حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، قَالَ حَدَّثَ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ آخِرُ مَا عَهِدَ إِلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أَمَمْتَ قَوْمًا فَأَخِفَّ بِهِمُ الصَّلاَةَ " .
Uthman b. Abu'l-'As reported:The last thing which the Messenger of Allah (ﷺ) instructed me was: When you lead the people in prayer, be brief
سعید بن مسیب نے کہا : حضرت عثمان بن ابی عاص رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے آخری بات جو میرے ذمے لگائی یہ تھی : ’’ جب تم لوگوں کی امامت کراؤ تو انہیں نماز ہلکی پڑھاؤ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَخَّرَ الْعَصْرَ شَيْئًا فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ قَدْ نَزَلَ فَصَلَّى إِمَامَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ لَهُ عُمَرُ اعْلَمْ مَا تَقُولُ يَا عُرْوَةُ . فَقَالَ سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " نَزَلَ جِبْرِيلُ فَأَمَّنِي فَصَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ " . يَحْسُبُ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ .
Ibn Shibab reported:'Umar b. 'Abd al-'Aziz deferred the afternoon prayer somewhat and 'Urwa said to him: Gabriel came down and he led the Messenger of Allah (ﷺ) in prayer. 'Umar said to him: O 'Urwa, are you aware of what you are saying? Upon this he ('Urwa) said: I heard Bashir b. Abu Mas'ud say that he heard Abu Mas'ud say that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Gabriel came down and acted as my Imam, then I prayed with him, then I prayed with him, then I prayed with him. then I prayed with him. then I prayed with him. reckoning with his fingers five times of prayer
لیث نے ابن شہاب سے روایت کی کہ ایک دن عمر بن عبدالعزیز نےعصر کی نمازمیں کچھ تاخیر کردی تو عروہ نے ان سے کہا : بات یوں ہے کہ جبریل رضی اللہ عنہ نازل ہوئے اور امام بن کر رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھائی ۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : اے عروہ ! جان لیں ( سمجھ لیں ) آپ کیا کہہ رہے ہیں ! انھوں نے کہا : میں نے بشیر بن ابی مسعود سے سنا ، وہ کہتے تھے : میں نے ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، آپ نے فرما رہے تھے : ’’جبرئیل اترے اور انھوں نے ( نمازمیں ) میری امامت کی ، میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی ، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی ، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی ، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی ، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی ۔ ‘ ‘ وہ اپنی انگلیوں سے پانچ نمازیں شمار کرتے تھے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدَةُ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ سَمِعْتُ أُبَىَّ بْنَ كَعْبٍ، يَقُولُ - وَقِيلَ لَهُ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ مَنْ قَامَ السَّنَةَ أَصَابَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ - فَقَالَ أُبَىٌّ وَاللَّهِ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ إِنَّهَا لَفِي رَمَضَانَ - يَحْلِفُ مَا يَسْتَثْنِي - وَوَاللَّهِ إِنِّي لأَعْلَمُ أَىُّ لَيْلَةٍ هِيَ . هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِقِيَامِهَا هِيَ لَيْلَةُ صَبِيحَةِ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ وَأَمَارَتُهَا أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فِي صَبِيحَةِ يَوْمِهَا بَيْضَاءَ لاَ شُعَاعَ لَهَا .
Zirr (b. Hubaish) reported:I heard from Ubayy b. Ka'b a statement made by 'Abdullah b. Mas'ud in which he said: He who gets up for prayer (every night) during the year will hit upon Lailat-ul-Qadr. Ubayy said: By Allah I there is no god but He, that (Lailat-ul-Qadr) is in Ramadhan (He swore without reservation: ) By Allah, I know the night; it is the night on which the Messenger of Allah (ﷺ) commanded us to pray. It is that which precedes the morning of twenty-seventy and its indication is that the sun rises bright on that day without rays
اوزاعی نے کہا : مجھ سے عبدہ ( بن ابی لبابہ ) نے زر ( بن جیش ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے ابی ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے جب کہ ان سے کہاگیا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں : جس نے سال بھر قیام کیا اس نے شب قدر کو پالیا تو ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں!وہ رات ر مضان میں ہے ۔ ۔ ۔ وہ بغیر کسی استثناء کے حلف اٹھاتے تھے ۔ ۔ ۔ اور اللہ کی قسم! میں خوب جانتا ہوں کہ وہ رات کون سی ہے ، یہ وہی رات ہے جس میں قیام کا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا ، یہ ستائیسویں صبح کی رات ہے اور ا س کی علامت یہ ہے کہ اس دن کی صبح کو سورج سفید طلوع ہوتا ہے ، اس کی کوئی شعاع نہیں ہوتی ۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ أَبَا يُونُسَ، مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " إِنِّي لأَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِي فَأَجِدُ التَّمْرَةَ سَاقِطَةً عَلَى فِرَاشِي ثُمَّ أَرْفَعُهَا لآكُلَهَا ثُمَّ أَخْشَى أَنْ تَكُونَ صَدَقَةً فَأُلْقِيهَا " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:I go back to my family and I find a date lying on my bed. I then take it up to eat it, but then I throw it away fearing that it may be a Sadaqa
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلا م ابو یو نس نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فر ما یا : " میں اپنے گھر لوٹتا ہوں اور اپنے بستر پر ایک کھجور گری ہو ئی پا تا ہوں میں اسے کھا نے کے لیے اٹھا تا ہوں پھر ڈرتا ہوں کہ یہ صدقہ نہ ہو تو اسے پھینک دیتا ہوں ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلاَّ الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ مِنْ أَجْلِي لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ . وَلَخُلُوفُ فِيهِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Every (good) deed of the son of Adam would be multiplied, a good deed receiving a tenfold to seven hundredfold reward. Allah, the Exalted and Majestic, has said: With the exception of fasting, for it is done for Me and I will give a reward for it, for one abandons his passion and food for My sake. There are two occasions of joy for one who fasts, joy when he breaks it, and joy when he meets his Lord, and the breath (of an observer of fast) is sweeter to Allah than the fragrance of musk
اعمش نے ابو صالح سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہاؒ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا ؒابن آدم کا ہر عمل بڑھا یا جا تا ہے ۔ نیکی دس گنا سے ساتھ سو گنا تک ( بڑھا دی جا تی ہے ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا : سوائے روزے کے ( کیونکہ ) وہ ( خالصتاً ) میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا ۔ وہ میری خاطر اپنی خواہش اور اپنا کھا نا پینا چوڑ دیتا ہے ۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں ایک خوشی اس کے ( روزہ ) افطار کرنے کے وقت کی اور ( دوسری ) خوشی اپنے رب سے ملا قات کے وقت کی ۔ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسند یدہ ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُسْلِمٍ الْقُرِّيِّ، قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ، فَرَخَّصَ فِيهَا وَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَنْهَى عَنْهَا فَقَالَ هَذِهِ أُمُّ ابْنِ الزُّبَيْرِ تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ فِيهَا فَادْخُلُوا عَلَيْهَا فَاسْأَلُوهَا قَالَ فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا فَإِذَا امْرَأَةٌ ضَخْمَةٌ عَمْيَاءُ فَقَالَتْ قَدْ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهَا .
Muslim al-Qurri reported:I asked Ibn Abbas (Allah be pleased with them) about Tamattu' in Hajj and he permitted it, whereas Ibn Zubair had forbidden it. He (Ibn 'Abbas) said: This is the mother of Ibn Zubair who states that Allah's Messenger (ﷺ) had permitted it, so you better go to her and ask her about it. He (Muslim al-Qurri said): So we went to her and she was a bulky blind lady and she said: Verily Allah's Messenger (ﷺ) permitted it
شعبہ نے مسلم قری سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حج تمتع کے بارے میں سوا ل کیا ۔ انھوں نے اس کی اجازت دی ، جبکہ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس سے منع فرمایا کرتے تھے ۔ انھوں ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : یہ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ ہیں ۔ وہ حدیث بیان کرتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دی ، ان کے پاس جاؤ ۔ اور ان سے پوچھو ( قری نے ) کہا : ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے وہ ( اس وقت ) بھاری جسم کی نابینا خاتون تھی ، ( ہمارے استفسار کے جواب میں ) انھوں نےفرمایا : یقیناً اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( حج تمتع ) کی اجازت عطا فرمائی تھی ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ - حَىٌّ مِنَ الْعَرَبِ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْتَقَى هُوَ وَالْمُشْرِكُونَ فَاقْتَتَلُوا . فَلَمَّا مَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى عَسْكَرِهِ وَمَالَ الآخَرُونَ إِلَى عَسْكَرِهِمْ وَفِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ لاَ يَدَعُ لَهُمْ شَاذَّةً إِلاَّ اتَّبَعَهَا يَضْرِبُهَا بِسَيْفِهِ فَقَالُوا مَا أَجْزَأَ مِنَّا الْيَوْمَ أَحَدٌ كَمَا أَجْزَأَ فُلاَنٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمَا إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أَنَا صَاحِبُهُ أَبَدًا . قَالَ فَخَرَجَ مَعَهُ كُلَّمَا وَقَفَ وَقَفَ مَعَهُ وَإِذَا أَسْرَعَ أَسْرَعَ مَعَهُ - قَالَ - فَجُرِحَ الرَّجُلُ جُرْحًا شَدِيدًا فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ فَوَضَعَ نَصْلَ سَيْفِهِ بِالأَرْضِ وَذُبَابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَى سَيْفِهِ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَخَرَجَ الرَّجُلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ . قَالَ " وَمَا ذَاكَ " . قَالَ الرَّجُلُ الَّذِي ذَكَرْتَ آنِفًا أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَأَعْظَمَ النَّاسُ ذَلِكَ فَقُلْتُ أَنَا لَكُمْ بِهِ فَخَرَجْتُ فِي طَلَبِهِ حَتَّى جُرِحَ جُرْحًا شَدِيدًا فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ فَوَضَعَ نَصْلَ سَيْفِهِ بِالأَرْضِ وَذُبَابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَيْهِ فَقَتَلَ نَفْسَهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ ذَلِكَ " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " .
It is reported on the authority of Sahl b. Sa'd al-Sa'idi that there was an encounter between the Messenger of Allah (ﷺ) and the polytheists, and they fought (against one another). At the conclusion of the battle the Messenger of Allah (ﷺ) bent his steps towards his army and they (the enemies) bent their steps towards their army. And there was a person (his name was Quzman and he was one of the hypocrites) among the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) who did not spare a detached (fighter of the enemy) but pursued and killed him with the sword. They (the Companions of the Holy Prophet) said:None served us better today than this man Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) remarked: Verily he is one of the denizens of Fire. One of the people (Muslims) said: I will constantly shadow him. Then this man went out along with him. He halted whenever he halted, and ran along with him whenever he ran. He (the narrator) said: The man was seriously injured. He (could not stand the pain) and hastened his own death. He placed the blade of the sword on the ground with the tip between his chest and then pressed himself against the sword and killed himself. Then the man (following him) went to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: I bear testimony that verily thou art the Messenger of Allah, He (the Holy Prophet) said: What is the matter? He replied: The person about whom you just mentioned that he was one among the denizens of Fire and the people were surprised (at this) and I said to them that I would bring (the news about him) and consequently I went out in search of him till I (found him ) to be very seriously injured. He hastened his death. He placed the blade of the sword upon the ground and its tip between his chest and then pressed himself against that and killed himself. Thereupon the Messenger of Allah (ﷺ) remarked: A person performs the deeds which to the people appear to be the deeds befitting the dweller of Paradise, but he is in fact one of the denizens of Hell. And verily a person does an act which in the eyes of public is one which is done by the denizens of Hell, but the person is one among the dwellers of Paradise
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور مشرکوں کا آمنا سامنا ہوا اور جنگ شروع ہو گئی ، پھر رسول اللہ ﷺ اپنی لشکر گاہ کی طرف پلٹے او ر فریق ثانی اپنی لشکر گاہ کی طرف مڑا ۔ رسو ل اللہ ﷺ کا ساتھ دینے والوں میں سےایک آدمی تھا جودشمنوں ( کی صفوں ) سے الگ رہ جانے والوں کو نہ چھوڑتا ، ان کا تعاقب کرتا اور انہیں اپنی تلوار کا نشانہ بنا دیتا ، لوگوں نے کہا : آج ہم نے میں سے فلاں نے جو کردکھایا کسی اور نے نہیں کیا ، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ لیکن واقعہ یہ ہے کہ یہ شخص اہل جہنم میں سے ہے ۔ ‘ ‘ لوگوں میں سے ایک آدمی کہنے لگا : میں مستقل طور پر اس کے ساتھ رہوں گا ۔ سہل رضی اللہ عنہ نے کہا : وہ آدمی اس کے ہمراہ نکلا ۔ جہاں وہ ٹھہرتا وہیں یہ ٹھہر جاتا اور جب وہ اپنی رفتار تیز کرتا تو اس کے ساتھ یہ بھی تیز چل پڑتا ۔ ( آخر کار ) وہ آدمی شدید زخمی ہو گیا ، اس نے جلد مر جانا چاہا تو اس نے اپنی تلوار کا اوپر کا حصہ ( تلوار کا دستہ ) زمیں پر رکھا اور اس کی دھار اپنی چھاتی کے درمیان رکھی ، پھر اپنی تلوار سے اپنا پورا وزن ڈال کر خودکشی کر لی ۔ وہ ( پیچھا کرنے والا ) آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کی : میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ۔ آپ نے پوچھا : ’’ کیا ہوا ؟ ‘ ‘ تو اس نے کہا ، وہ آدمی جس کے بارے میں آپ نے ابھی بتایا تھا کہ و ہ دوزخی ہے اور لوگوں سے اسے غیر معمولی بات سمجھا تھا ۔ اس پر میں نے ( لوگوں سے ) کہا : میں تمہارے لیے اس کا پتہ لگاؤں لگا ۔ میں اس کے پیچھے نکلا یہاں تک کہ وہ شدید زخمی ہو گیا اور اس نے جلدی مر جانا چاہا تو اس نے اپنی تلوار کا اوپر کا حصہ ( دستہ ) زمین پر اور اس کی دھار چھاتی کے درمیان رکھی ، پھر اس پر اپنا پورا بوجھ ڈال دیا اور خود کو مار ڈالا ۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ لوگوں کو نظر آتا ہے کہ کوئی آدمی جنتیون کے سے کام کرتا ہے ، حالانکہ وہ دوزخی ہوتا ہے اور لوگوں کو نظر آتا ہے کہ کوئی آدمی دوزخیوں کے سے کام کرتا ہے حالانکہ ( انجام کار ) وہ جنتی ہوتا ہے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ قَالَ أَنَسٌ عَمِّيَ الَّذِي سُمِّيتُ بِهِ لَمْ يَشْهَدْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَدْرًا - قَالَ - فَشَقَّ عَلَيْهِ قَالَ أَوَّلُ مَشْهَدٍ شَهِدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غُيِّبْتُ عَنْهُ وَإِنْ أَرَانِيَ اللَّهُ مَشْهَدًا فِيمَا بَعْدُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيَرَانِيَ اللَّهُ مَا أَصْنَعُ - قَالَ - فَهَابَ أَنْ يَقُولَ غَيْرَهَا - قَالَ - فَشَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ أُحُدٍ - قَالَ - فَاسْتَقْبَلَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فَقَالَ لَهُ أَنَسٌ يَا أَبَا عَمْرٍو أَيْنَ فَقَالَ وَاهًا لِرِيحِ الْجَنَّةِ أَجِدُهُ دُونَ أُحُدٍ - قَالَ - فَقَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ - قَالَ - فَوُجِدَ فِي جَسَدِهِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ مِنْ بَيْنِ ضَرْبَةٍ وَطَعْنَةٍ وَرَمْيَةٍ - قَالَ - فَقَالَتْ أُخْتُهُ عَمَّتِيَ الرُّبَيِّعُ بِنْتُ النَّضْرِ فَمَا عَرَفْتُ أَخِي إِلاَّ بِبَنَانِهِ . وَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلاً} قَالَ فَكَانُوا يُرَوْنَ أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِ وَفِي أَصْحَابِهِ .
It has been Deported on the authority of Anas who said:My uncle and I have been named after him was not present with the Messenger of Allah (mav peace be upon him) on the Day of Badr. He felt distressed about it. He would say: I have missed the first battle fought by the Messenger of Allah (ﷺ), and if God now gives me an opportunity to see a battlefield with the Messenger of Allah (ﷺ), God will see what I do therein. He was afraid to say more than this (lest he be unable to keep his word with God). He was present with the Messenger of Allah (ﷺ) on the Day of Uhud. He met Sa'd b. Mu'adh (who was retreating). Anas said to him: O Abu 'Amr, where (are you going)? Woe (to thee)! I find the smell of Paradise beside the Uhud mountain. (Reprimanding Sa'd in these words) he went forward and fought thein (the enemy) until he was killed. (The narrator says). More than eighty wounds inflicted with swords, spears and arrows were found on his body. His sister, my aunt, ar-Rubayyi', daughter of Nadr, said: I could not recognise my brother's body (it was so badly mutilated) except from his finger-tips. (It was on this occasion that) the Qur'anic verse:" Among the Believers are men who have been true to their covenant with God. Of them some have completed their vow (to the extreme), and some still wait: but they have never changed (their determination) in the least" (xxxiii. 23). The narrator said that the verse had been revealed about him (Anas b. Nadr) and his Companions
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا : میرے چچا جن کے نام پر میرا نام رکھا گیا ہے ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ بدر میں حاضر نہیں ہو سکے تھے اور یہ بات ان پر بہت شاق گزری تھی ۔ انہوں نے کہا : یہ پہلا معرکہ تھا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شریک ہوئے اور میں اس سے غیر حاضر رہا ، اس کے بعد اگر اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں کوئی معرکہ مجھے دکھایا تو اللہ مجھے بھی دیکھے گا کہ میں کیا کرتا ہوں ۔ وہ ان کلمات کے علاوہ کوئی اور بات کہنے سے ڈرے ( دل میں بہت کچھ کر گزرنے کا عزم تھا لیکن اس فقرے سے زیادہ کچھ نہیں کہا ۔ ) ، پھر وہ غزوہ اُحد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے ، کہا : پھر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ان کے سامنے آئے تو ( میرے چچا ) انس ( بن نضر ) رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : ابوعمرو! کدھر؟ ( پھر کہا : ) جنت کی خوشبو کیسی عجیب ہے! جو مجھے کوہِ احد کے پیچھے سے آ رہی ہے ، پھر وہ کافروں سے لڑے یہاں تک کہ شہید ہو گئے ۔ ان کے جسم پر تلوار ، نیزے اور تیروں کے اَسی سے اوپر زخم پائے گئے ۔ ان کی بہن ، میری پھوپھی ، ربیع بنت نضر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے اپنے بھائی ( کی لاش ) کو صرف ان کی انگلیوں کے پوروں سے پہچانا تھا ، ( اسی موقع پر ) یہ آیت نازل ہوئی : " ( مومنوں میں سے ) کتنے مرد ہیں کہ جس ( قول ) پر انہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا ، اسے سچ کر دکھایا ، ان میں سے کچھ ایسے ہیں جنہوں نے اپنا ذمہ پورا کر دیا ، اور ان میں سے کوئی ایسے ہیں جو منتظر ہیں ، وہ ذرہ برابر تبدیل نہیں ہوئے ( اپنے اللہ کے ساتھ کیے ہوئے عہد پر قائم ہیں ۔ ) " صحابہ کرام کا خیال یہ تھا کہ یہ آیت حضرت انس ( بن نضر ) رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ سَعْدًا، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ تَصَبَّحَ بِسَبْعِ تَمَرَاتٍ عَجْوَةً لَمْ يَضُرَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ سُمٌّ وَلاَ سِحْرٌ " .
Amir b. Sa'd b. Abu Waqqas reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who ate seven 'ajwa' dates in the morning, poison and magic will not harm him on that day
ابو اسامہ نے ہا شم بن ہاشم سے روایت کی ، کہا : میں نے عامر بن سعد بن ابی وقاص سے سنا ، کہہ رہے تھے میں نے ( اپنے والد ) حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرما تے ہو ئے سنا ، " جس نے صبح کو سات عجوہ کھجوریں کھالیں اس دن اسے زہر نقصان پہنچا سکے گا نہ جا دو ۔
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ، يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ جَاءَ يَهُودِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَدْ لُطِمَ وَجْهُهُ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " فَلاَ أَدْرِي أَكَانَ مِمَّنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي أَوِ اكْتَفَى بِصَعْقَةِ الطُّورِ " .
Abu Sa'id Khudri reported that a Jew who had received a blow at his face came to Allah's Messenger (ﷺ) ; the rest of the hadith is the same, up to the hand (where the words are):That he (the Holy Prophet) said: I do not know whether he would be one who would fall into swoon and would recover before me or he would be compensated for his swooning at Tur (and thus he would not swoon on this occasion) of Resurrection
ابو احمد زبیری نے کہا : ہمیں سفیان نے عمرو بن یحییٰ سے ، انھوں نےاپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا جس کے چہرے پر تھپڑ مارا گیا تھا ۔ اس کے بعد زہری کی روایت کے ہم معنی حدیث بیان کی ، مگر انھوں نے ( یوں ) کہا : ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) "" مجھے معلوم نہیں وہ ( موسیٰ علیہ السلام ) ان میں سے تھے جنھیں بے ہوشی تو ہو ئی لیکن افاقہ مجھ سے پہلے ہو گیا ۔ یا کوہ طور کا صعقہ کافی سمجھا گیا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ - حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، قَالَ كُنْتُ جَالِسًا فِي حَلْقَةٍ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ - قَالَ - وَفِيهَا شَيْخٌ حَسَنُ الْهَيْئَةِ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ - قَالَ - فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُمْ حَدِيثًا حَسَنًا - قَالَ - فَلَمَّا قَامَ قَالَ الْقَوْمُ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا . قَالَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لأَتْبَعَنَّهُ فَلأَعْلَمَنَّ مَكَانَ بَيْتِهِ . قَالَ فَتَبِعْتُهُ فَانْطَلَقَ حَتَّى كَادَ أَنْ يَخْرُجَ مِنَ الْمَدِينَةِ ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلَهُ - قَالَ - فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ فَأَذِنَ لِي فَقَالَ مَا حَاجَتُكَ يَا ابْنَ أَخِي قَالَ فَقُلْتُ لَهُ سَمِعْتُ الْقَوْمَ يَقُولُونَ لَكَ لَمَّا قُمْتَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا . فَأَعْجَبَنِي أَنْ أَكُونَ مَعَكَ قَالَ اللَّهُ أَعْلَمُ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ وَسَأُحَدِّثُكَ مِمَّ قَالُوا ذَاكَ إِنِّي بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ أَتَانِي رَجُلٌ فَقَالَ لِي قُمْ . فَأَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ - قَالَ - فَإِذَا أَنَا بِجَوَادَّ عَنْ شِمَالِي - قَالَ - فَأَخَذْتُ لآخُذَ فِيهَا فَقَالَ لِي لاَ تَأْخُذْ فِيهَا فَإِنَّهَا طُرُقُ أَصْحَابِ الشِّمَالِ - قَالَ - فَإِذَا جَوَادُّ مَنْهَجٌ عَلَى يَمِيِنِي فَقَالَ لِي خُذْ هَا هُنَا . فَأَتَى بِي جَبَلاً فَقَالَ لِي اصْعَدْ - قَالَ - فَجَعَلْتُ إِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَصْعَدَ خَرَرْتُ عَلَى اسْتِي - قَالَ - حَتَّى فَعَلْتُ ذَلِكَ مِرَارًا - قَالَ - ثُمَّ انْطَلَقَ بِي حَتَّى أَتَى بِي عَمُودًا رَأْسُهُ فِي السَّمَاءِ وَأَسْفَلُهُ فِي الأَرْضِ فِي أَعْلاَهُ حَلْقَةٌ فَقَالَ لِيَ . اصْعَدْ فَوْقَ هَذَا . قَالَ قُلْتُ كَيْفَ أَصْعَدُ هَذَا وَرَأْسُهُ فِي السَّمَاءِ - قَالَ - فَأَخَذَ بِيَدِي فَزَجَلَ بِي - قَالَ - فَإِذَا أَنَا مُتَعَلِّقٌ بِالْحَلْقَةِ - قَالَ - ثُمَّ ضَرَبَ الْعَمُودَ فَخَرَّ - قَالَ - وَبَقِيتُ مُتَعَلِّقًا بِالْحَلْقَةِ حَتَّى أَصْبَحْتُ - قَالَ - فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ فَقَالَ " أَمَّا الطُّرُقُ الَّتِي رَأَيْتَ عَنْ يَسَارِكَ فَهِيَ طُرُقُ أَصْحَابِ الشِّمَالِ - قَالَ - وَأَمَّا الطُّرُقُ الَّتِي رَأَيْتَ عَنْ يَمِينِكَ فَهِيَ طُرُقُ أَصْحَابِ الْيَمِينِ وَأَمَّا الْجَبَلُ فَهُوَ مَنْزِلُ الشُّهَدَاءِ وَلَنْ تَنَالَهُ وَأَمَّا الْعَمُودُ فَهُوَ عَمُودُ الإِسْلاَمِ وَأَمَّا الْعُرْوَةُ فَهِيَ عُرْوَةُ الإِسْلاَمِ وَلَنْ تَزَالَ مُتَمَسِّكًا بِهَا حَتَّى تَمُوتَ " .
Kharasha b. Hurr reported:I was sitting in a circle in the mosque of Medina and there was an old man, quite handsome. He was 'Abdullah b. Salim. He was telling good things to them (to the people sitting in that company). As he stood up (to depart) the people said: He who is desirous of looking at a person from amongst the people of Paradise should see him. I said: By Allah, I will follow him, and would try to know his residence. So I followed him and he walked on until he reached the outskirts of Medina. He then entered his house. I sought permission from him to get in, and he granted me the permission, saying: My nephew, what is the need (that has brought you here)? I said to him: As you stood up, I heard people say about you: He who is desirous of seeing a person from among the people of Paradise should look at him. So I became desirous of accompanying you. He ('Abdullah b. Salim) said: It is Allah Who knows best about the people of Paradise. I would, however, narrate to you as to why they said like it. (The story is) that while I was asleep (one night) there came to me a person (in the dream) who asked me to stand up. (So I stood up) and he caught hold of my hand and I walked along with him, and, lo, I found some paths on my left and I was about to set out upon them. Thereupon he said to me Do not set yourself on (them) for these are the paths of the leftists (denizens of Hell-fire). Then there were paths leading to the right side, whereupon he said: Set yourself on these paths. We came across a hill and he said to me: Climb up, and I attempted to climb up that I fell upon my buttocks. I made several attempts (but failed to succeed). He led until he came to a pillar (so high) that its upper end touched the sky and its base was in the earth. And there was a handhold at its upper end. He said to me Climb over it. I said: How can I climb upon it, as its upper end touches the sky? He cought hold of my hand and pushed me up and I found myself suspended with the handhold. He then struck the pillar and it fell down, but I remained attached to that handhold until it was morning (and the dream was thus over). I came to Allah's Apostle (ﷺ) and narrated it to him. He said: So far as the paths which you saw on your left are concerned, these are paths of the leftists (denizens of Hell) and the paths which you saw on your right, these are the paths of the rightists (the dwellers of Paradise) and the mountain represents the destination of the martyrs which you would not be able to attain. The pillar implies the pillar of Islam. and so far as the handhold is concerned, it implies the handhold of Islam, and you would hold to it fastly until you would meet death
خرشہ بن حر سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : میں مدینہ منورہ کی مسجد کے اندر ایک حلقے میں بیٹھا ہوا تھا ، کہا : اس میں خوبصورت ہیت والے ایک حسین وجمیل بزرگ بھی موجود تھے ۔ وہ عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ، کہا : انھوں نے ان لوگوں کو خوبصورت احادیث سنانی شروع کردیں ، کہا : جب وہ کھڑے ہوئے تو لوگوں نے کہا کہ جس کو ایک جنتی کا دیکھنا اچھا معلوم ہو ، وہ اس کو دیکھے ۔ میں نے ( اپنے دل میں ) کہا کہ اللہ کی قسم میں ان کے ساتھ جاؤں گا اور ان کا گھر دیکھوں گا ۔ پھر میں ان کے پیچھے ہوا ، وہ چلے ، یہاں تک کہ قریب ہوا کہ وہ شہر سے باہر نکل جائیں ، پھر وہ اپنے مکان میں گئے تو میں نے بھی اندر آنے کی اجازت چاہی ۔ انہوں نے اجازت دی ، پھر پوچھا کہ اے میرے بھتیجے! تجھے کیا کام ہے؟ میں نے کہا کہ جب آپ کھڑے ہوئے تو میں نے لوگوں کو سنا کہ جس کو ایک جنتی کا دیکھنا اچھا لگے ، وہ ان کو دیکھے تو مجھے آپ کے ساتھ رہنا اچھا معلوم ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ جنت والوں کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور میں تجھ سے لوگوں کے یہ کہنے کی وجہ بیان کرتا ہوں ۔ میں ایک دفعہ سو رہا تھا کہ خواب میں ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ کھڑا ہو ۔ پھر اس نے میرا ہاتھ پکڑا ، میں اس کے ساتھ چلا ، مجھے بائیں طرف کچھ راہیں ملیں تو میں نے ان میں جانا چاہا تو وہ بولا کہ ان میں مت جا ، یہ بائیں طرف والوں ( یعنی کافروں ) کی راہیں ہیں ۔ پھر دائیں طرف کی راہیں ملیں تو وہ شخص بولا کہ ان راہوں میں جا ۔ پس وہ مجھے ایک پہاڑ کے پاس لے آیا اور بولا کہ اس پر چڑھ ۔ میں نے اوپر چڑھنا چاہا تو پیٹھ کے بل گرا ۔ کئی بار میں نے چڑھنے کا قصد کیا لیکن ہر بار گرا ۔ پھر وہ مجھے لے چلا ، یہاں تک کہ ایک ستون ملا جس کی چوٹی آسمان میں تھی اور تہہ زمین میں ، اس کے اوپر ایک حلقہ تھا ۔ مجھ سے اس شخص نے کہا کہ اس ستون کے اوپر چڑھ جا ۔ میں نے کہا کہ میں اس پر کیسے چڑھوں کہ اس کا سرا تو آسمان میں ہے ۔ آخر اس شخص نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اچھال دیا اور میں نے دیکھا کہ میں اس حلقہ کو پکڑے ہوئے لٹک رہا ہوں ۔ پھر اس شخص نے ستون کو مارا تو وہ گر پڑا اور میں صبح تک اسی حلقہ میں لٹکتا رہا ( اس وجہ سے کہ اترنے کا کوئی ذریعہ نہیں رہا ) ۔ کہتے ہیں پس میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اپنا خواب بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو راہیں تو نے بائیں طرف دیکھیں ، وہ بائیں طرف والوں کی راہیں ہیں اور جو راہیں دائیں طرف دیکھیں ، وہ دائیں طرف والوں کی راہیں ہیں ۔ اور وہ پہاڑ شہیدوں کا مقام ہے ، تو وہاں تک نہ پہنچ سکے گا اور ستون ، اسلام کا ستون ہے اور حلقہ ، اسلام کا حلقہ ہے اور تو مرتے دم تک اسلام پر قائم رہے گا ۔ ( اور جب اسلام پر خاتمہ ہو تو جنت کا یقین ہے ، اس وجہ سے لوگ مجھے جنتی کہتے ہیں)
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ، عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ أَحَبَّ قَوْمًا وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ " .
Abdullah reported that a person came to Allah's Messenger (ﷺ) and said to Allah's Messenger (ﷺ):What is your opinion about the person who loves the people but his (acts or deeds are not identical to theirs)? Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: A person would be along with one whom he loves
جریر نے ( سلیمان ) اعمش سے ، انہوں نے ابووائل سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اس نے کہا : اللہ کے رسول! آپ اس شخص کو کیسے دیکھتے ہیں جو کسی قوم سے محبت کرتا ہے مگر ابھی تک اس کے ساتھ نہیں ملا؟ ( اعمال میں ان سے بہت پیچھے ہے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " آدمی اسی کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت کرتا ہے ۔