بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
4
11 hadith
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ، وَهُوَ غَيْرُ كَذُوبٍ أَنَّهُمْ كَانُوا يُصَلُّونَ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ لَمْ أَرَ أَحَدًا يَحْنِي ظَهْرَهُ حَتَّى يَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَبْهَتَهُ عَلَى الأَرْضِ ثُمَّ يَخِرُّ مَنْ وَرَاءَهُ سُجَّدًا ‏.‏
Al-Bara' (b. 'Azib), and he was no liar (but a truthful Companion of the Holy Prophet), reported:They used to say prayer behind the Messenger of Allah (ﷺ). I never saw anyone bending his back at the time when he (the Holy Prophet) raised his head, till the Messenger of Allah (ﷺ) placed his forehead on the ground. They then fell in prostration after him
زہیر اور ابو خیثمہ نے اپنی اپنی سند کے ساتھ ابو اسحاق سے اور انہوں نے عبد اللہ بن یزید سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے حضرت براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے حدیث بیان کی اور وہ جھوٹ نہیں بولتے تھے کہ وہ لوگ ( صحابہ کرام ) رسول اللہﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تھے ۔ جب آپ رکوع سے اپنا سر اٹھا لیتے تو میں کسی کو نہ دیکھتا کہ وہ اپنی پشت جھکاتا ہو یہاں تک کہ رسول اللہﷺ اپنی پیشانی زمین پر رکھ دیتے ، اس کے بعد آپ کے پیچھے والے سجدے میں گرتے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ، لاَ يُسْتَطَاعُ الْعِلْمُ بِرَاحَةِ الْجِسْمِ ‏.‏
Abdullah narrated it on the authority of his father Yahya:Knowledge cannot be acquired with sloth
عبداللہ بن یحییٰ بن ابی کثیر نے کہا : میں نے اپنے والد کو یہ کہتے سنا : علم جسم کی راحت سے حاصل نہیں ہوسکتا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي رِشْدِينٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ ‏.‏ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ وَلَمْ يَذْكُرْ غَسْلَ الْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ثُمَّ أَتَى الْقِرْبَةَ فَحَلَّ شِنَاقَهَا فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ ثُمَّ أَتَى فِرَاشَهُ فَنَامَ ثُمَّ قَامَ قَوْمَةً أُخْرَى فَأَتَى الْقِرْبَةَ فَحَلَّ شِنَاقَهَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا هُوَ الْوُضُوءُ وَقَالَ ‏"‏ أَعْظِمْ لِي نُورًا ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ ‏"‏ وَاجْعَلْنِي نُورًا ‏"‏ ‏.‏
Ibn `Abbas reported:I spent a night in the house of my mother's sister, Maimuna, and then narrated (the rest of the) hadith, but he made no mention of the washing of his face and two hands but he only said: He then came to the water-skin and loosened its straps and performed ablution between the two extremes, and then came to his bed and slept. He then got up for the second time and came to the water-skin and loosened its straps and then performed ablution which was in fact an ablution (it was performed well), and implored (the Lord) thus: "Give me abundant light," and he made no mention of: "Make me light
۔ سعید بن مسروق نے سلمہ بن کہیل سے ، انھوں نے ابو رشدین ( کریب ) مولیٰ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور ا نھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں رات گزاری ، پھر حدیث بیان کی لیکن اس میں چہرے اور ہتھیلیاں دھونے کاذکر نہیں ہے ، ہاں ، یہ کہا : پھر آپ مشک کے پاس آئے ، اس کا بندھن کھولا ، اور دو وضووں کے درمیان کا وضوکیا پھر بستر پر آئے اور سو گئے پھر آپ دوبارہ اٹھے اورمشک کے پاس آئے ، اس کابندھن کھولا ، پھر دوبارہ وضو کیاجو ( صحیح معنی میں ) وضوتھا اور کہا : " میرا نور عظیم کردے " اور یہ ہدایت نہیں کیا کہ مجھے سراپا نور کردے ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كَانَتْ فِي بَرِيرَةَ ثَلاَثُ قَضِيَّاتٍ كَانَ النَّاسُ يَتَصَدَّقُونَ عَلَيْهَا وَتُهْدِي لَنَا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَلَكُمْ هَدِيَّةٌ فَكُلُوهُ ‏"‏ ‏.‏
A'isha (Allah be pleased with her) said:Three are the decions (of the Shari'ah that we have come to know) through Barira. The people gave her sadaqa and she offered us as gift. We made a mention of it to the Messenger of Allah (ﷺ), whereupon he said: It is a sadaqa for her and a gift for you; so eat it
۔ ہشام بن عروہ نے عبد الرحمٰن بن قاسم انھوں نے اپنے والد ( قاسم بن محمد بن ابی بکر ) سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حوالے سے تین ( شرعی ) فیصلے ہو ئے تھے لو گ اس کو صدقہ دیتے تھے اور وہ ہمیں تحفہ دے دیتی تھیں میں نے اس کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فر ما یا : وہ اس پر صدقہ ہے اور تمھا رے لیے ہدیہ ہے پس تم اسے ( بلا ہچکچاہٹ ) کھا ؤ ۔
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ - رضى الله عنها - أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ شَهْرًا كُلَّهُ قَالَتْ مَا عَلِمْتُهُ صَامَ شَهْرًا كُلَّهُ إِلاَّ رَمَضَانَ وَلاَ أَفْطَرَهُ كُلَّهُ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Abdullah b. Shaqiq reported:I said to 'A'isha (Allah be pleased with her): Did the Messenger of Allah (ﷺ) observe fast during a month? She said, I do not know of any month in which he fasted throughout except Ramadan and (the month) in which he did not fast at all till he ran the course of his life. May peace be upon him
کہمس نے عبداللہ بن شقیق سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی پورے مہینے کے روزے رکھتے تھے؟انھوں نے جواب دیا : میں نہیں جانتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے سوا کسی مہینے کے پورے روزے رکھے ہوں اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے مہینے کے روزے چھوڑے ۔ تاآنکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے ( کچھ دنوں کے ) روزے رکھ ( نہ ) لیتے ، یہاں تک کہ آپ اپنی ( دائمی منزل کی ) راہ پر تشریف لے گئے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ، - قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، - عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الظُّهْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ دَعَا بِنَاقَتِهِ فَأَشْعَرَهَا فِي صَفْحَةِ سَنَامِهَا الأَيْمَنِ وَسَلَتَ الدَّمَ وَقَلَّدَهَا نَعْلَيْنِ ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالْحَجِّ ‏.‏
Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) reported that Allah's Messenger (ﷺ) observed the Zuhr prayer at Dhu'l-Hulaifa; then called for his she-camel and marked it on the right side of its bump, removed the blood from it, and tied two sandals round its neck. He then mounted his camel, and when it brought him up to al-Baida', he pronounced Talbiya for the Pilgrimage
شعبہ نے قتادہ سے انھوں نے ابو حسان سے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی فر ما یا : آپ نے ذوالحلیفہ میں ظہر کی نماز ادا فرمائی ۔ پھر اپنی اونٹنی منگوائی اور اس کی کو ہا ن کی دا ئیں جا نب ( ہلکے سے ) زخم کا نشان لگا یا اور خون پونچھ دیا اور دو جوتے اس کے گلے میں لتکا ئے ۔ پھر اپنی سواری پر سوار ہو ئے ۔ ( اور چل دیے ) جب وہ آپ کو لے کر بیداء کے اوپر پہنچی تو آپ نے حج کا تلبیہ پکا را ۔
وَحَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الأَسَدِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏.‏ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ وَزَادَ فَكُنَّا نَرَاهُ يَمْشِي بَيْنَ أَظْهُرِنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ‏.‏
This hadith is narrated on the authority of Anas by another chain of transmitters in which there is no mention of Sa'd b. Mu'adh, but the following words are there:We observed a man, one of the dwellers of Paradise, walking about amongst us
معتمر کے والد سلیمان بن طرخان نے ثابت کے واسطے سے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی روایت بیان کی کہ جب یہ آیت اتری ( آگے گزشتہ حدیث بیان کی ) لیکن سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کا ذکر نہیں کیا اور یہ اضافہ کیا : ہم انہیں ( اس طرح ) دیکھتے کہ ہمارے درمیان اہل جنت میں سے ایک فرد چل پھر رہا ہے
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ طَلَبَ الشَّهَادَةَ صَادِقًا أُعْطِيَهَا وَلَوْ لَمْ تُصِبْهُ ‏"‏ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Anas b. Malik that the Messenger of Allah (may peace he upon him) said:Who seeks martyrdom with sincerity shall get its reward, though he may not achieve it
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص نے سچے دل سے شہادت طلب کی ، اسے عطا کر دی جاتی ہے ( اجر عطا کر دیا جاتا ہے ) چاہے وہ اسے ( عملا ) حاصل نہ ہو سکے ۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ، بْنُ بِلاَلٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ نِعْمَ الأُدُمُ - أَوِ الإِدَامُ - الْخَلُّ ‏"‏ ‏.‏
A'isha reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:The best of condiments or condiment is vinegar
یحییٰ بن حسان نے کہا کہ ہمیں سلیمان بن بلال نے ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " سالنوں میں سے عمدہ یا ( فرمایا ) عمدہ سالن سرکہ ہے ۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، كِلاَهُمَا عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، بِإِسْنَادِ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، نَحْوَ حَدِيثِهِ ‏.‏
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Ishaq
اسرائیل نے ابو اسحاق سے تیمی کی سند کے ساتھ ابو اسحاق سے اس کی ابو اسحاق سے روایت کردہ حدیث کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَتِ اسْتَأْذَنَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي هِجَاءِ الْمُشْرِكِينَ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ أَبَا سُفْيَانَ وَقَالَ بَدَلَ الْخَمِيرِ الْعَجِينِ ‏.‏
Urwa reported on the same chain of transmitters that Hassan b. Thabit sought permission from Allah's Apostle (ﷺ) to satirise against the polytheists, but he did not mention Abu Sufyan. And instead of the word al- Khamir, the word al-'Ajin was used
عبدہ نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی ہجو کرنے کی اجازت مانگی ۔ اور ( عبدہ نے ) ابو سفیان کا ذکر نہیں کیا اور ۔ ۔ ۔ خمیر کے بجائے ۔ گندھا ہوا آٹا کہا ۔