بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
4
10 hadith
حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ عَوْنِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ الأَشْجَعِيُّ أَبُو أَحْمَدَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ سَرِيعٍ، مَوْلَى آلِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الْفَجْرَ فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ ‏{‏ فَلاَ أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ * الْجَوَارِ الْكُنَّسِ‏}‏ وَكَانَ لاَ يَحْنِي رَجُلٌ مِنَّا ظَهْرَهُ حَتَّى يَسْتَتِمَّ سَاجِدًا ‏.‏
Amr b. Huraith reported:I said the dawn prayer behind the Apostle of (ﷺ) and heard him reciting: 'Nay. I call to witness the stars, running their courses and setting" (al-Qur'an, lxxxi. 15-16) and Done of us bent his back till he completed prostration
حضرت عمرو بن حریث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے نبی اکرمﷺ کے پیچھے فجر کی نماز پڑھی تو میں نے آپ کو ﴿فلا أقسم بالخنس0 الجوار الكنس﴾ ’’میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹنے والے ، سیدھے چلنے ، دبک جانے والے ( ستاروں ) کی ‘ ‘ پڑھتے ہوئے سنا اور ہم میں سے کوئی آدمی اپنی پشت نہیں جھکاتا تھا حتیٰ کہ آپ پوری طرح سجدے میں چلے جاتے تھے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى، سَمِعَهُ مِنْهُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ سَائِلاً، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي ‏.‏
Abu Musa reported on the authority of his father that an Inquirer came to the Prophet (ﷺ) and asked him about the times of prayers, and the rest of the hadith is the same (as narrated above) but for these words:" On the second day he (the Holy Prophet) observed the evening prayer before the disappearance of the twilight
وکیع نےبدر بن عثمان سے روایت کی ، انھون نے ابو بکر بن ابی موسیٰ سےسن کر یہ حدیث بیان کی ، انہون نے اپنے والد سے روایت کی کہ ایک سائل نبی اکرم ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور آپ سے نمازوں کے اوقات کے بارے میں سوال کیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ( آگے ) ابن نمبر کی روایت کی طرح ہے ، سوائے اس کے کہ انھوں نے کہا : دوسرے دن آپ نے مغرب کی نماز شفق غائب ہونے سے پہلے پڑھی ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ بِتُّ ذَاتَ لَيْلَةٍ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي مُتَطَوِّعًا مِنَ اللَّيْلِ فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْقِرْبَةِ فَتَوَضَّأَ فَقَامَ فَصَلَّى فَقُمْتُ لَمَّا رَأَيْتُهُ صَنَعَ ذَلِكَ فَتَوَضَّأْتُ مِنَ الْقِرْبَةِ ثُمَّ قُمْتُ إِلَى شِقِّهِ الأَيْسَرِ فَأَخَذَ بِيَدِي مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهِ يَعْدِلُنِي كَذَلِكَ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهِ إِلَى الشِّقِّ الأَيْمَنِ ‏.‏ قُلْتُ أَفِي التَّطَوُّعِ كَانَ ذَلِكَ قَالَ نَعَمْ ‏.‏
Ibn `Abbas reported:I spent a night in the house of my mother's sister Maimuna. The Apostle of Allah (ﷺ) got up for observing voluntary prayer (Tahajjud) at night. The Apostle of Allah (ﷺ) stood by the water-skin and performed ablution and then stood up and prayed. I also got up when I saw him doing that. I also performed ablution from the water-skin and then stood at his left side. He took hold of my hand from behind his back and then turned me from his back to his right side. I (`Ata', one of the narrators) said: Did it concern the voluntary prayer (at night)? He (Ibn `Abbas) said: Yes
ابن جریج نے کہا ، مجھے عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی ، انھوں نے کہا : میں نے ایک رات اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس بسر کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نفل نماز پڑھنے کے لئے جاگے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کرمشک کی طرف گئے اور وضو فرمایا ، پھر کھڑے ہوکر نماز پڑھی ، جب میں یہ آپ کو یہ کرتے دیکھا تو میں بھی اٹھا اور میں نے بھی مشک سے وضوکیا ، ( جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے رہے ، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ جاگنے کے بعد غور سے انھیں دیکھتے رہے تاکہ آپ کی اتباع کرسکیں ) پھر میں آپ کے بائیں پہلو میں کھڑا ہوگیا تو آپ نے اپنی پشت کے پیچھے سے میراہاتھ پکڑا ، ااسی طرح پیچھے سے مجھے دائیں جانب ٹھیک کرکے کھڑا کیا ۔ ( عطا ء نے کہا : ) میں نے پوچھا : کیا یہ نفل نماز میں ہوا تھا؟انھوں نے کہا : ہاں ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلاَّمٍ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ، - يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ - عَنْ مُحَمَّدٍ، - وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏.‏ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ سَأَلَ عَنْهُ فَإِنْ قِيلَ هَدِيَّةٌ أَكَلَ مِنْهَا وَإِنْ قِيلَ صَدَقَةٌ لَمْ يَأْكُلْ مِنْهَا ‏.‏
Abu Huraira reported:Whenever the Messenger of Allah (ﷺ) was presented with food, he asked about it, If he was told that it was a gift, he ate out of that, and if he was told that it was a sadaqa he did not eat out of that
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کھا نا پیش کیا جا تا آپ اس کے بارے میں پو چھتے اگر یہ کہا جا تا کہ تحفہ ہے تو اسے کھا لیتے اور اگر کہا جا تا کہ صدقہ ہے تو اسے نہ کھاتے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، - عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ صَامَ ‏.‏ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ ‏.‏ وَلَمْ أَرَهُ صَائِمًا مِنْ شَهْرٍ قَطُّ أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ مِنْ شَعْبَانَ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلاَّ قَلِيلاً ‏.‏
Abu Salama reported:I asked 'A'isha (Allah be pleased with her) about the fasting of the Messenger of Allah (ﷺ). She said: He used to observe fast (at times so continuously) that we said: He has fasted (never to break), and he did not observe fast till we said: He has given up perhaps never to fast, and I never saw him observing (voluntary fasts) more in any other month than that of Sha'ban. (lt appeared as if) he observed fast throughout the whole of Sha'ban except a few (days)
ابن ابی لبید نے ابو سلمہ سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بار ے میں پوچھا توانھوں نے بتایا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل روزے رکھتے حتیٰ کہ ہم کہتے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے ترک نہیں کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے چھوڑ دیتے حتیٰ کہ ہم کہتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے نہیں رکھیں گے ، اورمیں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی اور مہینے میں شعبان کےروزوں کی نسبت زیادہ روزے رکھتے نہیں دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( گویا ) پورے شعبان کے ر وزے رکھتے تھے ، محض چند دن چھوڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورا شعبان روزے رکھتے تھے ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، قَالَ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ لاَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ حَاجٌّ وَلاَ غَيْرُ حَاجٍّ إِلاَّ حَلَّ ‏.‏ قُلْتُ لِعَطَاءٍ مِنْ أَيْنَ يَقُولُ ذَلِكَ قَالَ مِنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏ ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ‏}‏ قَالَ قُلْتُ فَإِنَّ ذَلِكَ بَعْدَ الْمُعَرَّفِ ‏.‏ فَقَالَ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ هُوَ بَعْدَ الْمُعَرَّفِ وَقَبْلَهُ ‏.‏ وَكَانَ يَأْخُذُ ذَلِكَ مِنْ أَمْرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ أَمَرَهُمْ أَنْ يَحِلُّوا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ‏.‏
Ata' said:Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) used to say that a pilgrim or non-pilgrim (one performing 'Umar) who circumambulates the House is free from the responsibility of Ihram. I (Ibn Juraij, one of the narrators) said to 'Ata': On what authority does he (Ibn Abbas) say this? He said: On the authority uf Allah's words:" Then their place of sacrifice is the Ancient House" (al-Qur'an, xxii. 33). I said: It concerns the time after staying at 'Arafat, whereupon he said: Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) had stated (that the place of sacrifice is the Ancient House) ; it way be after staying at 'Arafat or before (staying there). And he (Ibn Abbas) made this deduction I from the command of Allah's Apostle (ﷺ) when he had ordered to put off Ihram on the occasion of the Farewell Pilgrimage
ابن جریج نے کہا : مجھے عطا ء نے خبر دی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فر مایا کرتے تھے : ( احرا م کی حا لت میں ) جو شخص بھی بیت اللہ کا طواف کرے وہ حاجی ہو یا غیر حاجی ( صرف عمرہ کرنے والا ) وہ طواف کے بعد احرا م سے آزاد ہو جا ئے گا ابن جریج نے کہا : میں نے عطا ء سے دریافت کیا ، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ بات کہاں سے لیتے ہیں؟ ( ان کے پاس کیا دلیل ہے؟ فرمایا اللہ تعا لیٰ کے اس فر مان سے ( دلیل لیتے ہوئے ) " پھر ان کے حلال ( ذبح ) ہو نے کی جگہ " البیت العتیق " ( بیت اللہ ) کے پاس ہے ۔ " ابن جریج نے کہا : میں نے ( عطاء سے ) کہا : اس آیت کا تعلق تو وقوف عرفات کے بعد سے ہے انھوں نے جواب دیا : ( مگر ) ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے تھے : اس آیت کا تعلق وقوف عرفات سے قبل اور بعد دونوں سے ہے ۔ اور انھوں نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم سے اخذ کی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حجۃ الوداع کے موقع پر ( طواف وسعی کے بعد ) احرا م کھول دینے کے بارے میں دیا تھا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، وَأَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ كُلُّهُمْ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ، - يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ - قَالَ أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنِ ابْنِ شَمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ، قَالَ حَضَرْنَا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ وَهُوَ فِي سِيَاقَةِ الْمَوْتِ ‏.‏ فَبَكَى طَوِيلاً وَحَوَّلَ وَجْهَهُ إِلَى الْجِدَارِ فَجَعَلَ ابْنُهُ يَقُولُ يَا أَبَتَاهُ أَمَا بَشَّرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِكَذَا أَمَا بَشَّرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِكَذَا قَالَ فَأَقْبَلَ بِوَجْهِهِ ‏.‏ فَقَالَ إِنَّ أَفْضَلَ مَا نُعِدُّ شَهَادَةُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ إِنِّي قَدْ كُنْتُ عَلَى أَطْبَاقٍ ثَلاَثٍ لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَمَا أَحَدٌ أَشَدَّ بُغْضًا لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنِّي وَلاَ أَحَبَّ إِلَىَّ أَنْ أَكُونَ قَدِ اسْتَمْكَنْتُ مِنْهُ فَقَتَلْتُهُ فَلَوْ مُتُّ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ لَكُنْتُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَلَمَّا جَعَلَ اللَّهُ الإِسْلاَمَ فِي قَلْبِي أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ ابْسُطْ يَمِينَكَ فَلأُبَايِعْكَ ‏.‏ فَبَسَطَ يَمِينَهُ - قَالَ - فَقَبَضْتُ يَدِي ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا لَكَ يَا عَمْرُو ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ أَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِطَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ تَشْتَرِطُ بِمَاذَا ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ أَنْ يُغْفَرَ لِي ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الإِسْلاَمَ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ وَأَنَّ الْهِجْرَةَ تَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهَا وَأَنَّ الْحَجَّ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ ‏"‏ ‏.‏ وَمَا كَانَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَىَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلاَ أَجَلَّ فِي عَيْنِي مِنْهُ وَمَا كُنْتُ أُطِيقُ أَنْ أَمْلأَ عَيْنَىَّ مِنْهُ إِجْلاَلاً لَهُ وَلَوْ سُئِلْتُ أَنْ أَصِفَهُ مَا أَطَقْتُ لأَنِّي لَمْ أَكُنْ أَمْلأُ عَيْنَىَّ مِنْهُ وَلَوْ مُتُّ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ لَرَجَوْتُ أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ثُمَّ وَلِينَا أَشْيَاءَ مَا أَدْرِي مَا حَالِي فِيهَا فَإِذَا أَنَا مُتُّ فَلاَ تَصْحَبْنِي نَائِحَةٌ وَلاَ نَارٌ فَإِذَا دَفَنْتُمُونِي فَشُنُّوا عَلَىَّ التُّرَابَ شَنًّا ثُمَّ أَقِيمُوا حَوْلَ قَبْرِي قَدْرَ مَا تُنْحَرُ جَزُورٌ وَيُقْسَمُ لَحْمُهَا حَتَّى أَسْتَأْنِسَ بِكُمْ وَأَنْظُرَ مَاذَا أُرَاجِعُ بِهِ رُسُلَ رَبِّي ‏.‏
It is narrated on the authority of Ibn Shamasa Mahri that he said:We went to Amr b. al-As and he was about to die. He wept for a long time and turned his face towards the wall. His son said: Did the Messenger of Allah (may peace be upon him not give you tidings of this? Did the Messenger of Allah (ﷺ) not give you tidings of this? He (the narrator) said: He turned his face (towards the audience) and said: The best thing which we can count upon is the testimony that there is no god but Allah and that Muhammad is the Messenger of Allah. Verily I have passed through three phases. (The first one) in which I found myself averse to none else more than I was averse to the Messenger of Allah (ﷺ) and there was no other desire stronger in me than the one that I should overpower him and kill him. Had I died in this state, I would have been definitely one of the denizens of Fire. When Allah instilled the love of Islam in my heart, I came to the Apostle (ﷺ) and said: Stretch out your right hand so that may pledge my allegiance to you. He stretched out his right hand, I withdrew my hand, He (the Holy Prophet) said: What has happened to you, O 'Amr? replied: I intend to lay down some condition. He asked: What condition do you intend to put forward? I said: should be granted pardon. He (the Holy Prophet) observed: Are you not aware of the fact that Islam wipes out all the previous (misdeeds)? Verily migration wipes out all the previous (misdeeds), and verily the pilgrimage wipes out all the (previous) misdeeds. And then no one as or dear to me than the Messenger of Allah and none was more sublime in my eyes than he, Never could I, pluck courage to catch a full glimpse of his face due to its splendour. So if I am asked to describe his features, I cannot do that for I have not eyed him fully. Had I died in this state had every reason to hope that I would have bee among the dwellers of Paradise. Then we were responsible for certain things (in the light of which) I am unable to know what is in store for me. When I die, let neither female mourner nor fire accompany me. When you bury me, fill my grave well with earth, then stand around it for the time within which a camel is slaughtered and its meat is distributed so that I may enjoy your intimacy and (in your company) ascertain what answer I can give to the messengers (angels) of Allah
ابن شماسہ مہری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : ہم عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پاس حاضر ہوئے ، وہ موت کےسفر پر روانہ تھے ، روتے جاتے تھے اور اپنا چہرہ دیوار کی طرف کر لیا تھا ۔ ان کا بیٹا کہنے لگا : ابا جان ! کیا رسو ل اللہ ﷺ نے آپ کو فلاں چیز کی بشارت نہ دی تھی ؟ کیا فلاں بات کی بشارت نہ دی تھی ؟ انہوں نے ہماری طرف رخ کیا اور کہا : جو کچھ ہم ( آیندہ کے لیے ) تیار کرتے ہیں ، یقیناً اس میں سے بہترین یہ گواہی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ا ور محمد ( ﷺ ) اللہ کے رسو ل ہیں ۔ میں تین درجوں ( مرحلوں ) میں رہا ۔ ( پہلا یہ کہ ) میں نے اپنے آپ کو اس حالت میں پایا کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مجھ سے زیادہ بغض کسی کو نہ تھا اور نہ اس کی نسبت کوئی اور بات زیادہ پسند تھی کہ میں آپ پر قابو پا کر آپ کو قتل کر دوں ۔ اگر میں اس حالت میں مر جاتا تو یقیناً دوزخی ہوتا ۔ ( دوسرا مرحلے میں ) جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام کی محبت پیدا کر دی تو میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : اپنا دایاں ہاتھ بڑھایئے تاکہ میں آپ کی بیعت کروں ، آپ نے دایاں ہاتھ پڑھایا ، کہا : تو میں نے اپنا ہاتھ ( پیچھے ) کھینچ لیا ۔ آپ نے فرمایا : ’’عمرو! تمہیں کیا ہوا ہے ؟ ‘ ‘ میں نے عرض کی : میں ایک شرط رکھنا چاہتا ہوں ۔ فرمایا : ’’ کیا شرط رکھنا چاہتے ہو ؟ ‘ ‘ میں نے عرض کی : یہ ( شرط ) کہ مجھے معافی مل جائے ۔ آپ نے فرمایا : ’’ عمرو! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اسلام ان تمام گناہوں کو ساقط کر دیتا ہے جو اس سے پہلے کے تھے ؟ او رہجرت ان تمام گناہوں کوساقط کر دیتی ہے جو اس ( ہجرت ) سے پہلے کیے گئے تھے اور حج ان سب گناہوں کو ساقط کر دیتا ہے جو اس سے پہلے کے تہآ ۔ ‘ ‘ اس وقت مجھے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ محبوب کوئی نہ تھا اور نہ آپ سے بڑھ کر میری نظر میں کسی کی عظمت تھی ، میں آپ کی عظمت کی بنا پر آنکھ بھر کر آپ کو دیکھ بھی نہ سکتا تھا اور اگر مجھ سے آپ کا حلیہ پوچھا جائے تو میں بتا نہ سکوں گا کیونکہ میں آپ کو آنکھ بھر کر دیکھتا ہی نہ تھا اور اگر میں اس حالت میں مر جاتا تو مجھے امید ہے کہ میں جنتی ہوتا ، پھر ( تیسرا مرحلہ یہ آیا ) ہم نےکچھ چیزوں کی ذمہ داری لے لی ، میں نہیں جانتا ان میں میرا حال کیسا رہا ؟ جب میں مر جاؤں تو کوئی نوحہ کرنےوالی میرے ساتھ نہ جائے ، نہ ہی آگ ساتھ ہو اور جب تم مجھے دفن کر چکو تو مجھ پر آہستہ آہستہ مٹی ڈالنا ، پھر میری قبر کے گرد اتنی دیر ( دعا کرتے ہوئے ) ٹھہرنا ، جتنی دیر میں اونٹ ذبح کر کے اس کا گوشت تقسیم کیا جا سکتا ہے تاکہ میں تمہاری وجہ سے ( اپنی نئی منزل کے ساتھ ) مانوس ہو جاؤں اور دیکھ لوں کہ میں اپنے رب کے فرستادوں کو کیا جواب دیتا ہوں ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ، يُونُسَ كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي، حَدِيثِ وَكِيعٍ ‏ "‏ إِلاَّ شَرِكُوكُمْ فِي الأَجْرِ ‏"‏ ‏.‏
In a version of the tradition narrated on the authority of A'mash, we have the words:" They will share with you the reward (for Jihad)
ابومعاویہ ، وکیع اور عیسیٰ بن یونس سب نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، مگر وکیع کی حدیث میں ( " مگر وہ تمہارے ساتھ ہوتے ہیں " کے بجائے ) " مگر وہ تمہارے ساتھ اجر میں شریک ہوتے ہیں " ہے ۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ طَلْحَةَ، بْنِ نَافِعٍ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَخَذَ بِيَدِهِ إِلَى مَنْزِلِهِ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ إِلَى قَوْلِهِ ‏ "‏ فَنِعْمَ الأُدُمُ الْخَلُّ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ ‏.‏
This hadith is reported on the authority of Jabir b. 'Abdullah that Allah's Messenger (ﷺ) took hold of his hand and led him to his residence as narrated above up to the words:" Vinegar is a good condiment." But in the hadith transmitted through this chain of transmitters, there is no mention of the subsequent part
نصر کے والد علی جہضمی نے کہا : ہمیں مثنیٰ بن سعید نے طلحہ بن نافع سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول : " سرکہ عمدہ سالن ہے " تک ابن علیہ کی حدیث کے مانند بیان کی اور بعد کا حصہ بیان نہیں کیا ۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَالِدٍ، أَخْبَرَنَا مَعْنٌ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، كِلاَهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي، هُرَيْرَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّ مَالِكًا، انْتَهَى حَدِيثُهُ عِنْدَ انْقِضَاءِ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِهِ الرِّوَايَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ يَبْسُطْ ثَوْبَهُ ‏"‏ ‏.‏ إِلَى آخِرِهِ ‏.‏
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Huraira but with the variation that the hadith transmitted on the authority of Malik conclude with the words of Abu Huraira and there is no mention of a transmission of these from Allah's Apostle (ﷺ):" who spreads his cloth," to the end
مالک بن انس اور معمر نے زہری سے ، انھوں نے اعرج سے اور انھوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ حدیث روایت کی ، مگر مالک کی حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بات پر ختم ہو گئی ۔ انھوں نے اپنی حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کردہ یہ بات : " کون اپنا کپڑا پھیلا ئےگا : " آخر تک بیان نہیں کی ،