بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
4
11 hadith
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنِّي لأَدْخُلُ الصَّلاَةَ أُرِيدُ إِطَالَتَهَا فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأُخَفِّفُ مِنْ شِدَّةِ وَجْدِ أُمِّهِ بِهِ ‏"‏ ‏.‏
Anas b. Malik reported the Messenger of Allah (ﷺ) having said:When I begin the prayer I Intend to make it long, but I hear a boy cry. ing; I then shorten it because of his mother's feelings
قتادہ نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ میں نماز شروع کرتا ہوں ، میرا ارادہ لمبی نماز ( پڑھنے ) کا ہوتا ہے ، پھر بچے کا رونا سنتا ہوں تو بچے پر ماں کے غم کی شدت کی وجہ سے ( نماز میں ) تخفیف کر دیتا ہوں ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ وَاقِعَةٌ فِي حُجْرَتِي ‏.‏
A'isha reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said the afternoon prayer (at a time) when the (light) of the sun was there in my apartment
ہشام نے اپنے والد عروہ سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسو ل اللہ ﷺ عصر کی نماز پڑھتے اور دھوپ میرے حجرے میں پڑ رہی ہوتی تھی
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْفِهْرِيِّ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَزَادَ ثُمَّ عَمَدَ إِلَى شَجْبٍ مِنْ مَاءٍ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ وَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ وَلَمْ يُهْرِقْ مِنَ الْمَاءِ إِلاَّ قَلِيلاً ثُمَّ حَرَّكَنِي فَقُمْتُ ‏.‏ وَسَائِرُ الْحَدِيثِ نَحْوُ حَدِيثِ مَالِكٍ ‏.‏
Makhrama b. Sulaiman narrated it with the same chain of narrators and he made this addition:"He then went to the water-skin and brushed his teeth and performed ablution well. He did not pour water but a little. He then awakened me and I stood up," and the rest of the hadith is the same
عیاض بن عبداللہ فہری نے مخرمہ بن سلیمان سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی اور یہ اضافہ کیا : پھر آپ نے پانی کے ایک پرانے مشکیزے کا رخ کیا ، پھر مسواک کی اور وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا ، لیکن پانی بہت ہی کم بہایا ، پھر مجھے ہلایا اور میں کھڑا ہوگیا ۔ ۔ ۔ باقی ساری حدیث مالک کی حدیث کی طرح ہے ۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنَ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ حَدَّثَهُ قَالَ اجْتَمَعَ رَبِيعَةُ بْنُ الْحَارِثِ وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالاَ وَاللَّهِ لَوْ بَعَثْنَا هَذَيْنِ الْغُلاَمَيْنِ - قَالاَ لِي وَلِلْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ - إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَلَّمَاهُ فَأَمَّرَهُمَا عَلَى هَذِهِ الصَّدَقَاتِ فَأَدَّيَا مَا يُؤَدِّي النَّاسُ وَأَصَابَا مِمَّا يُصِيبُ النَّاسُ - قَالَ - فَبَيْنَمَا هُمَا فِي ذَلِكَ جَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَوَقَفَ عَلَيْهِمَا فَذَكَرَا لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ لاَ تَفْعَلاَ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ بِفَاعِلٍ ‏.‏ فَانْتَحَاهُ رَبِيعَةُ بْنُ الْحَارِثِ فَقَالَ وَاللَّهِ مَا تَصْنَعُ هَذَا إِلاَّ نَفَاسَةً مِنْكَ عَلَيْنَا فَوَاللَّهِ لَقَدْ نِلْتَ صِهْرَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَا نَفِسْنَاهُ عَلَيْكَ ‏.‏ قَالَ عَلِيٌّ أَرْسِلُوهُمَا ‏.‏ فَانْطَلَقَا وَاضْطَجَعَ عَلِيٌّ - قَالَ - فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الظُّهْرَ سَبَقْنَاهُ إِلَى الْحُجْرَةِ فَقُمْنَا عِنْدَهَا حَتَّى جَاءَ فَأَخَذَ بِآذَانِنَا ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَخْرِجَا مَا تُصَرِّرَانِ ‏"‏ ثُمَّ دَخَلَ وَدَخَلْنَا عَلَيْهِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ - قَالَ - فَتَوَاكَلْنَا الْكَلاَمَ ثُمَّ تَكَلَّمَ أَحَدُنَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْتَ أَبَرُّ النَّاسِ وَأَوْصَلُ النَّاسِ وَقَدْ بَلَغْنَا النِّكَاحَ فَجِئْنَا لِتُؤَمِّرَنَا عَلَى بَعْضِ هَذِهِ الصَّدَقَاتِ فَنُؤَدِّيَ إِلَيْكَ كَمَا يُؤَدِّي النَّاسُ وَنُصِيبَ كَمَا يُصِيبُونَ - قَالَ - فَسَكَتَ طَوِيلاً حَتَّى أَرَدْنَا أَنْ نُكَلِّمَهُ - قَالَ - وَجَعَلَتْ زَيْنَبُ تُلْمِعُ عَلَيْنَا مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ أَنْ لاَ تُكَلِّمَاهُ - قَالَ - ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِنَّ الصَّدَقَةَ لاَ تَنْبَغِي لآلِ مُحَمَّدٍ ‏.‏ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ ادْعُوَا لِي مَحْمِيَةَ - وَكَانَ عَلَى الْخُمُسِ - وَنَوْفَلَ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَجَاءَاهُ فَقَالَ لِمَحْمِيَةَ ‏"‏ أَنْكِحْ هَذَا الْغُلاَمَ ابْنَتَكَ ‏"‏ ‏.‏ لِلْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ فَأَنْكَحَهُ وَقَالَ لِنَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ ‏"‏ أَنْكِحْ هَذَا الْغُلاَمَ ابْنَتَكَ ‏"‏ ‏.‏ لِي فَأَنْكَحَنِي وَقَالَ لِمَحْمِيَةَ ‏"‏ أَصْدِقْ عَنْهُمَا مِنَ الْخُمُسِ كَذَا وَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَلَمْ يُسَمِّهِ لِي ‏.‏
Abd al-Muttalib b. Rabi'a b. al-Harith reported that Rabi'a b. al-Harith and Abbas b. Abd al-Muttalib gathered together and said:By Allah, if we had sent these two young boys (i. e. I and Fadl b. 'Abbas) to the Messenger of Allah (ﷺ) and they had spoken to him, he would have appointed them (as the collectors) of these sadaqat; and they would (collect them) and pay (to the Holy Prophet) as other people (collectors) paid and would get a share as other people got it. As they were talking about it there came 'Ali b. Abu Talib and stood before them, and they made a mention of it to him. 'Ali b. Abu Talib said: Don't do that; by Allah he (the Holy Prophet) would not do that (would not accept your request). Rabi'a b. Harith turned to him and said: By Allah, you are not doing so but out of jealousy that you nurse against us By Allah, you became the son-in-law of the Messenger of Allah (ﷺ) but we felt no jealousy against you (for this great privilege of yours). 'Ali then said: Send them (if you like). They set out and 'Ali lay on the bed. When the Messenger of Allah (ﷺ) offered the noon prayer. we went ahead of him to his apartment and stood near it till he came out. He took hold of our ears (out of love and affection) and then said: Give out what you have kept in your hearts. He then entered (the apartment) and we also went in and he (the Holy Prophet) was on that day (in the house of) Zainab b. jahsh. We urged each (of us) to speak. Then one of us thus spoke: Messenger of Allah, you are the best of humanity and the best to cement the ties of blood-relations. We have reached the-marriageable age. We have come (to you) so that you may appoint us (as collectors) of these sadaqat. and we would pay you just as thin people (other collectors) pay you, and get our share as others get it. He (the Holy Prophet) kept silence for a long time till we wished that we should speak with him (again), and Zainab pointied to us from behind the curtain not to talk (any more). He (the Holy Prophet) said; It does not become the family of Muhammad (to accept) sadaqat for they are the impurities of people. You call to me Mahmiya (and he was in charge of khums, i. e, of the one-fifth part that goes to the treasury out of the spoils of war), and Naufal b. Harith b. 'Abd al-Muttalib. They both came to him, and he (the Holy Prophet) said to Mahmiya: Marry your daughter to this young man (i. e. Fadl b. 'Abbas), and he married her to him And he said to Naufal b. Harith: Marry your daughter to this young man (i e. 'Abd al-Muttalib b. Rabi'a, the narrator of this hadith) and he married her to me, and he said to Mahmiya: Pay so much mahr on behalf of both of them from this khums Zuhri, however. said: He did not determine (the amount of mahr)
امام مالک نے زہری سے روایت کی کہ عبد اللہ بن نو فل بن حارث بن عبد المطلب نے انھیں حدیث بیان کی کہ عبد المطلب بن ربیعہ بن حا رث ( بن عبد المطلب ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں حدیث بیان کی ، امھوں نے کہا ربیعہ بن حا رث اور عباس بن عبد المطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اکٹھے ہو ئے اور دونوں نے کہا : اللہ کی قسم! اگر ہم ان دو نوں لڑکوں کو ، ، انھوں نے ( یہ بات ) میرے اور فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں کہی ۔ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجیں اور یہ دو نوں آپ سے بات کریں اور آپ ان دونوں کو ان صدقات کی وصولی پر مقرر کر دیں جو کچھ ( دو سرے ) لو گ ( لا کر ) اداکرتے ہیں یہ دو نوں ادا کریں اور ان دو نوں کو بھی وہی کچھ ملے جو ( دوسرے ) لوگوں کو ملتا ہے ( رو کتنا اچھا ہو! ) وہ دو نوں اسی ( مشورے ) میں ( مشغول ) تھے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے اور ان کے پاس کھڑے ہو گئے ان دو نوں نے اس با ت کا ان کے سامنے ذکر کیا تو حضرت علی بن ابی طا لب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : آپ دونوں ایسا نہ کریں اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کا م کرنے والے نہیں اس پر ربیعہ بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے درپے ہو گئے اور کہا اللہ کی قسم !تم محض اس لیے ہمارے ساتھ ایسا کر رہے ہو تا کہ تم ہم پر اپنی بر تری جتاؤ اللہ کی قسم !تمھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد ہو نے کا شرف حاصل ہوا تو ( اس موقع پر ) ہم نے تو تم پر بر تری نہیں جتا ئی تھی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا تم ان دونوں کو بھیج دو ۔ وہ دو نو چلے گئے اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( وہیں ) لیٹ گئے ( ابن ربیعہ نے ) کہا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھا لی تو وہ دونوں آپ سے پہلے حجرے کے قریب پہنچ گئے اور کہا : ہم وہاں کھڑے ہو گئے حتیٰ کہ جب آپ تشریف لا ئے تو ( اظہار اپنائیت کے طور پر ) ہمارے کا ن پکڑ لیے پھر فر ما یا : "" تم دو نوں کے دل میں جو کچھ ہے اسے نکا لو ( اس کا اظہار کرو ۔ ) پھر آپ اندر دا خل ہو ئے ہم بھی ساتھ ہی دا خل ہو گئے اس دن آپ زینب بنت حجش رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں تھے ہم نے گفتگو ایک دوسرے پر ڈالی ( ہر ایک نے چا ہا دوسرا بات کرے ) پھر ہم میں سے ایک نے گفتگو شروع کی کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ سب لوگوں سے بڑھ کر احسان کرنے والے اور سب لوگوں سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے ہیں ہم دو نوں نکاح کی عمر کو پہنچ گئے ہیں ہم اس لیے حاضر ہو ئے ہیں کہ آپ ہمیں بھی ان صدقات میں سے کچھ ( صدقات ) کی وصولی کے لیے مقرر فر ما دیں جس طرح لو گ لا کر ادا کرتے ہیں ہم بھی لا کر دیں گے اور جس طرح انھیں ملتا ہے ہمیں بھی ملے گا آپ خاصی دیرتک خاموش رہے حتیٰ کہ ہم نے دوبارہ ) گفتگو کرنے کا ارادہ کر لیا ۔ کہا تو حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا پردے کے پیچھے سے اشارا کرنے لگیں کہ تم دونوں ان ( ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے بات نہ کرو کہا : پھر ( کچھ دیر بعد ) آپ نے فر ما یا : "" آل محمد کے لیے صدقہ روانہیں ۔ یہ تو لوگوں ( کے مال ) کا میل کچل ہے محمية وہ خمس ( غنیمت کے پانچویں حصے ) پر مامور تھے ۔ ۔ ۔ اور نوفل بن حارث بن عبد المطلب کو میرے پاس بلا ؤ ۔ کہا وہ دونوں آپ کی خدمت میں حا ضر ہو ئے تو آپ نے محمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : "" اس لڑکے ( فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے اپنی بیٹی کا نکا ح کر دو ۔ تو اس نے ان کا نکا ح کر دیا اور آپ نے نوفل بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا تم اس لڑکے سے اپنی بیٹی کی شادی کر دو ۔ میرے بارے میں ۔ تو اس نے میرا نکا ح کر دیا اور آپ نے محمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فر ما یا : "" خمس ( جو اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھا ) میں سے ان دونوں کا تنا اتنا حق مہر ادا کر دو ۔ زہری نے کہا اس ( عبد اللہ بن عبد اللہ ) نے حق مہر مجھے نہیں بتا یا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنْ سُهَيْلٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
This hadith has been narrated by Suhail with the same chain of transmitters
عبد العزیز یعنی دراوردی نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ ، ( سابقہ حدیث کے مانند ) حدیث بیان کی ،
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، الْبَرَّاءِ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - يَقُولُ أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْحَجِّ فَقَدِمَ لأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فَصَلَّى الصُّبْحَ وَقَالَ لَمَّا صَلَّى الصُّبْحَ ‏ "‏ مَنْ شَاءَ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً ‏"‏ ‏.‏
Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) 'is reported to have said:The Messenger of Allah (ﷺ) put on Ihigm for Hajj. When four days of Dhu'l-Hijja were over, he led the dawn prayer, and when the prayer was complete, he said: He who wants to change it to Umra may do so
نصر بن علی جحضمی نے ہمیں حدیث سنائی ، ( کہا : ) میرے والد نے ہمیں حدیث سنائی ، ( کہا : ) شعبہ نے ہمیں حدیث سنائی ، انھوں نے ایوب سے ، انھوں نے ابو عالیہ براء سے روایت کی ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ فرمارہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کاتلبیہ پکارا اور چار ذوالحجہ کو تشریف لائے اور فجر کی نماز ادا کی ، جب نماز فجر ادا کرچکے تو فرمایا : " جو ( اپنے حج کو ) عمرہ بنانا چاہے ، وہ اسے عمرہ بنا لے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ سُلَيْمَانَ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، - حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ الطُّفَيْلَ بْنَ عَمْرٍو الدَّوْسِيَّ، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِي حِصْنٍ حَصِينٍ وَمَنَعَةٍ - قَالَ حِصْنٌ كَانَ لِدَوْسٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ - فَأَبَى ذَلِكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِلَّذِي ذَخَرَ اللَّهُ لِلأَنْصَارِ فَلَمَّا هَاجَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْمَدِينَةِ هَاجَرَ إِلَيْهِ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو وَهَاجَرَ مَعَهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ فَمَرِضَ فَجَزِعَ فَأَخَذَ مَشَاقِصَ لَهُ فَقَطَعَ بِهَا بَرَاجِمَهُ فَشَخَبَتْ يَدَاهُ حَتَّى مَاتَ فَرَآهُ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فِي مَنَامِهِ فَرَآهُ وَهَيْئَتُهُ حَسَنَةٌ وَرَآهُ مُغَطِّيًا يَدَيْهِ فَقَالَ لَهُ مَا صَنَعَ بِكَ رَبُّكَ فَقَالَ غَفَرَ لِي بِهِجْرَتِي إِلَى نَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ مَا لِي أَرَاكَ مُغَطِّيًا يَدَيْكَ قَالَ قِيلَ لِي لَنْ نُصْلِحَ مِنْكَ مَا أَفْسَدْتَ ‏.‏ فَقَصَّهَا الطُّفَيْلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اللَّهُمَّ وَلِيَدَيْهِ فَاغْفِرْ ‏"‏
It is narrated on the authority of Jabir that Tufail son of Amr al-Dausi came to the Apostle (ﷺ) and said:Do you need strong, fortified protection? The tribe of Daus had a fort in the pre-Islamic days. The Apostle (ﷺ) declined this offer, since it (the privilege of protecting the Holy Prophet) had already been reserved for the Ansar. When the Apostle (ﷺ) migrated to Medina, Tufail son of Amr also migrated to that place, and there also migrated along with him a man of his tribe. But the climate of Medina did not suit him, and he fell sick. He felt very uneasy. So he took hold of an iron head of an arrow and cut his finger-joints. The blood streamed forth from his hands, till he died. Tufail son of Amr saw him in a dream. His state was good and he saw him with his hands wrapped. He (Tufail) said to him: What treatment did your Allah accord to you? He replied. Allah granted me pardon for my migration to the Apostle (ﷺ): He (Tufail) again said: What is this that I see you wrapping up your hands? He replied: I was told (by Allah): We would not set right anything of yours which you damaged yourself. Tufail narrated this (dream) to the Messenger of Allah (ﷺ). Upon this he prayed: O Allah I grant pardon even to his hands
حضرت جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ طفیل بن عمرو دوسی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کیا آپ کو ایک مضبوط قلعے اور تحفظ کی ضرورت ہے ؟ ( روایت کرنےوالے نے کہا : یہ ایک قلعہ تھا جو جاہلیت کے دور مین بنو دوس کی ملکیت تھا ) آپ نے اس ( کو قبول کرنے ) سے انکار کر دیا ۔ کیونکہ یہ سعادت اللہ نے انصار کے حصے میں رکھی تھی ، پھر جب نبی ﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے تو طفیل بن عمرو بھی ہجرت کر کے آپ کے پاس آ گئے ، ان کے ساتھ ان کی قوم کے ایک آدمی نے بھی ہجرت کی ، انہوں نے مدینہ کی آب و ہوا ناموافق پائی تو وہ آدمی بیمار ہوا اور گھبرا گیا ، اس نے اپنے چوڑے پھل والے تیر لیے اور ان سے اپنی انگلیوں کے اندرونی طرف کے جوڑ کاٹ ڈالے ، اس کے دونوں ہاتھوں سے خون بہا حتی کہ وہ مر گیا ۔ طفیل بن عمرو نے اسے خواب میں دیکھا ، انہوں نے دیکھا کہ اس کی حالت اچھی تھی اور ( یہ بھی ) دیکھا کہ اس نے اپنے دونوں ہاتھ ڈھانپنے ہوئے تھے ۔ طفیل نے ( عالم خواب میں ) اس سے کہا : تمہارے رب نے تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟ اس نے کہا : اس نے اپنے نبی کی طرف میری ہجرت کے سبب مجھے بخش دیا ۔ انہوں نے پوچھا : میں تمہیں دونوں ہاتھ ڈھانپے ہوئے کیوں دیکھ رہا ہوں ؟ اس نے کہا : مجھ سے کہا گیا : ( اپنا ) جو کچھ تم نے خود ہی خراب کیا ہے ، ہم اسے درست نہیں کریں گے ۔ طفیل نے یہ خواب رسول اللہ ﷺ کو سنایا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اے اللہ ! اس کے دونوں ہاتھ کو بھی بخش دے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ لَهُ نَاتِلُ أَهْلِ الشَّامِ أَيُّهَا الشَّيْخُ حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ أَوَّلَ النَّاسِ يُقْضَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِ رَجُلٌ اسْتُشْهِدَ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا قَالَ فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا قَالَ قَاتَلْتُ فِيكَ حَتَّى اسْتُشْهِدْتُ ‏.‏ قَالَ كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ قَاتَلْتَ لأَنْ يُقَالَ جَرِيءٌ ‏.‏ فَقَدْ قِيلَ ‏.‏ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَعَلَّمَهُ وَقَرَأَ الْقُرْآنَ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا قَالَ فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا قَالَ تَعَلَّمْتُ الْعِلْمَ وَعَلَّمْتُهُ وَقَرَأْتُ فِيكَ الْقُرْآنَ ‏.‏ قَالَ كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ تَعَلَّمْتَ الْعِلْمَ لِيُقَالَ عَالِمٌ ‏.‏ وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ لِيُقَالَ هُوَ قَارِئٌ ‏.‏ فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ ‏.‏ وَرَجُلٌ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَعْطَاهُ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ كُلِّهِ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا قَالَ فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا قَالَ مَا تَرَكْتُ مِنْ سَبِيلٍ تُحِبُّ أَنْ يُنْفَقَ فِيهَا إِلاَّ أَنْفَقْتُ فِيهَا لَكَ قَالَ كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ فَعَلْتَ لِيُقَالَ هُوَ جَوَادٌ ‏.‏ فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ ثُمَّ أُلْقِيَ فِي النَّارِ ‏"‏ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Sulaiman b. Yasar who said:People dispersed from around Abu Huraira, and Natil, who was from the Syrians. said to him: O Shaikh, relate (to us) a tradition you have heard from the Messenger of Allah (ﷺ). He said: Yes. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: The first of men (whose case) will be decided on the Day of Judgment will be a man who died as a martyr. He shall be brought (before the Judgment Seat). Allah will make him recount His blessings (i. e. the blessings which He had bestowed upon him) and he will recount them (and admit having enjoyed them in his life). (Then) will Allah say: What did you do (to requite these blessings)? He will say: I fought for Thee until I died as a martyr. Allah will say: You have told a lie. You fought that you might be called a" brave warrior". And you were called so. (Then) orders will be passed against him and he will be dragged with his face downward and cast into Hell. Then will be brought forward a man who acquired knowledge and imparted it (to others) and recited the Qur'an. He will be brought And Allah will make him recount His blessings and he will recount them (and admit having enjoyed them in his lifetime). Then will Allah ask: What did you do (to requite these blessings)? He will say: I acquired knowledge and disseminated it and recited the Qur'an seeking Thy pleasure. Allah will say: You have told a lie. You acquired knowledge so that you might be called" a scholar," and you recited the Qur'an so that it might be said:" He is a Qari" and such has been said. Then orders will be passed against him and he shall be dragged with his face downward and cast into the Fire. Then will be brought a man whom Allah had made abundantly rich and had granted every kind of wealth. He will be brought and Allah will make him recount His blessings and he will recount them and (admit having enjoyed them in his lifetime). Allah will (then) ask: What have you done (to requite these blessings)? He will say: I spent money in every cause in which Thou wished that it should be spent. Allah will say: You are lying. You did (so) that it might be said about (You):" He is a generous fellow" and so it was said. Then will Allah pass orders and he will be dragged with his face downward and thrown into Hell
خالد بن حارث نے کہا : ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے یونس بن یوسف نے سلیمان بن یسار سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ( جمگھٹے کے بعد ) لوگ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے چھٹ گئے تو اہل شام میں سے ناتل ( بن قیس جزامی رئیس اہل شام ) نے ان سے کہا : شیخ! مجھے ایسی حدیث سنائیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو ، کہا : ہاں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " قیامت کے روز سب سے پہلا شخص جس کے خلاف فیصلہ آئے گا ، وہ ہو گا جسے شہید کر دیا گیا ۔ اسے پیش کیا جائے گا ۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی ( عطا کردہ ) نعمت کی پہچان کرائے گا تو وہ اسے پہچان لے گا ۔ وہ پوچھے گا تو نے اس نعمت کے ساتھ کیا کیا؟ وہ کہے گا : میں نے تیری راہ میں لڑائی کی حتی کہ مجھے شہید کر دیا گیا ۔ ( اللہ تعالیٰ ) فرمائے گا تو نے جھوٹ بولا ۔ تم اس لیے لڑے تھے کہ کہا جائے : یہ ( شخص ) جری ہے ۔ اور یہی کہا گیا ، پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا تو اس آدمی کو منہ کے بل گھسیٹا جائے گا یہاں تک کہ آگ میں ڈال دیا جائے گا اور وہ آدمی جس نے علم پڑھا ، پڑھایا اور قرآن کی قراءت کی ، اسے پیش کیا جائے گا ۔ ( اللہ تعالیٰ ) اسے اپنی نعمتوں کی پہچان کرائے گا ، وہ پہچان کر لے گا ، وہ فرمائے گا : تو نے ان نعمتوں کے ساتھ کیا کیا؟ وہ کہے گا : میں نے علم پڑھا اور پڑھایا اور تیری خاطر قرآن کی قراءت کی ، ( اللہ ) فرمائے گا : تو نے جھوٹ بولا ، تو نے اس لیے علم پڑھا کہ کہا جائے ( یہ ) عالم ہے اور تو نے قرآن اس لیے پڑھا کہ کہا جائے : یہ قاری ہے ، وہ کہا گیا ، پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا ، اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے گا حتی کہ آگ میں ڈال دیا جائے گا ۔ اور وہ آدمی جس پر اللہ نے وسعت کی اور ہر قسم کا مال عطا کیا ، اسے لایا جائے گا ۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتوں کی پہچان کرائے گا ، وہ پہچان لے گا ۔ اللہ فرمائے گا : تم نے ان میں کیا کیا؟ کہے گا : میں نے کوئی راہ نہیں چھوڑی جس میں تمہیں پسند ہے کہ مال خرچ کیا جائے مگر ہر ایسی راہ میں خرچ کیا ۔ اللہ فرمائے گا : تم نے جھوٹ بولا ہے ، تم نے ( یہ سب ) اس لیے کیا تاکہ کہا جائے ، وہ سخی ہے ، ایسا ہی کہا گیا ، پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا ، تو اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے گا ، پھر آگ میں ڈال دیا جائے گا ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ وَأَخْبَرَنِي الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ شُعْبَةُ لَمَّا حَدَّثَنِي بِهِ الْحَكَمُ لَمْ أُنْكِرْهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْمَلِكِ ‏.‏
Sa'id b. Zaid reported:I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: Truffles are a kind of blessing and their juice is a medicine for the eyes. Shu'ba said: When Hakam narrated this hadith to me, I did not deem it as a Munkar hadith because of the narration of Abd al-Malik
شعبہ نے کہا : مجھے بن عتیبہ نے حسن عرنی سے خبر دی انھوں نے عمرو بن حریث سے ، انھوں نے حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ شعبہ نے کہا : جب مجھ سے حکم نے یہ روایت کی تو میں نے عبد الملک کی روایت کی وجہ سے اس کو منکر قرارنہ دیا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ، يَقُولُ حَدَّثَنِي ابْنُ عَمِّ، نَبِيِّكُمْ صلى الله عليه وسلم - يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى ‏"‏ ‏.‏ وَنَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ ‏.‏
Abu al-Aliya said:The son of the uncle of your Prophet (ﷺ), i. e. Ibn Abbas, reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying: It is not meet for a servant that he should say: I am better than Yunus b. Matta (and this Matta) is the name of his father
قتادہ سے روایت ہے کہا : میں نے ابو العالیہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : تمھارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے بیٹے ( حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی ، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " کسی بندے کو زیب نہیں دیتا کہ وہ کہے : میں یو نس بن متیٰ علیہ السلام سے افضل ہوں ۔ " آپ نے ان کے والد کی نسبت سے ان کا نام لیا ۔
حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters
محمد بن جعفر غندر اور عبدا الرحمان ( بن مہدی ) دونوں نے شعبہ سے اسی سندک سا تھ اسی کے مانند روایت کی ۔