بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
4
13 hadith
وَحَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ فِي النَّاسِ الضَّعِيفَ وَالسَّقِيمَ وَذَا الْحَاجَةِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: When any one of you leads people in prayer, he must shorten it for among them are the weak, the infirm and those who have business to attend
۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو وہ تخفیف کرے کیونکہ لوگوں میں کمزور ، بیمار اور ضرورت مند بھی ہوتے ہیں ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنَا عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ح قَالَ وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، - وَالسِّيَاقُ لِحَرْمَلَةَ - قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْعَصْرِ سَجْدَةً قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ أَوْ مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ فَقَدْ أَدْرَكَهَا ‏"‏ ‏.‏ وَالسَّجْدَةُ إِنَّمَا هِيَ الرَّكْعَةُ ‏.‏
A'isha reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: He who finds a prostration before sunset or at dawn (prayer) before the rising (of the sun) he in fact finds that (prayer), and prostration implies a rak'ah
معمر نے زہری سے ، انھوں نے ابو سلمہ سے ، اور انھوں نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اسی طرح روایت کی جس طرح امام مالک نے زید بن اسلم سے روایت کی ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ يَقُمْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَيُوَافِقُهَا - أُرَاهُ قَالَ - إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:He who prayed on the Lailat-ul-Qadr (the Majestic Night) knowing that it is (the same night). I (believe) that he (the Prophet also) said: (He who does) it with faith and seeking reward (from Allah), his sins would be forgiven
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور ا نھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص لیلۃ القدر کا قیام کرے گا اور اس کو پالے گا ۔ میرا خیال ہے آپ نے فرمایا ۔ ایمان کے عالم میں اور احتساب کے لئے ، اسے بخش دیا جائے گا ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، - وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ - سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ أَخَذَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ كِخْ كِخْ ارْمِ بِهَا أَمَا عَلِمْتَ أَنَّا لاَ نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported that Hasan b. 'Ali took one of The dates of the sadaqa and put it in his mouth, whereupon the Prophet (ﷺ) said:Leave it, leave it, throw it; don't you know that we do not eat the sadaqa?
عبید اللہ بن معاذ عنبری نے کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی انھوں نے کہا ہمیں شعبہ نے محمد بن زیاد سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بیان کرتے ہو ئے سنا کہ حجرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صدقے کی کھجوروں میں سے ایک کھجور لے لی اور اسے اپنے منہ میں ڈا ل لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " چھوڑو ، چھوڑو ، پھینک دو اسے کیا تم نہیں جا نتے کہ ہم صدقہ نہیں کھا تے ؟
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلاَّ الصِّيَامَ هُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخِلْفَةُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Allah, the Majestic and the Exalted, said: Every act of the son of Adam is for him except fasting. It is done for My sake, and I will give a reward for it. By Allah in Whose Hand is the life of Muhammad, the breath of the observer of fast is sweeter to Allah than the fragrance of musk
ابن شہاب سے روایت ہے ، کہا : سعید بن مسیب نے مجھے بتایا کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ، اللہ عزوجل نے فرمایا : ابن آدم کے تمام اعمال اس کے لئے ہیں سوائے روزے کے ، وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزاد دوں گا ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے!روزہ د ار کے منہ کی بو ا للہ کےنزدیک کستوری کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي مَنْصُورُ، بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّهِ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، - رضى الله عنهما - قَالَتْ خَرَجْنَا مُحْرِمِينَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْىٌ فَلْيَقُمْ عَلَى إِحْرَامِهِ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْىٌ فَلْيَحْلِلْ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمْ يَكُنْ مَعِي هَدْىٌ فَحَلَلْتُ وَكَانَ مَعَ الزُّبَيْرِ هَدْىٌ فَلَمْ يَحْلِلْ ‏.‏ قَالَتْ فَلَبِسْتُ ثِيَابِي ثُمَّ خَرَجْتُ فَجَلَسْتُ إِلَى الزُّبَيْرِ فَقَالَ قُومِي عَنِّي ‏.‏ فَقُلْتُ أَتَخْشَى أَنْ أَثِبَ عَلَيْكَ
Asma bint Abu Bakr (Allah be pleased with both of them) reported:We set out (to Mecca) in a state of Ihram. Allah's Messenger (ﷺ) said: He who has the sacrificial animal with him should remain in the state of Ihram, but he who has not the sacrificial animal with him should put off Ihram. As I had not the sacrificial animal with me, I put off Ihram. And since Zubair (her husband) - had the sacrificial animal with him, he did not put off Ihram. She (Asma) said: I put on my clothes and then went out and sat by Zabair, whereupon he said: Go away from me, whereupon I said: Do you fear that I would jump upon you?
ابن جریج نے کہا : مجھے منصور بن عبدالرحمان نے اپنی والدہ صفیہ بنت شیبہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ۔ انھوں نے کہا : ہم ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ) احرام باندھے ہوئے روانہ ہوئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جس کے ساتھ قربانی ہے وہ اپنے احرام پر قائم رہے اور جس کے ساتھ قربانی نہیں ہے ( وہ عمرے کےبعد ) احرام کھول دے ۔ "" میرے ساتھ قربانی نہیں تھی میں نے احرام کھول دیا اور ( میرے شوہر ) زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ قربانی تھی ، انھوں نے نہیں کھولا ۔ حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ( عمرے کے بعد ) میں نے ( دوسرے ) کپڑے پہن لئے اور زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آبیٹھی ، وہ کہنے لگے : میرے پاس سے اٹھ جاؤ ، میں نے کہا : آپ کو خدشہ ہے کہ میں آپ پر جھپٹ پڑوں گی ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، كُلُّهُمْ عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ الأَنْصَارِيِّ، ح
It is narrated on the authority of Thabit b. Dahhak that the Messenger of Allah (ﷺ) observed:He who took deliberately a false oath on a religion other than Islam would become that which he had professed. And he who killed himself with anything Allah would torment him with that in the Fire of Hell
شعبہ نے ایوب سے ، انہوں نے ابو قلابہ سے اور انہوں نے حضرت ثابت بن ضحاک انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، نیز سفیان ثوری نے بھی خالدحذاء سے ، انہوں نے ابو قلابہ سے ارو انہوں نے حضرت ثابت بن ضحاک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا : ’’جس نے جان بوجھ کر اسلام کے سوا کسی اور ملت میں ہونے کی جھوٹی قسم کھائی تو وہ اپنے قول کے مطابق ( اسی مذہب سے ) ہو گا اور جس نے اپنے آپ کو کسی چیز سے قتل کیا ، اللہ اس کو جہنم کی آگ میں اسی چیز سے عذاب دے گا ۔ ‘ ‘ یہ سفیان کی بیان کردہ حدیث ہے ۔ اور شعبہ کی روایت یوں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے اسلام کے سوا کسی اور ملت میں ہونے کی جھوٹی قسم کھائی ( اس روایت میں ’’جان بوجھ کر ‘ ‘ کے الفاظ نہیں ) تو وہ اسی طرح ہے جس طرح اس نے کہا ہے اور جس نے اپنے آپ کو کسی چیز سے ذبح کر ڈالا ، اسے قیامت کے دن اسی چیز سے ذبح کیا جائے گا ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ - وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ - قَالُوا حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - وَهُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ - عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بُسَيْسَةَ عَيْنًا يَنْظُرُ مَا صَنَعَتْ عِيرُ أَبِي سُفْيَانَ فَجَاءَ وَمَا فِي الْبَيْتِ أَحَدٌ غَيْرِي وَغَيْرُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لاَ أَدْرِي مَا اسْتَثْنَى بَعْضَ نِسَائِهِ قَالَ فَحَدَّثَهُ الْحَدِيثَ قَالَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَكَلَّمَ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ لَنَا طَلِبَةً فَمَنْ كَانَ ظَهْرُهُ حَاضِرًا فَلْيَرْكَبْ مَعَنَا ‏"‏ ‏.‏ فَجَعَلَ رِجَالٌ يَسْتَأْذِنُونَهُ فِي ظُهْرَانِهِمْ فِي عُلْوِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ ‏"‏ لاَ إِلاَّ مَنْ كَانَ ظَهْرُهُ حَاضِرًا ‏"‏ ‏.‏ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ حَتَّى سَبَقُوا الْمُشْرِكِينَ إِلَى بَدْرٍ وَجَاءَ الْمُشْرِكُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ يُقَدِّمَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَى شَىْءٍ حَتَّى أَكُونَ أَنَا دُونَهُ ‏"‏ ‏.‏ فَدَنَا الْمُشْرِكُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ قُومُوا إِلَى جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَوَاتُ وَالأَرْضُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ يَقُولُ عُمَيْرُ بْنُ الْحُمَامِ الأَنْصَارِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ جَنَّةٌ عَرْضُهَا السَّمَوَاتُ وَالأَرْضُ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ بَخٍ بَخٍ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا يَحْمِلُكَ عَلَى قَوْلِكَ بَخٍ بَخٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلاَّ رَجَاءَةَ أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِهَا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّكَ مِنْ أَهْلِهَا ‏"‏ ‏.‏ فَأَخْرَجَ تَمَرَاتٍ مِنْ قَرْنِهِ فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْهُنَّ ثُمَّ قَالَ لَئِنْ أَنَا حَيِيتُ حَتَّى آكُلَ تَمَرَاتِي هَذِهِ إِنَّهَا لَحَيَاةٌ طَوِيلَةٌ - قَالَ - فَرَمَى بِمَا كَانَ مَعَهُ مِنَ التَّمْرِ ‏.‏ ثُمَّ قَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ ‏.‏
It has been reported on the authority of Anas b. Malik who said:The Messenger of Allah (ﷺ) sent Busaisah as a scout to see what the caravan of Abu Sufyan was doing. He came (back and met the Prophet in his house) where there was nobody except myself and the Messenger of Allah. I do not remember whether he (Hadrat Anas) made an exception of some wives of the Prophet (ﷺ) or not and told him the news of the caravan. (Having heard the news), the Messenger of Allah (ﷺ) came out (hurriedly), spoke to the people and said: We are in need (of men) ; whoever has an animal to ride upon ready with him should ride with us. People began to ask him permission for bringing their riding animals which were grazing on the hillocks near Medina. He said: No. (I want) only those who have their riding animals ready. So the Messenger of Allah (ﷺ) and his Companions proceeded towards Badr and reached there forestalling the polytheists (of Mecca). When the polytheists (also) reached there, the Messenger of Allah (ﷺ) said: None of you should step forward to (do) anything unless I am ahead of him. The polytheists (now) advanced (towards us), and the Messenger of Allah (ﷺ) said. Get up to enter Paradise which is equal in width to the heavens and the earth. 'Umair b. al- Humam al-Ansari said: Messenger of Allah, is Paradise equal in extent to the heavens and the earth? He said: Yes. 'Umair said: My goodness! The Messenger of Allah (ﷺ) asked him: What prompted you to utter these words (i. e. my goodness! ')? He said: Messenger of Allah, nothing but the desire that I be among its residents. He said: Thou art (surely) amona its residents. He took out dates from his bag and began to eat them. Then he said: If I were to live until I have eaten all these dates of mine, it would be a long life. (The narrator said): He threw away all the dates he had with him. Then he fought the enemies until he was killed
ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان کی خبر لانے کے لئے بُسیسہ ( خزرجی انصاری ) رضی اللہ عنہ کو جاسوس بنا کر بھیجا کہ دیکھے ابوسفیان کے ( تجارتی ) قافلے کی کیا صورتِ حال ہے ۔ جس وقت وہ واپس آیا تو گھر میں میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کوئی نہیں تھا ، ۔ ۔ ( ثابت نے ) کہا : مجھے انس رضی اللہ عنہ کا کسی ام المومنین کو مستثنیٰ کرنا معلوم نہیں ۔ ۔ کہا : اس نے آ کر آپ کو ساری بات بتائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا : " ہمیں کچھ ( کرنا ) مطلوب ہے ، سو جس کے پاس سواری موجود ہو وہ ہمارے ساتھ سوار ہو کر چلے ۔ " کچھ لوگ بالائی مدینہ میں ( موجود ) اپنی سواریاں لانے کی اجازت طلب کرنے لگے ۔ آپ نے فرمایا : " نہیں ، صرف وہی لوگ ( ساتھ چلیں ) جن کی سواریاں یہیں موجود ہوں ۔ " پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب چل پڑے اور مشرکین سے پہلے " بدر " پہنچ گئے ، مشرکین بھی آ پہنچے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی شخص ، جب تک میں اس کے پیچھے نہ ہوں ، کسی چیز پر پیش قدمی نہ کرے ۔ " مشرکین قریب آ گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس جنت کی طرف بڑھ جس کی چوڑائی آسمان اور زمین ہیں ۔ " کہا : ( یہ سن کر ) حضرت عمیر بن حمام انصاری رضی اللہ عنہ کہنے لگے : یا رسول اللہ! جنت جس کا عرض آسمان اور زمین ہے؟ آپ نے فرمایا : " ہاں ۔ " اس نے کہا : واہ واہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم نے یہ واہ واہ کس وجہ سے کہا؟ " اس نے کہا : اللہ کے رسول! اس امید کے سوا اور کسی وجہ سے نہیں ( کہا ) کہ میں ( بھی ) جنت والوں میں سے ہو جاؤں ، آپ نے فرمایا : " بلاشبہ تم اہل جنت میں سے ہو ۔ " حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے اپنے ترکش سے کچھ کھجوریں نکال کر کھانی شروع کیں ، پھر کہنے لگے : اگر میں اپنی ان کھجوروں کو کھا لینے تک زندہ رہا تو پھر یہ بڑی لمبی زندگی ہو گی ( یعنی جنت ملنے میں دیر ہو جائے گی ) ، پھر انہوں نے ، جو کھجوریں ان کے پاس تھیں ، پھینکیں اور لڑائی شروع کر دی یہاں تک کہ شہید ہو گئے ۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، بْنُ بِلاَلٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَجُوعُ أَهْلُ بَيْتٍ عِنْدَهُمُ التَّمْرُ ‏"‏ ‏.‏
A'isha reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:A family which has dates will not be hungry
عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایسے گھر کے لوگ بھوکے نہیں رہتے جن کے پاس کھجوریں ہوں ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ فَوَجَدَ بِئْرًا فَنَزَلَ فِيهَا فَشَرِبَ ثُمَّ خَرَجَ فَإِذَا كَلْبٌ يَلْهَثُ يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ فَقَالَ الرَّجُلُ لَقَدْ بَلَغَ هَذَا الْكَلْبَ مِنَ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِي كَانَ بَلَغَ مِنِّي ‏.‏ فَنَزَلَ الْبِئْرَ فَمَلأَ خُفَّهُ مَاءً ثُمَّ أَمْسَكَهُ بِفِيهِ حَتَّى رَقِيَ فَسَقَى الْكَلْبَ فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنَّ لَنَا فِي هَذِهِ الْبَهَائِمِ لأَجْرًا فَقَالَ ‏"‏ فِي كُلِّ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as sayings:A person suffered from intense thirst while on a journey, when he found a well. He climbed down into it and drank (water) and then came out and saw a dog lolling its tongue on account of thirst and eating the moistened earth. The person said: This dog has suffered from thirst as I had suffered from it. He climbed down into the well, filled his shoe with water, then caught it in his mouth until he climbed up and made the dog drink it. So Allah appreciated this act of his and pardoned him. Then (the Companions around him) said: Allah's Messenger, is there for us a reward even for (serving) such animals? He said: Yes, there is a reward for service to every living animal
ابو صالح سمان نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ایک بار ایک شخص راستے میں چلا جا رہا تھا اس کو شدید پیاس لگی ، اسے ایک کنواں ملا وہ اس کنویں میں اترااورپانی پیا ، پھر وہ کنویں سے نکلا تو اس کے سامنے ایک کتا زور زور ہانپ رہا تھا پیاس کی وجہ سے کیچڑ چاٹ رہا تھا ، اس شخص نے ( دل میں ) کہا : یہ کتابھی پیاس سے اسی حالت کو پہنچا ہے جو میری ہو ئی تھی ۔ وہ کنویں میں اترا اور اپنے موزے کو پانی سے بھرا پھر اس کو منہ سے پکڑا یہاں تک کہ اوپر چڑھ آیا ، پھر اس نے کتے کو پانی پلا یا ۔ اللہ تعا لیٰ نے اسے اس نیکی کا بدلہ دیا اس کو بخش دیا ۔ " لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے لیے ان جانوروں میں اجرہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " نمی رکھنے والے ہر جگرمیں ( کسی بھی جاندار کا ہو ۔ ) اجرہے ۔
وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ سَوَاءً ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Abu Salama with the same chain of transmitters
یزید بن ہارون نے کہا : ہمیں عبد العزیز بن ابی سلمہ نے اسی سند سے بالکل اسی طرح بیان کیا ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ، مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ لِحَىٍّ يَمْشِي أَنَّهُ فِي الْجَنَّةِ إِلاَّ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ ‏.‏
Amir b. Sa'd reported that he heard his father (Sa'd b. Abi Waqqas) say:never heard Allah's Messenger (ﷺ) say unto one living and moving about that he was in Paradise except to 'Abdullah b. Salim
عامر بن سعد نے کہا : میں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہو ئے سنا ، میں نے حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علاوہ کسی زندہ چلتے پھرتے شخص کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہیں سنا ، بلا شبہ وہ جنت میں جا ئے گا ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ، عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ بَيْنَمَا أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ، صلى الله عليه وسلم خَارِجَيْنِ مِنَ الْمَسْجِدِ فَلَقِينَا رَجُلاً عِنْدَ سُدَّةِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا أَعْدَدْتَ لَهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَكَأَنَّ الرَّجُلَ اسْتَكَانَ ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَبِيرَ صَلاَةٍ وَلاَ صِيَامٍ وَلاَ صَدَقَةٍ وَلَكِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ ‏"‏ ‏.‏
Anas b. Malik reported:Allah's Messenger (ﷺ) and I were coming out of the mosque that we met a person on the threshold of the mosque and he said to Allah's Messenger (ﷺ): When would be the Last Hour? Allah's Messenger (ﷺ) said: What preparation have you made for that? The man became silent and then said: Allah's Messenger, I have made no significant preparation with prayer and fasting and charity but I, however, love Allah and His Messenger. Thereupon (the Holy Prophet) said: You would be along with one whom you love
منصور نے سالم بن ابی جعد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ایک بار جب میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے نکل رہے تھے تو مسجد کی چوکھٹ کے پاس ہماری ایک شخص سے ملاقات ہوئی ، اس نے کہا : اللہ کے رسول! قیامت کب ہے؟ آپ نے فرمایا : " تم نے اس کے لیے کیا تیار کیا ہے؟ تو جیسے وہ ٹھٹھک گیا ، پھر اس نے کہا : اللہ کے رسول! میں نے اس کے لیے بہت زیادہ نمازیں ، بہت زیادہ روزے اور بہت زیادہ صدقات تو تیار نہیں کیے ، لیکن میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہوں ، آپ نے فرمایا : " تم اسی کے ساتھ ہو گے جس سے تمہیں محبت ہو گی ۔