وَحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُوجِزُ فِي الصَّلاَةِ وَيُتِمُّ .
Anas reported:The Apostle of Allah (ﷺ) used to be brief and perfect in prayer
عبد العزیز بن صہیب نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ نماز میں تخفیف کرتے اور مکمل ادا کرتے تھے ۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَخَّرَ الصَّلاَةَ يَوْمًا فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ أَخَّرَ الصَّلاَةَ يَوْمًا وَهُوَ بِالْكُوفَةِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيُّ فَقَالَ مَا هَذَا يَا مُغِيرَةُ أَلَيْسَ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ جِبْرِيلَ نَزَلَ فَصَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ " بِهَذَا أُمِرْتُ " . فَقَالَ عُمَرُ لِعُرْوَةَ انْظُرْ مَا تُحَدِّثُ يَا عُرْوَةُ أَوَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ هُوَ أَقَامَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقْتَ الصَّلاَةِ فَقَالَ عُرْوَةُ كَذَلِكَ كَانَ بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ .
Ibn Shihab reported:Umar b. 'Abd al-'Aziz one day deferred the prayer. 'Urwa b. Zubair came to him and informed him that one day as Mughira b. Shu'ba was in Kufa (as its governor), he deferred the prayer, Abu Mas'ud al-Ansari came to him and said: What is this, O Mughira? Did you know that it was Gabriel who came and said prayer and (then) the Messenger of Allah (ﷺ) said the prayer (along with him), then (Gabriel) prayed and the Messenger of Allah (ﷺ) also prayed, then (Gabriel) prayed and the Messenger of Allah (ﷺ) also prayed, then (Gabriel) prayed and the Messenger of Allah (ﷺ) prayed (along with him). then Gabriel prayed and the Messenger of Allah (ﷺ) also prayed (along with him) and then said: This is how I have been ordered to do. 'Umar (b. 'Abd al-'Aziz) said. O 'Urwa be mindful of what you are saying that Gabriel (peace be upon him) taught the Messenger of Allah (ﷺ) the times of prayer. Upon this 'Urwa said: This is how Bashir b. Abu Mas'ud narrated on the authority of his father
امام مالک نے ابن شہاب زہری سے روایت کی کہ ایک دن عمر بن عبدالعزیز نے نماز میں تاخیر کر دی تو عروہ بن زبیر ان کے پاس آئے اور انھیں بتایا کہ مغیر ہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ایک دن نماز دیر سے پڑھی اس وقت وہ کوفہ میں تھے ابو مسعود انصاری رحمۃ اللہ علیہ ان کے پاس آئے اور کہا : مغیرہ !یہ کیا ہے ؟ کیا آپ کو پتہ نہیں کہ جبریل علیہ السلام اترے تھے ، انھوں نے نماز پڑھائی تو رسول اللہ ﷺ نے ( ان کے ساتھ ) نماز پڑھی ، پھر انھوں نے نماز پڑھی تو رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھی ، پھر انوں نے نماز پڑھی اور رسول اللہ ﷺ نے ( ان کے ساتھ ) نماز پڑھی ، پھر انھوں نے نماز پڑھی تو رسو ل اللہ ﷺ نے ( ان کے ساتھ ) نماز پڑھی ، پھر ( جبرئیل نے ) کہا : مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے ۔ تو عمر نے عروہ سے کہا : عروہ ! دیکھ لو ، کیا کہہ رہے ہو ؟ کیا جبرئیل نے خود ( آکر ) رسول ) اللہ ﷺ کے لیے ( ہر ) نماز کا وقت متعین کیا تھا ؟ تو عروہ نے کہا بشر بن ابی مسعود اپنے والد سے ایسے ہی بیان کرتے تھے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَةَ بْنَ أَبِي لُبَابَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ أُبَىٌّ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَاللَّهِ إِنِّي لأَعْلَمُهَا وَأَكْثَرُ عِلْمِي هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِقِيَامِهَا هِيَ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ - وَإِنَّمَا شَكَّ شُعْبَةُ فِي هَذَا الْحَرْفِ - هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ وَحَدَّثَنِي بِهَا صَاحِبٌ لِي عَنْهُ .
Ubayy b Ka'b reported:By Allah, I know about Lailat-ul Qadr and I know it fully well that it is the twenty-seventh night (during Ramadan) on which the Messenger of Allah (ﷺ) commanded us to observe prayer. (Shu'ba was in doubt about these words:" the night on which the Messenger of Allah [may peace be upon him] commanded us to observe the prayer." This has been transmitted to me by a friend of mine
محمد بن جعفر نے کہا : ہم سے شعبہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے عبدہ بن ابی لبابہ کو زرین حبیش سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انھوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، ( زرنے ) کہا : حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لیلۃ القدر کے بارے میں کہا : اللہ کی قسم!میں اس کے بارے میں جانتا ہوں اور میرا غالب گمان ہے کہ یہ وہی رات ہے جس کے قیام کا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا ، یہ ستائیسویں رات ہے ۔ شعبہ نے "" یہ وہی رات ہے جس کے قیام کا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا "" فقرے کے بارے میں شک کیا ، انھوں نے کہا : مجھے یہ روایت میرے ساتھی نے ان ( عبدہ بن ابی لبابہ کے حوالے ) سے سنائی تھی ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ، مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَاللَّهِ إِنِّي لأَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِي فَأَجِدُ التَّمْرَةَ سَاقِطَةً عَلَى فِرَاشِي - أَوْ فِي بَيْتِي - فَأَرْفَعُهَا لآكُلَهَا ثُمَّ أَخْشَى أَنْ تَكُونَ صَدَقَةً - أَوْ مِنَ الصَّدَقَةِ - فَأُلْقِيهَا " .
Out of so many ahadith which Hammam b. Munabbih narrated on the authority of Abu Huraira from the Messenger of Allah (ﷺ) one is this that the Messenger of Allah (ﷺ) said:I go back to my family and I find a date lying on my bed or in my house, and I take it up to eat it, but then I throw it away fearing that it may be a Sadaqa or from Sadaqa
ہمام بن منبہ نے کہا : یہ ( احادیث ) ہیں جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں محمدرسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں انھوں نے کچھ احادیث بیان کیں ان میں سے ( ایک حدیث یہ ) ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اللہ کی قسم! میں اپنے گھروالوں کے پاس لو ٹتا ہوں اور اپنے بستر پر ۔ ۔ ۔ یا اپنے گھر میں ۔ ۔ ایک کھجور گری ہوئی پا تا ہوں میں اسے کھا نے کے لیے اٹھا تا ہوں پھر میں ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ صدقہ ( نہ ) ہو ( یا صدقے میں سے نہ ہو ) تو میں اسے پھینک دیتا ہوں ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ أَبِي، صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي، سَعِيدٍ - رضى الله عنهما - قَالاَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ إِنَّ الصَّوْمَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ إِنَّ لِلصَّائِمِ فَرْحَتَيْنِ إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ وَإِذَا لَقِيَ اللَّهَ فَرِحَ . وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " .
Abu Huraira and Abu Sa'id (Allah be pleased with both of them) reported Allah's Messenger (ﷺ) (as saying):Allah, the Exalted and Majestic, said: Fast (is exclusively) meant for Me and I would give its reward. There are two (occasions) of joy for the observer of fast. He feels joy when he breaks the fast and he is happy when he meets Allah. By Allah in Whose Hand is the life of Muhammad, the breath of the observer of fast is sweeter to Allah than the fragrance of musk
محمد بن فضیل نے ابو سنان سے ، انھوں نے ابو صالح سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، ان دونوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ عزوجل فر ماتا ہے ۔ بلا شبہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا ۔ بلا شبہ روزہ دار کے لیے دوخوشیاں ہیں : جب وہ ( روزہ ) افطار کرتا ہے خوش ہو تا ہے ۔ اور جب وہ اللہ سے ملا قات کرے گا ۔ خوش ہو گا ، اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے !اللہ کے ہاں ، روزہ دار کے منہ کی بو کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ح وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ فَأَمَّا عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَفِي حَدِيثِهِ الْمُتْعَةُ وَلَمْ يَقُلْ مُتْعَةُ الْحَجِّ . وَأَمَّا ابْنُ جَعْفَرٍ فَقَالَ قَالَ شُعْبَةُ قَالَ مُسْلِمٌ لاَ أَدْرِي مُتْعَةُ الْحَجِّ أَوْ مُتْعَةُ النِّسَاءِ .
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters, but with a slight variation of words
عبدالرحمان اور محمد بن جعفر دونوں نے اسی سند کے ساتھ شعبہ سے روایت کی ، ان میں سے عبدالرحمان کی حدیث میں صرف لفظ تمتع ہے ، انھوں نے حج تمتع کے الفاظ روایت نہیں کیے ۔ جبکہ ابن جعفر نے کہا : شعبہ کا قول ہے کہ مسلم ( قری ) نے کہا : میں نہیں جانتا کہ ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے حج تمتع کا ذکر کیا یا کہ عورتوں سے ( نکاح ) متعہ کی بات کی ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْرِيُّ، - وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ - حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ " إِنَّ رَجُلاً مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ خَرَجَتْ بِهِ قَرْحَةٌ فَلَمَّا آذَتْهُ انْتَزَعَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ فَنَكَأَهَا فَلَمْ يَرْقَإِ الدَّمُ حَتَّى مَاتَ . قَالَ رَبُّكُمْ قَدْ حَرَّمْتُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ " . ثُمَّ مَدَّ يَدَهُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَقَالَ إِي وَاللَّهِ لَقَدْ حَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ جُنْدَبٌ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي هَذَا الْمَسْجِدِ .
It is reported on the authority of Hasan:A person belonging to the people of the past suffered from a boil, when it pained him, he drew out an arrow from the quiver and pierced it. And the bleeding did not stop till he died. Your Lord said: I forbade his entrance into Paradise. Then he (Hasan) stretched his hand towards the mosque and said: By God, Jundab transmitted this hadith to me from the Messenger of Allah (ﷺ) in this very mosque
شیبان نے بیان کیا کہ میں نےحسن ( بصری ) کو کہتے ہوئے سنا : ’’ تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی تھا ، اسے پھوڑا نکلا ، جب اس نے اسے اذیت دی تو اس نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکالا او راس پھوڑے کو چیر دیا ، خون بند نہ ہو ا ، حتی کہ وہ مر گیا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے اس پر جنت حرام کر دی ہے ۔ ‘ ‘ ( کیونکہ اس نے خودکشی کےلیے ایسا کیا تھا ۔ ) پھر حسن نے مسجد کی طرف سے اپناہاتھ اونچا کیا او رکہا : ہاں ، اللہ کی قسم ! یہ حدیث مجھے جندب رضی اللہ عنہ نے رسو ل اللہ ﷺ سے ( روایت کرتے ہوئے ) اسی مسجد میں سنائی تھی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، الأَشْعَرِيُّ أَنَّ رَجُلاً، أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِلْمَغْنَمِ وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُذْكَرَ وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُرَى مَكَانُهُ فَمَنْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ أَعْلَى فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .
It has been narrated on the authority of Abu Musa Ash'ari that a desert Arab came to the Prophet (ﷺ) and said:Messenger of Allah, one man fights fgr the spoils of war; another fights that he may be remembered, and another fights that he may see his (high) position (achieved as a result of his valour in fighting). Which of these is fighting in the cause of God? The Messenger of Allah (ﷺ) said: Who fights so that the word of Allah is exalted is fighting in the way of Allah
عمرو بن مرہ نے کہا : میں نے ابووائل ( شقیق ) سے سنا ، انہوں نے کہا : ہمیں ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا : اللہ کے رسول! کوئی شخص مال غنیمت کی خاطر لڑتا ہے ، کوئی شخص اس لئے لڑتا ہے کہ اس ( کے کارناموں ) کا ذکر ہو اور کوئی اس لیے لڑتا ہے کہ ( لڑائی اور شجاعت ) میں اس کے مقام کو دیکھا جائے ، ان میں سے اللہ کے راستے میں ( لڑنے والا ) کون ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ شخص جو اس لیے لڑے کہ اللہ کا کلمہ اونچا ہو ، وہی اللہ کے راستے میں ( لڑنے والا ) ہے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، ح وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ، بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَدْرٍ، شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ كِلاَهُمَا عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ وَلاَ يَقُولاَنِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم .
This hadith has been reported on the authority of Ibn Hashim with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording
مروان بن معاویہ فرازی اور ابو بدر شجاع بن ولید دونوں نے ہاشم بن ہاشم سے ، اسی سند کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔ وہ دونوں یہ نہیں کہتے : میں نے نبی کرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُخَيِّرُوا بَيْنَ الأَنْبِيَاءِ " . وَفِي حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى حَدَّثَنِي أَبِي .
Abu Sa'id Kudari reported Allah's Messenger (ﷺ) having, said this:Don't make distinction amongst the Apostles. This hadith has been narrated through another chain of transmitters also
ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں وکیع نے سفیان سے حدیث بیان کی ، ابن نمیر نے کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان نے عمرو بن یحییٰ سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " انبیاء علیہ السلام کے درمیان کسی کو دوسرے پر بہتر قرار نہ دو ۔ " اور ابن نمیر کی حدیث ( کی سند ) میں ہے : عمرو بن یحییٰ نے کہا : مجھے میرےوالد نے حدیث سنائی ۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، كُلُّهُمْ عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ عُمَرَ، مَرَّ بِحَسَّانَ وَهُوَ يُنْشِدُ الشِّعْرَ فِي الْمَسْجِدِ فَلَحَظَ إِلَيْهِ فَقَالَ قَدْ كُنْتُ أُنْشِدُ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ . ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ أَنْشُدُكَ اللَّهَ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " أَجِبْ عَنِّي اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ " . قَالَ اللَّهُمَّ نَعَمْ .
Abu Huraira reported that 'Umar happened to pass by Hassan as he was reciting verses in the mosque. He (Hadrat 'Umar) looked towards him (meaningfully), whereupon he (gassin) said:I used to recite (verses) when one better than you (the Holy Prophet) had been present (here). He then looked towards Abu Huraira and said to him: I adjure you by Allah (to tell) if you had not heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: (Hassan), give a reply on my behalf; Allah I help him with Ruh-ul-Qudus. He (Abu Huraira) said: By Allah, it is so (i. e. the Prophet actually said these words)
سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انھوں نے سعید ( بن مسیب ) سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے اور وہ مسجد میں شعر پڑھ رہے تھے ( معلوم ہوا کہ اشعار جو اسلام کی تعریف اور کافروں کی برائی یا جہاد کی ترغیب میں ہو مسجد میں پڑھنا درست ہے ) ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف ( غصہ سے ) دیکھا ۔ سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تو مسجد میں ( اس وقت بھی ) شعر پڑھتا تھا جب تم سے بہتر شخص ( یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) موجود تھے ۔ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا اور کہا کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اے حسان! میری طرف سے جواب دے ، اے اللہ اس کی روح القدس ( جبرائیل علیہ السلام ) سے مدد کر ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں میں نے سنا ہے یا اللہ تو جانتا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ح وَحَدَّثَنِيهِ بِشْرُ، بْنُ خَالِدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ، جَمِيعًا عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
A hadith like this has been transmitted on the authority of 'Abdullah
شعبہ اور سلیمان بن قرم نے سلیمان ( اعمش ) سے ، انہوں نے ابووائل سے ، انہوں نے عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔