ) احادیث سنا رہے تھے ۔ میں نفل پڑھ رہی تھی تو وہ میرے نوافل ختم کرنے سے پہلے اٹھ گئے ۔ اگر میں ( نوافل ختم کرنے کے بعد ) انھیں مو جو د پا تی تو میں ان کو جواب میں یہ کہتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم لوگوں کی طرح تسلسل سے ایک کے بعد دوسری بات ارشاد نہیں فر ما تےتھے ۔ ابن شہاب نے بیان کیا : حضرت سعید بن مسیب نے روایت کیا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : لو گ کہتے ہیں ۔ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت احادیث بیان کرتے ہیں اور پیشی اللہ کے سامنے ہو نی ہے نیز وہ کہتے ہیں ، کیا وجہ ہے کہ مہاجرین اور انصار ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرح احادیث بیان نہیں کرتے ؟ میں تم کو اس کے بارے میں بتا تا ہوں ۔ میرے انصاری بھا ئیوں کو ان کی زمینوں کاکام مشغول رکھتا تھا اور میرے مہاجر بھا ئیوں کو بازار کی خریدو فروخت مصروف رکھتی تھی اور میں پیٹ بھرنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لگا رہتا تھا ، جب دوسرے لو گ غائب ہو تے تو میں حاضر رہتا تھا اور جن باتوں کو وہ بھول جا تے تھے میں ان کو یا د رکھتا تھا ۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" تم میں سے کو ن شخص اپنا کپڑا بچھائے گا ۔ تا کہ میری یہ بات ( حدیث ) سنے پھر اس ( کپڑے ) کو اپنے سینے سے لگا لے تو اس نے جو کچھ سنا ہو گا اس میں سے کو ئی چیز نہیں بھولے گا ۔ "" میں نے ایک چادر جو میرے کندھوں پر تھی پھیلا دی یہاں تک کہ آپ اپنی بات سے فارغ ہوئے تو میں نے اس چادر کو اپنے سینے کے ساتھ اکٹھا کر لیا تو اس دن کے بعد کبھی کو ئی ایسی چیز نہیں بھولا جو آپ نے مجھ سے بیان فر ما ئی ۔ اگر دو آیتیں نہ ہو تیں ، جو اللہ نے اپنی کتاب میں نازل فر ما ئی ہیں تو میں کبھی کوئی چیز بیان نہ کرتا ( وہ آیتیں یہ ہیں ) "" وہ لو گ جو ہماری اتاری ہو ئی کھلی باتوں اور ہدایت کو چھپا تے ہیں ۔ ۔ ۔ دونوں آیتوں کے آخر تک ۔