وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ - بَدَلَ السَّقِيمِ - الْكَبِيرَ .
Abu Bakr b. 'Abd al-Rahman reported that he had heard Abu Huraira say that the Messenger of Allah (ﷺ) said like it, but he substituted" the aged" for 'the infirm
(ابو سلمہ کے بجائے ) ابو بکر بن عبد الرحمن نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہﷺ نے فرمایا : .... اسی کے مانند ، البتہ اس میں سقیم ( بیمار ) کی جگہ کبیر ( بوڑھا ) کہا ہے ۔
وَحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْعَصْرِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ وَمَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْفَجْرِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ " .
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: He who finds (gets) a rak'ah of the afternoon (prayer) before the setting of the sun, he in fact gets (the full prayer), and he who gets a rak'ah of the morning (prayer) before the rising of the sun he in fact gets (the full prayer)
عبداللہ بن مبارک نے معمر سے ، انھوں نے ابن طاوس سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ( عبداللہ ) بن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے سورج کے غروب ہونے سے پہلے عصر کی نماز میں سے ایک رکعت پالی تو یقینا اس نے ( نماز ) پالی اور جس نے سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالی تو یقینا اس نے ( نماز ) پالی ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَصَلَّى بِصَلاَتِهِ نَاسٌ ثُمَّ صَلَّى مِنَ الْقَابِلَةِ فَكَثُرَ النَّاسُ ثُمَّ اجْتَمَعُوا مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ " قَدْ رَأَيْتُ الَّذِي صَنَعْتُمْ فَلَمْ يَمْنَعْنِي مِنَ الْخُرُوجِ إِلَيْكُمْ إِلاَّ أَنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ " . قَالَ وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ .
A'isha reported that the Messenger of Allah (ﷺ) prayed one night in the mosque and people also prayed along with him. He then prayed on the following night and there were many persons. Then on the third or fourth night (many people) gathered there, but the Messenger of Allah (ﷺ) did not come out to them (for leading the Tarawih prayer). When it was morning he said:I saw what you were doing, but I desisted to come to you (and lead the prayer) for I feared that this prayer might become obligatory for you. (He the narrator) said: It was the month of Ramadan
امام مالکؒ نے ابن شہاب سے روایت کی ، انھوں نے عروہ سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات مسجد میں نماز پڑھی تو کچھ اور لوگوں نے ( بھی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ، پھر آپ نے اس سے اگلی ر ات نماز پڑھی تو لوگوں ( کی تعداد ) میں اضافہ ہوگیا ، پھر تیسری یا چوتھی رات لوگ جمع ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر ان کے پاس تشریف نہ لائے ۔ جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جو تم نے کیا میں نے دیکھا ، مجھے تمہارے پاس آنے سے اس کے سوا کسی چیز نے نہیں روکا کہ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں یہ ( نماز ) تم پر فرض نہ ہوجائے ۔ "" ( عروہ یا ان کے بعد کے کسی راوی نے ) کہا : اور یہ رمضان میں ہوا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ " أَنَّا لاَ، تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ " .
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters (and the words of the Holy Prophet) are:" Sadaqa is not permissible for us
وکیع نے شعبہ سے اسی ( ؐذکورہ با لا ) سند کے ساتھ روایت کی اور ( " ہم صدقہ نہیں کھا تے " کے بجا ئے ) " ہمارے لیے صدقہ حلا ل نہیں " کہا ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ، - وَهُوَ الْحِزَامِيُّ - عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الصِّيَامُ جُنَّةٌ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Fasting is a shield
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " روزہ ایک ڈھال ہے ۔
وَحَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ، الْمَخْزُومِيُّ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، - رضى الله عنهما - قَالَتْ قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ . ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَقَالَ اسْتَرْخِي عَنِّي اسْتَرْخِي عَنِّي . فَقُلْتُ أَتَخْشَى أَنْ أَثِبَ عَلَيْكَ
Asma bint Abu Bakr (Allah be pleased with th (m) said:We came for Hajj in the state of Ihram with Allah's Messenger (ﷺ). The rest of the hadith is the same except (for the words) that he (Zubair) said: Keep away from me, keep away from me, whereupon I said: Do you fear that I will jump upon you?
وہیب نے کہا : ہمیں منصور بن عبدالرحمان نے اپنی والدہ ( صفیہ بنت شیبہ ) سے ، انھوں نے حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے فرمایا : ہم حج کا تلبیہ کہتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ پہنچے ، پھر آگے ابن جریج کی طرح ہی حدیث بیان کی ، البتہ ( اپنی حدیث میں یہ اضافہ ) ذکر کیا : ( زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : مجھ سے دور رہو ، مجھ سے دور رہو ، میں نے کہا : آپ کو خدشہ ہے کہ میں آپ پر جھپٹ پڑوں گی ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا وَقَالَ، يَحْيَى أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي وَهُوَ، بِحَضْرَةِ الْعَدُوِّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّةِ تَحْتَ ظِلاَلِ السُّيُوفِ " . فَقَامَ رَجُلٌ رَثُّ الْهَيْئَةِ فَقَالَ يَا أَبَا مُوسَى آنْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ هَذَا قَالَ نَعَمْ . قَالَ فَرَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ أَقْرَأُ عَلَيْكُمُ السَّلاَمَ . ثُمَّ كَسَرَ جَفْنَ سَيْفِهِ فَأَلْقَاهُ ثُمَّ مَشَى بِسَيْفِهِ إِلَى الْعَدُوِّ فَضَرَبَ بِهِ حَتَّى قُتِلَ .
The tradition has been narrated on the authority of 'Abdullah b. Qais. He heard it from his father who, while facing the enemy, reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said:Surely, the gates of Paradise are under the shadows of the swords. A man in a shabby condition got up and said; Abu Musa, did you hear the Messenger of Allah (ﷺ) say this? He said: Yes. (The narrator said): He returned to his friends and said: I greet you (a farewell greeting). Then he broke the sheath of his sword, threw it away, advanced with his (naked) sword towards the enemy and fought (them) with it until he was slain
ابوبکر بن عبداللہ بن قیس سے روایت ہے ، انہوں نے اپنے والد ( حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : میں نے اپنے والد سے ، جب وہ دشمن کا سامنا کر رہے تھے ، سنا : وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جنت کے دروازے تلواروں کے سائے تلے ( ہوتے ) ہیں ۔ " یہ سن کر ایک خستہ حال شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا : ابوموسیٰ! کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خود یہ فرماتے ہوئے سنا تھا؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ یہ سن کر وہ شخص واپس اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور کہنے لگا : میں تمہیں ( الوداعی ) سلام کہتا ہوں ، پھر اس نے اپنی تلوار کی نیام توڑ کر پھینک دی اور تلوار لے کر بڑھا ، اس سے شمشیر زنی کی یہاں تک کہ شہید کر دیا گیا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلاَءَ، عَنْ أَبِي، الرِّجَالِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا عَائِشَةُ بَيْتٌ لاَ تَمْرَ فِيهِ جِيَاعٌ أَهْلُهُ يَا عَائِشَةُ بَيْتٌ لاَ تَمْرَ فِيهِ جِيَاعٌ أَهْلُهُ أَوْ جَاعَ أَهْلُهُ " . قَالَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا .
A'isha reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:'A'isha a family which has no dates (in their house) its members will be hungry; (or) 'A'isha the family which has no dates its members may be hungry. He said this twice or thrice
ابوالرجال محمد بن عبد الرحمٰن نے اپنی والدہ ( عمرہ منت عبد الرحمان انصاریہ ) سے انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرما یا : " عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ! جس گھر میں کھجوریں نہ ہو ں اس میں رہنے والے بھوکے ہیں عائشہ! جس گھر میں کھجوریں نہ ہو ں اس میں رہنے والے بھوکے ہیں ۔ جس گھر میں کھجوریں نہ ہو ں اس میں رہنے والے بھوکے ہیں ۔ یا فرما یا ) اس گھر کے لو گ بھوکے رہ جا تے ہیں ۔ آپ نے یہ کلمات دویا تین بار فرما ئے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " أَنَّ امْرَأَةً بَغِيًّا رَأَتْ كَلْبًا فِي يَوْمٍ حَارٍّ يُطِيفُ بِبِئْرٍ قَدْ أَدْلَعَ لِسَانَهُ مِنَ الْعَطَشِ فَنَزَعَتْ لَهُ بِمُوقِهَا فَغُفِرَ لَهَا " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (may pace be upon him) as saying:A prostitute saw a dog moving around a well on a hot day and hanging out its tongue because of thirst. She drew water for it in her shoe and she was pardoned (for this act of hers)
ہشام نے محمد ( بن سیرین ) سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ایک فاحشہ عورت نے ایک سخت گرم دن میں ایک کتا دیکھا جو ایک کنویں کے گردچکر لگا رہا تھا ۔ پیاس کی وجہ سے اس نے زبان باہر نکا لی ہو ئی تھی اس عورت نے اس کی خاطر اپنا موزہ اتارہ ( اور اس کے ذریعے پانی نکا ل کر اس کتے کو پلایا ) تو اس کو بخش دیا گیا ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ قَالاَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ اسْتَبَّ رَجُلاَنِ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ وَرَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ الْمُسْلِمُ وَالَّذِي اصْطَفَى مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم عَلَى الْعَالَمِينَ . وَقَالَ الْيَهُودِيُّ وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ عَلَى الْعَالَمِينَ . قَالَ فَرَفَعَ الْمُسْلِمُ يَدَهُ عِنْدَ ذَلِكَ فَلَطَمَ وَجْهَ الْيَهُودِيِّ فَذَهَبَ الْيَهُودِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ مِنْ أَمْرِهِ وَأَمْرِ الْمُسْلِمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُخَيِّرُونِي عَلَى مُوسَى فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ فَإِذَا مُوسَى بَاطِشٌ بِجَانِبِ الْعَرْشِ فَلاَ أَدْرِي أَكَانَ فِيمَنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي أَمْ كَانَ مِمَّنِ اسْتَثْنَى اللَّهُ " .
Abu Huraira reported that two persons, one from amongst the Jews and the other from amongst the Muslims, fell into dispute and began to abuse one another. The Muslim said:By Him Who chose Muhammad (ﷺ) in the worlds. And the Jew said: By Him Who chose Moses in the worlds. Thereupon the Muslim lifted his hand and slapped at the face of the Jew. The Jew went to Allah's Messenger (ﷺ) and told him about his affair and the affair of the Muslim. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Don't make me superior to Moses for mankind will swoon and I would be the first to recover from it and Moses would be at that time seizing the side of the Throne and I do not know (whether) he would swoon and would recover before me or Allah would make an exception for him
یعقوب کے والد ابرا ہیم ( بن سعد ) نے ابن شہاب سے ، انھوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن اور عبدالرحمٰن اعرج سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : دوآدمیوں کی تکرار ہو گئی ، ایک یہودیوں میں سے تھا اور ایک مسلمانوں میں سے ۔ مسلمان نے کہا : اس ذات کی قسم جس میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں پر فضیلت دی! یہودی نے کہا : اس ذات کی قسم! جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام جہانوں پر فضیلت دی!تو اس پر مسلمان نے اپنا ہاتھ اٹھا یا اور یہودی کے منہ پر تھپڑ مار دیا ۔ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلا گیا اور اس کے اپنے اور مسلمان کے درمیان جو کچھ ہوا تھا وہ سب آپ کو بتا دیا ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " مجھے موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت نہ دو ( جب ) تمام انسان ہوش و حواس سے بے گانہ ہو جا ئیں گے ، سب سے پہلے میں ہو ش میں آؤں گا تو موسیٰ علیہ السلام عرش کی ایک جانب ( اسے ) پکڑے کھڑے ہوں گے ۔ مجھے معلوم نہیں کہ وہ مجھ سے پہلے بے ہوش ہو ئے تھے ، اس لیے مجھ سے پہلے اٹھا ئے گئے یا وہ ان میں سے ہیں جنھیں اللہ نے إِلَّا مَن شَاءَ اللَّهُ ۖسوائے ان کے جنھیں اللہ چاہے گا ۔ کے تحت ) مستثنیٰ کیا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، قَالَ كُنْتُ بِالْمَدِينَةِ فِي نَاسٍ فِيهِمْ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَجَاءَ رَجُلٌ فِي وَجْهِهِ أَثَرٌ مِنْ خُشُوعٍ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ . فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ يَتَجَوَّزُ فِيهِمَا ثُمَّ خَرَجَ فَاتَّبَعْتُهُ فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ وَدَخَلْتُ فَتَحَدَّثْنَا فَلَمَّا اسْتَأْنَسَ قُلْتُ لَهُ إِنَّكَ لَمَّا دَخَلْتَ قَبْلُ قَالَ رَجُلٌ كَذَا وَكَذَا قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ مَا يَنْبَغِي لأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ مَا لاَ يَعْلَمُ وَسَأُحَدِّثُكَ لِمَ ذَاكَ رَأَيْتُ رُؤْيَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ رَأَيْتُنِي فِي رَوْضَةٍ - ذَكَرَ سَعَتَهَا وَعُشْبَهَا وَخُضْرَتَهَا - وَوَسْطَ الرَّوْضَةِ عَمُودٌ مِنْ حَدِيدٍ أَسْفَلُهُ فِي الأَرْضِ وَأَعْلاَهُ فِي السَّمَاءِ فِي أَعْلاَهُ عُرْوَةٌ . فَقِيلَ لِي ارْقَهْ . فَقُلْتُ لَهُ لاَ أَسْتَطِيعُ . فَجَاءَنِي مِنْصَفٌ - قَالَ ابْنُ عَوْنٍ وَالْمِنْصَفُ الْخَادِمُ - فَقَالَ بِثِيَابِي مِنْ خَلْفِي - وَصَفَ أَنَّهُ رَفَعَهُ مِنْ خَلْفِهِ بِيَدِهِ - فَرَقِيتُ حَتَّى كُنْتُ فِي أَعْلَى الْعَمُودِ فَأَخَذْتُ بِالْعُرْوَةِ فَقِيلَ لِيَ اسْتَمْسِكْ . فَلَقَدِ اسْتَيْقَظْتُ وَإِنَّهَا لَفِي يَدِي فَقَصَصْتُهَا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " تِلْكَ الرَّوْضَةُ الإِسْلاَمُ وَذَلِكَ الْعَمُودُ عَمُودُ الإِسْلاَمِ وَتِلْكَ الْعُرْوَةُ عُرْوَةُ الْوُثْقَى وَأَنْتَ عَلَى الإِسْلاَمِ حَتَّى تَمُوتَ " . قَالَ وَالرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ .
Qais b. 'Ubada reported:I was in the company of some persons, amongst whom some were the Companions of Allah's Apostle (ﷺ) in Medina, that there came a person whose face depicted the fear (of Allah). Some people said: He is a person from amongst the people of Paradise; he is a person from amongst the people of Paradise. He observed two short rak'ahs of prayer and then went out. I followed him and he got into his house and I also got in and we began to converse with each other. And when he became familiar (with me) I said to Him: When you entered (the mosque) before (your entrance in the house) a person said so and so (that you are amongst the people of Paradise), whereupon he said: It is not meet for anyone to say anything which he does not know. I shall (now) tell you why they (say) this. I saw a dream during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) and narrated it to him. I seemed to be in a garden [he described its vastness, its rich fructification and its verdure]; in the midst of it, there stood an iron pillar, with its base in the earth and its summit in the sky: and upon its summit there was a handhold. It was said to me: Climb up this (pillar). I said to him (visitant in the dream): I am unable to do it. Thereupon a helper came to me, and he (supported) me (by catching hold of my) garment from behind and thus helped me with his hand and so I climbed up till I was at the summit of the pillar, and grasped the handhold. It was said to me: Ho d it tightly. It was at this that I woke up when (the handhold) was in fthe grip) of my hand. I narrated it (the dream) to Allah's Apostle (ﷺ), whereupon he said: That garden implies al-Islam and that pillar implies the pillar of Islam. And that handhold is the firmest faith (as refered to in the Qur'an). And you will remain attached to Islam until you shall die. And that man was 'Abdullah b. Salim
معاذ بن معاذ نے کہا : ہمیں عبداللہ بن عون نے محمد بن سیرین سے حدیث بیان کی ، انھوں نے قیس بن عباد سے روایت کی ، کہا : میں مدینہ منورہ میں کچھ لوگوں کےساتھ تھا جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین بھی تھے ، پھر ایک شخص آیا جس کے چہرے پر خشوع کا اثر ( نظر آتا ) تھا ، لوگوں میں سے ایک نے کہا : یہ اہل جنت میں سے ایک آدمی ہے ۔ اس آدمی نے دو رکعت نماز پڑھی جن میں اختصار کیا پھر چلاگیا ۔ میں بھی اس کے پیچھے گیا ، پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہوگیا ، میں بھی ( اجازت ) لے کر اندر گیا ، پھر ہم نے آپس میں باتیں کیں ۔ جب وہ کچھ میرے ساتھ مانوس ہوگئے تو میں نے ان سے کہا : جب آپ ( کچھ دیر ) پہلے مسجد میں آئے تھے تو آپ کے متعلق ایک شخص نے اس طرح کہاتھا ۔ انھوں نے کہا : سبحان اللہ!کسی شخص کے لئے مناسب نہیں کہ وہ کوئی بات کہے جس کا اسے پوری طرح علم نہیں اورمیں تمھیں بتاتا ہوں کہ یہ کیونکر ہوا ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک خواب دیکھا اور وہ خواب آپ کے سامنے بیان کیا ۔ میں نے اپنے آپ کو ایک باغ میں دیکھا ۔ انھوں نے اس باغ کی وسعت ، اس کے پودوں اور اس کی شادابی کے بارے میں بتایا ۔ باغ کے وسط میں لوہے کا ایک ستون تھا ، اس کا نیچے کا حصہ زمین کے اندر تھا اور اسکے اوپر کا حصہ آسمان میں تھا ، اس کے اوپر کی جانب ایک حلقہ تھا ، مجھ سے کہا گیا : اس پرچڑھو ۔ میں نے کہا؛میں اس پر نہیں چڑھ سکتا ، پھر ایک منصف آیا ۔ ابن عون نے کہا : منصف ( سے مراد ) خادم ہےاس نے میرے پیچھے سے میرے کپڑے تھام لیے اور انھوں ( عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے واضح کیا کہ اس نے اپنے ہاتھ سے انھیں پیچھے سےاوپر اٹھایا تو میں اوپر چڑھ گیا یہاں تک کہ میں ستون کی چوٹی پر پہنچ گیا اور حلقے کو پکڑ لیا تو مجھ سےکہا گیا : اس کو مضبوطی سے پکڑ رکھو اور وہ میرے ہاتھ ہی میں تھا کہ میں جاگ گیا ۔ میں نے یہ ( خواب ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" وہ باغ اسلام ہے ۔ اور وہ ستون اسلام کا ستون ہے اور وہ حلقہ ( ایمان کا ) مضبوط حلقہ ہے اور تم موت تک اسلام پر رہو گے ۔ "" ( قیس بن عباد نے ) کہا : اور وہ شخص عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْيَشْكُرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ، جَبَلَةَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِهِ .
This hadith has been narrated on the authority of Anas through another chain of transmitters
عمرو بن مرہ نے سالم بن ابی جعد سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔