بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
4
11 hadith
وَحَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، - قَالَ حَامِدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، - عَنْ هِلاَلِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ رَمَقْتُ الصَّلاَةَ مَعَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم فَوَجَدْتُ قِيَامَهُ فَرَكْعَتَهُ فَاعْتِدَالَهُ بَعْدَ رُكُوعِهِ فَسَجْدَتَهُ فَجَلْسَتَهُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ فَسَجْدَتَهُ فَجَلْسَتَهُ مَا بَيْنَ التَّسْلِيمِ وَالاِنْصِرَافِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ ‏.‏
Al-Bara' b. 'Azib reported:I noticed the prayer of Muhammad (ﷺ) and saw his Qiyam (standing), his bowing, and then going back to the standing posture after bowing, his prostration, his sitting between the two prostrations, and his prostration and sitting between salutation and going away, all these were nearly equal to one another
ہلال بن ابی حمید نے عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے اور انہوں نے حضرت براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ میں نے محمدﷺ کی معیت میں ( پڑھی جانے والی ) نماز کو غور سے دیکھا تو میں نے آپ کے قیام ، رکوع ، رکوع کے بعد اعتدال اور آپ کے سجدے ، دونوں سجدوں کے درمیان جلسے ( بیٹھنا ) اور آپ کے دوسرے سجدے اور اس کے بعد سلام اور رخ پھیرنے کے درمیان وقفے کو تقریبا برابر پایا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، - وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ - حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا صَلَّيْتُمُ الْفَجْرَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنْ يَطْلُعَ قَرْنُ الشَّمْسِ الأَوَّلُ ثُمَّ إِذَا صَلَّيْتُمُ الظُّهْرَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنْ يَحْضُرَ الْعَصْرُ فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْعَصْرَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْمَغْرِبَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنْ يَسْقُطَ الشَّفَقُ فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْعِشَاءَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr that the Prophet (ﷺ) said:"When you pray Fajr, its time is until the first part of the sun appears. When you pray Zuhr, its time is until 'Asr comes. When you pray 'Asr, its time is until the sun turns yellow. When you pray Maghrib, its time is until the twilight has disappeared. When you pray 'Isha, its time is until half of the night has passed
معاذ بن ہشام نے ہمیں اپنے والد سے حدیث بیان کی انھوں نے قتادہ سے ، انھوں نے ابو ایوب سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہا سےروایت کی کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’جب تم فجر کی نماز پڑھو تو سورج کاپہلا کنارہ نمودار ہونے تک اس کا وقت ہے ، پھر جب تم ظہر پڑھو تو عصر ہونے تک اس کا وقت ہے اور جب تم عصر پڑھو تو سورج کے زرد ہونے تک اس کا وقت ہے اور جب تم مغرب پڑھو تو شفق ( سرخی ) کے ختم ہونے تک اس کا وقت ہے اور جب تم عشاء پڑھو تو آدھی رات ہونے تک اس کا وقت ہے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ نِمْتُ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّى فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ثُمَّ نَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى نَفَخَ وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ ثُمَّ أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ‏.‏ قَالَ عَمْرٌو فَحَدَّثْتُ بِهِ بُكَيْرَ بْنَ الأَشَجِّ فَقَالَ حَدَّثَنِي كُرَيْبٌ بِذَلِكَ ‏.‏
Ibn `Abbas reported:I slept (one night) in the house of Maimuna, the wife of the Messenger of Allah (ﷺ), and the Messenger of Allah (ﷺ) was with her that night. He (after sleeping for half of the night got up and) then performed ablution and then stood up and observed prayer. I too stood on his left side. He took hold of me and made me stand on his right side. He (the Holy Prophet) observed thirteen rak`ahs on that night. The Messenger of Allah (ﷺ) then slept and snored and it was a habit with him to snore while sleeping. The Mu'adhdhin then came to him (to inform him about the prayer). He then went out and observed prayer without performing ablution. (`Amr said: Bukair b. Ashajj had narrated it to me)
عمرو نے عبدربہ بن سعید سے ، انھوں نے مخرمہ بن سلیمان سے ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مولیٰ کریب سے اور انھوں نےحضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں سویا اور اس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں کے پاس تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے ، میں آپ کی بائیں طرف کھڑا ہوگیا تو آپ نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں جانب کرلیا ۔ اس رات آپ نے تیرہ رکعتیں پڑھیں ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے حتیٰ کہ آپ ( کے سانسوں ) کی آواز آنے لگی ، جب آپ سوتے تو سانس لینے کی آوازآتی تھی ۔ پھر آپ کے پاس موذن آیا تو آپ باہر تشریف لے گئے اور نماز ادا کی ، آپ نے ( ازسرنو ) وضو نہیں کیا ۔ عمرو نے کہا میں نے یہ حدیث بکیر بن اشج کو سنائی تو انھوں نے کہا : کریب نے مجھے یہی حدیث سنائی تھی ۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ الْهَاشِمِيِّ، أَنَّ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنَ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ، بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ رَبِيعَةَ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَالْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالاَ لِعَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ وَلِلْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ائْتِيَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ مَالِكٍ وَقَالَ فِيهِ فَأَلْقَى عَلِيٌّ رِدَاءَهُ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَيْهِ وَقَالَ أَنَا أَبُو حَسَنٍ الْقَرْمُ وَاللَّهِ لاَ أَرِيمُ مَكَانِي حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْكُمَا ابْنَاكُمَا بِحَوْرِ مَا بَعَثْتُمَا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ ثُمَّ قَالَ لَنَا ‏"‏ إِنَّ هَذِهِ الصَّدَقَاتِ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ وَإِنَّهَا لاَ تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلاَ لآلِ مُحَمَّدٍ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ أَيْضًا ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ادْعُوَا لِي مَحْمِيَةَ بْنَ جَزْءٍ ‏"‏ ‏.‏ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَعْمَلَهُ عَلَى الأَخْمَاسِ ‏.‏
Rabi'a b. Harith b. 'Abd al-Muttalib and Abbas b. 'Abd al-Muttalib said to Abd al-Muttalib b. Rabi'a and Fadl b. Ibn Abbas:Go to the Messenger of Allah (ﷺ), and the rest of the hadith is the same (but with this addition):" 'Ali spread his cloak and then lay down on it and said: I am the father of Hasan, and I am the chief. By Allah, I would not move from my place till your sons come back to you with the reply to that for which you sent them to the Messenger of Allah (ﷺ). And he then also said: Verily these sadaqat are the impurities of people, and they are not permissible for Muhammad (may peaace be upon him), and for the family of Muhammad. And he also said: The Messenger of Allah (ﷺ) also said to me: Call Mahmiya b. Jaz', and he was person from Banu Asad. and the Messenger of Allah (ﷺ) had appointed him as a collector of khums
یو نس بن یزید نے ابن شہاب سے اور انھوں نے عبد اللہ بن حارث بن نو فل ہا شمی سے روایت کی کہ حضرت عبد المطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب نے انھیں بتا یا کہ ان کے والد ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب اور عباس بن عبد المطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عبد المطلب بن ربیعہ اور فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا تم دو نوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پا س جاؤ ۔ ۔ ۔ اور امام مالک ؒ کی ( مذکورہ بالا ) حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور اس میں کہا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی چا در بچھا ئی اور اس پر لیٹ گئے اور کہا میں بات پر ڈٹ جا نے والا ابو حسن ہوں اللہ کی قسم !میں اپنی جگہ نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ تم دونوں کے بیٹے جس مقصدکے لیے انھیں بھیج رہے ہو اس کا جواب لے کر تمھا رے پاس واپس ( نہ آجا ئیں ۔ اور اس حدیث میں کہا : پھر آپ نے ہمیں فر ما یا : "" یہ صدقات لوگوں کا میل کچل ہیں اور یقیناً یہ محمد اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلا ل نہیں اور یہ بھی کہا : پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا میرے پاس محمية بن جزکو بلاؤ ۔ وہ بنو اسد کا ایک فرد تھا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اموال خمس کے انتظامات کے لیے مقرر کیا تھا ۔)
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَسُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا النُّعْمَانَ بْنَ، أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، - رضى الله عنه - قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَاعَدَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا ‏"‏ ‏.‏
Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who observes fast for a day in the way of Allah He would remove his face from the Hell to the extent of seventy years' distance
ابن جریج نے یحییٰ بن سعید اور سہیل بن ابی صالح سے خبر دی کہ ان دونوں نے نعمان بن عیاش زرقی صالح سے خبر دی کہ ان دونوں نے نعمان بن عیاش زرقی سے سنا ، وہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیثبیان کر رہے تھے ۔ کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فر ما تے ہو ئے سنا : " جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھا اللہ تعا لیٰ اس کے چہرے کو ( جہنم کی ) آگ سے ستر سال کی مسافت تک دور کر دیتا ہے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْمُبَارَكِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ أَمَّا رَوْحٌ وَيَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ فَقَالاَ كَمَا قَالَ نَصْرٌ أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْحَجِّ ‏.‏ وَأَمَّا أَبُو شِهَابٍ فَفِي رِوَايَتِهِ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نُهِلُّ بِالْحَجِّ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا فَصَلَّى الصُّبْحَ بِالْبَطْحَاءِ ‏.‏ خَلاَ الْجَهْضَمِيَّ فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْهُ ‏.‏
Rauh and Yahya b. Kathir narrated as Nasr reported that the Messenger of Allah (ﷺ) entered into the state of Ihram for Hajj. And in the narration of Abu Shihab (the words are):We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) pronouncing Talbiya for Hajj, And in an the ahadith (narrated in this connection the words are): He led the morning prayer at al-Batha', except al- jahdami who did not make mention of it
یہی حدیث روح ، ابو شہاب اور یحییٰ بن کثیر ان تمام نے شعبہ سے اسی سند سے روایت کی ، روح اور یحییٰ بن کثیر دونوں نے ویسے ہی کہا جیسا کہ نصر ( بن علی جہضمی نے کہا کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا تلبیہ پکا را البتہ ابو شہاب کی روایت میں ہے : ہم تمام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ پکا رتے ہو ئے نکلے ۔ ( آگے ) ان سب کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطحا ء میں فجر کی نماز ادا کی ، سوائے جہضمی کے کہ انھوں نے یہ بات نہیں کی
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَبُو عَلْقَمَةَ الْفَرْوِيُّ قَالاَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ رِيحًا مِنَ الْيَمَنِ أَلْيَنَ مِنَ الْحَرِيرِ فَلاَ تَدَعُ أَحَدًا فِي قَلْبِهِ - قَالَ أَبُو عَلْقَمَةَ مِثْقَالُ حَبَّةٍ وَقَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ - مِنْ إِيمَانٍ إِلاَّ قَبَضَتْهُ ‏"‏ ‏.‏
It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) said:Verily Allah would make a wind to blow from the side of the Yemen more delicate than silk and would spare none but cause him to die who, in the words of Abu 'Alqama, has faith equal to the weight of a grain; while Abdul-'Aziz said: having faith equal to the weight of a dust particle
عبدالعزیز بن محمد اور ابو علقمہ فروی نے کہا : ہمیں صفوان بن سلیم نے عبد اللہ بن سلمان کے واسطے سے ان کےوالد ( سلمان ) سے حدیث سنائی ، انہو ں نے ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ یمن سے ایک ہوا بھیجے گا جو ریشم سےزیادہ نرم ہو گی اور کسی ایسے شخص کو نہ چھوڑے گی جس کے دل میں ( ابو علقمہ نے کہا : ایک دانے کے برابر اور عبد العزیز نے کہا : ایک ذرے کے برابر بھی ) ایمان ہو گا مگر اس کی روح قبض کر لے گی ۔ ‘ ‘ ( ایک ذرہ بھی ہو لیکن ایمان ہوتو نفع بخش ہے ۔)
وَحَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ تَفَرَّجَ النَّاسُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ لَهُ نَاتِلُ الشَّامِ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ ‏.‏
This tradition has been handed down through a different chain of transmitters
حجاج بن محمد نے ہمیں ابن جریج سے خبر دی ، کہا : مجھے یونس بن یوسف نے سلیمان بن یسار سے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : لوگ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے چھٹ گئے تو ناتل شامی نے کہا ۔ ۔ ۔ اور ( اس کے بعد ) خالد بن حارث کی طرح حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ ‏"‏ ‏.‏
Sa'id b. Zaid b. 'Amr b. Nufail reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Truffles are a kind of 'Manna' which Allah the Glorious and Exalted, sent down upon the people of Israil, and its juice is a medicine for the eyes
عبثر نے مطرف سے ، انھوں نے حسن سے ، انھوں نے عمرو بن حریث سے انھوں نے سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " کھمبی اس من میں سے ہے جسے اللہ تعا لیٰ نے بنی اسرا ئیل کے لیے نازل کیا تھا اور اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفا ہے ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَى، بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَكْرَمُ النَّاسِ قَالَ ‏"‏ أَتْقَاهُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَيُوسُفُ نَبِيُّ اللَّهِ ابْنُ نَبِيِّ اللَّهِ ابْنِ نَبِيِّ اللَّهِ ابْنِ خَلِيلِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُونِي خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الإِسْلاَمِ إِذَا فَقِهُوا ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported:It was said to Allah's Messenger (ﷺ) as to who was the most worthy of respect amongst people. He said: The most God-conscious amongst you They said: It is not this that we are asking about, whereupon he said: Then he is Yusuf, the Apostle of Aliah and the son of Allah's Apostle, Ya'qub, who was also the son of Allah's Apostle, the friend of Allah (Ibrahim) They said: This is not what we are asking you. He said: You mean the tribes of Arabia? Those who are good in pre-Islamic days are good in Islam (after embracing Islam) when they get an understanding of it
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی ، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! لو گوں میں سب سے زیادہ کریم ( معزز ) کو ن ہے؟آپ نے فر ما یا : " جو ان میں سب سے زیادہ متقی ہو ۔ " صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا : ہم اس کے متعلق آپ سے نہیں پوچھ رہے ۔ آپ نے فر ما یا : " تو ( پھر سب سے بڑھ کر کریم ) اللہ کے نبی حضرت یوسف علیہ السلام ہیں اللہ کے نبی کے بیٹے ہیں وہ ( ان کے والد ) بھی اللہ کے نبی کے بیٹے ہیں اور وہ اللہ کے خلیل ( حضرت ابرا ہیم علیہ السلام ) کے بیٹے ہیں ۔ " صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا : ہم اس کے بارے میں بھی آپ سے نہیں پو چھ رہے ۔ آپ نے فرما یا : " پھر تم قبائل عرب کے حسب و نسب کے بارے میں مجھ سے پو چھ رہے ہو ۔ ؟جو لوگ جاہلیت میں اچھے تھے وہ اسلام میں بھی اچھے ہیں اگر دین کو سمجھ لیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ، كَانَ مِمَّنْ كَثَّرَ عَلَى عَائِشَةَ فَسَبَبْتُهُ فَقَالَتْ يَا ابْنَ أُخْتِي دَعْهُ فَإِنَّهُ كَانَ يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Hisham reported on the authority of his father that Hassan b. Thabit talked much about 'A'isha. I scolded him, whereupon she said:My nephew, leave him for he defended Allah's Messenger (ﷺ)
ابو اسامہ نے ہشام ( بن عروہ ) سے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان لوگوں میں سے تھے جنھوں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے متعلق بہت کچھ کہا تھا ( تہمت لگانے والوں کے ساتھ شامل ہوگئے تھے ) ، میں نے ان کو برا بھلا کہا توحضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا : بھتیجے!ان کو کچھ نہ کہو ، کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کافروں کو جواب دیتے تھے ۔