حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ إِنِّي لاَ آلُو أَنْ أُصَلِّيَ بِكُمْ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي بِنَا . قَالَ فَكَانَ أَنَسٌ يَصْنَعُ شَيْئًا لاَ أَرَاكُمْ تَصْنَعُونَهُ كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ انْتَصَبَ قَائِمًا حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ قَدْ نَسِيَ . وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ مَكَثَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ قَدْ نَسِيَ .
Thabit reported it on the authority of Anas:While leading you in prayer I do not shorten anything in the prayer. I pray as I saw the Messenger of Allah (ﷺ) leading us. He (Thabit) said: Anas used to do that which I do not see you doing; when he lifted his head from bowing he stood up (so long) that one would say: He has forgotten (to baw down in prostration). And when he lifted his head from prostration, he stayed in that position, till someone would say: He has forgotten (to bow down in prostration for the second sajda)
۔ خلف بن ہشام نے حماد بن زید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ثابت سے اور انہوں نے کہا : ہمیں ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں تمہیں ایسی نماز پڑھانے میں کوتاہی نہیں کرتا ، جیسی میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا ( کہ وہ ) ہمیں پڑھاتے تھے ۔ ثابت نے کہا : انس رضی اللہ عنہ ایک ایسا کام کیا کرتے تھے جو میں تمہیں کرتے ہوئے نہیں دیکھتا ۔ جب وہ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو سیدھے کھڑے ہو جاتے حتیٰ کہ کہنے والا کہتا کہ وہ بھول گئے ہیں اور جب وہ سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے تو ٹھہرے رہتے حتیٰ کہ کہنے والا کہتا : وہ بھول گئے ہیں ۔
وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " وَقْتُ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَكَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ كَطُولِهِ مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ وَوَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ وَوَقْتُ صَلاَةِ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَغِبِ الشَّفَقُ وَوَقْتُ صَلاَةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ الأَوْسَطِ وَوَقْتُ صَلاَةِ الصُّبْحِ مِنْ طُلُوعِ الْفَجْرِ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَأَمْسِكْ عَنِ الصَّلاَةِ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَىْ شَيْطَانٍ " .
Abdullah b. 'Amr reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: The time of the noon prayer is when the sun passes the meridian and a man's shadow is the same (length) as his height, (and it lasts) as long as the time for the afternoon prayer has not come; the time for the afternoon prayer is as long as the sun has not become pale; the time of the evening prayer is as long as the twilight has not ended; the time of the night prayer is up to the middle of the average night and the time of the morning prayer is from the appearance of dawn, as long as the sun has not risen; but when the sun rises, refrain from prayer for it rises between the horns of the devil
ہمام نے ہمیں حدیث بیان کی ( کہا ) : ہمیں قتادہ نے اوب ایوب سے حدیث سنائی ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ ظہر کا وقت ( شروع ہوتا ہے ) جب سورج ڈھل جائے اور آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو ( جانے تک ) ، جب تک عصر کا وقت نہیں ہو جاتا ( رہتا ہے ) اور عصر کا وقت ( ہے ) جب تک سورج زرد نہ ہو جائے اور مغر بکا وقت ( ہے ) جب تک سرغی غائب نے ہو جائے اور عشاء کی نماز کا وقت رات کے پہلے نصف تک ہے اور صبح کی نماز کا وقت طلوع فجر سے اس وقت تک ( ہے ) جب تک سورج طلوع نہیں ہوتا ، جب سورج طلوع ہو نے لگے تو نماز سے رک جاؤ کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان نکلتا ہے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَبَقَيْتُ كَيْفَ يُصَلِّي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ - فَقَامَ فَبَالَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ ثُمَّ نَامَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الْقِرْبَةِ فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا ثُمَّ صَبَّ فِي الْجَفْنَةِ أَوِ الْقَصْعَةِ فَأَكَبَّهُ بِيَدِهِ عَلَيْهَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا حَسَنًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فَجِئْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ - قَالَ - فَأَخَذَنِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَتَكَامَلَتْ صَلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ثُمَّ نَامَ حَتَّى نَفَخَ وَكُنَّا نَعْرِفُهُ إِذَا نَامَ بِنَفْخِهِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلاَةِ فَصَلَّى فَجَعَلَ يَقُولُ فِي صَلاَتِهِ أَوْ فِي سُجُودِهِ " اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ شِمَالِي نُورًا وَأَمَامِي نُورًا وَخَلْفِي نُورًا وَفَوْقِي نُورًا وَتَحْتِي نُورًا وَاجْعَلْ لِي نُورًا أَوْ قَالَ وَاجْعَلْنِي نُورًا " .
Ibn `Abbas said:I spent the night in the house of my mother's sister, Maimuna, and observed how the Messenger of Allah (ﷺ) prayed (at night). He got up and relieved himself. He then washed his face and hands and then went to sleep. He again got up and went near the water-skin and loosened its straps and then poured some water in a bowl and inclined it with his hands (towards himself). He then performed a good ablution between the two extremes and then stood up to pray. I also came and stood by his left side. He took hold of me and made me stand on his right side. It was in thirteen rak`ahs that the (night) prayer of the Messenger of Allah (ﷺ) was completed. He then slept till he began to snore, and we knew that he had gone to sleep by his snoring. He then went out (for the dawn prayer), and said while praying or prostrating himself: "O Allah! place light in my heart, light in my hearing, light in my sight, light on my right, light on my left, light in front of me, light behind me, light above me, light below me, make light for me," or he said: "Make me light
محمد بن جعفر ( غندر ) نے کہا : ہم سے شعبہ نے سلمہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کریب سے اور ا نھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے اپنی خالہ میمونہ کے ہاں رات گزاری ، میں نے ( وہاں رہ کر ) مشاہدہ کیا کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے نماز پڑھتے ہیں ۔ کہا : آپ اٹھے ، پیشاب کیا ، پھر اپنا چہرہ اور ہتھیلیاں دھوئیں ۔ پھر سوگئے ۔ آپ ( کچھ دیر بعد ) پھر اٹھے ، مشکیزے کے پاس گئے اور اس کابندھن کھولا ، پھر لگن یا پیالے میں پانی انڈیلا اور اس کو اپنے ہاتھ سے جھکایا ، پھر دو وضووں کے درمیا کاخوبصورت وضو کیا ( وضو نہ بہت ہلکا کیا اور نہ اس میں مبالغہ کیا لیکن اچھی طرح کیا ) ، پھر اٹھ کر نماز پڑھنے لگے ، میں آپ کے پہلو میں کھٹرا ہوگیا ، آپ کی بائیں جانب کھٹرا ہوا ۔ کہا : تو آپ نے مجھے پکڑ کراپنی دائیں جانب کردیا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیرہ رکعت نماز مکمل ہوئی ، پھر آپ سوگئے حتیٰ کہ سانسوں کی آواز آنے لگی اور جب آپ سوجاتے تو ہم آپ کے سونے کوآپ کے سانس کی آواز سے پہچانتے ، پھر آپ نماز کے لئے باہر تشریف لائے اور نماز ادا کی ۔ اور آپ اپنی نماز یا اپنے سجدے میں یہ دعا مانگنے لگے : " اے اللہ!میرے دل میں نور پیدا کر اور میرے کانوں میں نور پیدا کر اور میری آنکھوں میں نور پیدا کر اور میرے دائیں نور بنا اور میرے بائیں نور پیدا فرما اور میرے آگے اور میرے پیچھے نو ر کر اور میرے اوپر نور کر اور میرے لئے نور بنا ۔ ۔ ۔ یا فرمایا : " مجھے نور بنا ۔ ۔ ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ، الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ أَهْدَتْ بَرِيرَةُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَحْمًا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَيْهَا فَقَالَ " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ " .
Anas b. Malik reported that Barira presented to the Messenger of Allah (ﷺ) a piece of meat which had been given to her as sadaqa. Upon this he (the Holy Prophet) said:That is a Sadaqa for her and a gift for us
حضرت انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی آزاد کردہ کنیز ) حضرت بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کچھ گو شت جو اس پر صدقہ کیا گیا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور ہدیہ پیش کیا تو آپ نے فر ما یا : " وہ اس کے لیے صدقہ اور ہمارے لیے ہد یہ ہے ۔
وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هِشَامٍ الْقُرْدُوسِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ نَسِيَ وَهُوَ صَائِمٌ فَأَكَلَ أَوْ شَرِبَ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:If anyone forgets that he is fasting and eats or drinks he should complete his fast, for it is only Allah Who has fed him and given him drink
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص روزے کی حالت میں بھول گیا اور کھا لیا یا پی لیا تو وہ اپنا روزہ پورا کرے کیونکہ اس کو اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَذِهِ عُمْرَةٌ اسْتَمْتَعْنَا بِهَا فَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ الْهَدْىُ فَلْيَحِلَّ الْحِلَّ كُلَّهُ فَإِنَّ الْعُمْرَةَ قَدْ دَخَلَتْ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:This is the 'Umra of which we have taken advantage. So he who has not the sacrificial animal with him should get out of the state of Ihram completely, for 'Umra has been incorporated in Hajj until the Day of Resurrection
محمد بن جعفر نے اور عبید اللہ بن معاذ نے اپنے والد کے واسطے سے حدیث بیان کی ۔ ۔ ۔ لفظ عبید اللہ کے ہیں ۔ ۔ ۔ کہا شعبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، انھوں نے حکم سے ، انھوں نے مجا ہد سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " یہ عمرہ ( اداہوا ) ہے جس سے ہم نے فائدہ اٹھا لیا ہے ( اب ) جس کے پاس قربانی کا جا نور نہ ہو وہ مکمل طور پر حلال ہو جا ئے ۔ ( احرا م کھول دے ) یقیناً ( اب ) قیامت کے دن تک کے لیے عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے ( دونوں ایک ساتھ ادا کیے جا سکتے ہیں)
وَحَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ خَطِيبَ الأَنْصَارِ فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ . بِنَحْوِ حَدِيثِ حَمَّادٍ . وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِ ذِكْرُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ .
This hadith has been narrated on the authority of Anas b. Malik by another chain of transmitters in which these words are found:Thabit b. Qais was the orator of the Ansar, when this verse was revealed: the rest of the hadith is the same with the exception that there is no mention of Sa'd b. Mu'adh in it
جعفر بن سلیمان نے کہا : ہمیں ثابت ( بنانی ) نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی کہ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ انصار کے خطیب تھے ۔ جب یہ آیت اتری ..... آگے حماد کی ( سابقہ ) حدیث کی طرح ہے لیکن اس میں سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کاذکر نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ، بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ وَإِنَّمَا لاِمْرِئٍ مَا نَوَى فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ " .
It has been narrated on the authority of Umar b. al-Khattab that the Messenger of Allah (ﷺ) said:(The value of) an action depends on the intention behind it. A man will be rewarded only for what he intended. The emigration of one who emigrates for the sake of Allah and His Messenger (ﷺ) is for the sake of Allah and His Messenger (ﷺ) ; and the emigration of one who emigrates for gaining a worldly advantage or for marrying a woman is for what he has emigrated
امام مالک نے یحییٰ بن سعید سے ، انہوں نے محمد بن ابراہیم سے ، انہوں نے علقمہ بن وقاص سے ، انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اعمال کا مدار نیت پر ہی ہے ، اور آدمی کے لیے وہی ( اجر ) ہے جس کی اس نے نیت کی ۔ جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف تھی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے اور جس شخص کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے تھی تو اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی تھی ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَبِيبٍ، قَالَ سَمِعْتُهُ مِنْ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ سَمِعْتُهُ مِنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ فَلَقِيتُ عَبْدَ الْمَلِكِ فَحَدَّثَنِي عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ " .
Sa'id b. Zaid reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Truffles are 'Manna' and its juice is the medicine for the eyes
شہر بن حوشب نے کہا : میں نے عبد الملک بن عمیر سےسنا ، انھوں نے کہا : میں عبد الملک سے ملا تو انھوں نے مجھے عمرو بن حریث سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : "" کھمبی اس من میں سے ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفا ہے ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الْقَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَقَبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ قِيلَ لاِبْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ نَوْفًا يَزْعُمُ أَنَّ مُوسَى الَّذِي ذَهَبَ يَلْتَمِسُ الْعِلْمَ لَيْسَ بِمُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ . قَالَ أَسَمِعْتَهُ يَا سَعِيدُ قُلْتُ نَعَمْ . قَالَ كَذَبَ نَوْفٌ .
Sa, id b. jubair reported that it was said to Ibn 'Abbas that Nauf al-Bikali was of the opinion that Moses who went in search of knowledge was not the Moses of Bani Isra'il. He said:Sa'id, did you hear it from him? I said: Yes. Thereupon he said that Nauf had not stated the fact
۔ معتمر کے والد سلیمان تیمی نے رقبہ سے ، انھوں نے ابو اسحق سے انھوں نے سعید بن جبیر سے روایت کی ، کہا : حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا گیا کہ نوف سمجھتا ہے ۔ کہ جو موسیٰ علیہ السلام علم کے حصول کے لئے گئے تھے وہ بنی اسرائیل کے موسیٰ علیہ السلام نہ تھے ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : سعید!کیا آپ نے خود اس سے سنا ہے؟میں نے کہا : جی ہاں ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : نوف نے جھوٹ کہا ۔
حَدَّثَنَاهُ ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ قَالَتْ كَانَ يَذُبُّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . وَلَمْ يَذْكُرْ حَصَانٌ رَزَانٌ .
This hadith has been reported on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording
ابن ابی عدی نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اورکہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا : حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مدافعت کرتے تھے ، انھوں نے ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی مدح والاحصہ ) " وہ پاکیزہ ہیں ، عقل مند ہیں " بیان نہیں کیا ۔