بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
4
12 hadith
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أَنَسٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ مَعَ أُمِّهِ وَهُوَ فِي الصَّلاَةِ فَيَقْرَأُ بِالسُّورَةِ الْخَفِيفَةِ أَوْ بِالسُّورَةِ الْقَصِيرَةِ ‏.‏
Anas reported:The Messenger of Allah (ﷺ) would listen to the crying of a lad in the company of his mother, in prayer, and he would recite a short surah or a small surah
۔ ثابت بنانی نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ ماں کے ساتھ ( آئے ہوئے ) بچے کا رونا سنتے اور آپ نماز میں ہوتے تو ہلکی سورت یا ( کہا ) چھوٹی سورت پڑھ لیتے ۔
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا لَمْ يَظْهَرِ الْفَىْءُ فِي حُجْرَتِهَا ‏.‏
A'isha, the wife of the Apostle (ﷺ), said that the Messenger of Allah (ﷺ) said the afternoon prayer (at the time) when the sun shone in her apartment and its shadow did not extend beyond her apartment
یونس ابن شہاب سے روایت کی ، کہا مجھے عروہ بن زبیر نے بتایا کہ مجھے نبی اکرم ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ نے خبر دی کہ رسو ل اللہ ﷺ عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جبکہ دھوپ ان کےحجرے میں ہوتی ( مشرق کی طرف پھیلتا ) سایہ ان کے حجرے میں نہ پھیلا ہوتا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، بَاتَ لَيْلَةً عِنْدَ مَيْمُونَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ - وَهِيَ خَالَتُهُ - قَالَ فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى انْتَصَفَ اللَّيْلُ أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَعَلَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدِهِ ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الآيَاتِ الْخَوَاتِمَ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهَا فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ‏.‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي وَأَخَذَ بِأُذُنِي الْيُمْنَى يَفْتِلُهَا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَوْتَرَ ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى جَاءَ الْمُؤَذِّنُ فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ ‏.‏
Kuraib, the freed slave of Ibn `Abbas, reported that Ibn `Abbas narrated to him that he spent a night in the house of Maimuna, the mother of the believers, who was his mother's sister. I lay down across the cushion, whereas the Messenger of Allah (ﷺ) and his wife lay down on it length-wise. The Messenger of Allah (ﷺ) slept till midnight, or a little before midnight, or a little after midnight, and then got up and began to cast off the effects of sleep from his face by rubbing with his hand, and then recited the ten concluding verses of Surah Al-`Imran. He then stood up near a hanging water-skin and performed ablution well, and then stood up and prayed, Ibn `Abbas said:I also stood up and did the same, as the Messenger of Allah (ﷺ) had done, and then went to him and stood by his side. The Messenger of Allah (ﷺ) placed his right hand upon my head and took hold of my right ear and twisted it, and then observed a pair of rak`ahs, again a pair of rak`ahs, again a pair of rak`ahs, again a pair of rak`ahs, again a pair of rak`ahs, again a pair of rak`ahs, and then observed Witr and then lay down till the Mu'adhdhin came to him. He (the Holy Prophet) then stood up and observed two short rak`ahs, and then went out (to the mosque) and observed the dawn prayer
امام مالک نے مخرمہ بن سلیمان سے اور انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مولیٰ کریب سے روایت کی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتایا کہ انھوں نے ایک رات ام المومنین میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں گزاری جو ان کی خالہ تھیں ، تو میں سرہانے ( بستر ) کے عرض میں لیٹا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اہلیہ اس ( بستر ) کے طول ( لمبائی ) میں لیٹے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے یہاں تک کہ رات آدھی ہوئی ۔ یا اس سے تھوڑا پہلے یا تھوڑا بعد کا وقت ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدا ر ہوگئے اور اپنے ہاتھ کے ساتھ اپنے چہرے سے نیند زائل کرنے لگے ، ( چہرے پر ہاتھ پھیرا ) پھر آپ نے سورہ آل عمران کی آخری دس آیات تلاوت فرمائیں ، پھر آپ اٹھ کرایک لٹکے ہوے مشکیزے کے پاس گئے اور اس سے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا ، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : "" میں اٹھا اور میں نے بھی وہی کیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیاتھا ۔ پھر جا کر آپ کے پہلو میں کھڑ ہوگیااس پررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دائیاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرے دائیں کان کو پکڑ کر ( آہستہ سے ) مروڑنے لگے ۔ پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی ۔ پھر دورکعتیں ، پھر دورکعتیں ، پھر دورکعتیں ، پھر دورکعتیں ، پھر دورکعتیں پڑھیں ۔ پھر وتر پڑھا ، پھر آپ لیٹ گئے حتیٰ کہ موذن آپ کے پاس آیا تو آ پ کھڑے ہوئے اور دو ہلکی رکعتیں پڑھیں ، پھر تشریف لئے گئے اور صبح کی نماز ادا کی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَجَدَ تَمْرَةً فَقَالَ ‏ "‏ لَوْلاَ أَنْ تَكُونَ صَدَقَةً لأَكَلْتُهَا ‏"‏ ‏.‏
Anas b. Malik reported that the Messenger of Allah (ﷺ) found a date and said:Were it not (that I fear) it may be part of sadaqa, I would have eaten it
قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کھجور ملی تو آپ نے فر ما یا : " اگر یہ ( امکا ن ) نہ ہو تا کہ یہ صدقہ ہو گا تو میں اسے کھا لیتا
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ، أَبِي صَالِحٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَا مِنْ عَبْدٍ يَصُومُ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلاَّ بَاعَدَ اللَّهُ بِذَلِكَ الْيَوْمِ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا ‏"‏ ‏.‏
Abu Sa'id al Khudri (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Every servant of Allah who observes fast for a day in the way of Allah, Allah would remove, because of this day, his face farther from the Fire (of Hell) to the extent of seventy years' distance
ابن ہاد نے سہیل بن ابی صالح سے ، انھوں نے نعمان بن ابی عیاش سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " کوئی شخص نہیں جو اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے مگر اللہ تعا لیٰ اس دن ( کے روزے ) بدلے اس کے چہرے کو ( جہنم کی ) آگ سے ستر سال کی مسافت تک دورکردے گا ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - قَالَ كَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ الْعُمْرَةَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ مِنْ أَفْجَرِ الْفُجُورِ فِي الأَرْضِ وَيَجْعَلُونَ الْمُحَرَّمَ صَفَرً وَيَقُولُونَ إِذَا بَرَأَ الدَّبَرْ وَعَفَا الأَثَرْ وَانْسَلَخَ صَفَرْ حَلَّتِ الْعُمْرَةُ لِمَنِ اعْتَمَرْ ‏.‏ فَقَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ صَبِيحَةَ رَابِعَةٍ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً فَتَعَاظَمَ ذَلِكَ عِنْدَهُمْ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الْحِلِّ قَالَ ‏ "‏ الْحِلُّ كُلُّهُ ‏"‏ ‏.‏
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported that they (the Arabs of pre-Islamic days) looked upon Umra during the months of Hajj as the greatest of sins on the earth. So they intercalated the month of Muharram for Safar and said:When the backs of their camels would become all right and traces (if the pilgrims) would be effaced (from the paths) and the month of Safar would be over, then Umra would be permissible for one who wants to perform it. When Allah's Apostle (ﷺ) and his Companions came in the state of Ihram for performing Hajj on the fourth (of Dhu'l-Hijja) he (Allah's Apostle) commanded them to change their state of Ihram (from Hajj) to that of 'Umra. It was something inconceivable for them. So they said: Messenger of Allah, is it a complete freedom (of the obligation) of Ihram? Thereupon he said: It is a complete freedom (from Ihram)
عبداللہ بن طاوس نے اپنے والد طاوس بن کیسان سے ، انھوں نےحضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے فرمایا : ( جاہلیت میں ) لوگوں کا خیال تھا کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا ، زمین میں سب سے براکام ہے ۔ اور وہ لوگ محرم کے مہینے کو صفر بنا لیا کرتے تھے ، اور کہا کرتے تھے : جب ( اونٹوں کا ) پیٹھ کا زخم مندمل ہوجائے ، ( مسافروں کا ) نشان ( قدم ) مٹ جائے اورصفر ( اصل میں محر م ) گزر جائے تو عمرہ والے کے لئے عمرہ کرناجائز ہے ۔ ( حالانکہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ا اپنے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کے ساتھ چار ذوالحجہ کی صبح کو حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے مکہ پہنچے ، اور ان ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) کو حکم دیا کہ اپنے حج ( کی نیت ) کو عمرے میں بدل دیں ، یہ بات ان ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) پر بڑی گراں تھی ، سب نے بیک زبان کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !یہ کیسی حلت ( احرام کا خاتمہ ) ہوگی؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مکمل حلت ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدُّؤَلِيِّ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي الْغَيْثِ، مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، - وَهَذَا حَدِيثُهُ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَى خَيْبَرَ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْنَا فَلَمْ نَغْنَمْ ذَهَبًا وَلاَ وَرِقًا غَنِمْنَا الْمَتَاعَ وَالطَّعَامَ وَالثِّيَابَ ثُمَّ انْطَلَقْنَا إِلَى الْوَادِي وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَبْدٌ لَهُ وَهَبَهُ لَهُ رَجُلٌ مِنْ جُذَامٍ يُدْعَى رِفَاعَةَ بْنَ زَيْدٍ مِنْ بَنِي الضُّبَيْبِ فَلَمَّا نَزَلْنَا الْوَادِيَ قَامَ عَبْدُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَحُلُّ رَحْلَهُ فَرُمِيَ بِسَهْمٍ فَكَانَ فِيهِ حَتْفُهُ فَقُلْنَا هَنِيئًا لَهُ الشَّهَادَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ كَلاَّ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّ الشَّمْلَةَ لَتَلْتَهِبُ عَلَيْهِ نَارًا أَخَذَهَا مِنَ الْغَنَائِمِ يَوْمَ خَيْبَرَ لَمْ تُصِبْهَا الْمَقَاسِمُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَفَزِعَ النَّاسُ ‏.‏ فَجَاءَ رَجُلٌ بِشِرَاكٍ أَوْ شِرَاكَيْنِ ‏.‏ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَبْتُ يَوْمَ خَيْبَرَ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ شِرَاكٌ مِنْ نَارٍ أَوْ شِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ ‏"‏ ‏.‏
It is narrated on the authority of Abu Huraira:We went to Khaibar along with the Apostle (ﷺ) and Allah granted us victory. We plundered neither gold nor silver but laid our hands on goods, corn and clothes, and then bent our stops to a valley; along with the Messenger of Allah (ﷺ) there was a slave who was presented to him by one Rifa'a b. Zaid of the family of Judham, a tribe of Dubayb. When we got down into the valley the slave of the Messenger of Allah stood up and began to unpack the saddle-bag and was suddenly struck by a (stray) arrow which proved fatal. We said: There is a greeting for him, Messenger of Allah, as he is a martyr. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) remarked: Nay, not so. By Him in Whose hand is the life of Muhammad, the small garment which he stole from the booty on the day of Khaibar but which did not (legitimately) fall to his lot is burning like the Fire (of Hell) on him. The people were greatly perturbed (on hearing this). A person came there with a lace or two laces and said: Messenger of Allah, I found (them) on the day of Khaibar. He (the Holy Prophet) remarked: This is a lace of fire or two laces of fire
حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : ہم نبی ﷺ کی معیت میں خیبر کی طرف نکلے ، اللہ نے ہمیں فتح عنایت فرمائی ، غنیمت میں ہمیں سنا یا چاندی نہ ملا ، غنیمت میں سامان ، غلہ اور کپڑے ملے ، پھر ہم وادی ( القری ) کی طر ف چل پڑے ۔ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آپ کا ایک غلام تھا جو جذام قبیلے کے ایک آدمی نے ، جسے رفاعہ بن زید کہا جاتا تھا اور ( جذام کی شاخ ) بنو صبیب سے اس کا تعلق تھا ، آپ کو ہبہ کیا تھا ۔ جب ہم نے اس وادی میں پڑاؤ کیا تو رسول اللہ ﷺ کہ ( یہ ) غلام آپ کا پالان کھولنے کے لیے اٹھا ، اسے ( دور سے ) تیر کا نشانہ بنایا گیا اور اسی اس کی موت واقع ہو گئی ۔ ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اسے شہادت مبارک ہو ۔ آپ نے فرمایا : ’’ ہرگز نہیں ! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( ﷺ ) کی جان ہے ! اوڑھنے کی وہ چادر اس پر آگ کے شعلے برسا رہی ہے جو اس نے خیبر کے دن اس کے تقسیم ہونے سے پہلے اٹھائی تھی ۔ ‘ ‘ یہ سن کر لوگ خوف زدہ ہو گئے ، ایک آدمی ایک یا دوتسمے لے آیا اور کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ! خیبر کے دن میں نے لیے تھے ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’آگ کا ایک تسمہ ہے یا آگ کے دو تسمے ہیں ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي، مُوسَى الأَشْعَرِيِّ أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْقِتَالِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ الرَّجُلُ يُقَاتِلُ غَضَبًا وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً قَالَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ - وَمَا رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ إِلاَّ أَنَّهُ كَانَ قَائِمًا - فَقَالَ ‏ "‏ مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏
It has been narrated through a different chain of transmitters on the same authority, i. e. Abu Musa Ash'ari, that a man asked the Messenger of Allah (ﷺ) about fighting in the way of Allah, the Exalted and Majestic, a man who fights out of rage or out of family pride. He raised his head towards him-and he did so because the man was standing and said:Who fights that the word of Allah be exalted fights in the way of Allah
منصور نے ابووائل سے ، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ کی راہ میں جنگ کرنے کے متعلق سوال کیا اور کہا : ایک شخص غصے کی وجہ سے جنگ کرتا ہے ، ایک شخص ( قومی ) حمیت کی بنا پر جنگ کرتا ہے ۔ کہا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف اپنا سر مبارک اٹھایا اور صرف اس لیے اٹھایا کہ وہ آدمی کھڑا ہوا تھا اور فرمایا : " جو شخص اس لیے لڑا کہ اللہ کا کلمہ سب سے اونچا ہو ، وہی اللہ کی راہ میں ( لڑنے والا ) ہے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ، عُمَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ ‏"‏ ‏.‏
Through another chain of transmitters, Sa'id b. Zaid b. 'Amr reported:I heard Allah's Apostle (ﷺ) as saying: Truffles are a kind of 'Manna' and their juice is a medicine for the eyes
شعبہ نے عبدالملک بن عمیر سے روایت کی کہا : عمرو بن حریث سےسنا ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہا : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ فرما رہے تھے " کھمبی من کی ایک قسم ہے اور اس کا پا نی آنکھوں کے لیے شفاہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ ‏ "‏ قَالَ - يَعْنِي اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لاَ يَنْبَغِي لِعَبْدٍ لِي - وَقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى لِعَبْدِي - أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى عَلَيْهِ السَّلاَمُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (may prace be upon him) as saying that Allah, the Exalted and Majestic, said:It is not meet for a servant of Mine that he should say: I am better than Yunus b. Matta (peace be upon him)
ابو بکر بن ابی شیبہ محمد بن مثنیٰ اور محمد بن بشار نے کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی کہا : ہمیں شعبہ نے سعد بن ابرا ہیم سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حمید بن عبد الرحمٰن کو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہو ئے سنا ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ " اس نے فر ما یا : ۔ یعنی اللہ تبارک وتعا لیٰ نے ۔ ۔ ۔ کسی بندے کو جو میرا ہے ۔ ۔ ۔ ابن مثنیٰ نے کہا : میرے کسی بندے کو ۔ ۔ ۔ نہیں چا ہیے کہ وہ کہے : میں یو نس بن متیٰ علیہ السلام سے بہتر ہوں ۔ " ابن ابی شیبہ نے کہا : محمد بن جعفر نے شعبہ سے روایت کی ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، - وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ - قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ ‏ "‏ اهْجُهُمْ أَوْ هَاجِهِمْ وَجِبْرِيلُ مَعَكَ ‏"‏ ‏.‏
Al-Bari' b. 'Azib reported:I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: Hassan b. Thibit, write satire (against the non-believers) ; Gabriel is with you
معاذ نے کہا : ہمیں شعبہ نے عدی بن ثابت سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت براء بن عاذب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ فرماتے ہوئے سنا : " ان ( کافروں ) کی ہجو کرو ، یا ( فرمایا : ) ہجو میں ان کا مقابلہ کرو جبرائیل تمھارے ساتھ ہیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ وَكِيعٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، بِإِسْنَادِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي، حَدِيثِهِمْ عَنْ شُعْبَةَ غَيْرَ عَبْدِ الصَّمَدِ وَيُحِبُّهُ النَّاسُ عَلَيْهِ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الصَّمَدِ وَيَحْمَدُهُ النَّاسُ ‏.‏ كَمَا قَالَ حَمَّادٌ ‏.‏
This hadith has been narrated through another chain of transmitters also and the one transmitted on the authority of Shu'ba (the words are):" People love him." In the hadith transmitted on the authority of 'Abd-us-Samad (the words are):" People praise him as stated by Hammad
وکیع ، محمد بن جعفر ، عبدالصمد اور نضر سب نے شعبہ سے ، انہوں نے ابوعمران جونی سے حماد بن زید کی سند کے ساتھ ، اسی کی حدیث کے مانند روایت کی ، مگر شعبہ سے عبدالصمد کے سوا ( باقی ) سب کی حدیث میں ہے : " اور لوگ اس کی وجہ سے اس کے ساتھ محبت کرتے ہیں ۔ " اور عبدالصمد کی حدیث میں ہے : " اور لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں " جس طرح حماد نے کہا ہے ۔