بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
4
11 hadith
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، أَنَّ مَطَرَ بْنَ نَاجِيَةَ، لَمَّا ظَهَرَ عَلَى الْكُوفَةِ أَمَرَ أَبَا عُبَيْدَةَ أَنْ يُصَلِّيَ، بِالنَّاسِ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ ‏.‏
Hakam reported:When Matar b. Najiya dominated Kufa he ordered Abu Ubaida to lead people in prayer, and the rest of the hadith is the same
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث بیان کی کہ جب مطر بن ناجیہ کوفہ پر قابض ہو گیا تو اس نے ابو عبیدہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ... اور ( پوری ) حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِهِمَا قَالَ شُعْبَةُ رَفَعَهُ مَرَّةً وَلَمْ يَرْفَعْهُ مَرَّتَيْنِ ‏.‏
Abu Bakr b Abu Shaiban and Yahya b Abu Bukair both of them narrated this hadith with the same chain of transmitters
ابو عامر عقدی اور یحییٰ بن ابی بکیر نے شعب سے اسی سند کے ساتھی یہی حدیث بیان کی ۔ ان دونوں کی روایت میں ، شعبہ نے کہا : انھوں ( قتادہ ) نے ایک بار اس حدیث کو مرفوع بیان کیا اور دوبار مرفوع بیان نہیں کیا ۔ ( مرفوع وہ ہے جس کی سند رسو ل اللہ ﷺ تک پہنچے ۔)
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، - عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ اللَّيْلِ فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنٍّ مُعَلَّقٍ وُضُوءًا خَفِيفًا - قَالَ وَصَفَ وُضُوءَهُ وَجَعَلَ يُخَفِّفُهُ وَيُقَلِّلُهُ - قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخْلَفَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّى ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ ثُمَّ أَتَاهُ بِلاَلٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلاَةِ فَخَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ وَهَذَا لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم خَاصَّةً لأَنَّهُ بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلاَ يَنَامُ قَلْبُهُ ‏.‏
Ibn `Abbas reported that he spent a night in the house of his maternal aunt, Maimuna. The Messenger of Allah (ﷺ) got up at night and performed a short ablution (taking water) from the water-skin hanging there. (Giving a description of the ablution Ibn `Abbas said:It was short and performed with a little water.) I also got up and did the same as the Messenger of Allah (ﷺ) had done. I then came (to him) and stood on his left. He then made me go around to his right side. He then observed prayer and went to sleep till he began to snore. Bilal came to him and informed him about the prayer. He (the Holy Prophet) then went out and observed the dawn prayer without performing ablution. Sufyan said: It was a special (prerogative of the) Apostle of Allah (ﷺ) for it has been conveyed to us that the eyes of the Messenger of Allah (ﷺ) sleep, but his heart does not sleep
سفیان بن عمرو بن دینار سے ، انھوں نے کریب مولیٰ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں رات بسر کی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم را ت کے وقت اٹھے ، پھر آپ نے لٹکی ہوئی مشک سے ہلکا وضوکیا ( کریب نے ) کہا : انھوں ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے آپ کے وضو کی کیفیت بیان کی اور وضو کو ہلکا اور کم کرتے رہے ، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں اٹھا اور وہی کیا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ۔ پھر آکر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف کھڑا ہوگیا ، آپ نے مجھے اپنے پیچھے کیا ( اور گھما کر ) اپنی دائیں جانب کرلیا ۔ پھر آپ نے نماز پڑھی ۔ پھر لیٹ کر سوگئے حتیٰ کہ آوا ز سے سانس لینے لگے ۔ پھر بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے اور آپ کو نماز کی اطلاع دی ، آپ باہر تشریف لے گئے اور صبح کی نماز ادا فرمائی اور ( نیا ) وضو نہ کیا ۔ سفیان نے کہا : یہ ( نیند کے باوجود وضو کی ضرورت نہ ہونا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ تھا کیونکہ ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ آپ کی آنکھیں سوتی تھیں دل نہیں سوتاتھا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏
This hadith has been narrated by Zuhri with the same chain of trainsmitters
ابن عیینہ نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی ( مذکورہ حدیث ) کی طرح روایت بیان کی
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَمَّتِهِ، عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ ‏"‏ هَلْ عِنْدَكُمْ شَىْءٌ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْنَا لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنِّي إِذًا صَائِمٌ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أَتَانَا يَوْمًا آخَرَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَرِينِيهِ فَلَقَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا ‏"‏ ‏.‏ فَأَكَلَ ‏.‏
A'isha, the Mother of the Believers (Allah be pleased with her), reported:The Apostle of Allah (ﷺ) came to me one day and said: Is there anything with you (to eat)? I said: No. Thereupon he said: I shall then be fasting. Then he came to us another day and we said: Messenger of Allah, hais has been offered to us as a gift. Thereupon he said: Show that to me; I had been fasting since morning. He then ate it
وکیع نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور پوچھا : " کیا آپ لوگوں کے پاس ( کھانے کی ) کوئی چیز ہے؟ " تو ہم نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تو تب میں روزے سے ہوں ۔ " پھر ایک اور دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہمیں حیس تحفے میں ملا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھے کھلایئے ، میں نے روزے کی حالت میں صبح کی تھی ۔ " اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھا لیا ۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الصُّبْحَ بِذِي طَوًى وَقَدِمَ لأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُحَوِّلُوا إِحْرَامَهُمْ بِعُمْرَةٍ إِلاَّ مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْىُ ‏.‏
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported that Allah's Messenger (ﷺ) observed the morning prayer at Dhu Tawa (a valley near Mecca) and arrived (in Mecca) when four days of Dhul-Hijja had passed and he commanded his Companions that they should change their Ihram (of Hajj) to that of Umra, except those who had brought sacrificial animals with them
معمر نے ہمیں ہمیں خبردی انھوں نے ایوب سے انھوں نے ابو عالیہ سے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز ذی طوی میں ادا فر ما ئی اور ذوالحجہ کی چا ر راتیں گزری تھیں کہ تشریف لا ئے اور اپنے صحا بہ کرام حکم فرمایا کہ جس کے پاس قربانی ہے ان کے علاوہ باقی سب لو گ اپنے ( حج کے ) احرام کوعمرے میں بدل دیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ‏}‏ إِلَى آخِرِ الآيَةِ جَلَسَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ فِي بَيْتِهِ وَقَالَ أَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ ‏.‏ وَاحْتَبَسَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ فَقَالَ ‏"‏ يَا أَبَا عَمْرٍو مَا شَأْنُ ثَابِتٍ أَشْتَكَى ‏"‏ ‏.‏ قَالَ سَعْدٌ إِنَّهُ لَجَارِي وَمَا عَلِمْتُ لَهُ بِشَكْوَى ‏.‏ قَالَ فَأَتَاهُ سَعْدٌ فَذَكَرَ لَهُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ثَابِتٌ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ وَلَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي مِنْ أَرْفَعِكُمْ صَوْتًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ ‏.‏ فَذَكَرَ ذَلِكَ سَعْدٌ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بَلْ هُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏
It is narrated on the authority of Anas b. Malik that when this verse:" O ye who believe I raise not your voices above the voice of the Prophet, nor shout loud unto him in discourse, as ye shout loud unto one another, lest your deeds should become null and void, while you perceive not" (xlix. 2-5), was revealed. Thabit b. Qais confined himself in his house and said: I am one of the denizens of Fire, and he deliberately avoided coming to the Apostle (ﷺ). The Apostle (ﷺ) asked Sa'd b, Mu'adh about him and said, Abu Amr, how is Thabit? Has he fallen sick? Sa'd said: He is my neighbour, but I do not know of his illness. Sa'd came to him (Thabit), and conveyed to him the message of the Messenger of Allah (ﷺ). Upon this Thabit said: This verse was revealed, and you are well aware of the fact that, amongst all of you, mine is the voice louder than that of the Messenger of Allah, and so I am one amongst the denizens of Fire, Sa'd Informed the Prophet about it. Upon this the Messenger of Allah observed: (Nay, not so) but he (Thabit) is one of the dwellers of Paradise
حماد بن سلمہ نے ثابت بنانی سے حدیث سنائی ، انہوں نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب یہ آیت اتری : ﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ﴾’’ اے ایمان والو ! اپنی آوازیں نبی ﷺ کی آواز سے اونچی مت کرو ۔ ‘ ‘ آیت کے آخر تک ۔ تو ثابت بن قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ اپنےگھر میں بیٹھ گئے اور کہنے لگے : میں تو جہنمی ہوں ۔ انہوں نے ( خودکو ) نبی ﷺ ( کی خدمت میں حاضر ہونے ) سے بھی روک لیا ، رسول ا للہ ﷺنے سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے پوچھا : ’’ ابو عمرو! ثابت کو کیا ہوا ؟ کیا و ہ بیمار ہیں ؟ ‘ ‘ سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : وہ میرے پڑوسی ہیں اورمجھے ان کی کسی بیماری کا پتہ نہیں چلا ۔ حضرت انس نے کہا : اس کے بعد سعد ، ثابت رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور رسول اللہ ﷺ کی بات بتائی تو ثابت کہنے لگے : یہ آیت اتر چکی ہے اور تم جانتے ہو کہ تم سب میں میری آواز رسول اللہ ﷺ کی آواز سے زیادہ بلند ہے ، اس بنا پر میں جہنمی ہوں ۔ سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے اس ( جواب ) کا ذکر نبی ﷺ سے کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ بلکہ وہ تو اہل جنت میں سے ہے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَا مِنْ غَازِيَةٍ أَوْ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فَتَغْنَمُ وَتَسْلَمُ إِلاَّ كَانُوا قَدْ تَعَجَّلُوا ثُلُثَىْ أُجُورِهِمْ وَمَا مِنْ غَازِيَةٍ أَوْ سَرِيَّةٍ تُخْفِقُ وَتُصَابُ إِلاَّ تَمَّ أُجُورُهُمْ ‏"‏ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Abdullah b. Amr (through a different chain of transmitters) that the Messenger of Allah (ﷺ) said:A troop of soldiers, large or small, who fight (in the way of Allah), get their share of the booty and return safe and sound, receive in advance two-thirds of their reward (only one-third remaining to their credit to be received in the Hereafter) ; and a troop of soldiers, large or small, who return empty-handed and are afflicted or wounded, will receive their full reward (in the Hereafter)
نافع بن یزید نے کہا : مجھے ابوہانی نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے ابوعبدالرحمٰن حبلی نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو بھی غازہ جماعت یا لشکر جہاد کرے ، غنیمت حاصل کرے اور سلامت رہے تو انہوں نے اپنے دو تہائی اجر فورا ( یہیں ) حاصل کر لیے اور جو بھی غازی جماعت یا لشکر خالی ہاتھ لوٹے اور زخم کھائے تو ان لوگوں کے اجر مکمل ہوں گے ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو، بْنَ حُرَيْثٍ يَقُولُ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ ‏"‏ ‏.‏
Sa'id b. Zaid reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Truffles are 'Manna' which Allah, the Exalted the Majestic, sent to the people of Israil, and its juice is a medicine for the eyes
سفیا ن نے عبد الملک بن عمیر سے روایت کی ، کہا : میں نے عمرو بن حریث سے سنا ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا تھا کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " کھمبی اس من میں سے ہے جسے اللہ عزوجل نے بنی اسرئیل پر ( آسمان سے ) اتارا تھا اور اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفاہے ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِي عُمَرَ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ نَوْفًا الْبِكَالِيَّ يَزْعُمُ أَنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ صَاحِبَ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَيْسَ هُوَ مُوسَى صَاحِبَ الْخَضِرِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ‏.‏ فَقَالَ كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ سَمِعْتُ أُبَىَّ بْنَ كَعْبٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ قَامَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ خَطِيبًا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ فَسُئِلَ أَىُّ النَّاسِ أَعْلَمُ فَقَالَ أَنَا أَعْلَمُ ‏.‏ قَالَ فَعَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ إِذْ لَمْ يَرُدَّ الْعِلْمَ إِلَيْهِ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ أَنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِي بِمَجْمَعِ الْبَحْرَيْنِ هُوَ أَعْلَمُ مِنْكَ قَالَ مُوسَى أَىْ رَبِّ كَيْفَ لِي بِهِ فَقِيلَ لَهُ احْمِلْ حُوتًا فِي مِكْتَلٍ فَحَيْثُ تَفْقِدُ الْحُوتَ فَهُوَ ثَمَّ ‏.‏ فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقَ مَعَهُ فَتَاهُ وَهُوَ يُوشَعُ بْنُ نُونٍ فَحَمَلَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ حُوتًا فِي مِكْتَلٍ وَانْطَلَقَ هُوَ وَفَتَاهُ يَمْشِيَانِ حَتَّى أَتَيَا الصَّخْرَةَ فَرَقَدَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَفَتَاهُ فَاضْطَرَبَ الْحُوتُ فِي الْمِكْتَلِ حَتَّى خَرَجَ مِنَ الْمِكْتَلِ فَسَقَطَ فِي الْبَحْرِ - قَالَ - وَأَمْسَكَ اللَّهُ عَنْهُ جِرْيَةَ الْمَاءِ حَتَّى كَانَ مِثْلَ الطَّاقِ فَكَانَ لِلْحُوتِ سَرَبًا وَكَانَ لِمُوسَى وَفَتَاهُ عَجَبًا فَانْطَلَقَا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمَا وَلَيْلَتِهِمَا وَنَسِيَ صَاحِبُ مُوسَى أَنْ يُخْبِرَهُ فَلَمَّا أَصْبَحَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَالَ لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا - قَالَ - وَلَمْ يَنْصَبْ حَتَّى جَاوَزَ الْمَكَانَ الَّذِي أُمِرَ بِهِ ‏.‏ قَالَ أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهُ إِلاَّ الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ وَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ عَجَبًا ‏.‏ قَالَ مُوسَى ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِي فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا ‏.‏ قَالَ يَقُصَّانِ آثَارَهُمَا حَتَّى أَتَيَا الصَّخْرَةَ فَرَأَى رَجُلاً مُسَجًّى عَلَيْهِ بِثَوْبٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ مُوسَى ‏.‏ فَقَالَ لَهُ الْخَضِرُ أَنَّى بِأَرْضِكَ السَّلاَمُ قَالَ أَنَا مُوسَى ‏.‏ قَالَ مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ إِنَّكَ عَلَى عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَلَّمَكَهُ اللَّهُ لاَ أَعْلَمُهُ وَأَنَا عَلَى عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَلَّمَنِيهِ لاَ تَعْلَمُهُ ‏.‏ قَالَ لَهُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِي مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا قَالَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَى مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا قَالَ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا وَلاَ أَعْصِي لَكَ أَمْرًا ‏.‏ قَالَ لَهُ الْخَضِرُ فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلاَ تَسْأَلْنِي عَنْ شَىْءٍ حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ فَانْطَلَقَ الْخَضِرُ وَمُوسَى يَمْشِيَانِ عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ فَمَرَّتْ بِهِمَا سَفِينَةٌ فَكَلَّمَاهُمْ أَنْ يَحْمِلُوهُمَا فَعَرَفُوا الْخَضِرَ فَحَمَلُوهُمَا بِغَيْرِ نَوْلٍ فَعَمَدَ الْخَضِرُ إِلَى لَوْحٍ مِنْ أَلْوَاحِ السَّفِينَةِ فَنَزَعَهُ فَقَالَ لَهُ مُوسَى قَوْمٌ حَمَلُونَا بِغَيْرِ نَوْلٍ عَمَدْتَ إِلَى سَفِينَتِهِمْ فَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِمْرًا ‏.‏ قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا قَالَ لاَ تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلاَ تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا ثُمَّ خَرَجَا مِنَ السَّفِينَةِ فَبَيْنَمَا هُمَا يَمْشِيَانِ عَلَى السَّاحِلِ إِذَا غُلاَمٌ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ فَأَخَذَ الْخَضِرُ بِرَأْسِهِ فَاقْتَلَعَهُ بِيَدِهِ فَقَتَلَهُ ‏.‏ فَقَالَ مُوسَى أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَاكِيَةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُكْرًا ‏.‏ قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا قَالَ وَهَذِهِ أَشَدُّ مِنَ الأُولَى ‏.‏ قَالَ إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَىْءٍ بَعْدَهَا فَلاَ تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا ‏.‏ فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ فَأَقَامَهُ ‏.‏ يَقُولُ مَائِلٌ ‏.‏ قَالَ الْخَضِرُ بِيَدِهِ هَكَذَا فَأَقَامَهُ ‏.‏ قَالَ لَهُ مُوسَى قَوْمٌ أَتَيْنَاهُمْ فَلَمْ يُضَيِّفُونَا وَلَمْ يُطْعِمُونَا لَوْ شِئْتَ لَتَخِذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا ‏.‏ قَالَ هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَى لَوَدِدْتُ أَنَّهُ كَانَ صَبَرَ حَتَّى يُقَصَّ عَلَيْنَا مِنْ أَخْبَارِهِمَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ كَانَتِ الأُولَى مِنْ مُوسَى نِسْيَانًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَجَاءَ عُصْفُورٌ حَتَّى وَقَعَ عَلَى حَرْفِ السَّفِينَةِ ثُمَّ نَقَرَ فِي الْبَحْرِ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ الْخَضِرُ مَا نَقَصَ عِلْمِي وَعِلْمُكَ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ إِلاَّ مِثْلَ مَا نَقَصَ هَذَا الْعُصْفُورُ مِنَ الْبَحْرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَكَانَ يَقْرَأُ وَكَانَ أَمَامَهُمْ مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ صَالِحَةٍ غَصْبًا ‏.‏ وَكَانَ يَقْرَأُ وَأَمَّا الْغُلاَمُ فَكَانَ كَافِرًا ‏.‏
Sa'id b. Jubair reported:I said to Ibn Abbas that Nauf al-Bikali was of the opinion that Moses (peace be upon him), the Apostle of Bani Isra'il, was not the same who accompanied Khadir, whereupon he said: The enemy of Allah tells a lie. I heard Ubayy b. Ka'b say: Moses (peace be upon him) stood up to give sermon to the people of Isra'il. He was asked as to who amongst the people has the best knowledge, whereupon he said: I have the best knowledge. Thereupon Allah was annoyed with him that he did not attribute (the best knowledge) to Him. He revealed to him: A servant amongst My servants is at the junction of two rivers who has more knowledge than yours. Moses said: How can I meet him? It was said to him: Carry a fish in the large basket and the place where you find it missing there you will find him. Thereupon Moses proceeded forth along with a young man (Yusha'). Joshua b. Nun and Moses (peace be upon him) put the fish in the basket and there went along with him the young man (Yusha') until they came to a certain rock and Moses and his companion went to sleep and the fish stirred in that basket and fell into the ocean and Allah stopped the current of water like a vault until the way was made for the fish. Moses and his young companion were astonished and they walked for the rest of the day and the night and the friend of Moses forgot to inform him of this incident. When it was morning, Moses (peace be upon him) said to the young man: Bring for us the breakfast for we are dead tired because of this journey, and they did not feel exhausted until they had passed that place where they had been commanded (to stay). He said: Don't you know that when we reached the Sakhra (rock) I forgot the fish and nothing made me forget it but Satan that I could not remember it? How strange is it that the fish found a way in the river? Moses said: That was what we had been aiming at. Then both of them retraced their steps until they reached Sakhra; there they saw a man covered with a cloth. Moses greeted him. Khadir said to him: Where is as-Salam in our country.? He said: I am Moses, whereupon he (Khadir) said: You mean the Moses of Bani Isra'il? He said: Yes. He (Khadir) said: You have a knowledge out of the knowledge of Allah which in fact Allah imparted to you and about that I know nothing and I have knowledge out of Allah's knowledge which He imparted to me and about that you do not know. Moses (peace be upon him) said to him: May I follow you so that you may teach me that with which you have been taught righteousness. He said: You will not be able to bear with me; how you will be able to bear that about which you do not know? Moses said: Thou wilt find me patient, nor shalt I disobey you in aught. Khadir said to him: If you were to follow me, then do not ask me about anything until I myself speak to you about it. He said: Yes. So Khadir and Moses set forth on the bank of the river that there came before them a boat. Both of them talked to them (the owners of the boat) so that they might carry both of them. They had recognised Khadir and they carried them free. Khadir thereupon took hold of a plank in the boat and broke it away. Moses said: These people have carried us without any charge and you attempt to break their boat so that the people sailing in the boat may drown. This is (something) grievous that you have done. He said: Did I not say that you would not bear with me? He said: Blame me not for what I forgot and be not hard upon what I did. Then both of them got down from the boat and began to walk along the coastline that they saw a boy who had been playing with other boys. Khadir pulled up his head and killed him. Moses said: Have you killed an innocent person who is in no way guilty of slaying another? You have done something horrible. Thereupon he said: Did I not say to you that you will not be able to bear with me? He (Moses) said: This (act) is more grievous than the first one. He (Moses) further said. If I ask you about anything after this, keep not company with me, then you would no doubt find (a plausible) excuse for this. Then they both walked on until they reached the inhabitants of a village. They asked its inhabitants for food but they refused to entertain them as their guests. They found in it a wall which had been bent on one side and was about to fall. Khadir set it right with his own hand. Moses, said to him: It is the people to whom we came but they showed us no hospitality and they did not serve us food. If you wish you can get wages for it. He (Khadir) said: This is the parting of ways between me and you. Now I wish to reveal to you the significance of that for which you could not bear with me. Allah's Messenger (ﷺ) said. May Allah have mercy upon Moses! I wish if Moses could show patience and a (fuller) story of both of them could have been told. Allah's Messenger (ﷺ) said that the first thing which Moses said was out of forgetfulness. Then there came a sparrow until it perched on the wall of the boat and took water from the ocean. Thereupon, Khadir said: My knowledge and your knowledge in comparison with the knowledge of Allah is even less than the water taken by the sparrow in its beak in comparison to the water of the ocean, and Sa'id b. Jubair used to recite (verses 79 and 80 of Sura Kahf) in this way: There was before them a king who used to seize every boat by force which was in order, the boy was an unbeliever
عمرو بن محمد ناقد ، اسحاق بن ابراہیم حنظلی ، عبیداللہ بن سعید اور محمد بن ابی عمر مکی ، ان سب نے ہمیں ابن عیینہ سے حدیث بیان کی ۔ الفاظ ابن ابی عمر کے ہیں ۔ سفیان بن عیینہ نے کہا : ہمیں عمرو بن دینار نے سعید بن جبیر سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ نوف بکالی کہتا ہے کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام جو بنی اسرائیل کے پیغمبر تھے ، وہ اور ہیں اور جو موسیٰ خضر علیہ السلام کے پاس گئے تھے وہ اور ہیں انہوں نے کہا کہ اللہ کا دشمن جھوٹ بولتا ہے ۔ میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم بنی اسرائیل پر خطبہ پڑھنے کو کھڑے ہوئے ، ان سے پوچھا گیا کہ سب لوگوں میں زیادہ علم کس کو ہے؟ انہوں نے کہا کہ مجھ کو ہے ( یہ بات اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہوئی ) پس اللہ تعالیٰ نے ان پر اس وجہ سے ناراضگی کا اظہار کیا کہ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو وحی بھیجی کہ دو دریاؤں کے ملاپ پر میرا ایک بندہ ہے ، وہ تجھ سے زیادہ عالم ہے سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا کہ اے پروردگار! میں اس سے کیسے ملوں؟ حکم ہوا کہ ایک مچھلی زنبیل ( ٹوکرے ) میں رکھ ، جہاں وہ مچھلی گم ہو جائے ، وہیں وہ بندہ ملے گا ۔ یہ سن کر سیدنا موسیٰ علیہ السلام اپنے ساتھی یوشع بن نون علیہ السلام کو ساتھ لے کر چلے اور انہوں نے ایک مچھلی زنبیل میں رکھ لی ۔ دونوں چلتے چلتے صخرہ ( ایک مقام ہے ) کے پاس پہنچے تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی سو گئے ۔ مچھلی تڑپی یہاں تک کہ زنبیل سے نکل کر دریا میں جا پڑی اور اللہ تعالیٰ نے پانی کا بہنا اس پر سے روک دیا ، یہاں تک کہ پانی کھڑا ہو کر طاق کی طرح ہو گیا اور مچھلی کے لئے خشک راستہ بن گیا ۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی کے لئے تعجب ہوا پھر دونوں چلے دن بھر اور رات بھر اور موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی مچھلی کا حال ان سے کہنا بھول گئے جب صبح ہوئی تو موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ساتھی سے کہا کہ ہمارا ناشتہ لاؤ ، ہم تو اس سفر سے تھک گئے ہیں اور تھکاوٹ اسی وقت ہوئی جب اس جگہ سے آگے بڑھے جہاں جانے کا حکم ہوا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو معلوم نہیں کہ جب ہم ( مقام ) صخرہ پر اترے تو میں مچھلی بھول گیا اور شیطان نے مجھے بھلایا اور تعجب ہے کہ اس مچھلی نے دریا میں جانے کی راہ لی ۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ ہم تو اسی مقام کو ڈھونڈھتے تھے ، پھر دونوں اپنے پاؤں کے نشانوں پر لوٹے یہاں تک کہ صخرہ پر پہنچے ۔ وہاں ایک شخص کو کپڑا اوڑھے ہوئے دیکھا تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے ان کو سلام کیا تو انہوں نے کہا کہ تمہارے ملک میں سلام کہاں سے ہے؟ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ میں موسیٰ ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ بنی اسرائیل کے موسیٰ؟ سیدنا موسیٰ نے کہا کہ ہاں ۔ سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے وہ علم دیا ہے جو میں نہیں جانتا ۔ اور مجھے وہ علم دیا ہے جو تم نہیں جانتے سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ میں تمہارے ساتھ رہنا چاہتا ہوں اس لئے کہ مجھے وہ علم سکھلاؤ جو تمہیں دیا گیا ہے ۔ سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کر سکو گے اور تم سے اس بات پر کیسے صبر ہو سکے گا جس کو تم نہیں جانتے ہو ۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ اگر اللہ نے چاہا تو تم مجھے صابر پاؤ گے اور میں کسی بات میں تمہاری نافرمانی نہیں کروں گا ۔ سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا کہ اچھا اگر میرے ساتھ ہوتے ہو تو مجھ سے کوئی بات نہ پوچھنا جب تک میں خود اس کا ذکر نہ کروں ۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ بہت اچھا ۔ پس خضر علیہ السلام اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام دونوں سمندر کے کنارے چلے جاتے تھے کہ ایک کشتی سامنے سے نکلی ، دونوں نے کشتی والوں سے کہا کہ ہمیں بٹھا لو ، انہوں نے سیدنا خضر علیہ السلام کو پہچان لیا اور دونوں کو بغیر کرایہ چڑھا لیا ۔ سیدنا خضر علیہ السلام نے اس کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ ڈالا ۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ ان لوگوں نے تو ہمیں بغیر کرایہ کے چڑھایا اور تم نے ان کی کشتی کو توڑ ڈالا تاکہ کشتی والوں کو ڈبو دو ، یہ تم نے بڑا بھاری کام کیا ۔ سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا کہ کیا میں نہیں کہتا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کر سکو گے؟ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ بھول چوک پر مت پکڑو اور مجھ پر تنگی مت کرو ۔ پھر دونوں کشتی سے باہر نکلے اور سمندر کے کنارے چلے جاتے تھے کہ ایک لڑکا ملا جو اور لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا ، سیدنا خضر علیہ السلام نے اس کا سر پکڑ کر اکھیڑ لیا اور مار ڈالا ۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ تم نے ایک بےگناہ کو ناحق مار ڈالا ، یہ تو بہت برا کام کیا ۔ سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا کہ کیا میں نہ کہتا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کر سکو گے؟ اور یہ کام پہلے کام سے بھی زیادہ سخت تھا ۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ اب میں تم سے کسی بات پر اعتراض کروں تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھنا بیشک تمہارا اعتراض بجا ہو گا ۔ پھر دونوں چلے یہاں تک کہ ایک گاؤں میں پہنچے ، گاؤں والوں سے کھانا مانگا تو انہوں نے انکار کیا ، پھر ایک دیوار ملی جو گرنے کے قریب تھی اور جھک گئی تھی ، سیدنا خضر علیہ السلام نے اس کو اپنے ہاتھ سے سیدھا کر دیا ۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ ان گاؤں والوں سے ہم نے کھانا مانگا اور انہوں نے انکار کیا اور کھانا نہ کھلایا ( ایسے لوگوں کا کام مفت کرنا کیا ضروری تھا؟ ) اگر تم چاہتے تو اس کی مزدوری لے سکتے تھے ۔ سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا کہ بس ، اب میرے اور تمہارے درمیان جدائی ہے ، اب میں تم سے ان باتوں کا مطلب کہے دیتا ہوں جن پر تم سے صبر نہ ہو سکا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام پر رحم کرے ، مجھے آرزو ہے کہ کاش وہ صبر کرتے اور ہمیں ان کی اور باتیں معلوم ہوتیں ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پہلی بات سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے بھولے سے کی ۔ پھر ایک چڑیا آئی اور کشتی کے کنارے پر بیٹھی اور اس نے سمندر میں چونچ ڈالی ، سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا کہ میں نے اور تم نے اللہ تعالیٰ کے علم میں سے اتنا ہی علم سیکھا ہے جتنا اس چڑیا نے سمندر میں سے پانی کم کیا ہے ۔ سیدنا سعید بن جبیر نے کہا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس طرح پڑھتے تھے کہ ”ان کشتی والوں کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر ثابت کشتی کو ناحق جبر سے چھین لیتا تھا“ اور پڑھتے تھے کہ ”وہ لڑکا کافر تھا“ ۔
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ وَعِنْدَهَا حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ يُنْشِدُهَا شِعْرًا يُشَبِّبُ بِأَبْيَاتٍ لَهُ فَقَالَ حَصَانٌ رَزَانٌ مَا تُزَنُّ بِرِيبَةٍ وَتُصْبِحُ غَرْثَى مِنْ لُحُومِ الْغَوَافِلِ فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ لَكِنَّكَ لَسْتَ كَذَلِكَ ‏.‏ قَالَ مَسْرُوقٌ فَقُلْتُ لَهَا لِمَ تَأْذَنِينَ لَهُ يَدْخُلُ عَلَيْكِ وَقَدْ قَالَ اللَّهُ ‏{‏ وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ‏}‏ فَقَالَتْ فَأَىُّ عَذَابٍ أَشَدُّ مِنَ الْعَمَى إِنَّهُ كَانَ يُنَافِحُ أَوْ يُهَاجِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Masruq reported:I visited 'A'isha when Hassin was sitting there and reciting verses from his compilation: She is chaste and prudent. There is no calumny against her and she rises up early in the morning without eating the meat of the un- mindful. 'A'isha said: But you are not so. Masruq said: I said to her: Why do you permit him to visit you, whereas Allah has said:" And as for him among them who took upon himself the main part thereof, he shall have a grievous punishment" (XXIV. ll)? Thereupon she said: What tornient can be more severe than this that he has become blind? He used to write satire as a rebuttal on behalf of Allah's Messenger (ﷺ)
محمد بن جعفر نے شعبہ سے ، انھوں نے سلیمان سے ، انھوں نے ابو ضحیٰ سے ، انھوں نے مسروق سے روایت کی کہا : کہ میں ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا تو ان کے پاس سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ بیٹھے اپنی غزل میں سے ایک شعر سنا رہے تھے جو چند بیتوں کی انہوں نے کہی تھی ۔ وہ شعر یہ ہے کہ : ”پاک ہیں اور عقل والی ان پہ کچھ تہمت نہیں ۔ صبح کو اٹھتی ہیں بھوکی غافلوں کے گوشت سے“ ( یعنی کسی کی غیبت نہیں کرتیں کیونکہ غیبت کرنا گویا اس کا گوشت کھانا ہے ) ۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا حسان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ لیکن تو ایسا نہیں ہے ( یعنی تو لوگوں کی غیبت کرتا ہے ) ۔ مسروق نے کہا کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ آپ حسان رضی اللہ عنہ کو اپنے پاس کیوں آنے دیتی ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی شان میں فرمایا ہے کہ ”وہ شخص جس نے ان میں سے بڑی بات ( یعنی ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے ) کا بیڑا اٹھایا اس کے واسطے بڑا عذاب ہے ۔ ( حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں شریک تھے جنہوں نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی تھی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حد لگائی ) ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اس سے زیادہ عذاب کیا ہو گا کہ وہ نابینا ہو گیا ہے اور کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کافروں کی جوابدہی کرتا تھا یا ہجو کرتا تھا ۔ ( اس لئے اس کو اپنے پاس آنے کی اجازت دیتی ہوں ) ۔