وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ غَلَبَ عَلَى الْكُوفَةِ رَجُلٌ - قَدْ سَمَّاهُ - زَمَنَ ابْنِ الأَشْعَثِ فَأَمَرَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَكَانَ يُصَلِّي فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَامَ قَدْرَ مَا أَقُولُ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَىْءٍ بَعْدُ أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلاَ مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلاَ يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ . قَالَ الْحَكَمُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى فَقَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولُ كَانَتْ صَلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرُكُوعُهُ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَسُجُودُهُ وَمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ . قَالَ شُعْبَةُ فَذَكَرْتُهُ لِعَمْرِو بْنِ مُرَّةَ فَقَالَ قَدْ رَأَيْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى فَلَمْ تَكُنْ صَلاَتُهُ هَكَذَا .
Hakam reported:There dominated in Kufa a man whose name was men- tioned as Zaman b. al-Ash'ath, who ordered Abu 'Ubaidah b. 'Abdullah to lead people in prayer and he accordingly used to lead them. Whenever he raised his head after bowing, he stood up equal to the time that I can recite (this supplication): O Allah! our Lord! unto Thee be the praise which would fill the heavens and the earth, and that which will please Thee besides them I Worthy art Thou of all praise and glory. None can prevent that which Thou bestowest, and none can bestow that whichthou preventest. And the greatness of the great will not avail him against Thee. Hakam (the narrator) said: I made a mention of that to Abd al-Rahman ibn Abi Laila who reported: I heard al-Bara' b. 'Azib say that the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ) and his bowing, and when he lifted his head from bowing, and his prostration, and between the two prostrations (all these acts) were nearly proportionate. I made a mention of that to 'Ar b. Murrah and he said: I saw Ibn Abi Laili (saying the prayer), but his prayer was not like this
۔ عبید اللہ کے والجد معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا کہ ابن اشعث کے زمانے میں ایک شخص ( حکم نے اس کا نام لیا ) کوفہ ( کے اقتدار ) پر قابض ہو گیا ، اس نے ابو عبیدہ بن عبد اللہ ( بن مسعود ) کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، وہ نماز پڑھاتے تھے ، جب وہ رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر کھڑے ہوتے کہ میں یہ دعا پڑھ لیتا : ’’ اے اللہ! ہمارب ! حمد تیرے ہی لیے ہے جس سے آسمان و زمین بھر جائیں اور کے سوا جو چیز تو چاہے بھر جائے ۔ اے عظمت وثنا کے سزا وار! جو تو دے اس کو کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روک لے اسے کوئی بھی دینے والا نہیں اور نہ ہی کسی مرتبے والے کو تیرے سامنے اس کا مرتبہ نفع دے سکتا ہے ۔ ‘ ‘ ( صرف تیری رحمت ہے جو فائدہ دے سکتی ہے ۔ ) حکم نے کہا : میں نے عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا : میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہﷺ کی نماز ( قیام ) ، آپ کا رکوع اور جب آپ رکوع سے سر اٹھاتے ، آپ کے سجدے اور دونوں سجدوں کے درمیان ( والا بیٹھنے ) کا وقفہ تقریباً برابر تھے ۔ شعبہ نے کہا : میں نے اس کا ذکر عمرو بن مرہ سے کیا تو انہوں نے کہا : میں نے عبد الرحمان بن ابی لیلیٰ کو دیکھا ہے ، ان کی نماز اس طرح نہیں ہوتی تھی ۔ ( وہ ثقہ تھے ۔ ان کی روایت قابل اعتماد ہے چاہے وہ اس پر پوری طرح عمل نہ کر سکتے ہوں)
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، - وَاسْمُهُ يَحْيَى بْنُ مَالِكٍ الأَزْدِيُّ وَيُقَالُ الْمَرَاغِيُّ وَالْمَرَاغُ حَىٌّ مِنَ الأَزْدِ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " وَقْتُ الظُّهْرِ مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ وَوَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ وَوَقْتُ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَسْقُطْ ثَوْرُ الشَّفَقِ وَوَقْتُ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ وَوَقْتُ الْفَجْرِ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ " .
Abdullah b. 'Amr reported the Apostle (ﷺ) saying:The time of the noon prayer (lasts) as long as it is not afternoon, and the time of the afternoon prayer (lasts) as long as the sun does not turn pale and the time of the evening prayer (lasts) as long as the spreading appearance of the redness above the horizon after sunset does not sink down, and the, time of the night prayer (lasts) by midnight and the time of the morning prayer (lasts) as long as the sun dots not rise
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعب نے قتادہ سے ، انھوں نے ابو ایوب سے حدیث سنائی ۔ ابو ایوب کا نام یحییٰ بن مالک ازدی ہے ۔ ان کو مراغی بھی کہا جاتا ہے اور مراغ قبیلہ ازدہی کی ایک شاخ ہے ۔ انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اور انھوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی کہ آپ ﷺ نے فرمایا ’’ظہر کا وقت تب تک ہےجب تک عصر کا وقت شروع نہ ہو ، اور عصر کا وقت ہے جب تک سورج زرد نہ ہو ، اور مغرب کا وقت ہے جب تک شفق غروب نہ ہو ، اور عشاء کا وقت آدھی رات تک ہے اور فجر کا وقت ہے جب تک سورج طلوع نہ ہو ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ فَقُلْتُ لَهَا إِذَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَيْقِظِينِي . فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ الأَيْسَرِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَجَعَلَنِي مِنْ شِقِّهِ الأَيْمَنِ فَجَعَلْتُ إِذَا أَغْفَيْتُ يَأْخُذُ بِشَحْمَةِ أُذُنِي - قَالَ - فَصَلَّى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً ثُمَّ احْتَبَى حَتَّى إِنِّي لأَسْمَعُ نَفَسَهُ رَاقِدًا فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ .
Ibn `Abbas reported:I spent one night in the house of my mother's sister Maimuna, daughter of Al-Harith, and said to her: Awake me when the Messenger of Allah (ﷺ) stands to pray (at night). (She woke me up when) the Messenger of Allah (ﷺ) stood up for prayer. I stood on his left side. He took hold of my hand and made me stand on his right side, and whenever I dozed off he took hold of my earlobe (and made me alert). He (the narrator) said: He (the Holy Prophet) observed eleven rak`ahs. He then sat with his legs drawn and wrapped in his garment and slept so that I could hear his breathing while asleep. And when the dawn appeared, he observed two short rak`ahs of (Sunnah) prayer
ضحاک نے مخرمہ بن سلیمان سے ، انھوں نے کریب مولیٰ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے ایک رات اپنی خالہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں بسر کی ، میں نے ان سے عرض کی ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھیں تو آ پ مجھے بھی بیدار کردیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے کھڑے ہوئے تو میں آپ کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا ۔ آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اپنی دائیں طرف میں کردیا ، جب مجھے جھپکی آنے لگتی تو آپ میرے کان کی لو پکڑ لیتے ، آپ نے گیارہ رکعتیں پڑھیں ، پھر آپ نے کمر اور پنڈلیوں کے گرد کپڑا لپیٹ کر اسے سہارا بنا لیا ( اور سوگئے ) یہاں تک کہ میں آپ کے سونے کی حالت میں آپ کے سانس لینے کی آوازسن رہاتھا ۔ تو جب آپ کے سامنے صبح ظاہر ہوئی تو آپ نے ہلکی دو رکعتیں پڑھیں ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ بْنَ السَّبَّاقِ، قَالَ إِنَّ جُوَيْرِيَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَيْهَا فَقَالَ " هَلْ مِنْ طَعَامٍ " . قَالَتْ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عِنْدَنَا طَعَامٌ إِلاَّ عَظْمٌ مِنْ شَاةٍ أُعْطِيَتْهُ مَوْلاَتِي مِنَ الصَّدَقَةِ . فَقَالَ " قَرِّبِيهِ فَقَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا " .
Juwayriya, the wife of the Messenger of Allah (ﷺ)" said that Messenger of Allah (ﷺ) came to her and said:Is there anything to eat? She said: Messenger of Allah, I swear by God, there is no food with us except a bone of goat which my freed maid-servant was given as sadaqa. Upon this he said: Bring that to me, for it (the sadaqa) has reached its destination
لیث نے ابن شہاب سے روایت کی کہ عبید بن سباق نے کہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت جویریہ ( بنت حارث ) رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان کو بتا یا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لا ئے اور پوچھا : "" کیا کھانے کی کو ئی چیز ہے؟ "" انھوں نے عرض کی نہیں اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی قسم ! ہمارے پاس اس بکری کی ہزی ( والے گو شت ) کے سوا کھا نے کی اور کو ئی چیز نہیں جو میری آزاد کردہ لو نڈی کو بطور صدقہ دی گئی تھی آپ نے فر ما یا : "" اسے ہی لے آؤ وہ اپنے مقام پر پہنچ چکی ہے ( جس کو صدقہ کے طور پر دی گئی تھی اسے مل گئی ہے اور اس کی ملکیت میں آچکی ہے)
وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ، بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ " يَا عَائِشَةُ هَلْ عِنْدَكُمْ شَىْءٌ " . قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عِنْدَنَا شَىْءٌ . قَالَ " فَإِنِّي صَائِمٌ " . قَالَتْ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ - أَوْ جَاءَنَا زَوْرٌ - قَالَتْ - فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ - أَوْ جَاءَنَا زَوْرٌ - وَقَدْ خَبَأْتُ لَكَ شَيْئًا . قَالَ " مَا هُوَ " . قُلْتُ حَيْسٌ . قَالَ " هَاتِيهِ " . فَجِئْتُ بِهِ فَأَكَلَ ثُمَّ قَالَ " قَدْ كُنْتُ أَصْبَحْتُ صَائِمًا " . قَالَ طَلْحَةُ فَحَدَّثْتُ مُجَاهِدًا بِهَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ ذَاكَ بِمَنْزِلَةِ الرَّجُلِ يُخْرِجُ الصَّدَقَةَ مِنْ مَالِهِ فَإِنْ شَاءَ أَمْضَاهَا وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا.
A'isha, the Mother of the Believers (Allah be pleased with her), reported that one day the Messenger of Allah may peace be upon him) said to me:'A'isha, have you anything (to eat)? I said: 'Messenger of Allah, there is nothing with us. Thereupon he said: I am observing fast. She said: The Messenger of Allah (ﷺ) went out, and there was a present, for us and (at the same time) some visitors dropped in. When the Messenger of Allah (ﷺ) came back, I said to him: Messenger of Allah, a present was given to us, (and in the meanwhile) there came to us visitors (a major Portion of it has been spent on them), but I have saved something for you. He said: What is it? I said: It is hais (a compound of dates and clarified butter). He said: Bring that. So I brought it to him and he ate it and then said: I woke up in the morning observing fast. Talha said: I narrated this hadith to Mujahid and he said: This (observing of voluntary fast) is like a person who sets apart Sadaqa out of his wealth. He may spend it if he likes, or he may retain it if he so likes
عبدالواحد بن زیاد نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں طلحہ بن یحییٰ نے حدیث سنائی ، ( انھوں نے کہا : ) مجھے عائشہ بنت طلحۃ نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث سنائی ، کہا : ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : "" اے عائشہ !کیا تمھارے پاس ( کھانے کی ) کوئی چیز ہے؟ "" کہا : تو میں نے عرض کی!اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے پاس کوئی چیز نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تو ( پھر ) میں روزے سے ہوں ۔ "" اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے تو ہمارے پاس ہدیہ بھیجاگیا یا ہمارے پاس ملاقاتی ( جو ہدیہ لائے ) آگئے ۔ کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہمیں ہدیہ دیا گیا ہے ۔ یا ہمارے پاس مہمان آئے ۔ اورمیں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کچھ محفوظ کرکے رکھا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" وہ کیا ہے؟ "" میں نے عرض کی : وہ حیس ( کھجور ، گھی اورپنیر سے بنا ہوا کھانا ) ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اسے لایئے "" تو میں اسے لے آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھا لیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" میں نے ر وزے کی حالت میں صبح کی تھی ۔ "" طلحہ نے کہا : میں نے یہ حدیث مجاہد کو سنائی تو انھوں نے کہا : یہ اس آدمی کی طرح ہے جو ا پنے مال سے صدقہ نکالتا ہے ، اگر وہ چاہے تو دے دے اور اگر وہ چاہے تو اس کو روک لے ۔
وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّدُوسِيُّ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ لأَرْبَعٍ خَلَوْنَ مِنَ الْعَشْرِ وَهُمْ يُلَبُّونَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً .
Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) reported:Allah's Messenger (ﷺ) came along with his Companions when four days had passed out of ten days (of Dhu'l-Hijja) and they were pronouncing Talbiya for Hajj, and he (the Holy Prophet) commanded them to change (this Ihram) into that of 'Umra
ہمیں وہیب نے حدیث سنا ئی ، ( کہا ) ہمیں ایو ب نے حدیث سنا ئی انھوں نے ابو عالیہ برا ء سے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحا بہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سمیت عشرہ ذوالحجہ کی چار راتیں گزارنے کے بعد ( مکہ ) تشریف لا ئے ۔ وہ ( صحابہ کرا م رضوان اللہ عنھم اجمعین ) حج کا تلبیہ پکاررہے تھے ( وہاں پہنچ کر ) آپ نے انھیں حکم دیا کہ اس ( نسک جس کے لیے وہ تلبیہ پکار رہے تھے ) کو عمر ے میں بدل دیں ۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، - قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - قَالَ أَخْبَرَنِي الْعَلاَءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " بَادِرُوا بِالأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا أَوْ يُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا " .
It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) observed:Be prompt in doing good deeds (before you are overtaken) by turbulence which would be like a part of the dark night. During (that stormy period) a man would be a Muslim in the morning and an unbeliever in the evening or he would be a believer in the evening and an unbeliever in the morning, and would sell his faith for worldly goods
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ ان فتنوں سے پہلے پہلے جو تاریک رات کے حصوں کی طرح ( چھا جانے والے ) ہوں گے ، ( نیک ) اعمال کرنے میں جلدی کرو ۔ ( ان فتنوں میں ) صبح کو آدمی مو من ہو گا اور شام کو کافر یا شام کو مومن ہو گا توصبح کو کافر ، اپنا دین ( ایمان ) دنیوی سامان کے عوض بیچتاہو گا ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ، شُرَيْحٍ عَنْ أَبِي هَانِئٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا مِنْ غَازِيَةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُصِيبُونَ الْغَنِيمَةَ إِلاَّ تَعَجَّلُوا ثُلُثَىْ أَجْرِهِمْ مِنَ الآخِرَةِ وَيَبْقَى لَهُمُ الثُّلُثُ وَإِنْ لَمْ يُصِيبُوا غَنِيمَةً تَمَّ لَهُمْ أَجْرُهُمْ " .
It has been narrated on the authority of 'Abdullah b. 'Amr that the Messenger of Allah (ﷺ) said:A troop of soldiers who fight in tile way of Allah and get their share of the booty receive in advance two-thirds of their reward in the Hereafter and only one-third will remain (to their credit). If they do not receive any booty, they will get their full reward
حیوہ بن شریح نے ابوہانی سے روایت کی ، انہوں نے ابوعبدالرحمٰن حبلی سے ، انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " لڑنے والی کوئی بھی جماعت جو اللہ کی راہ میں جنگ کرتی ہے ، پھر وہ لوگ مالِ غنیمت حاصل کر لیتے ہیں تو وہ آخرت کے اجر سے دو حصے فورا حاصل کر لیتے ہیں ، ان کے لیے ایک باقی رہ جاتا ہے اور اگر وہ غنیمت حاصل نہیں کرتے تو ( آخرت میں ) ان کا اجر پورا ہو گا ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُوسَى وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ " .
Sa'id b. Zaid reported Allal a Messenger (ﷺ) as saying:Truffles are a kind of 'Manna' which Allah sent down upon Moses and their juice is a medicine for the eyes
جریر نے مطرف سے انھوں نے حکم بن عتیبہ سے انھوں نے حسن عرنی سے انھوں نے عمرو بن حریث سے ، انھوں نے حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، کہ آپ نے فر ما یا : " کھمبی اس من میں سے ہے جسے اللہ تعا لیٰ نے حضرت مو سیٰ علیہ السلام کو ( آسمان سے ) اتار کر عطا کیا تھا اور اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفا ہے ۔
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي، هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " كَانَ زَكَرِيَّاءُ نَجَّارًا " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Zakariyya (peace be upon him) was a carpenter
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " حضرت زکریا صلی اللہ علیہ وسلم ( پیشے کے اعتبار سے ) بڑھئی تھے ۔
حَدَّثَنَاهُ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
This hadith has been narrated on the authority of Hishim with the same chain of transmitters
عبدہ نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔